Connect with us

Today News

میٹرک بورڈ کراچی: کیمسٹری کے پرچے نے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا

Published

on



کراچی:

میٹرک بورڈ کراچی کے تحت نویں جماعت کیمسٹری کے سالانہ پرچے نے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا، پورا سال روایتی پیٹرن اور گزشتہ 10 سالہ پرچوں کی بنیاد پر تیاری کرنے والے طلبہ کو امتحان میں زیادہ تر تصوراتی سوالات دے دیئے گئے، نومیریکلز اور بیلنسنگ ایکویشنز جیسی روایتی مشقیں اس مرتبہ شامل ہی نہیں کی گئیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات جاری ہیں، جمعہ کو صبح کی شفٹ میں نویں جماعت کا کیمسٹری کا پرچہ لیا گیا جس پر طلبہ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرچہ اس قدر کنسپچوئل اور مشکل تھا کہ انھیں یہ سمجھنے میں بھی دشواری پیش آئی کہ سوال میں پوچھا کیا گیا ہے؟

نویں جماعت کے طلبہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پورا سال روایتی پیٹرن اور گزشتہ 10 سالہ پرچوں کی بنیاد پر تیاری کی مگر امتحان میں اچانک اس قدر زیادہ تصوراتی سوالات آگئے کہ ہم ذہنی طور پر اس کے لیے بالکل بھی تیار ہی نہیں تھے ، پرچہ نہایت مشکل تھا جس  میں نہ تو وہ نومیریکلز شامل تھے جن کی مسلسل پریکٹس کرتے رہے اور ہمیشہ آتے بھی ہیں اور نہ ہی بیلنسنگ ایکویشنز جیسی روایتی مشقیں آئیں بلکہ زیادہ تر سوالات ایسے تھے جن کے لیے گہری سمجھ اور مختلف انداز میں سوچنے کی ضرورت تھی جس کی انھیں پہلے سے مناسب رہنمائی نہیں دی گئی تھی اس وجہ سے کئی طلبہ پرچہ دیکھ کر شدید دل برداشتہ اور مایوس نظر آئے اور متعدد طلبہ نے کچھ سوالات ہی چھوڑ دیئے۔

شاہ فیصل کالونی میں قائم سینٹر کی طالبہ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا رمضان کے دوران جاری ہوئے نوٹی فکیشن اور بعدازاں ہونے والی میٹنگز میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کنسپچوئل پیپرز کا مکمل نفاذ اگلے سال سے ہوگا جبکہ اس سال پیپر زیادہ تر روایتی انداز میں ہی لیا جائے گا مگر عملی طور پر کیمسٹری کے پرچے میں کنسپچوئل سوالات کی شرح کہیں زیادہ نظر آئے جس سے وہ شدید کنفیوژن کا شکار ہوئے، اگر پہلے سے واضح طور پر بتا دیا جاتا، ماڈل پیپرز فراہم کیے جاتے اور اسی طرز پر تیاری کرائی جاتی تو وہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے تھے مگر بغیر پیشگی تیاری کے اس اچانک تبدیلی نے ان کی محنت پر پانی پھیر دیا جس کا ذمہ دار کون ہے؟

طلبہ نے کہا نومیریکلز اور ایکویشنز کی بھرپور پریکٹس کی تاکہ مکمل نمبر حاصل کر سکیں مگر امتحان میں اس کے برعکس 30 فیصد سے زائد سوالات تصوراتی دیئے گئے ہم نے جو جوابات لکھے وہ ای مارکنگ کو مشین میں کیسے سمجھ آئیں گے؟ طلبہ نے مزید بتایا کہ پرچے کی انگریزی بھی غیر معمولی طور پر مشکل تھی جو انھیں کیمبرج طرز کے امتحان جیسی محسوس ہوئی جس کی وجہ سے سوالات کو سمجھنا ہی ایک بڑا چیلنج بن گیا۔

متعدد طلبہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بڑی تعداد میں طلبہ کے فیل ہونے کا امکان ہے جس سے نہ صرف ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوگی بلکہ ان کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔

والدین نے بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو اس طرح کے غیر متوقع تجربات کا نشانہ بنانا ناانصافی ہے، والدین نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکنگ میں نرمی برتی جائے اور آئندہ کے لیے واضح اور مستقل پالیسی اپنائی جائے۔

اس حوالے سے آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے بھی کراچی بورڈ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی غیر مستقل مزاجی اب انتہا کو پہنچ چکی ہے، تعلیمی اصلاحات ایک مثبت قدم ہیں مگر انھیں نافذ کرنے سے پہلے مناسب منصوبہ بندی ، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کو مکمل رہنمائی فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے جو اس معاملے میں نظر نہیں آیا۔

اساتذہ اور کوچنگ سینٹرز سے وابستہ پروفیسرز نے بھی اس پرچے کو غیر متوقع اور مشکل ترین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ پرچہ نصاب کے اندر سے ہی تھا مگر سوالات کی نوعیت اور زبان اس انداز میں تبدیل کی گئی تھی کہ اوسط درجے کے طلبہ کے لیے اسے سمجھنا اور حل کرنا مشکل ہوگیا، ان کے مطابق کنسپچوئل تعلیم کا فروغ ایک اچھی بات ہے لیکن اس کے لیے پورا سال اسی طرز پر تدریس اور پریکٹس ضروری ہوتی ہے جبکہ یہاں ایسا نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پرچہ مکمل طور پر نصاب کے مطابق تھا اور اس میں کوئی بھی سوال نصاب سے باہر نہیں دیا گیا، طلبہ کو پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ کچھ حد تک کنسپچوئل سوالات آئیں گے تاہم ان کے مطابق یہ شرح زیادہ نہیں تھی بلکہ صرف سوالات کی زبان تھوڑی مختلف تھی تاکہ وہ طلبہ جو واقعی سمجھ کر پڑھتے ہیں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ انھوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پرچہ غیر معمولی حد تک مشکل تھا۔

دریں اثنا کراچی میں میٹرک امتحانات کے دوران نویں جماعت کا کیمسٹری کا پرچہ امتحان شروع ہونے سے قبل ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، کیمسٹری کا پرچہ مختلف سوشل میڈیا گروپس میں امتحان سے پہلے ہی گردش کرتا رہا جس سے نقل مافیا کی سرگرمیوں اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر تشویش بڑھ گئی ہے، طلبہ اور والدین کی جانب سے اس صورتحال پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بال ٹیمپرنگ کیس کو دل پر نہیں لیا،ایک فیصد بھی کارکردگی متاثر نہیں ہوئی؛ فخرزمان

Published

on



فخرزمان نے بال ٹیمپرنگ کیس کو دل پر نہیں لیا، اوپننگ بیٹر کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے میری ایک فیصد بھی کارکردگی متاثر نہیں ہوئی، ان کے مطابق اوپننگ پسند لیکن حتمی فیصلہ کپتان اور کوچ کا ہی ہوتا ہے۔

 ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں فخر زمان نے کہا کہ پابندی ختم ہونے کے بعد ابھی میں نے زیادہ میچز میں حصہ نہیں لیا ہے، ٹی20 کرکٹ میں اگر 10 میں سے 3 یا 4 میچز میں بھی اچھا پرفارم کر جائیں تو یہ آپ کی جیت ہوتی ہے، بطور پروفیشنل کھلاڑی اگر ایسے معمولی واقعات آپ کی کارکردگی یا شخصیت کو متاثر کرنے لگیں تو پھر بقا بہت مشکل ہو جاتی ہے، پلیئرز کی زندگی میں اس سے کئی گنا زیادہ بڑے واقعات بھی پیش آتے ہیں، میں اگر یہ کہوں کہ حالیہ واقعے سے میری کارکردگی ایک فیصد بھی متاثر ہوئی تو وہ غلط ہوگا۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مجھے اوپننگ پسند ہے، میں نے شروع سے ہی اس پوزیشن پر بیٹنگ کی، کلب کرکٹ، پاکستان، پی ایس ایل سب میں اننگز کا آغاز کیا، یہ میری ترجیح تو ہے لیکن چاہے انٹرنیشنل کرکٹ ، اپنے کلب یا فرنچائز کی نمائندگی کروں وہاں جو کپتان و کوچ ہیں ان کو زیادہ پتا ہوتا ہے کہ کون سا پلیئر کس نمبر پر زیادہ اچھا کھیل سکتا ہے، لاہور قلندرز کو لگتا ہے کہ میں بطور اوپنر زیادہ بہتر پرفارم کر سکتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کی مینجمنٹ کو اگر لگتا ہے کہ کوئی اور اس پوزیشن پر مجھ سے اچھا کھیل سکتا ہے تو وہ مجھے کسی اور نمبر پر ایڈجسٹ کرتے ہیں، آپ نے دیکھا بھی ہوگا کہ پی ایس ایل میں بھی بعض کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے،اکثر تجربات کامیاب بھی نہیں ہوتے لیکن انٹرنیشنل اور فرنچائز کرکٹ میں کھلاڑی کو اپنی بیٹنگ پوزیشن کے حوالے سے اوپن رہنا چاہیے، جو کپتان اور کوچ کہے وہی کرنا پڑتا ہے، البتہ مجموعی طور پر اگر میں دیکھوں تو میں نے پوری زندگی اوپننگ کی میں اسی کو ترجیح دیتا ہوں۔



Source link

Continue Reading

Today News

خطے کی بہتر ہوتی صورتحال نے اسٹاک مارکیٹ کا بلندی پر پہنچا دیا، سونا بھی سستا

Published

on



ٹرمپ کی ایران سے جلد ڈیل ہونے کے مثبت بیان، جاری کھاتہ 1ارب 07کروڑ ڈالر فاضل ہونے، بڑے پیمانے کی صنعتوں میں 6 اشاریہ 4فیصد کی نمو اور آئی ایم ایف سے جلد 1ارب 20کروڑ ڈالر کی قسط جلد جاری ہونے کی توقعات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعے کو بھی تیزی کا تسلسل برقرار رہا جس سے انڈیکس کی 1لاکھ 70ہزار، 1لاکھ 71ہزار، 1لاکھ 72ہزار اور 1 لاکھ 73 ہزار پوائنٹس کی مزید 4سطحیں بھی عبور ہوگئیں۔

 تیزی کے سبب 73فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید 4کھرب 48ارب 49کروڑ 49لاکھ 15ہزار 104روپے کا اضافہ ہوگیا۔ تیسری جنگ عظیم رکوانے میں پاکستان کے کلیدی کردار کو بین الاقوامی سطح تسلیم کیے جانے، خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ رکنے، آئی ٹی ایکسپورٹس 21فیصد بڑھنے سمیت دیگر مثبت اشاریوں سے معیشت کو درپیش خطرات ٹل گئے ہیں۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 4027.06پوائنٹس کے اضافے سے 173939.01 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

دریں اثنا بین الاقوامی سطح پر سونے اور چاندی میں پرافٹ ٹیکنگ سے تین روزہ وقفے کے بعد بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 33ڈالر کی کمی سے 4ہزار 792ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعہ کو فی تولہ سونے کی قیمت 3ہزار 300روپے کی کمی سے 5لاکھ 01ہزار 562روپے کی سطح پر آگئی اور فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 2ہزار 829روپے کی کمی سے 4لاکھ 30ہزار 008روپے کی سطح پر آگئی۔

 علاوہ ازیں زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں جمعے کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا،کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر مزید 03پیسے کی کمی سے 278روپے 92 پیسے کی سطح پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 03پیسے کی کمی سے 280روپے 20 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔



Source link

Continue Reading

Today News

بھارت کو روسی تیل خریدنے پر ملنے والی رعایت ختم

Published

on



امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن روس اورایران سے تیل کی خریداری کیلیے جاری جنرل لائسنس کی تجدید نہیں کریگا۔

بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکا نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کیلیے دی گئی پابندیوں میں رعایت ختم کرنے کا اعلان کردیا، بھارتی جریدے کی رپورٹ کے مطابق امریکی رعایت کے بعد بھارتی ریفائنریوں نے 3کروڑ بیرل روسی تیل کے آرڈرز دے رکھے ہیں۔

امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے11مارچ سے قبل خریدے گئے رعایتی تیل کے سودوں کی مدت ختم ہو چکی ہے،ادھربھارتی ریفائنرز نے ایران سے محدود مقدار میں خام تیل کی خریداری کی ادائیگیاں چینی کرنسی یوان میں کرنا شروع کر دی ہیں جس میں آئی سی آئی سی آئی بینک  مرکزی کردار ادا کررہا ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Trending