Connect with us

Today News

شہر قائد میں اسٹریٹ کرائمز بے قابو، اربوں کا سرویلنس سسٹم بھی ناکام

Published

on


محکمہ پولیس میں تجربات کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، شہر قائد میں گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے جدید کیمروں کی تنصیب بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی۔

ایک ارب 4 کروڑ روپے مالیت سے لگائے گئے ایس 4 سسٹم کی تنصیب کے بعد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھیننے کی وارداتیں بھی حیران طور پر بڑھ گئیں جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا کہ تجربات کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپے مالیت کے جدید کیمرے سے بھی استعفادہ حاصل نہیں جا سکا۔

 

تاہم 2 سالوں کے دوران موٹر سائیکل اور گاڑیاں چوری کی وارداتوں میں انتہائی معمولی کمی سامنے آئی جبکہ کروڑوں روپے مالیت کے سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم کی تنصیب کے بعد پولیس کارروائی کے دوران چوری اور چھینی گئی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی برآمدگی کا گراف بھی نیچے آگیا

شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے دوران گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام کیلئے سندھ پولیس کی جانب سے اگست 2023 کو سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم متعارف کرایا گیا اور ان جدید کیمروں سے لیس منصوبے کا افتتاح وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کیا تھا۔

 

ایس 4 منصوبے کے تحت جدید کیمرے کراچی سمیت سندھ بھر کے داخلی و خارجی راستوں پر مجموعی طور پر 40 کیمرے ٹول پلازہ پر نصب کیے گئے جس میں سے 18 مقامات کراچی کے ہیں ، نصب کیے جانے والے جدید کیمرے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر لگی نمبر پلیٹس اور چہرہ شناخت کرنے کی خصوصیات رکھتے ہیں۔

سابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے مطابق ایک ارب 40 کروڑ روپے مالیت سے لگایا گیا سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری اور چھیننے کی بڑھتی وارداتوں کی روک تھام کیلئے لگایا گیا جبکہ کیمروں کی تنصیب کا کام اگست 2023 میں شروع کیا گیا جبکہ دسمبر 2023 میں کراچی سمیت سندھ بھر کے ٹول پلازہ میں ایس 4 سسٹم کے تحت کیمروں کی تنصیب مکمل کر کے اس منصوبے کے ذریعے باقاعدہ کام شروع کردیا گیا اور تمام کیمرے سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے منسلک کیے گئے ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر ایس 4 کیمروں کی تنصیب کے بعد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری کی وارداتوں میں تو معمولی کمی آئی لیکن چھینا جھپٹی کی وارداتیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئیں.

 

منصوبے کی تنصیب سے قبل 12 ماہ کے دوران گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری اور چھینی جانے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ستمبر 2022 سے اگست 2023 کے دوران شہر قائد میں کار چوری کے 2042 جبکہ کار چھیننے کے 219 واقعات رپورٹ ہوئے تھے اسی عرصے میں موٹر سائیکل چوری کے 53 ہزار 357 اور موٹر سائیکل چھیننے کے 6 ہزار 14 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے.

 

سیسی ٹول پلازہ پر منصوبے کے پہلے کیمرے کی تنصیب کے بعد ابتدائی 4 ماہ کے دوران مجموعی طور پر گاڑیاں چوری اور چھینے کی 809 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جبکہ موٹر سائیکل چھیننے اور چوری کرنے کی 20 ہزار 113 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جبکہ دسمبر 2023 کو ایس 4 منصوبے کی تکمیل کے بعد سندھ بھر کے ٹول پلازہ پر جدید کیمروں کی مدد سے نگرانی کا عمل شروع کیا گیا اور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد جنوری 2024 سے دسمبر 2024 تک کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں کار چوری کے واقعات کم ہو کر 1702 پر آگئے۔

 

تاہم اس کے برعکس ایک سال کے دوران کار چھیننے کے واقعات بڑھ کر 283 تا جا پہنچے اسی طرح موٹر سائیکل چوری کے واقعات کم ہو کر 41 ہزار 858 ہوگئے جبکہ موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات بڑھ کر 8 ہزار 204 تک پہنچ گئے جو کہ کیمروں کی تنصب کے بعد انتہائی حیران کن بات ہے ، اسی طرح سال 2025 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا تو گاڑیاں چوری و چھیننے کی وارداتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ سامنے آیا جبکہ موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں کمی دیکھنے میں آئی

سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 جنوری سے دسمبر کے دوران گاڑی چوری کی 1859 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جو گزشتہ سال کے برعکس زیادہ سامنے آئیں اس ہی طرح گاڑیاں چھیننے کی وارداتیں بھی بڑھ کر 309 پر پہنچ گئیں اس کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں کچھ کمی سامنے آئی اور اس دورانیہ میں 38 ہزار 513 وارداتیں رپورٹ کی گئیں جبکہ موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں بھی کم ہو کر 6 ہزار 419 تک محدود رہیں.

 

ایس 4 جدید کمیروں کے منصوبے سے قبل سندھ پولیس کی گاڑیاں اور موٹر سائیکل چوری اور چھیننے والوں کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک ارب 40 کروڑ روپے مالیت کے اس منصوبے کے بعد ان کارروائیوں کو بھی ریورس گیئر لگ گیا۔

اس منصوبے کی ابتدا سے قبل سال 2023 میں اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کی کاروائیوں کے دوران 834 گاڑیاں برآمد کی گئی تھیں جبکہ ایس 4 منصوبے کے تکمیل کے بعد سال 2024 میں گاڑیاں برآمد ہونے کی تعداد کم ہو کر 708 پر پہنچ گئی جبکہ اگلے سال 2025 میں یہ تعداد مزید کم ہو کر 618 پر جا پہنچی۔

اس ہی طرح چوری اور چھینی گئی موٹر سائیکلیں برآمد کرنے میں ایس 4 منصوبہ خاص مددگار ثابت نہیں ہو سکا ، سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم سے قبل سال 2023 میں 12 ماہ کے دوران چوری اور چھینی گئی موٹر سائیکلیں برآمد ہونے کی تعداد 4 ہزار 715 تھی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعداد بھی کم ہوتی چلی گئی اور 2024 میں یہ تعداد 2 ہزار 598 موٹر سائیکلوں کی برآمدگی تک محدود رہی جبکہ 2025 میں صرف 1 ہزار 631 موٹر سائیکلیں پولیس برآمد کرنے میں کامیاب ہوئی۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے نصب کیے گئے نگرانی کے جدید نظام کے باوجود بعض وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سندھ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹول پلازہ پر نصب کیمرے خاطر خواہ نتائج نہیں دے پا رہے ہیں جس کی ایک اہم وجہ کیمروں میں چہرہ شناخت کرنے کی صلاحیت کا درست استعمال کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔

جبکہ کار اور موٹر سائیکل لفٹرز کی جانب سے واردات کے بعد چھینی یا چوری کی گئی گاڑی پر اس ہی رنگ اور ماڈل کی گاڑی یا موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ تبدیل کر کے ٹول پلازہ باآسانی عبور کرنا بھی شامل ہے جو کہ ایک شہر سے دوسرے شہر گاڑی منتقل کرنے میں جدید کیمروں کو دھوکہ دینے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم پولیس کی ٹیکنکل ٹیم اس حوالے سے بھی کام کر رہی ہے ، پولیس افسر کے مطابق کراچی سے چھینی اور چوری کی گئی بیشتر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں سندھ اور بلوچستان منتقل کی جاتی ہیں تاہم حب چوکی پر موجود ایس 4 سسٹم کے جزوی طور پر کارآمد ہونے کے باعث کچے راستوں سمیت یہ مقام بھی گاڑیاں اور موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کے بعد شہر سے باہر منتقل کرنے کا آسان راستہ بنا ہوا ہے۔

تاہم کروڑوں روپے کے اس جدید نگرانی نظام کے باوجود اگر عوام کی محنت سے کمائی ہوئی گاڑیاں اور موٹر سائکلیں غیر محفوظ ہیں تو یہ صرف ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں بلکہ اس کے ناقص استعمال ، کمزور حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے فقدان کی واضح عکاسی ہے۔

ایس 4 جیسے منصوبے محض کیمرے نصب کرنے تک محدود رہیں تو ان کا مقصد فوت ہو جاتا ہے جبکہ اصل ضرورت مضبوط حکمت عملی اور مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس کارروائی کی ہے بصورت دیگر یہ منصوبہ بھی ماضی کے دیگر مہنگے مگر غیر مؤثر اقدامات کی طرح عوامی وسائل کے ضیاع کی ایک اور مثال بن کر رہ جائے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچپسی میں اضافہ، 3 ماہ کے دوران 220 کمپنیوں کی رجسٹریشن

Published

on



پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس سال جنوری سے مارچ کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ ہونے والی 220 کمپنیاں غیر ملکی ڈائریکٹرز نے رجسٹر کراوئیں، جن کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ 657 ملین روپے ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے کمپنیاں رجسٹر کروانے کے رجحان میں مسلسل اضافہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پاکستان کے ریگولیٹری فریم ورک پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں (جنوری تا مارچ 2026) کے اعدادوشمارکے مطابق غیر ملکی ڈائریکٹرز رکھنے والی زیادہ تر کمپنیاں ٹریڈنگ، سروسز، آئی ٹی، تعمیرات اور مائننگ کے شعبوں میں رجسٹر ہوئیں ہیں، جو معیشت کے روایتی اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

ایس ای سی پی کے ڈیٹا کے مطابق جنوری تا مارچ کے دوران 10 ہزار 318 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہیں، رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں 58.6 فیصد پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیوں ہیں جبکہ 37.9 فیصد سنگل ممبر کمپنیاں تھیں جو کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں فروغ کو ظاہر کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران 50.2 فیصد کمپنیاں پنجاب میں 19.0 فیصد اسلام آباد میں، 15.5 فیصد سندھ میں بقیہ 15 فیصد بلوچستان، خیبر پختونخواہ اورگلگت بلتستان میں رجسٹر ہوئی ہیں۔

شعبوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ کمپنیاں آئی ٹی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر ہوئیں، جن کی تعداد دو ہزار 65 ہے، ٹریڈنگ 1687 اور سروسز 1288 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، اسی طرح رئیل اسٹیٹ اور کنسٹریکشن میں  934 کمپنیاں، سیاحت میں 581، فوڈ اور بیورجز میں497 اور تعلیم میں 363 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

ایس ای سی پی نے بتایا کہ ان تین ماہ کے دوران 95 ہزار 823 کارپوریٹ فائلنگز پراسیس کیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زائد ہیں، اس سہ ماہی میں پوسٹ انکارپوریشن فائلنگز میں 33 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ بہتر کمپلائنس اور ایک مستحکم کارپوریٹ گورننس کی عکاسی ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق سیکیورڈ ٹرانزیکشنز رجسٹری میں ان تین ماہ کے دوران 6 ہزار سے زائد فنانسنگ اسٹیٹمنٹس فائل کی گئیں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے 5 ہزار سے زائد سرچز کی گئیں، جو ملک میں مالیاتی سورسز کی فراہمی میں اضافے اور بڑھتی ہوئی مالیا تی شمولیت کو ظاہر کرتی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

علی اصغر نے کپل شرما شو میں ’دادی‘ کا کردار کیوں چھوڑا؟

Published

on



بھارتی کامیڈین اور اداکار علی اصغر نے بالآخر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ انہوں نے مقبول پروگرام ’دی کپل شرما شو‘ میں اپنے شہرۂ آفاق ’’دادی‘‘ کے کردار کو خیرباد کیوں کہا۔

علی اصغر کا کہنا ہے کہ اس کردار نے انہیں بے پناہ شہرت دی اور وہ گھر گھر میں ’’دادی‘‘‘ کے نام سے پہچانے جانے لگے، لیکن وقت کے ساتھ یہی پہچان ان کے لیے ایک محدود دائرہ بنتی چلی گئی۔

ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایک مرحلہ ایسا آیا جب وہ ٹی وی پر بار بار خواتین کے کردار ہی ادا کر رہے تھے، جس سے ان کی بطور اداکار وسعت متاثر ہو رہی تھی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس دور میں وہ ایک سے زیادہ شوز میں خواتین کے روپ میں نظر آ رہے تھے، جس کے باعث ان کی ایک خاص امیج بن گئی تھی۔ ان کے مطابق لکھاریوں اور پروڈیوسرز کے لیے بھی یہ آسان ہو گیا تھا کہ انہیں بار بار ایسے ہی کردار دیے جائیں، جبکہ وہ خود مختلف کردار آزمانا چاہتے تھے۔

علی اصغر نے کہا کہ بعض اوقات انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصل صلاحیتوں کا مکمل اظہار نہیں کر پا رہا۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں دیگر کرداروں میں بھی موقع دیا جائے، لیکن انڈسٹری کی روایتی سوچ کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود وہ ان کرداروں کو اپنے کیریئر کا اہم حصہ مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج بھی انہی کی بدولت انہیں کئی بڑے شوز اور مواقع ملتے ہیں۔

اداکار نے ایک دلچسپ مگر معنی خیز بات بھی شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ خدشہ بھی رہتا تھا کہ کہیں ان کے بچوں کو اسکول میں اس بنیاد پر چھیڑا نہ جائے کہ ان کے والد ہمیشہ خواتین کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے فلم ’’دیوار‘‘ کا مشہور جملہ یاد دلایا اور کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بیٹے کے ہاتھ پر کوئی لکھ دے ’’میرا باپ عورت ہے‘‘۔

علی اصغر کا یہ فیصلہ محض ایک کردار چھوڑنے کا نہیں بلکہ اپنی پہچان کو وسیع کرنے اور بطور اداکار نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش تھا، جس نے ان کے کیریئر کو ایک نیا موڑ دیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل 11: لاہور قلندرز کی راولپنڈیز کیخلاف بیٹنگ جاری

Published

on



پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 میں لاہور قلندرز کی راولپنڈیز کے خلاف بیٹنگ جاری ہے۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں جاری ایونٹ کے 27 ویں میچ میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے لاہور قلندرز کو گزشتہ تین میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ راولپنڈیز کو ابھی تک ایونٹ میں کوئی بھی فتح حاصل نہیں ہوئی ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending