Connect with us

Today News

عالمی امن کے لیے پاکستان کا ابھرتا کردار

Published

on


مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اسرائیل کی سازش سے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اختیار کی گئی جارحانہ پالیسی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

جنگ کے بادل چھٹنے کے بجائے مزید گہرے ہو رہے ہیں اور جو اطلاعات میدانِ جنگ سے موصول ہو رہی ہیں وہ تباہی اور بربادی کی ہولناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ ایران کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بمباری اور حملوں نے انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ محض ایک محدود کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکا جو ہمیشہ اپنے مفادات کو ترجیح دینے کے حوالے سے جانا جاتا ہے ایک بار پھر اسی روش پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ امریکا کی دوستی اکثر مفادات کے تابع رہی ہے اور جیسے ہی اس کے مقاصد پورے ہوتے ہیں وہ اپنے اتحادیوں کو تنہا چھوڑنے میں دیر نہیں لگاتا۔حالیہ جنگ کے دوران امریکی صدر کے مسلسل بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ صبح و شام دیے جانے والے متضاد اور جارحانہ بیانات نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بے چینی کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلم ممالک کے حوالے سے استعمال کی جانے والی زبان نے شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور اسے کئی حلقوں میں ناقابل قبول قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا دفاع کر رہا ہے۔ ایرانی قیادت کے مطابق جہاں جہاں سے اس پر حملے کیے گئے ہیں وہاں بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ اس ردعمل کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے ۔

اس صورتحال نے مسلم اُمہ کے اتحاد پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بیرونی قوتیں مسلم ممالک کو باہمی تنازعات میں الجھانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔تاہم اس تمام تر کشیدگی کے باوجود اس جنگ کے حتمی نتائج کے بارے میں ابھی کوئی واضح پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے جس نے ایک ذمے دار اور بالغ نظر ریاست کے طور پر ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔پاکستان نے اس بحران میں جو سفارتی حکمت عملی اختیار کی ہے اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

ایک طویل عرصے کے بعد یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں گامزن ہے۔ اسلام آباد نہ صرف خطے بلکہ عالمی سفارتکاری میں ایک فعال کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ان مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر کردار ادا کیا جسے ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگرچہ مذاکرات کا عمل ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا تاہم یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے کہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کا مؤقف سننے پر آمادگی ظاہر کی۔

ادھر میدانِ جنگ کے علاوہ معاشی محاذ پر بھی اس تنازع کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ مہنگائی میں اضافہ، تجارتی عدم توازن اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔خود امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے تحفظات پائے جا رہے ہیں۔

سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ جنگ واقعی ضروری تھی یا محض طاقت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ ایران کی جانب سے بھرپور مزاحمت نے بھی امریکی عسکری برتری کے تصور کو چیلنج کیا ہے جس سے عالمی سطح پر طاقت کے توازن کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی نے عالمی تجارت کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اگرچہ امریکا نے اس حوالے سے اعلان کیا لیکن عملی طور پر اسے مؤثر بنانا آسان ثابت نہیں ہو رہا۔ ایران کی جانب سے مزاحمت اور خطے کی پیچیدہ جغرافیائی صورتحال اس اقدام کو مشکل بنا رہی ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ بظاہر مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بات چیت کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ سفارتکاری میں اکثر اہم پیش رفت پس پردہ ہی ہوتی ہے اور یہی توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان مستقبل میں بھی اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ کسی بھی تنازع کا دیرپا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہی ہوتے ہیں۔

جب ایک بار بات چیت کا دروازہ کھل جائے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی یہی امید کی جا رہی ہے کہ تمام فریقین بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے اور ایک قابل قبول حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

 یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکا، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دیتی ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ پاکستان کا عالمی وقار بھی مزید بلند ہوگا۔یہ کشیدگی ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچی اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہیں۔ تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ سفارتی کاوشیں بالآخر رنگ لائیں گی اور خطہ ایک بڑے تصادم سے محفوظ رہ سکے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا کے ساتھ مزید براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، ایران

Published

on


ایران نے امریکا پر بے جا مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دوسرے دور کے براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے بتایا کہ امریکا اہم معاملات پر اپنے بے جا مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے بقول یہی وجہ ہے کہ ہم اس وقت امریکا کے ساتھ دوسرے دور کے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔

نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو ایران کے بنیادی خدشات کو سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی ضرورت ہے جن میں سے ایک ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیئم امریکا کو دینے پر بھی تیار نہیں۔ یہ ناقابلِ قبول شرط ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ فریقین (امریکا اور ایران) کے درمیان بالواسطہ رابطہ برقرار ہے لیکن ہماری خواہش ہے کہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے فریم ورک معاہدہ طے پا جائے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ جلد سامنے آئے گا۔ 

 





Source link

Continue Reading

Today News

لاہور: سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہری پریشان

Published

on



لاہور میں سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ مہنگائی اور دکانداروں کی منافع خوری پر قابو نہ پایا جا سکا جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

 سرکاری نرخوں اور اوپن مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ پیاز کی سرکاری قیمت 50 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم یہ 80 سے 100 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح ٹماٹر 75 روپے کے بجائے 150 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

دیگر سبزیوں میں آلو 20 روپے کے بجائے 35 روپے، بھنڈی 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ دیسی ٹینڈے 160 روپے کی بجائے 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ لہسن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں دیسی لہسن 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ چائنیز لہسن 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کیلا 215 روپے کے بجائے 350 سے 400 روپے، سیب کالا کولوں پہاڑی 215 کے بجائے 350 روپے جبکہ انگور ٹافی 380 کے بجائے 700 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ سفید انگور بھی 500 روپے سے زائد میں دستیاب ہیں۔

گوشت کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چھوٹے بکرے کا گوشت 1800 روپے کے بجائے 2700 سے 3000 روپے فی کلو، گائے کا گوشت 800 کے بجائے 1200 روپے جبکہ برائلر مرغی کا گوشت 540 کے بجائے 570 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

شہریوں محمد جاوید اور رشید احمد کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان تھے، اب گراں فروشی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر گراں فروشی کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں، جن میں مقدمات کا اندراج اور جرمانے بھی شامل ہیں، تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں استحکام نہ آ سکا۔



Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز پر سیکیورٹی ٹیکس دینے والوں کو ترجیحاً پہلے گزرنے دیں گے؛ ایران

Published

on


آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایک دن بعد ہی ایران نے امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم نہ کرنے کے ردعمل میں دوبارہ بند کردی اور اب ایک اہم اعلان سامنے آیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے محدود تعداد میں تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ان کے بقول آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اب نئی شرائط کے تحت ترجیح دی جائے گی جس کے تحت سیکیورٹی اور سیفٹی اخراجات ادا کرنے والے جہازوں کو پہلے گزرنے کی اجازت ملے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ جو جہاز نئے پروٹوکولز پر عمل کریں گے اور سیکیورٹی اخراجات (ٹیکس) ادا کریں گے انھیں ترجیح دی جائے گی اور جو ادائیگی نہیں کریں گے ان کے گزرنے کو مؤخر کر دیا جائے گا۔

ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ آج سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنا دشمن کے ساتھ تعاون سمجھا جائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

پاسداران انقلاب کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام امریکا کے ناکہ بندی کو ختم نہ کرنے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ردعمل میں اٹھایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ آج پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا اور سخت چیکنگ بھی کی جب کہ بحری جہازوں کو پیغامات بھیجے گئے کہ آبی گزرگاہ دوبارہ سے بند کردی گئی ہے۔

اسی دوران پاسداران انقلاب کی گشت پر مامور گن بوٹس کا آمنا سامنا کچھ ایسے جہازوں سے ہوا جنھوں نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔ کم از کم 4 جہازوں کو ہوائی فائرنگ کرکے واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔

ان میں سے دو تیل بردار جہازوں پر بھارتی پرچم لہرا رہا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز پر روکنے پر نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

 





Source link

Continue Reading

Trending