Today News
امن کی کوشش ، انسانیت کی بقاء کے لیے امید کا پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کو عملا بلاک کر دیا گیا ہے ، اگرتہران معاہدہ کرنا چاہتاہے تو اب بھی مذاکرات کی میزپر واپس آسکتاہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل صدرٹرمپ کے بحری محاصرے یا ناکہ بندی کے فیصلے کی حمایت کرے گا جب کہ نیٹو اتحادیوں نے ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ناکہ بندی کے منصوبے میں شامل نہیں ہوں گے۔
اتحادیوں نے تجویز دی ہے کہ وہ صرف جنگ کے خاتمے کے بعد ہی مداخلت کریں گے اور محاصرے میں حصہ لے کر تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔ چین نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بین الاقوامی برادری کے مفادات کے خلاف ہوگی اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امن اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران امریکا تنازع طے کرانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، ہماری کاوشوں سے جنگ بندی اب بھی قائم ہے،انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان کو جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کا موقع ملاہے۔دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف آیندہ 48 گھنٹوں میں سعودی عرب اور ترکیے کا دورہ کریں گے، وزیر اعظم کی سعودی اور ترک حکام سے اہم معاملات پر مشاورت متوقع، اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ساتھ ہوگا۔
عالمی سیاست کے افق پر جب کشیدگی کے سیاہ بادل اپنی پوری ہیبت کے ساتھ چھا جاتے ہیں اور طاقت کے ایوانوں میں فیصلے انسانی تقدیروں پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں تو تاریخ ایک بار پھر اپنے اوراق کھول کر ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ جنگ کا ہر باب دراصل ایک اجتماعی المیے کی داستان ہوتا ہے، جب کہ امن کی ہر کوشش انسانیت کے لیے امید کا ایک نیا چراغ روشن کرتی ہے۔
ایسے ہی ایک نازک اور فیصلہ کن لمحے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ایک ایسے سفارتی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے ،جہاں نصف صدی سے برسرپیکار دو طاقتیں، امریکا اور ایران، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بات چیت پر آمادہ ہوئی ہیں۔ یہ پیش رفت محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئے امکان کی نوید ہے، جس میں طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور اگرچہ کسی واضح معاہدے پر منتج نہیں ہوا، لیکن سفارت کاری کے اصولوں کے مطابق یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایسے معاملات میں فوری نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔ اصل کامیابی اس بات میں مضمر ہوتی ہے کہ فریقین بات چیت پر آمادہ ہوں اور ایک دوسرے کے موقف کو سننے کے لیے تیار ہوں، یہی وہ پہلا قدم ہوتا ہے جو کسی بھی بڑے معاہدے کی بنیاد بنتا ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے اس کشیدگی کو ایک نئی شدت بخشی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان ایک ایسا اقدام ہے جس کے اثرات نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی شہ رگ کہنا مبالغہ نہیں، کیونکہ دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اگر اس گزرگاہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں، توانائی کی قیمتوں اور صنعتی پیداوار پر فوری طور پر مرتب ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ چین نے اس ممکنہ ناکہ بندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین کو تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
چین کا یہ موقف نہ صرف اس کے اقتصادی مفادات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کو بھی ظاہر کرتا ہے، جہاں وہ خود کو ایک ذمے دار اور متوازن طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔اسی طرح نیٹو کا اس تنازع میں براہ راست شامل ہونے سے گریز ایک اہم اشارہ ہے۔ مغربی اتحاد کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کرنا ،اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنے کے خواہاں ہیں، یہ رویہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اب طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور توازن کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسرائیل کا کردار بھی اس پورے منظرنامے میں نہایت اہم ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے امریکی موقف کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کرتا ہے جو ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کر سکے، تاہم یہ حکمت عملی بھی اپنے اندر کئی خطرات سموئے ہوئے ہے، کیونکہ دباؤ کی پالیسی اکثر ردعمل کو جنم دیتی ہے۔ایران کی جانب سے سخت ردعمل اور اس کی عسکری قیادت کی وارننگز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حالات کسی بھی وقت بگڑ سکتے ہیں۔
جب ریاستیں اپنی خودمختاری کو خطرے میں محسوس کرتی ہیں تو وہ اکثر جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتی ہیں، اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سفارت کاری کی ناکامی کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ایسے میں جے ڈی وینس کی جانب سے مذاکرات کو مثبت قرار دینا ایک امید افزا اشارہ ہے۔ اگرچہ یورینیم افزودگی اور جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے پیچیدہ معاملات کا حل فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مسلسل بات چیت، اعتماد سازی اور تدریجی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ موقع ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ ایک طرف یہ اس کے لیے عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مستحکم کرنے کا سنہری موقع ہے، تو دوسری جانب یہ ایک بڑی ذمے داری بھی ہے، اگر پاکستان اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے تو وہ نہ صرف ایک موثر ثالث کے طور پر ابھر سکتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں ایک اہم کردار بھی حاصل کر سکتا ہے،تاہم کسی بھی ناکامی کی صورت میں اس کے اثرات اس کی خارجہ پالیسی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازع کو کس حد تک طول دینا چاہتی ہیں اور کس حد تک اسے حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اکثر تنازعات صرف اصولی اختلافات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے بھی جاری رہتے ہیں۔ توانائی کے وسائل، جغرافیائی اہمیت اور سیاسی اثر و رسوخ جیسے عوامل اس تنازع کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔آبنائے ہرمز کی جیو اکنامک اہمیت اس تمام بحث کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔ یہ محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے، اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر فوری اور شدید ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس تنازع کو بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں فعال کردار اور لبنان کے مسئلے پر اس کا واضح مؤقف بھی اس کی خارجہ پالیسی کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان نے جس جرات، بصیرت اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نازک ذمے داری کو قبول کیا ہے، وہ نہایت قابلِ تحسین ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسی امید کی کرن ہیں جو ایک تاریک عالمی منظرنامے میں روشنی کا پیغام دے رہی ہیں، اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ پاکستان جنگ کے خاتمے اور قیام امن کے لیے اپنی بھرپور کوشش کررہا ہے، توقع اور امید ہے کہ بہت جلد نہ صرف جنگ بندی میں توسیع ہوگی ، بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرا دور بھی شروع ہوگا، جس میں مزید فریقین بھی شریک ہوکر جنگ کے خاتمے میں اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
تاریخ انسانی شاہدہے کہ جنگ ہمیشہ تباہی وبربادی کا پیشہ خیمہ ثابت ہوتی ہے، اور اس کے خاتمہ ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے، دنیا کو امن کو ضرورت ہے، یقینا امریکا، ایران اور اسرائیل کو بلاخر ایک امن معاہدے پر متفق ہونا پڑے گا، یہی وقت کیا اہم ترین ضرورت ہے اور اسی میں انسانیت کی فلاح کا راز مضمر ہے۔
دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام ہے، اگر امریکا، ایران اور اسرائیل اس حقیقت کو تسلیم کر لیں تو ایک ایسا مستقبل ممکن ہے جہاں جنگ کے بجائے امن، نفرت کے بجائے ہم آہنگی اور تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ حاصل ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری انسانیت کے لیے فلاح اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔
Today News
آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے، صوبائی وزیر کھیل
صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکرنے کہا ہے آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے ۔
صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکر نے وزیر اعلیٰ پنجاب میراتھن ریس کے حوالے سے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ لوگ صبح سے یہاں پہنچ چکے ہیں، پنجابیوں کو صبح سویرے اٹھانا مشکل ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے سب لاہوریوں کو اٹھا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا وثزن تھا کی نوجوانوں کو کھیلوں میں زیادہ حصہ لینا ہو گا اور وہ پورا ہو رہا ہے اور ہمارا گول ہے کہ اگلے نومبر تک ہم ایک لاکھ لوگوں کی رجسٹریشن کریں اور ان کو اکٹھا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب بڑے انعامات آج ملے گے انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ ریس میں شامل ہونگا ، پوزیشن تو نہیں لے سکتا لیکن ریس میں حصہ لینے کے لیے پرجوش ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جیسی دبئی میں میراتھن ہوتی ہے میں چاہتا ہوں کہ میں اس کا مقابلہ کروں، ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں سے شہریوں نے حصہ لیا۔
Source link
Today News
کپتان محمد رضوان نے مسلسل 7 میچز میں راولپنڈیز کی ناکامی کی اصل وجہ بتا دی
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز راولپنڈیز کے کپتان محمد رضوان نے مسلسل سات میچز میں ناکامی اور ٹیم کے پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے کی اصل وجہ بیان کر دی۔
لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد رضوان نے کہا کہ ان کی اپنی کارکردگی اچھی نہیں رہی، جس کا اثر براہ راست ٹیم کے نتائج پر پڑا۔
انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر میری طرف سے کوئی کمی رہی ہوگی، اسی لیے ایسا نتیجہ سامنے آیا۔ میں نوجوان کھلاڑی کے ساتھ اوپن کر رہا تھا، پوزیشن کے حوالے سے میری اپنی خواہش ضرور ہو تی ہے لیکن ٹیم کا فیصلہ ہمیشہ متفقہ ہوتا ہے۔
محمد رضوان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم مسلسل ہار رہی ہو تو مثبت پہلو تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے، تاہم کچھ چیزیں حوصلہ افزا بھی رہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر ٹیم کو دیکھا جائے تو کہیں کوئی واضح کمی نظر نہیں آتی لیکن قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔
راولپنڈیز کے کپتان نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کو صرف نتائج سے نہیں جانچنا چاہیے، بطور کپتان آپ صرف کوشش کر سکتے ہیں لیکن اگر غلطیاں ہو جائیں تو پھر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
محمد رضوان نے اپنی ذاتی فارم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر میری پرفارمنس نہ ہو تو پاکستان ٹیم میں جگہ نہیں بنتی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہمت ہار جاؤں۔ کرکٹ میرے لیے جنون ہے، مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا، میں محنت کرکے واپس آؤں گا۔
رضوان نے اعتراف کیا کہ یہ ان کے کیریئر کا سب سے مشکل مرحلہ ہے، انہوں نے کہاکہ میں مانتا ہوں کہ یہ میری ناکامی ہے، اب میرے ہاتھ میں صرف محنت کرنا ہے۔
واضح رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز نے راولپنڈیز کو 32 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا اور یہ راولپنڈیز کی مسلسل ساتویں شکست ہے، ٹیم اب تک ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
Today News
دنیا کا متوقع جغرافیہ
دنیا بھر کے جوتش 2026کو تبدیلی (آپ یہاں تباہی بھی پڑھ سکتے ہیں) کا سال ضرور قرار دے رہے تھے لیکن کسی کے خواب و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ تبدیلی یا تباہی اتنی سرعت اور تیز رفتاری سے رونما ہوں گی۔ دنیا کو یہ بھی نظر آرہا تھا کہ امریکا کا بحیثیت سپر پاور وقت ختم ہوا چاہتا ہے لیکن پھر بھی کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ امریکا کی عسکری قوت اور وہ بھی ایران کے مقابلے میں (ساتھ میں چین، روس اور شمالی کوریا آپ خود شامل کر لیجیے گا) یوں منہ کے بل آگرے گی۔
پاکستان کو تو ہر وقت ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس وقت ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ دنیا میں ہر دور میں سب پرانی بات New World Order ہی رہی ہے اور جو یہ بات کرتا ہے وہ ہی نیا عالمی نقشہ پیش کرتا ہے۔ آج ایک دفعہ پھر نئی عالمی درجہ بندی کی بات ہورہی ہے اور ہم اس کالم میں آپ کو آگے کی متوقع درجہ بندی کے بارے میں کچھ بتانے کی سعی کریں گے۔ آگے یہ ہوگا کہ دنیا قوت کے تین مراکز میں تقسیم ہوجائے گی۔ تینوں مراکز یا خطوں کے کیا خدوخال ہوں گے؟ یہی اس کالم کا مرکزی خیال ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ دنیا میں ایک نئی صف بندی ہونے جارہی ہے اور اس صف بندی کے نتیجے میں دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس صف بندی کا سب سے زیادہ اثر مشرق وسطیٰ پر پڑے گا کہ جہاں بہت سے ممالک کی جغرافیائی ہئیت برقرار نہیں رہے گی اور ان کی بقا اسی میں ہوگی کہ وہ دوسرے ملک میں ضم ہوجائے۔ اسرائیل کو بھی اگر برقرار رہنا ہے تو اسے گریٹر اسرائیل کے خواب کو چھوڑنا ہوگا اور زمینی حقائق کو قبول کرنا ہوگا ،ورنہ دنیا میں جو کچھ ان کے ساتھ ماضی میں ہوا تھا وہ شاید پھر سے شروع ہوجائے۔ ان کی ریاست پر تحفظات کے اظہار کا آغاز ہوگیا ہے۔
قرآن نے تو قیامت تک ان کے ساتھ کیا ہوگا ،وہ بیان کردیا ہے۔ تیل کی دولت تو جب تک تیل ہے مشرق وسطیٰ سے آتی رہے گی لیکن اس دفعہ تیل کی آمدنی کی سرمایہ کاری ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسی میں بھی ہوں گی تاکہ اس نئی درجہ بندی والی دنیا میں سب کو حصہ دیا جاسکے۔ دولت کے حوالے سے تو بات ہوگئی لیکن دولت مند ہوسکتا ہے کیا بلکہ یقیناً اب مشرق وسطیٰ میں اس طرح سے رہائش اور سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور وہ اپنے لیے ایک نئی جنت کی تلاش شروع کردیں گے۔
آپ سمجھ لیجیے کہ ایشیا ایک اکائی کی صورت میں اور قوت کے ساتھ اپنا بھرپور اور کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوگا اور اس کی قیادت چین کررہا ہوگا، اس کے نائبین میں پاکستان بھی شامل ہوگا، اگر آپ زیادہ حیرت کا اظہار نہ کریں تو یقین کیجیے کہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی اپنے اس نئے کردار کے لیے تیار ہیں بلکہ شاید آمادگی کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے آنے والا وقت بہت اہم اور کلیدی ہے۔
پاکستان دنیا کی درجہ بندی میں ایک انتہائی اہم ملک کے طور پر کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے ہماری اشرافیہ کو ٹینکروں میں پانی کی سپلائی، بجلی کے مہنگے منصوبے اور سڑکوں کی تعمیر میں رشوت کو چھوڑنا ہوگا، اگر ٹینکروں میں پانی آسکتا ہے تو لائنوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ ایک اہم عالمی کردار ادا کرنے کے لیے اپنے عوام کو مطمئن رکھنا بہت ضروری ہے اور ماضی میں برطانیہ نے اور حال میں امریکا نے بھی یہی کیا تھا۔ اتنے لکھے کو بہت جان لیجیے۔ ہندوستان کا کیا حتمی کردار ہوگا؟ یہ کہنا ذرا قبل از وقت ہوگا۔
ہندوستان کی بہتری تو اسی میں ہے کہ وہ چین کی قیادت میں ایشیا کی صف میں شامل ہوجائے لیکن مودی اور بی جے پی کی انتہا پسند قیادت کے لیے یہ کڑوی گولی نگلنا بہت مشکل ہوگا۔ ویسے بھی اس وقت ہندوستان کی قیادت حالات کا صحیح تجزیہ کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر سخت دباؤ میں ہے اور اس صورتحال میں ان کے غلط فیصلے کرنے کا احتمال زیادہ ہے، اگر ہندوستان کی قیادت چین کی سربراہی والی کڑوی گولی نگلنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو پھر ان کا انجام بھی سویت یونین والا ہوگا جو شاید ہندوستان کے لیے تو اچھا نہ ہوں لیکن خطے کے امن کے لیے بہت سودمند ہوگا۔ چین نے جتنی سرمایہ کاری اپنے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ذریعے افریقہ میں کی ہے تو افریقہ کو چین کی قیادت قبول کرنے میں کوئی تامل یا پس و پیش نہیں ہوگا۔
مغرب نے ہمیشہ افریقہ کو صرف غلاموں کی منڈی کے طور پر دیکھا ہے لیکن مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔ افریقہ اپنے معدنی ذخائر کی بدولت دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کرے گا اور چین کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ جب کوئی بھی افریقہ میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھا تو چین نے سرمایہ کاری کی تھی، لہٰذا جب پھل کھانے کا وقت آئے گا تو چین کا حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔اب ہم یورپ کی طرف آتے ہیں۔
بدقسمتی سے برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ دور میں دوبارہ شکست ہوئی ہے لیکن اس دفعہ محاذ سفارتی تھا۔ امریکا نے اپنے گماشتوں کے ذریعے برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس کا مقصد یورپی یونین کو کمزور کرنا تھا لیکن اس کا الٹ ہوا یعنی یورپی یونین مضبوط ہوئی اور برطانیہ کی معیشت کمزور ہوگئی۔ برطانیہ کو احساس ہوگیا ہے کہ اس سے غلطی کرائی گئی ہے۔
برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اپنے ملک کی پہلے والی حیثیت بحال کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں لیکن اس وقت یورپ کے اہم ممالک فرانس، جرمنی اور اٹلی ہیں اور یہ نہ صرف یورپ کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ہنگری میں حزب اختلاف کی فتح کو نوشتہ دیوار سمجھ لینا چاہیے۔ ہمارے خیال میں آنے والے دنوں یورپ متحد ہوکر متحدہ یورپ کی صورت میں نمودار ہوگا۔
نیٹو طاق نسیاں ہوجائے گا کہ جس کی جانب صدر ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیٹو دراصل پہلے سوویت یونین اور بعد میں روس سے مقابلے کے لیے تھا اور روس یوکرین جنگ اسی لیے شروع کروائی گئی تھی کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کر کے نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پہنچایا جاسکے لیکن اب ایسا نظر آرہا ہے کہ روس متحدہ یورپ کا ایک کلیدی کردار ہوگا جو اس کے صبر اور حوصلے کا اعتراف اور نئی عالمی درجہ بندی میں اس کا انعام بھی ہوگا۔
اب آخر میں رہ گیا ’’بڈھا شیر‘‘ چین اور روس کی کوشش ہے کہ امریکا کو شمالی اور جنوبی امریکا تک محدود کردیا جائے وہ بالآخر اس میں کامیاب ہوجائیں گے اور یوں امریکا اپنے ہی گھر میں قریب قریب نظر بند کردیا جائے گا۔ ہرچند کے کینیڈا نے بھی اپنے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہت نظر ثانی کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکا اس کا پڑوسی ہے اور زخم کھایا ہوا پڑوسی بھرے ہوئے پیٹ والے پڑوسی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
امریکا جتنا جلدی ان نئے حالات سے سمجھوتہ کر لے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا کیونکہ جیسے پاکستان نے بنگلہ دیش کے قیام کو تو قبول کرلیا ہے لیکن اس کے قیام میں ہندوستان کے کردار کو وہ کبھی بھولا نہیں ہے، اسی طرح امریکا پر سویت یونین توڑنے کا قرض ابھی باقی ہے اور اگر مستقبل میں کبھی یہ قرض ادا بھی ہوا تو وہ امریکا کی اپنی غلطی سے ہی ہوگا۔ یہ مستقبل کی دنیا کا ایک عمومی جائزہ ہے، ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بہت ہی قبل از وقت اور کچھ کو دیوانے کا خواب بھی لگ سکتا ہے۔
ہم دونوں صورتوں میں آپ کی آراء کا احترام کرتے ہیں، لکھ اس لیے دیا کہ کل ہم نہ ہوں تو تحریر ضرور باقی رہے گی کیونکہ جو لوگ اس قسم کی تحاریر لکھتے ہیں وہ اس بات کے لیے بھی تیار رہتے ہیں کہ ’’کل ہوں نہ ہوں۔‘‘
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper