Today News
رائیونڈ: جیابگا چوکی کی حدود میں شہری کو مرغا بنا کر تشدد، فوٹیج سامنے آ گئی
لاہور کے علاقے رائیونڈ جیابگا چوکی کی حدود میں شہری پر مبینہ تشدد اور بدسلوکی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق فوٹیج میں نوجوان عثمان کو مبینہ طور پر زبردستی “مرغا” بنا کر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دورانِ تشدد ملزمان کی جانب سے غلیظ گالیاں بھی دی گئیں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ شہری عثمان سے زبردستی اس کی چیک بک کے چیک پھاڑ کر دستخط کروائے گئے، جبکہ اس کے موبائل فون سے مبینہ طور پر رقم بھی ٹرانسفر کی گئی۔
واقعے کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد رائیونڈ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان غلام رسول، غلام نبی، ابرار، نعمان اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غلام رسول اور ابرار کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
Source link
Today News
مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کی 88 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے
مفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ کی 88 ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؒ علامہ محمد اقبالؒ 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی فکر اور شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ قوم ہونے کا شعور دیا، انکی فکری رہنمائی نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد کو ایک مضبوط نظریاتی بنیاد فراہم کی۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی، مشن ہائی اسکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد علامہ اقبالؒ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ماسٹرزکیا اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ چلے گئے جہاں قانون کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
آپ نے اورینٹیئل کالج میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیئے تاہم وکالت کو مستقل پیشے کے طور پر اپنایا، علامہ اقبالؒ وکالت کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیا، 1922 میں حکومت کی طرف سے آپ کو ’سر‘ کا خطاب ملا۔
مفکر پاکستان کا شمار برصغیر پاک و ہند کی تاریخ ساز شخصیات میں ہوتا ہے، علامہ اقبالؒ نے ناصرف تصور پاکستان پیش کیا بلکہ اپنی شاعری سے مسلمانوں، نوجوانوں اور سماج کو آفاقی پیغام پہنچایا۔ علامہ اقبالؒ کے معروف مجموعہ کلام میں بانگ درا، ضرب کلیم، ارمغان حجاز اور بال جبریل شامل ہیں۔ علامہ اقبال 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے، جہاں ان کا مزار بادشاہی مسجد کے قریب واقع ہے۔
اقبال نے امت کو خودی اور عمل کا پیغام دیا، صدر مملکت
صدر مملکت نے علامہ اقبال کی برسی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ اقبال نے امت کو خودی اور عمل کا پیغام دیا، اقبال کی فکر مشرق و مغرب کے علمی امتزاج کی عکاس ہے، سماجی و معاشی انصاف اقبال کے پیغام کا بنیادی حصہ ہے، فکر اقبال آج بھی امید اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے اقبال کا پیغام حوصلہ اور جدوجہد ہے، اقبال کے نزدیک تعلیم کردار سازی کا ذریعہ ہے، اقبال کا تصورِ خودی اعتماد اور شعور کی بنیاد ہے، اقبال کی فکر کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
Today News
ایران جنگ اور مہنگائی نے ٹرمپ کو مشکل میں ڈال دیا، مقبولیت میں بڑی کمی
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالاں ہے۔
سروے کے مطابق 63 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے مخالف ہیں، جبکہ ان کی مجموعی مقبولیت کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی دوسری مدت کے دوران سب سے کم سطح ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوان طبقہ بھی ٹرمپ کی پالیسیوں سے خاصا نالاں ہے۔ 30 سال سے کم عمر 74 فیصد افراد ایران پر مزید امریکی حملوں کے خلاف ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگی پالیسیوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں۔
سروے کے مطابق 66 فیصد امریکی شہریوں نے ایران سے متعلق جنگی صورتحال اور ملکی معیشت، خاص طور پر مہنگائی پر قابو نہ پانے پر ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ملک کی مجموعی صورتحال پر رائے دیتے ہوئے صرف 33 فیصد افراد نے کہا کہ امریکا درست سمت میں جا رہا ہے، جبکہ 66 فیصد کا خیال ہے کہ ملک غلط سمت میں بڑھ رہا ہے۔
مہنگائی کے مسئلے پر بھی عوام کی اکثریت غیر مطمئن نظر آئی۔ صرف 32 فیصد امریکی شہریوں نے ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کو درست قرار دیا، جبکہ 68 فیصد نے ان پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
تاہم سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ریپبلکن پارٹی کے ووٹرز میں ٹرمپ کی حمایت اب بھی خاصی مضبوط ہے، جہاں 83 فیصد افراد ان کے حامی ہیں، اگرچہ اس حمایت میں جنوری اور فروری کے مقابلے میں 4 فیصد کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر ٹرمپ کی حمایت کرنے والوں کی شرح بھی کم ہو کر 58 فیصد سے 52 فیصد پر آ گئی ہے۔
Today News
بچوں سے دشمنی نہ کریں، اسکرین ٹائم کم کیجیے
جدید دور میں موبائل اور اسکرینز جہاں بڑوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، وہیں اب ننھے بچوں کی روزمرہ عادات میں بھی تیزی سے شامل ہو رہی ہیں۔
ایک نئی تحقیق نے اس بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کم عمری میں زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی صحت اور نشوونما کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کے تعلیمی ادارے یونیورسٹی کالج لندن کی تحقیق کے مطابق تقریباً چار میں سے تین ایسے بچے جن کی عمر صرف 9 ماہ ہے، روزانہ کسی نہ کسی شکل میں اسکرین استعمال کر رہے ہیں۔ حیران کن طور پر کچھ بچے روزانہ تین گھنٹے سے زائد وقت موبائل یا دیگر اسکرینز کے سامنے گزار رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمر میں اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر بولنے میں تاخیر، توجہ کی کمی اور سماجی میل جول میں کمی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ وہ بچے جو بہن بھائیوں کے ساتھ یا دونوں والدین کی موجودگی میں رہتے ہیں، ان میں اسکرین کا استعمال نسبتاً کم ہوتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس معاملے پر واضح ہدایات موجود ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دو سال سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے مکمل طور پر دور رکھنا چاہیے، جبکہ دو سے چار سال کے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس ہے اور دنیا بھر میں بہت کم بچے ان ہدایات پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف اسکرین کے دورانیے کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کے طریقے کا بھی ہے۔ اگر اسکرین بچوں کی بنیادی سرگرمیوں جیسے کھیلنا، بات چیت کرنا اور کتاب پڑھنا متاثر کرے تو یہ مزید نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اسی لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ مل کر اسکرین استعمال کریں اور اسے سیکھنے کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ متبادل زندگی۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم بچوں میں ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، جن میں بولنے میں تاخیر اور ’ورچوئل آٹزم‘ جیسے خدشات بھی شامل ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ابتدا ہی سے بچوں کی عادات پر نظر رکھیں اور اسکرین کے استعمال کو محدود کریں تاکہ ان کی صحت مند نشوونما یقینی بنائی جا سکے۔
Source link
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports1 week ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Sports3 days ago
Pakistan end FIFA Series with defeat to hosts Ivory Coast – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Magazines1 week ago
ARTSPEAK: UNRAVELLING THE FAIRY TALE – Newspaper