Connect with us

Today News

صدر زرداری خیریت سے ہیں قوم جھوٹی خبروں پر کان نہ دھرے، سینیٹر سلیم مانڈوی والا

Published

on



پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سوشل میڈیا پر صدر مملکت آصف علی زرداری سے متعلق پوسٹ اور خبروں کی تردید کردی۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر بے بنیاد اور من گھڑت، جھوٹی اور گمراہ کن ہے ایسی خبروں کا پھیلاؤ قابلِ مذمت ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ قوم سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ خبروں پر کان نہ دھرے، سیاسی مقاصد کے لیے فیک نیوز کا استعمال انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں سے درخواست ہے کہ فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری خیریت سے ہیں، جھوٹی خبروں پر یقین نہ کیا جائے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

میری بزدلی میری محافظ – ایکسپریس اردو

Published

on


ڈر کے بارے میں تو ہم بتاچکے ہیں کہ کتنے کام کی بلکہ کثیر الفوائد اورکثیر المقاصد بلکہ کثیر الجہت چیز ہے کہ جس نے ’’ڈر’’ کو پالیا، اس نے سب کچھ پالیا۔گبرسنگھ تو پاگل تھا، احمق تھا، دیوانہ تھا ، جنگلی تھا ، شہرکا باسی ہوتا تو اسے پتہ ہوتا کہ ڈر کتنا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، اس لیے تو وہ مرگیا لیکن جوڈرگیا ،وہ بچ گیا اورقبر کے بجائے سیدھا اپنے گھر گیا، وہ بھی خیروعافیت کے ساتھ۔

لیکن آج ہم ڈر کی جڑواں بہن بزدلی کے بارے میں بتاناچاہتے ہیں کہ اگر وہ ہمیشہ ہمارے شامل حال نہ رہتی تو ہم آج وہاں ہوتے جہا ںسے ہمیں خود بھی اپنی خبر نہ آتی۔ ویسے تو اپنی اس بزدلی کے ہم پر بہت سارے احسانات ہیں کہ اس نے ہمیں کہاں کہاں ،کیسے کیسے ،بڑی بڑی مصیبتوں سے بچایا ہے لیکن آج صرف ایک واقعہ آپ کو سناتے ہیں ۔

امرتسر میں صوفی کانفرنس تھی، چودہ ممالک کے وفود آئے ہوئے تھے ، ہم پاکستانی وفد کے شرکاء میں تین خواتین اورتین مرد شامل تھے ،ان خواتین میں دو تو بڈھیاں تھیں لیکن ایک نوجوان حسین مہ جبین اوربڑی دل نشین تھی، جو ہم سے بے انتہا ’’متاثر‘‘ تھی ۔دراصل ہم جہاںبھی جاتے ہیں، وہاں اپنا ایک ’’الگ زاویہ‘‘ یا ’’نکتہ‘‘ بنا دیتے ہیں، پاسبان عقل کو کہیں دور باندھ دیتے ہیں اور دل کو بے مہار چھوڑ دیتے ہیں اور نہایت ہی بے معنی اور بیتکی باتیں شروع کردیتے ہیں۔ آفیشل ٹورز، تقریروں اورمقالوں کے بیچ بیچ میں ہم اپنا یہ ’’خصوصی سیشن‘‘ جمادیتے ۔

یہاں بھی حسب معمول ہمارا زاویہ چل نکلا جو ہم نے سنجیدگان، رنجیدگان کے جم غفیر سے خاصی دورایک درخت کے نیچے جمایا تھا چونکہ وہاں سے قہقہے اٹھتے تھے، اس لیے نوجوان کھچ کھچ کرچلے آتے تھے جن میں زیادہ ترلڑکیاں ہوتی تھیں، خوبصورت بھی، قبولصورت بھی ، اکثریت طالبات کی ہوتی ۔ان ہی میںہماری وہ ماہ جبیں بھی تھی، فرضی نام ہے اوریہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ کس شہر کی تھی، ہمیںصرف اس سے دلچسپی تھی کہ حسین بھی بلاکی تھی ، صاحبہ ذوق بھی تھی اورسب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری فین ہوگئی تھی۔

کبھی کبھی تو مجھے غلط فہمی کا شکار بھی بنا دیتی تھی ، پورے سیشن میں ہماری اتنی جان پہچان ہوگئی کہ ڈھونڈتی پھرتی تھی ، ہال میں بھی ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی تھی اور ہم جس شہر ، علاقے اور سماجی ماحول کے باسی ہیں، ہمارے لیے تو یہ انہونا بلکہ سلونا منظر ہے لہذا وہ ماہ جبیں تو ازراہ مروت اور تقاضہ مہمانداری ہمارے ساتھ والی نشست پر بیٹھ جاتی تھی لیکن ہمارے دل میں لڈو پھوٹتے رہتے تھے ۔ امرتسر میں ہمارے قیام کی آخری رات تھی، ہمارے دو ساتھی تو الگ کمرے میں تھے، ہمیں اکیلے پوراکمرہ ملا تھا ، بغل والے کمرے میں وہ تینوں خواتین تھیں ۔رات کے کوئی بارہ بجے ہوں گے، ہم لحاف میں نیم ایستادہ ایک کتاب پڑھ رہے تھے کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، دروازہ کھلاتھا۔ اس نے کہا آجاؤ، خیال تھاکہ ہوٹل کاکوئی ملازم ہوگا یا میزبانوں میں سے کوئی ہوگا یا ہمارے مرد ساتھیوں میں سے بھی کوئی ہوسکتا تھا لیکن دیکھا تو ذہن میں طاہرہ سید کی مترنم آواز گونجی ۔

 کس شبابت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند

اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا

 اپنے دمکتے چہرے کو کھلی زلفوں کے سائے میں لیے ’’وہی‘‘ تھی ، شب خوابی کے لباس میں اور قیامت ڈھارہی تھی اورہم ہواؤں میں اڑنے لگے ، وہ آئی اس نے دیکھا اورفتح کرلیا ، والی کیفیت تھی۔

 بقول پروین شاکر

 دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

 حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ

اپنی مترنم اورشہد آگین آواز میں خوش آمدید کے بعد وہ سیدھی آئی اورہماری پائنتی بیٹھ گئی ، ہم اپنے لحاف میں نیم ایستادہ ہوگئے ۔ پیر دبادوں آپ کے ، نہ صرف کہا بلکہ اپنا مرمریں ہاتھ ہمارے پیروں پر رکھ کر دبایا بھی جو لحاف کے نیچے تھے ۔ پھر بولی چائے یاکافی بنالوں آپ کے لیے ۔ ظاہرہے کہ ایسی پیش کش کاانکار کوئی احمق ہی کرسکتا ہے ، وہ چائے بنانے کے لیے کمرے کے سائیڈ میں گئی، جہاں چائے یاکافی کے سارے انتظامات موجود تھے اوربجلی کی کیتلی بھی ۔ وہ چائے بنارہی تھی اورہم اس کی تاکمر زلفوں میں لٹکے ہوئے تھے ، آثار و قرائن سب کچھ بتارہے تھے کہ ہم پر لٹو ہوچکی ہے، ورنہ اتنی رات گئے اور وہ بھی اکیلی… شاید اپنی ساتھیوں کو سلانے کے بعد۔۔گویا مکمل سپردگی کے ساتھ ۔۔ ٹھیک ہے! وہ ہماری سب سے چھوٹی بیٹی سے بھی کم عمر کی تھی، لیکن ہمیں ایسی کئی فلمیں اورڈرامے یاد تھے جن میں نوخیزونوجواں لڑکیاں عمررسیدہ بوڑھوں پر مرمٹی تھیں۔

سارے حالات بتارہے تھے کہ لڑکی خود کو ہمارے سپرد کرنے آئی ہے ،اس سے جو ہوسکتا تھا، وہ اس نے کیا، آدھی رات کو تن تنہا ہمارے کمر ے میں اورکس لیے آئی۔ اب میری پیش قدمی کی باری تھی، چائے پی چکے تو ہم نے حکمت عملی کاسوچا ، ایک سیدھا طریقہ تو یہ تھا کہ ہم جھپٹ کر اسے آغوش میں لے لیتے لیکن یہ کچھ زیادہ لگا، دوسرا یہ کہ ہم اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ، یہ بھی ذرا زیادہ لگا ، اپنا ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ لیتے، فاصلہ ایک فٹ سے بھی کم تھا، اس لیے ہاتھ اٹھاناچاہا لیکن وہ ہل کر نہیں دے رہا تھا، دیکھا تو بزدلی ہاتھ سے چمٹی ہوئی تھی ، جھٹکنے کی کوشش کی، ہاتھ منزل مقصود پرپہنچاناچاہتے لیکن بزدلی ہاتھ سے پوری طرح چپک گئی تھی ، آخر زورسے جھٹک کر بزدلی کو دورپھینکا اورہاتھ کو ہدف کی طرف بڑھایا لیکن ہاتھ ابھی ہوا ہی میں تھا کہ وہ بول پڑی، ’’اچھا باباجی! آپ کابہت بہت شکریہ۔‘‘ ابھی ہم بابا اورشکریہ کے الفاظ پر غورکررہے تھے کہ اس نے کہا،’’ دراصل جب میں گھر پر ہوتی ہوں تو اس وقت دوکپ چائے بنا کر اپنے باباجان کے کمرے میں چلی جاتی ہوں، پھر ہم باپ بیٹی چائے کی چسکیاں لے کر گپ شپ کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن ایک ہفتے سے میں اپنے بابا جان کو مس کررہی تھی ،آج سوچا وہ بابا نہ سہی یہ بابا سہی کیونکہ آپ بھی تو میرے بابا جیسے ہی ہیں، شکریہ ‘‘۔۔۔وہ چلی گئی تو ہم نے اپنی ناراض اورروتی ہوئی بزدلی کو اٹھایا، اسے گلے لگایا، خوب چوما اورپھر اپنے ساتھ لٹا کر لحاف کھینچ لیا ، آج اگر وہ نہ ہوتی تو میں رسوائے عالم ہوجاتا ۔ اب سمجھ میں آیا کہ یہ جو ہراسگی، ہراسانی کی حماقت کرتے ہیں، ان کے پاس بزدلی کی نعمت نہیں ہوتی۔ دلیری تو دشمن ہوتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان کی درخواست پر ایران پر حملہ مؤخر کردیا؛ جنگ بندی میں بھی توسیع؛ ٹرمپ کا اعلان

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر فی الحال ایران پر حملے پر مؤخر کر رہے ہیں۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکومت اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے۔

ٹرمپ کے بقول پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ ایران پر حملہ اس وقت تک مؤخر رکھا جائے جب تک وہاں کی قیادت اور نمائندے کسی مشترکہ تجویز پر متفق نہیں ہو جاتے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ااس کے بعد امریکی فوج کو حملے نہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے اور ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار رہنے کے احکامات بھی دیئے ہیں۔

امریکی صدر نے جنگ بندی میں بھی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ توسیع اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے باضابطہ تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا نے پڑوسی ممالک سے ہم پر حملے کیے تو انکی آئل تنصیبات کو تباہ کردیں گے؛ ایران

Published

on


ایران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے امریکا کو ہم پر حملے کے لیے اپنے فوجی اڈّے کسی بھی قیمت پر نہ دیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب  کے ایرو اسپیس کمانڈر ماجد موسوی نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے میں ہمسایہ ممالک کی سرزمین یا تنصیبات استعمال ہوئیں تو پورے خطے کی تیل پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔

ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے بیان میں انھوں نے کہا کہ ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ان کی زمین یا سہولیات دشمن کے حملے کے لیے استعمال ہوئیں تو انھیں مشرق وسطیٰ میں تیل پیداوار کو خیرباد کہنا پڑے گا۔

ایرانی فضائیہ کے کمانڈر ماجد موسوی نے مزید کہا کہ اگر دشمن نے ایران پر حملے کی معمولی سی بھی غلطی کی تو ایران اپنی مرضی کے اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

یاد رہے کہ 28 فروری سے امریکا اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات اور آئل پروڈکشن کو میزائل حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں ہونا تھا لیکن ایران کی جانب مثبت اشارے نہ ملنے پر امریکی نائب صدر نے اپنا دورۂ پاکستان عین وقت پر مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہونے سے انکار کردیا تھا تا وقت کہ امریکا ناکہ بندی بند کرے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending