Connect with us

Today News

پنجاب کے ڈیجیٹل گورننس ماڈل کو عالمی سطح پر بڑی کامیابی حاصل

Published

on



وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ڈیجیٹل گورننس ماڈل کو عالمی سطح پر قابلِ تحسین کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے دو فلیگ شپ منصوبوں نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔

ترجمان سیف سٹی کے مطابق ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن اور ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کو WSIS پرائزز 2026 کے لیے شارٹ لسٹ کر لیا گیا ہے۔ دونوں منصوبے ای گورننس کیٹیگری میں دنیا کے ٹاپ 20 منصوبوں میں شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحت منعقد ہونے والے WSIS پرائزز کو ڈیجیٹل گورننس کے شعبے کا معتبر ترین عالمی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ یہ دونوں منصوبے حکومت پنجاب اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق یہ کامیابی وزیراعلیٰ پنجاب کے سٹیزن سینٹرک اور ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس ماڈل کے عالمی اعتراف کا مظہر ہے۔ ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن خواتین کے تحفظ کے لیے پاکستان کا پہلا جدید ڈیجیٹل پولیسنگ نظام ہے۔

اسی طرح ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی گمشدہ بچوں، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کو ان کے خاندانوں سے ملوانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ یہ منفرد اعزاز پاکستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گلشن معمار میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق

Published

on


کراچی کے علاقے گلشن معمار رینمبو ٹاور کے قریب فائرنگ سے 01 شخص جاں بحق اور 5 افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جاں بحق و زخمی ہونے والوں کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

جاں بحق ہونے والے کی شناخت 40 سالہ جلال ولد اشرف عمر کے نام سے ہوئی ہے۔

زخمی ہونے والوں کی شناخت 30 سالہ نومان ولد مشرنگ عمر، 60 سالہ مشرنگ ولد چنار گل عمر، 55 سالہ وطن گل ولد صمن گل عمر، 45 سالہ مہران گل ولد صمن گل عمر اور 40 سالہ ارشاد ولد وطن گل عمر کے نام سے ہوئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا-ایران مذاکرات؛ وفود چلے جاتے تھے مگر فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار بٹھا لیتے تھے، ایاز صادق

Published

on



قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوران دونوں اطراف کے وفود گرما گرمی کے بعد چلے جاتے تھے لیکن نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ان کو دوبارہ بٹھا دیتے تھے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت کی توجہ تعمیر اور ترقی پر نہیں تھی بلکہ خود پر تھی، نواز شریف، شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے حلقے کے لیے 38 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے اور مجھے لگتا ہے کہ اس سال کے آخر تک پورے پنجاب کی سڑکیں مکمل ہوجائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ نیت ٹھیک ہواورآپ کوشش کریں تو اللہ تعالی راستے بناتا ہے، پاکستان کی تقدیر 2022 سے بدلنا شروع ہوئی، 2022 میں پی ڈی ایم کی حکومت میں کوئی نہیں آنا چاہتا تھا، بہت مشکل حالات تھے، مہنگائی تھی مشکلات تھیں لیکن ہماری جماعت نے مشکل فیصلہ لے لیا اور وہیں سے نئی ٹیم کی بنیاد رکھی گئی اور ملک کو قدموں پر کھڑا کرنا شروع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہی وقت تھا نئے سپہ سالار آئے، ہم کہتے ہیں نئے سپہ سالار کا نواز شریف کا فیصلہ بہترین تھا، نئی حکومت میں وزیر اعظم کے لیے پہلے سے زیادہ چیلنجز تھے۔

ایاز صادق نے کہا کہ مودی سمجھتے تھے کہ شہباز شریف پچھلے وزیر اعظم کی طرح کہیں گے کیا ہندوستان پر حملہ کردوں، پاکستان کی مرکزی قیادت نے بیٹھ کر ایک ہی فیصلہ کیا کہ پاکستان کی عزت بحال کرنی ہے، وزیر اعظم نے اس وقت دنیا کے تمام ممالک سے رابطہ کرکے کہا کہ آؤ ٹیم بنا کر انکوائری کروالو، اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی۔

انہوں نے کہا کہ میری جن لوگوں سے ملاقات ہوئی سب بہت خوش ہیں، ہم روس، چین، امریکا اور ایران سے دوستی رکھتے ہیں، بھارت سے ہماری دوستی نہیں ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے پاکستان کی کوششوں کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار گرگئے فریکچر ہوا مگر اگلے دن چین چلے گئے، امریکا اور ایران کی جنگ میں پاکستان پہلا ملک تھا جس نے جنگ کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے تھے پاکستان کے پاس پیسے نہیں لیکن پاکستان نے 10 گناہ طاقت کو شکست دی، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے اہم کردار ادا کیا، ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعی معجزے ہوئے ہیں، دنیا کی تاریخ میں یہ تیسری عالمی جنگ روکنے کے مترادف ہے، میں ترکی گیا وہاں پر دیگر ممالک کے سربراہان روک کر مجھے کہتے تھے کہ آپ جو کام کررہے ہیں ہم اس کے لیے دعا گو ہیں۔

ایاز صادق نے کہا کہ دنیا کا ہر ملک مہنگائی سے متاثر ہوا ہے، 12 تاریخ کو مجھے بتایا گیا کہ ڈرافٹ ایگریمنٹ بن رہا ہے لیکن نہیں ہوسکا اور دونوں وفود چلے گئے، ہمیشہ خدشہ تھا ایران اور امریکا کے جہاز پر کوئی شرارت ہو گئی تو سب چکنا چور ہوجائے گا، اگر اسلام آباد سے 20 میل دور بھی بم پھٹتا تو لوگ واپس چلے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سب کی نیت بہترین ہے، 47 سال میں یہ لوگ کسی ایک ملک یا شہر میں اکٹھے نہیں ہوئے لیکن پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اجلاس میں گرما گرمی ہوتی تھی تو چلے جاتے تھے، 6 مرتبہ یہ ہوا کہ اجلاس میں گرما گرمی ہوئی، پھر فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار صاحب دوبارہ بٹھا لیتے تھے۔

مخالف جماعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سوچتا ہوں جب وہ کہتے تھے میں بیٹھا ہوا تھا کیا میں ہندوستان پر حملہ کردوں، اب کہاں سے یہ سب آگیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بھی لڑائی ہوئی لیکن کبھی نقصان نہیں پہنچایا، مسلم لیگ (ن) نے کبھی افواج پاکستان کی کسی گاڑی کو نقصان نہیں پہنچایا، ہم کہتے ہیں پاکستان کی بات کرو وہ کہتے ہیں لیڈر کی آنکھ کا آپریشن کروا دو حالانکہ جتنی آسائشیں ان کو مل رہی ہیں آج تک کسی کو نہیں ملیں۔

ایاز صادق نے کہا کہ ہم ہمیشہ پاکستان کی بات کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے خوش ہوتا ہے تو چیزیں جوڑنا شروع کردیتا ہے، آج دنیا میں سینہ چوڑا کرکے کہتے ہیں کہ ہم پاکستان سے ہیں، کس کو کیا پتا تھا کہ شہباز شریف، فیلڈ مارشل، ایئر چیف، بحریہ چیف اور اسحاق ڈار اتنا بہترین کام کریں گے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پشاور: اٹھارویں آئینی ترمیم جمہوری تاریخ کا سنگِ میل ہے، ایمل ولی خان

Published

on


ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ 19 اپریل کا دن پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو صرف ایک آئینی ترمیم نہیں بلکہ طویل جدوجہد، قربانیوں اور پختہ عزم کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اُن کے حقوق، اختیارات اور خیبر پختونخوا کو شناخت ملی، جو تاریخی پیشرفت ہے۔

ایمل ولی خان نے اسفندیار ولی خان کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی بصیرت اور سیاسی جدوجہد نے اس ترمیم کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ اس عمل میں شامل دیگر پارلیمنٹیرینز کو بھی سلام پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی دراصل باچا خان اور خان عبدالولی خان کے فکر و فلسفے کی عملی تعبیر ہے، جنہوں نے صوبائی خودمختاری، وسائل پر عوام کے حق اور ایک مضبوط وفاق کے لیے جدوجہد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور صوبوں کو وسائل اور فیصلوں پر اختیار دے کر دیرینہ محرومیوں کا ازالہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھنا بھی اسی جدوجہد کا اہم سنگِ میل ہے۔

ایمل ولی خان نے اس موقع پر شہداء اور اے این پی کارکنان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ امن، جمہوریت اور آئینی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل وفاق پر حملہ ہوگا، اور عوامی نیشنل پارٹی اس کے دفاع کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی محاذ پر بھرپور کردار ادا کرے گی۔

آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی اپنے اکابرین کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے ایک ایسے پاکستان کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی جہاں صوبے مضبوط، وسائل پر عوام کا حق اور ہر شہری کو امن، تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔





Source link

Continue Reading

Trending