Connect with us

Today News

کراچی: باپ بیٹے کی سربراہی میں چلنے والا 8 رکنی اسٹریٹ کرمنل گروہ گرفتار

Published

on



کراچی:

ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے تیموریہ تھانے کی حدود میں کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں انتہائی متحرک باپ اور بیٹے کی سربراہی میں چلنے والا 8 رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا، ملزمان 100 سے زائد وارداتوں میں ملوث تھے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے تیموریہ تھانے کی حدود میں کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں انتہائی متحرک باپ اور بیٹے کی سربراہی میں چلنے والے 8 رکنی گروہ کو گرفتار کرکے چھینے گئے 13 موبائل فونز، 8 گھڑیاں، 13 شہریوں کے چھینے گئے شناختی کارڈز، 4 بیگز، واردات میں استعمال 6 اصل پستول، دو نقلی پستول اور 3 موٹر سائیکلز برآمد کرلیں۔

گرفتار ملزمان میں منصور احمد ولد مرزا محمد شریف، اس کا بیٹا فہد، محمد عبید ولد فیصل، مزمل ولد جاوید علی، محمد عرفان ولد گلزار احمد، نعمان ولد نور الاسلام، عمران علی ولد ریاست علی اور محمد زبیر ولد عبدالشکور شامل ہیں۔

ایس ایس پی سینٹرل نے بتایا کہ گینگ کی گرفتاری کے لیے ایس ایچ او ایف بی انڈسٹریل ایریا، ایس ایچ او تیموریہ اور ٹیکنیکل اسٹاف پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی، پولیس کارروائی تھانہ تیموریہ کی حدود میں کی گئی جہاں ملزمان ایک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔

ایس ایس پی سینٹرل نے بتایا کہ گرفتار ملزم منصور گینگ کا سرغنہ ہے جو اپنے بیٹے فہد کے ذریعے گینگ کو منظم انداز میں چلاتا تھا جبکہ فہد عملی طور پر گینگ کی قیادت کرتے ہوئے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں براہ راست ملوث رہا ہے، دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا گینگ گزشتہ 4 سے 6 ماہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائم، موبائل فون چھیننے، نقد رقم لوٹنے کی 100 سے زائد وارداتوں میں ملوث ہے، گینگ کے ملزمان خصوصی طور پر رات 1 سے 3 بجے کے دوران مختلف علاقوں میں واردات کرتے تھے۔

یہ گروہ لیاقت آباد، شارع فیصل اور لیاری ایکسپریس وے کے اطراف سرگرم تھا اور خاص طور پر نوجوان شہریوں کو واردات کا نشانہ بناتے ہیں اور موبائل چھیننے کے وقت ہی شہریوں سے ان کے موبائل کا پاس ورڈ، لاک بھی کھلواتے تھے اور شہریوں کی بینکنگ ایپس تک بھی رسائی حاصل کرتے تھے، گینگ کے بعض ارکان براہ راست وارداتوں میں حصہ لیتے جبکہ سرغنہ منصور سہولت کاری اور منصوبہ بندی سمیت پیسوں کا بٹوارہ کرتا ہے اور ملزمان ایک سے دو ماہ بعد کرائے پر نئی جگہ لے کر اپنا ٹھکانہ تبدیل کرتے رہتے ہیں، گرفتار ملزمان میں شامل عمران، زبیر اور نعمان چھینے گئے موبائل فونز کی خرید و فروخت میں ملوث تھے۔

ڈاکٹر عمران خان نے بتایا کہ گرفتار ملزم عمران دیگر جرائم پیشہ عناصر سے چھینے گئے موبائل فون خرید کر ان کی آئی ایم ای آئی تبدیل کروا کے مارکیٹ میں فروخت کرتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان اس غیر قانونی تکنیک میں مہارت رکھتے تھے اور قیمتی اسمارٹ فونز کی  آئی ایم ای آئی  سستے موبائل فونز سے تبدیل کروا کے انہیں مہنگے داموں فروخت کرتے تھے، برآمد شدہ موبائل فونز اور شناختی کارڈز کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں، جن میں سے بعض کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ مزید متاثرہ شہریوں سے رابطے کا عمل جاری ہے، گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ تیموریہ میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مہنگی ترین بجلی اور اعصاب شکن لوڈ شیڈنگ

Published

on


وزیر اعظم جناب شہباز شریف تین اسلامی ممالک کے ہنگامی اور طوفانی دَورے سے واپس آ چکے ہیں۔ وہ پہلے سعودی عرب پہنچے اور سعودی ولی عہد جناب محمد بن سلمان سے تازہ ترین بدلتے عالمی حالات بارے تفصیلی ملاقات کی ۔ سعودیہ سے وہ قطر پہنچے اورامیرِ قطر جناب شیخ تمیم بن حمد سے ، اِسی تناظر میں،ملے۔ قطر سے جناب شہباز شریف ترکیہ کے معروف ساحلی اور سیاحتی شہر ’’انطالیہ ‘‘ پہنچے جہاںچھٹا عالمی ’’انطالیہ ڈپلومیسی فورم‘‘ منعقد ہو رہا تھا۔ اِسی عالمی فورم پر جناب شہباز شریف نے دیگر کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ ، 17اپریل کو، ترکیہ کے صدر جناب طیب ایردوان سے بھی ملاقات کی ۔

اِن تین ملاقاتوں کی جو سرکاری تصاویر میڈیا میں شائع اور نشر ہُوئی ہیں ،زبانِ حال سے بتاتی ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب کا تینوں مقامات پر کھلے بازوؤں اور کھلے دل سے استقبال کیا گیا۔ جناب شہباز شریف کی یہ عزت افزائی درحقیقت پورے پاکستان کی عزت فرمائی کے مترادف ہے ۔ پاکستان کو عالمی سطح پر حالیہ جو بلند اور منفرد مقام ملا ہے، یہ درحقیقت اُن شاندار اور بے مثال سفارتی کوششوں کا ثمر ہے جو پاکستان نے ایران اور امریکہ ( پلس اسرائیل) میں جنگ بندی اور امن کے لیے کی ہیں ۔ پوری دُنیا( مائنس صہیونی اسرائیل اور بی جے پی کے بھارت ) کی جانب سے پاکستان کی مذکورہ امن کوششوں کی ستائش اور تحسین کی جا رہی ہے ۔

امریکی صدر ، جناب ڈونلڈ ٹرمپ ، بھی پاکستان کو شاباش دے رہے ہیں ۔ جن ایام میں وزیر اعظم جناب شہباز شریف اپنے سہ ملکی ہنگامی دَورے پر تھے، پاک آرمی کے سربراہ، فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر، بھی ایران میں اپنے سہ روزہ دَورے پر تھے (جنرل صاحب 18اپریل کو ایران سے وطن واپس پہنچ گئے) ساری دُنیا نے ہمارے فیلڈ مارشل کے دَورئہ ایران پر نظریں جما رکھی تھیں ۔ ہمارے سی ڈی ایف صاحب ایران ہی میں تھے کہ ایران نے متنازع بنی آبنائے ہرمز بارے اعلان کیا کہ ’’اِسے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے ۔‘‘

اِس اقدام کو جنرل عاصم منیر صاحب کی مساعی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔امریکہ تک اِس خبر نے خوشی ، مسرت اور اطمینان کی لہریں دوڑا دیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی آمدورفت پھر سے ، معمول کے مطابق، شروع ہو گئی ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی صدر نے وزیر اعظم جناب شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر کو، پاکستان کے ساتھ ، یکساں طور پر ’’ شاندار ‘‘۔۔زبردست‘‘۔۔اور ’’عظیم‘‘ کے الفاظ سے یاد کیا اور پکارا ہے ۔ بِلا شبہ اِن الفاظ سے، اقوامِ عالم میں، پاکستان ہی کی شوبھا میں اضافہ ہُوا ہے ۔

امریکی صدر کی زبان سے پاکستان اور اعلیٰ ترین پاکستانی سویلین و غیر سویلین قیادت کی تحسین کے ساتھ ہی ، ہم سب نے دیکھاکہ ، تیل کی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کم از کم 23فیصد کمی آ گئی (اور ٹرمپ کے تحسینی بیان کی بنیاد پر ہی دُنیا بھر میں حصص کے دارالمبادلہStock Exchangesکا گراف بلند ہُوا) اِسی کارن ، شائد، وزیر اعظم جناب شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیزل اور جیٹ آئل کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے ۔

اِس اقدام کی تعریف کی جانی چاہیے ، لیکن عوام ابھی تک منتظر ہیں کہ وزیر اعظم صاحب اور وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں کب اور کتنی کمی کی جاتی ہے ؟ سچی بات تو یہ ہے کہ مہنگا ترین پٹرول استعمال کرنے والے غریب اور زیریں متوسط طبقات کا بھرکس نکل چکا ہے ۔ بھرکس تو ویسے عوام کا مہنگی ترین بجلی نے بھی نکال دیا ہے ۔ اوپر سے بے تحاشہ اور بے وقتی لوڈ شیڈنگ نے قیامت ڈھا رکھی ہے ۔جس طرح آبنائے ہرمز بارے ڈونلڈ ٹرمپ کے ( مثبت اور منفی) بیانات سے دُنیا بھر کے حصص کے دارالمبادلہ (Stock Exchanges)میں بے تحاشہ ادلی بدلی اور نااستواری (Fluctuation)آتی ہے ، اِسی طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں بھی جس وحشت سے نااستواری دیکھنے میں آ رہی ہے ، اِس نے عوام کی زندگیاں مزید اجیرن بنا دی ہیں ۔

 طویل لوڈ شیڈنگ کے بعد اچانک بجلی آتی ہے تو کبھی نہائت مدہم اور کبھی بے حد زیادہ ۔ اِس نا مطلوبہ اُتار چڑھاؤ سے گھریلو الیکٹرانک اشیا کے جلنے کے حادثات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ آج کل طلبا و طالبات کے سالانہ امتحانات بھی ہو رہے ہیں ۔ لوڈ شیڈنگ عذاب کے موجب نہ وہ اپنے امتحانات کی تیاری کر پائے ہیں اور نہ ہی کمرئہ امتحان میں ، شدید گرمی کے باعث، درست حواس کے ساتھ اپنے پرچے حل کر سکے ہیں۔ گویا عذاب کئی رُخا ہے ۔ اِس عذاب نے وفاقی حکومت بارے عوامی رائے کو متاثر کیا ہے ۔

بیرونِ ملک اگر وفاقی حکومت کی (بجا طور پر) تعریف و تحسین ہو رہی ہے تو اندرونِ ملک مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ کی قیامتوں نے عوام کو حکومت سے بے حد نالاں کردیا ہے ۔ ایسے میں ہمیں حیدر علی آتش کا معروف شعر یاد آ تا ہے : سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا/ کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا !! شدید لوڈ شیڈنگ اور مہنگی ترین بجلی ( اور اوپر سے مہنگائی اور بے روزگاری ) کی اساس پر خلقِ خدا غائبانہ طور پر حکومت کو جن القابات سے یاد کررہی ہے، کیا حکومت ہمت اور حوصلے کے ساتھ یہ القابات سُن سکتی ہے ؟

 اِن القابات کا طوفان ِ محشر سوشل میڈیا کے متنوع پلیٹ فارمز پر بپا ہے ۔ مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ سے عاجز آئی عوام جس اسلوب میں سوشل میڈیا فورمز پرحکومت بارے جوردِ عمل دے رہی ہے، اِسے لگام ڈالنا شائد حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اِسی لیے تو سوشل میڈیا اہلِ اقتدار کو چبھتا ہے۔حکومت عوام کے غصے اور ردِ عمل کو پرِ کاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دے رہی۔ اعدادو شمار کا ایسا ہیر پھیر بتایا جاتا ہے کہ سادہ لوح عوام کی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ مہنگی ترین بجلی اور لوڈشیڈنگ کے عذاب کا اصل سبب کیا ہے ؟اور حکومت کتنی ذمے دار ہے؟ حکومت آجکل صرف ایک بات پر نازاں ہے کہ اس نے پاور سیکٹر کے ملازمین ( گریڈ 17سے اوپر) کو ملنے والی مفت بجلی کی سہولت(عدالتی فیصلے کے بعد) ختم کر دی ہے ۔ وہ مگر عوام کو یہ نہیں بتایا جا رہا کہ( مبینہ طور پر) اِنہی ملازمین کو مفت بجلی کے بدلے میں سرکار کے خزانے سے کتنی، رقوم ادا کی جارہی ہیںاوراعلیٰ ترین سرکاری حاضرسروس اور ریٹائرڈ ملازمین کو مفت بجلی، مفت گیس اور مفت پٹرول کی( بے جا) سہولیات کب ختم کی جا رہی ہیں؟ یہ مفت فراہم کی جانے والی سہولیات اربوں روپے مالیت کی حامل ہیں اور اِن کا بوجھ غریب عوام کی جیب پر مسلسل پڑرہا ہے ۔

میڈیا میں وزیر توانائی سے عذابناک لوڈ شیڈنگ بارے جو تڑپتے پھڑکتے سوالات پوچھے جا رہے ہیں ، موصوف اِن کا جواب دینے سے تقریباً قاصر ہیں ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ بارے اُن کے اپنے دلائل، اپنی منطق اور اپنی وضاحتیں ہیں ، مگر عوامی سوالات کا پلّہ بھاری ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ حکومت کے 2وزار جونہی ٹی وی کی اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں ، عوام کی جان ہی نکل جاتی ہے : وزیر بجلی اور وزیر تیل !دونوں وزرا عوام کا تیل نکالنے کے لیے نِت نئے حربے اور ہتھکنڈے بروئے کار لا رہے ہیں ۔

اِن دونوں محکموں کے پچھلی حکومتوں کے وزرا بھی اِسی راستے پر گامزن تھے ۔مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے عذابوں سے نجات پانے کے لیے عوام پیسے جوڑ جوڑ کر کبھی یو پی ایس لگاتے ہیں ، کبھی بیٹریاں خریدتے ہیں ، کبھی مہنگے داموں جنریٹرز لاتے ہیں اور کبھی سولر سسٹم کے تحت نیٹ میٹرنگ کے سرکاری جھانسے میں آتے ہیں ۔ اِن مدات میں عوام اپنا اربوں روپیہ ڈبو چکے ہیں ، مگر بجلی کے عذاب سے نجات نہیں ملی۔ حکومت نے سولر پلیٹوں پر نئے بھاری ٹیکس بھی عائد کر دیئے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

نواز شریف، مریم نواز کی زیرصدارت اجلاس، اسکائی گلاس برج بنانے سمیت سیاحت کے فروغ سے متعلق اہم فیصلے

Published

on


مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں مری اور کوٹلی ستیاں کی ترقی اور سیاحت کے فروغ سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں کوٹلی ستیاں میں پنجاب کا پہلا اسکائی گلاس برج بنانے کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے سدباب کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور متاثرہ علاقوں میں بحالی و امدادی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

اجلاس میں مری میں تین نئے ہاسپٹیلٹی زون قائم کرنے، نجی شعبے کے اشتراک سے 5 اسٹار معیار کے ہوٹلز کی تعمیر، سڑکوں کی توسیع اور گلاس ٹرین پراجیکٹ کے جلد آغاز کا ہدف مقرر کیا گیا۔

اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے لیے نئے پارکس، زولوجیکل گارڈن، ایکوزون، گلیمپنگ پوڈ ویلج اور پیراگلائیڈنگ کلب کے قیام کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے بلک واٹر سپلائی اسکیم اور رین واٹر ہارویسٹنگ منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پنجاب بھر میں سرکاری عمارتوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے فیسلیٹی مینجمنٹ یونٹ کے قیام کی اصولی منظوری بھی دی گئی۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز تحویل میں لینے کا دعویٰ

Published

on



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز ٹوسکا کو امریکی بحریہ نے تحویل میں لے لیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج ایک ایرانی مال بردار جہاز ٹوسکا جو لمبائی میں تقریباً 900 فٹ اور وزن میں تقریباً ایک طیارہ بردار جہاز کے برابر ہے، نے ہماری بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔

ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس سپروانس نے خلیجِ عمان میں ٹوسکا کو روک لیا اور رکنے کے لیے باقاعدہ انتباہ جاری کیا لیکن ایرانی عملے نے ہدایات ماننے سے انکار کیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ہماری بحریہ کے جہاز نے ان کے انجن روم میں سوراخ کر کے اس کو وہیں روک دیا اور اس وقت وہ جہاز امریکی میرینز کی تحویل میں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ٹوسکا ماضی میں غیرقانونی سرگرمیوں کے باعث امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے اور ہم نے جہاز کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس میں موجود سامان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending