Connect with us

Today News

وزیر اعظم سعودیہ، قطر اور ترکیہ کے دورے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے

Published

on



وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے سہہ ملکی دورے کے بعد ہفتہ کو وطن واپس پہنچ گئے۔

وزیراعظم نے تین روزہ دور سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دوران تینوں برادر ممالک کی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

 وزیرِ اعظم نے برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کی مزید مضبوطی، خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی کوششوں اور خطے و عالمی صورتحال پر عالمی رہنماں سے تبادل خیال کیا۔

 انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکیہ کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر تولگا برمیک اور دیگر نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف واپسی پر لاہور پہنچ گئے۔

ایئرپورٹ پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور سینیئر ایڈوائیزر پنجاب علی ڈار نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ محسن نقوی نے وزیر اعظم کو اپنے دورہ ایران پر بریفنگ بھی دی۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ میں خوبصورت شہر انطالیہ سے روانہ ہو رہا ہوں، میں یہاں پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی اور گرمجوش استقبال پر اپنے عزیز بھائی رجب طیب اردوان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں انطالیہ سے خوشگوار یادوں کے ساتھ روانہ ہو رہا ہوں اور اس عزمِ نو کے ساتھ کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائیگا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایسا کیسے

Published

on



متحدہ عرب امارات کے حوالے سے ایران اور امریکا، اسرائیل جنگ کے تناظر میں سوشل میڈیا کے رنگ ہر طرح کے ہی تھے، خاص کر پاکستان کے تین ارب ڈالرز کے حوالے سے ایک عجیب سی صورت حال تھی کیونکہ پاکستان کے معاشی حالات اور تیل کی بڑھتی قیمتیں بہت سی الجھنیں الگ اس کے باوجود پاکستان کا بڑھ کر ثالثی کا کردار مثبت طور پر نمایاں ہوا ہے لیکن یو اے ای نے ایک مشکل وقت میں ہمارا بھی ہاتھ تھاما تھا۔

ہمیں یہ یاد ہے لیکن ادھر اُدھر سے ٹویٹ کی اڑتی چڑیاں ایک عام انسان کی ذہنی حالت کو بدلنے میں کردار ادا کرتی ہیں اور وہ ہوا بھی جس طرح پاکستان نے ایران اور امریکا سے آئے نمایندوں کو خوش آمدید کہا، اس میں خاص کر پاکستان پر بلا جواز تنقید ایران کے نمایندوں کے حوالے سے ایک فکر انگیز سوچ کو جنم دیتی ہے۔

 جب سے متحدہ عرب امارات کی دولت کا ایک دنیا میں چرچا ہوا لوگوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ ریگستان میں سونے کے محل، یہ محل بنانے، سنوارنے اور مواقع فراہم کرنے میں پاکستان اور اس کی عوام کا بھی حصہ ہے یہ ایک الگ باب ہے لیکن مسلمان ہونے کے ناتے قدرتی طور پر جو دردمند دل رب العزت کی طرف سے عطا کردہ ہے، اس کا کیا کیا جائے جو امت مسلمہ کی محبت میں ہمکتا ہی ہے،وگرنہ اسے سازشوں، افواہوں اور لگائی بجھائی کے جدید طریقوں سے تیار نہ کیا جائے اور آج کل ایسا ہو رہا ہے۔

ان حالات میں لگتا تھا کہ اب میرا اپنا کوئی مددگار نہیں، میں اکیلی کمزور عورت میرا کون سا رشتہ دار یا سگا تھا جو ان کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا۔ ایک جانب دولت مند تو دوسری جانب ایک کمزور غریب خاتون، وہاں رشوت، چرب زبانی کے حربے اختیار کیے گئے اور مظلوم ہونے کے باوجود میں کیس ہار گئی۔میرے لیے یہ اذیت ناک تھا سنا تھا کہ دبئی اور دیگر امارات کی ریاستوں میں قانون کے حوالے سے بہت شفافیت ہے اگر جرم ثابت ہو جائے تو چوکتے نہیں چارج کرنے میں، لیکن میں تو اپنے نصیبوں پر آنسو بہانے کو رہ گئی تھی، اتنے پیسے آنے جانے اور ویزے کے حصول پر خرچ کرکے بھی قصوروار اور کیس خارج۔
’’آپ بتائیں کیا کریں ہم؟‘

’’دیکھیں وہ وکیل بہت مشہور ہے اس طرح کے کیسز کے لیے وہ اپنی چرب زبانی سے جج کو قائل کر لیتا ہے اور لینے دینے کے معاملے میں بھی سنا ہے کہ….‘‘
’’کیا دبئی میں بھی….؟‘‘

’’بھئی یہ دنیا ہے آپ سمجھیں۔ کہاں نہیں چلتی رشوت، مظلوم کا ساتھ دینے کا مطلب ہے کہ آخرت میں انعام ملے گا، اب کون اتنا لمبا انتظار کرے، اس لیے شاید آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا،کیا جج نے پیسے کھا لیے؟‘‘

’’میں نے تو بہت اعتماد اور یقین کے ساتھ کیس کیا تھا کہ میں حق پر ہوں، اب کیا کروں۔ ایک دوسرے ملک میں جا کر خاص پاکستان سے جا کر کتنا پیسہ لگا ہمارا اور صلہ یہ ملا کہ میں ہی حق پر ہو کر ہار گئی۔ اب کس سے درخواست کروں؟ کوئی تو ہوگا اس جج سے اوپر۔ اوپر تو اللہ ہے، پر اس نے بھی تو فیصلے کا حق اپنے بندوں کو دیا ہے۔ کوئی تو ہوگا جو ان کی بھی چیکنگ کریں، جانچیں اصل جھوٹ کا فیصلہ کرے۔‘‘

’’آپ وہاں کے بادشاہ کو ای میل کر دیں کیونکہ والی ریاست کو ہی تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ پھر اللہ آپ کے لیے راستہ بنائے۔‘‘
سوچ کر کہا گیا تھا۔

اور ایسا ہی کیا گیا ایک موہوم سی امید تھی جو اس سوچ کے ٹھنڈے انداز میں کہے جواب میں مقید تھی، پھیل کر نور کا ہالہ بنا چکی تھی۔ یقین کا ہالہ جو رب العزت عطا کرتا ہے بس اس کے تحت ساری الف سے یے تک کی بات لکھ دی گئی کہ دل میں یہی تھا کہ فیصلہ تو آسمان اور زمین کے مالک کا ہے یہ درخواست تو خانہ پری ہے پر اس میں بھی وہی یقین مجسم تھا۔

اور کچھ عرصے بعد۔
’’آپ نے آخر کیا کیا تھا؟‘‘ سوال پوچھا گیا جو پہلے ٹھنڈی سانس کے ساتھ یقین کے موتی تسبیح کی مانند تھما گئے تھے۔
’’جیسا آپ نے کہا تھا کہ دبئی کے بادشاہ کے نام ای میل کریں۔‘‘
’’کیا واقعی…؟‘‘ حیرت نمایاں تھی۔

اس حیرت میں جیت کی آمیزش تھی جو فون کے دوسری جانب سے سنی گئی تھی۔
ساری سازشیں، چرب زبانی، دروغ گوئی، بھڑکانا سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے جب رب العزت کا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔

اس بات کو دس برس سے زائد گزر چکے ہیں۔ اس دوران دنیا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے۔ آج بھی وہ واقعہ لوگوں کی یادداشت اور تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے جب دیبل کے ساحل پر بحری قذاقوں نے سمندری جہاز لوٹا تو ایک عورت نے فریاد کی تھی۔
’’یا حجاج! ہماری مدد کرو۔‘‘

ایک کمزور عورت کی پکار نے ہند کی تاریخ بدل ڈالی تھی، محمد بن قاسم کا نام اس حوالے سے ابھرا گو اور بہت سے حالات و واقعات بھی ابھرتے ہیں لیکن حکمرانوں اور مظلوم رعایا کا تاریخی کنکشن اسلامی منظرنامے پر بارہا ابھرے ہیں۔اس ترقی یافتہ دور میں ایک چھوٹی سی مثال نے کسی غم زدہ دل کو کامیابی اور امید کے دیے تھما دیے تھے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ حالیہ حالات میں مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو در بدر کر دے، حقائق سے آنکھیں پھیر لیں۔ دنیا بہکانے والوں ریاکاروں سے بھری ہوئی ہے پر فیصلہ رب العزت کی جانب سے ہی صادر ہوتا ہے پھر دلوں پر یہ برف کیسی، پکار پر سرد مہری، عزم، یقین اور اوپر والے کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں؟

دیکھیں اور سوچیں کیا یہود و نصاریٰ ہمارے دوست ہو سکتے ہیں۔ چودہ سو سال پہلے سب کچھ تحریر میں آ چکا ہے۔ اور ہم ناامید نہیں ہیں کہ رب العزت کو مایوسی پسند نہیں۔ ایک معمولی سی ای میل پر ایکشن لینے والے آج کیا ردعمل دکھاتے ہیں، وقت منتظر ہے۔
 



Source link

Continue Reading

Today News

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

Published

on



امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کےخلاف ہے۔

سابق نائب امریکی صدر  کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ کملا ہیرس کے مطابق امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو براہ راست قومی مفاد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی  کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف 3 دن باقی رہ گئے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

شعری مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘

Published

on



جی ہاں ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ اس کتاب کے تخلیق کار انور ظہیر رہبر ہیں وہ اچھے شاعر ہی نہیں بلکہ بہترین نثرنگار بھی ہیں۔ ان کے افسانے اور کالم پابندی سے اخبارات و جرائد میں شائع ہوکر قارئین و ناقدین سے داد وصول کرتے ہیں گزشتہ ہفتے انور ظہیر رہبر کا ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا ’’انسانی اعضا کی تبدیلی اور مصنوعی نعم البدل‘‘ دوسرے کالموں کی طرح مذکورہ کالم بھی بے حد معلوماتی تھا ،ان کی تحریروں کے قاری کو تشنگی ذرہ برابر نہیں ہوتی ہے اس کی خاص وجہ اپنے موضوع سے پورا انصاف کرتے ہیں اور بھرپور معلومات فراہم کرنے میں ان کا کوئی نعم البدل نہیں، یوں لگتا ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔

سفرنامہ نگاری میں بھی آپ کو مہارت حاصل ہے ’’سفر وسیلہ ظفر‘‘ والی بات تو ہے نہیں، بس اپنے شوق اور معلومات حاصل کرنے، دنیا کے نوادرات دیکھنے کا شوق ملکوں ملکوں کے سفر کے لیے آمادہ کرتا ہے اور پھر اس کی روداد کو تحریر کے قالب میں ڈھالتے ہیں اور یہ تحریریں اور تصاویر پرنٹ میڈیا اور فیس بک کی زینت بن جاتی ہیں۔ اخبارات و فیس بک کے دوست احباب استفادہ کرتے ہیں، تحریر سے لطف اٹھاتے اور حیرت انگیز عجائبات کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس کرتے ہیں جیسے وہ بھی جادو کی نگری میں شامل ہو گئے ہوں۔

ایسی ایسی عمارتیں، تاریخی مقامات اور خوب صورت مناظر پل بھر میں سامنے آجاتے ہیں جیسے کسی نے طلسماتی چھڑی گھما دی ہو۔ یہ مبالغہ آرائی ہرگز نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے سفرناموں کے پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہے۔ انھوں نے تقریباً ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔ ناول لکھنا ابھی باقی ہے وہ بھی بہت جلد لکھ لیں گے باصلاحیت اور باکمال قلم کار ہیں مسلسل لکھ رہے ہیں اور بہت خوب لکھ رہے ہیں۔ان کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت 2000 میں ہوئی، عنوان تھا ’’تجھے دیکھتا رہوں‘‘، ’’عکس آواز‘‘ یہ افسانوں کا مجموعہ ہے سن اشاعت 2018۔ ان کی دو اہم کتابیں جوکہ نثرنگاری پر مشتمل ہیں دونوں کتابیں 2023 میں اشاعت کے مرحلے سے گزریں۔ ایک کالموں کا مجموعہ بعنوان ’’پردیسی کے قلم سے‘‘ ان کی زنبیل میں شامل ہے۔

’’رنگ ِ برگ‘‘ اس کتاب میں جرمنی کے افسانہ نگاروں کے بارے میں معلومات بہم پہنچائی ہیں، افسانہ اور افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں سجا دی ہے۔ انور ظہیر رہبر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دوسرا افسانوں کا مجموعہ ’’سپنوں کے ساحل پر‘‘ حیدرآباد، بھارت کے ادبی افق پر جلوہ گر ہوا۔ دہلی بھارت سے ’’جھرمٹ‘‘ کے نام سے افسانہ نگاروں کے افسانوی مجموعے کا اشاریہ 2025 میں اور نظموں کا مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ تازہ کتاب ہے یہ دونوں کتابیں ایک ہی سال میں شائع ہوئیں جو قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں اور مزید یہ کہ مجھے اس پر لکھنے میں کچھ تاخیر ہوئی۔

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
شعری مجموعے کے خالق اپنے مضمون پیش لفظ میں نظمیہ شاعری کو اظہار کا سب سے خوبصورت ذریعہ کہتے ہیں۔ انھوں نے بہت سلیس انداز میں نظم کی تعریف و تشریح کی ہے۔ جو قارئین شاعری اور اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں صرف پڑھنے کی حد تک محظوظ ہوتے ہیں تو ان کی معلومات میں یہ تحریر اضافے کا باعث ہوگی۔ماں جیسے رشتے کو اولاد کبھی نہیں بھول سکتی ہے کہ اس کا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔ یہ رشتہ بڑا انمول اور محبت کی چاشنی سے آراستہ اور گھلا ملا ہے۔

 قربانی و ایثار کا نام ’’ماں‘‘ ہے جو اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کی پرورش اور بہتر مستقبل کے لیے گزار دیتی ہے اپنی ہر خوشی دان کر دیتی ہے کہ اولاد اس کا دل و جگر ہے۔ شاعر نے اپنی ماں کی جدائی میں ایک خوبصورت نظم ’’ماں‘‘ کے عنوان سے تخلیق کی ہے۔ فہرست کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے، رشتوں میں بھی ماں کا ہی پہلا نمبر ہے۔
میری پیاری امی!

بظاہر آپ ہماری زندگی سے دور چلی گئیں مگر ہمارے دلوں سے آپ کو کوئی دور نہیں کر سکتا، کبھی بھی نہیں۔ آپ وہاں نہیں ہیں جہاں آپ رہتی تھیں، لیکن آپ ہر اس جگہ ہیں جہاں ہم ہیں۔ انور ظہیر رہبر ہیں تو پاکستانی ہی لیکن عرصہ دراز سے اپنی فیملی کے ساتھ برلن، جرمنی میں مقیم ہیں۔ کتاب میں 106 نظمیں شاعر کے جذبات و احساسات کی عکاس ہیں جو دیکھا محسوس کیا وہی شاعری کا حصہ بنا، وہ انھوں نے من و عن بیان کر دیا ہے اسی وجہ سے ہر شعر دل پر اثر کرتا ہے۔ انور ظہیر رہبر کی شاعری محض لفاظی نہیں بلکہ انھوں نے زمانے کے دکھوں، مسائل اور تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہ خوبصورت اور بامعنی نظمیں تخلیق کی ہیں۔

ان کی شاعری میں جہاں موسم بہار کے رنگ مہکتے ہوئے نظر آتے ہیں وہاں زندگی کی بے ثباتی، آس و نراس کی کہانیاں بھی سانس لیتی ہیں اور سچے جذبے لفظوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ شاعر کے کلام میں پوری اور بھرپور زندگی اپنی کامیابی اور ناکامی کے ساتھ پیر پسار کر بیٹھی نظر آتی ہے کبھی ماتم کرتی، اپنی ناکام تمناؤں کا نوحہ سناتی ہے۔ ان کی ایک نظم ’’لوٹ آؤ‘‘ اگر ہم اس نظم کا مطالعہ کریں تو خوف کی دبیز چادر نے تخلیق کار کے جسم و جاں اور دل ناتواں کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ ’’لوٹ آؤ‘‘ مایوسی کا استعارہ ہے، امید کے ٹوٹتے ہوئے تارے شاعر کو ناکامی اور اداسی کی اتھاہ وادیوں میں دھکیل رہے ہیں اس نظم سے چند اشعار۔

لوٹ آؤ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ۔۔۔۔۔ وقت کی کالی گھٹائیں
ان راستوں کو۔۔۔۔۔ جن پر ہم اکثر ملا کرتے تھے
اندھیروں میں گم کر دیں۔۔۔۔۔ دنیا تو ظالم ہے لوگو۔۔۔۔ درد
کے اس موسم میں۔۔۔۔ جگنو کی مدھم روشنی بھی۔۔۔۔۔
ہمیں ایک دوسرے سے چھین لے جائیں گے
اور ہم اجنبی ہو جائیں گے لوٹ آؤ

اسی قبیل کی ایک اور نظم ’’چوکھٹ‘‘ اس نظم میں بھی بے اعتباری اور ناکامی کی مرجھائی ہوئی کلیاں اپنی بے ثباتی کا نوحہ بیان کر رہی ہیں۔ شاعر نے ٹوٹے دل کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار بے حد اچھوتے انداز میں کیا ہے۔

نظم ’’فاصلے‘‘ میں شاعر نے اپنی روٹھی ہوئی محبت کو منانے کے لیے الفاظ کے پیچ و خم سے محبت کا پیغام اس طرح دیا ہے۔
سنو اے جاناں! دل کی محبت میں فاصلے زیادہ ہیں
پاس اتنے رہ کر بھی دور بہت رہتی ہو
قربتوں کے معنی کو بھول بھول جاتی ہو
اتنا کیوں ستاتی ہو، مجھ کو کیوں رلاتی ہو

سنو اے جاناں!192 صفحات پر بکھری ہوئی شاعری مختلف موضوعات اور حقائق کی روشنی سے مزین ہے۔ انور ظہیر رہبر کی تخلیق کردہ ہر نظم باطنی وخارجی حالات کی روداد دل نشیں انداز میں بیان کرتی ہے۔ نظم ’’موبائل فون‘‘ آج جو گھر گھر کے حالات ہیں اس کی منظر کشی اس طرح کی ہے کہ ساتھ رہتے ہوئے بھی گھر کے مکیں اپنے اپنے موبائل میں گم ہو کر دور بہت دور ہو جاتے ہیں۔

نظم ’’گلاب‘‘ نے بھی ایک مرثیہ کی صورت اختیار کر لی ہے، اس جیسی بے شمار نظمیں قاری کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں اور وہ شاعر کے دکھوں کو محسوس کرکے اداس ہو جاتا ہے اور یہی ایک کامیاب تخلیق کار کا کمال ہے۔ مبارکاں!
 



Source link

Continue Reading

Trending