Connect with us

Today News

کراچی میں کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن کی راہ ہموار، نئی حلقہ بندیوں کی فہرست جاری

Published

on



الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی کے تمام کنٹونمنٹ بورڈز کی نئی اور حتمی حلقہ بندیوں کی فہرست (فارم-9) جاری کردی۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے کراچی شہر کے 6 کنٹونمنٹ بورڈز کو مجموعی طور پر 42 وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے حلقہ بندیوں کے فارم 9 کے مطابق ملیر کنٹونمنٹ بورڈ، فیصل کنٹونمنٹ بورڈ اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ 10، 10 وارڈز کے ساتھ شہر کے سب سے بڑے بورڈز ہیں۔

فیصل کینٹ کے 10 وارڈز میں پی آئی اے اسٹاف کالونی، ماڈل کالونی اور گلستانِ جوہر بلاک 18 جیسے گنجان آباد علاقے شامل ہیں جبکہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں ڈی ایچ اے کے تمام فیزز، گزری اور دہلی کالونی کو 10 وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ملیر کنٹونمنٹ بورڈ کو بھی 10 وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ذکریا گوٹھ، کینٹ بازار اور کے ای ایس سی سوسائٹی جیسے علاقے شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے وارڈز کی تعداد 5 ہے جن کی حدود صدر، لائنز ایریا اور عسکری کے علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

اسی طرح کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈ کو 5 وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ رقبے کے لحاظ سے چھوٹے منوڑا کنٹونمنٹ بورڈ صرف 2 وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

حتمی فہرستوں کے مطابق ہر وارڈ کی حدود میں شامل مردم شماری بلاکس اور آبادی کی تفصیلات بھی فراہم کردی گئی ہیں۔ ان فہرستوں کے اجرا سے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے انعقاد کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آبنائے ملاکا ایشیا کا معاشی پھیپھڑا ہے

Published

on


ساتویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر یوکوسوکا (جاپان) امریکی بحریہ کا بیرونِ ملک سب سے بڑا فارورڈ بیس ہے۔ساتواں بیڑہ اوکی ناوا اور سیسیبو (جاپان) کے علاوہ سنگاپور کا نیول بیس بھی استعمال کر سکتا ہے۔ مغربی بحرالکاہل سے بحرِ ہند کے افریقی ساحل تک کے وسیع پانیوں کی نگرانی پر مامور ساتویں بیڑے کا بنیادی کام چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت اور سب سے گنجان آبنائے ملاکا پر نظر رکھنا ہے۔

دنیا کی پانچ بڑی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہوں میں سے چار آبنائے ملاکا کے آس پاس قائم ہیں۔ سب سے بڑی ٹرانس شپمنٹ پورٹ سنگاپور عین آبنائے کے دہانے پر ہے۔اس پورٹ پر دو سو جہاز راں کمپنیوں کا سامان پہنچتا ہے اور پھر یہ سامان دنیا بھر میں چھ سو مختلف بندرگاہوں تک بھیجا جاتا ہے۔سنگاپور کے آمنے سامنے ملائشیا کی ٹرانس شپمنٹ پورٹ کلانگ واقع ہے۔ جنوبی کوریا کی بوسان ٹرانس شپمنٹ پورٹ اور مصروف ترین عالمی بندرگاہ شنگھائی کی سانسوں کا دار و مدار بھی آبنائے ملاکا کی بلارکاوٹ ٹریفک پر ہے۔

یہ آبنائے بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے جوڑتی ہے۔نو سو کلومیٹر ( پانچ سو ساٹھ میل ) طویل یہ آبی گذرگاہ ملائشیا ، سنگاپور اور انڈونیشیا کی حدود چھوتی ہے۔ کہیں اس کی چوڑائی ڈھائی سو کلومیٹر اور ایک جگہ محض دو اعشاریہ آٹھ کلومیٹر ہے۔کہیں اس کی گہرائی ساڑھے چھ سو فٹ تو کہیں ایک سو بیس فٹ ہے۔چنانچہ جہازوں کو وزن اور حجم کے حساب سے آبنائے کے ٹریکس سے پائلٹ کشتیوں کی رہنمائی میں گذارا جاتا ہے۔

اس راستے سے سالانہ پچانوے ہزار تک مال بردار جہاز اور آئل ٹینکر گذرتے ہیں۔سالانہ بیس فیصد عالمی گیس اور روزانہ دو کروڑ بتیس لاکھ بیرل تیل سمیت دنیا کی چالیس فیصد بحری تجارت اسی آبنائے کے ذریعے ہوتی ہے۔چین ، ہانگ کانگ ، تائیوان ، جاپان ، جنوبی کوریا ، فلپینز ، ویتنام ، انڈونیشیا ، تھائی لینڈ اور بھارت سمیت کونسی ایسی ایشیائی اقتصادی طاقت ہے جو آبنائے ملاکا کے بغیر ایک ماہ بھی رہ سکے۔

مصروف ترین گذرگاہ ہونے کے سبب بحری قزاق بھی متحرک رہتے ہیں اور یہ روائیت بھی صدیوں پرانی ہے۔تاہم سن دو ہزار تا دو ہزار پانچ کے درمیان علاقائی ممالک نے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے قزاقی کے رجحان کا خاصی حد تک قلع قمع کر دیا ہے۔

آبنائے ملاکا کی تجارتی طاقت آس پاس کی سیاست و معیشت پر صدیوں سے اثرانداز ہے۔ ساتویں سے تیرہویں صدی تک یہاں جاوا ، سماٹرا اور ملائیشیا پر مشتمل بدھسٹ سری وجیا سلطنت کا ڈنکا بحتا رہا۔ اس سلطنت کا دارالخلافہ سماٹرا کا تاریخی شہر پالمبانگ تھا۔طویل ساحل کے ساتھ ساتھ عرب ، ایرانی اور چینی تاجروں کے لیے سرائیں قائم تھیں۔ سری وجیا راجاؤں کا آبنائے ملاکا پر مکمل کنٹرول تھا اور اس گذرگاہ کی ٹرانزٹ فیس ریاستی آمدنی کا بنیادی ستون تھی۔ تب ملاکا شہر جنوب مشرقی ایشیا کی مصروف ترین علاقائی بندرگاہ تھا (آج یہ شہر ریٹائرمنٹ کے دن کاٹ رہا ہے )۔

پھر جیسا کہ ہوتا ہے۔آپسی خانہ جنگی میں سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔یعنی ریاست آچے (سماٹرا ) اور ریاستِ جوہور ( ملیشیا )۔عرب تاجروں اور مبلغوں کی مسلسل آمد کے سبب مقامی بودھ اور ہندو آبادی مسلمان ہوتی چلی گئی۔تاہم مقامی تجارت پر پرانے خاندانوں کا ہی کنٹرول برقرار رہا۔فرق بس اتنا پڑا کہ ان خاندانوں کا مذہب بدل گیا۔

سولہویں صدی میں پرتگیزی سامراج نے پہلے افریقہ ، پھر ایشیا اور پھر مشرقِ بعید کا رخ کیا۔تاجر تو یہ بھی تھے مگر ان کے ہاتھ میں تلوار کے علاوہ توپ اور بارود کی اضافی تباہ کن طاقت تھی۔ پرتگیزیوں نے پہلے انڈیا دریافت کیا۔پھر یورپ اور انڈیا کے درمیان کی گذرگاہ خلیجِ فارس کے جزائر پر قلعہ بندیاں کیں۔ لنکا پر قبضے کے بعد ملاکا تک جا پہنچے۔ان کے پیچھے پیچھے برطانوی ، فرانسیسی ، ولندیزی چل پڑے اور آپس میں مقبوضات کی چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پرتگالیوں سے عدن اور خلیجِ فارس کے قلعے چھینے ۔فرانسییسوں نے انڈو چائنا (ویتنام ، لاؤس کمبوڈیا ) پر جھنڈا گاڑ لیا۔ولندیزیوں نے سولہ سو چالیس عیسوی میں آبنائے ملاکا کی ناکہ بندی کر کے آچے ریاست پر قبضہ کر لیا اور پرتگالیوں سے ملاکا کا تجارتی شہر بھی چھین لیا۔

سترہ سو چھیالیس میں انگریز سامراج بھی اس علاقے میں گھس آیا اور ملائشیا کے شمال مغربی ساحل پر بندرگاہ تعمیر کی جسے آج پینانگ کہا جاتا ہے اور یہاں چینی نژاد ملیشیائیوں کی اکثریت ہے۔

اٹھارہ سو چویس میں ولندیزیوں اور انگریزوں نے نوآبادیاتی بندر بانٹ پر سمجھوتہ کر لیا۔ اس کے تحت سماٹرا اور جاوا ( موجودہ انڈونیشیا ) پر ولندیزی اقتدار تسلیم کر لیا گیا۔ برطانویوں کو ملائیشیا اور سنگاپور مل گیا۔اٹھارہ سو سڑسٹھ میں سنگاپور میں بندرگاہ اور فوجی چھاؤنی کی تعمیر شروع ہوئی اور اسے کراؤن کالونی کا درجہ دے دیا گیا۔

سترہ اگست انیس سو پینتالیس کو انڈونیشیائی حریت پسندوں نے احمد سوئیکارنو کی قیادت میں آزادی کا اعلان کر کے لگ بھگ تین سو برس سے مسلط ولندیزیوں کو نکال باہر کیا جو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر انڈونیشیا سے جاپانی قبضہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ آ دھمکے تھے۔

اکتیس اگست انیس سو ستاون کو ملیشیا نے برطانوی سامراج سے نجات پائی۔سنگاپور تب تک ملائشیا کا حصہ تھا۔مگر مقامی ملاکا اور چینی آبادی میں نسلی کشیدگی کے سبب سنگاپور کو علیحدہ ہونے کی اجازت مل گئی اور سات اگست انیس سو پینسٹھ کو سنگاپور ایک آزاد ریاست بن گیا۔وزیرِ اعظم لی کوان یو کی قیادت میں سنگاپور نے تیزرفتار ترقی کی۔آج وہ جنوب مشرقی ایشیا میں بحری تجارت ، بینکاری اور گورنننس کا اہم مرکز ہے۔

 ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب بحیرہ منجمد شمالی کی برف پگھل رہی ہے اور ایشیا اور یور پ کے مابین ایک نیا شمالی راستہ ( آرکٹک روٹ ) کھلنے سے یورپ اور مشرقی ایشیا کے مابین نہ صرف تجارتی فاصلے ہزاروں کلومیٹر کم ہو جائیں گے بلکہ تجارتی جہازوں کو آبنائے ملاکا ، باب المندب اور نہر سویز کی بحرانی بے یقینی سے نجات بھی مل جائے گی۔

دو ہزار سولہ میں پہلی بار چین کی معروف شپنگ کمپنی کوسکو کے پانچ مال بردار جہازوں نے بحیرہ آرکٹک کے راستے بلجئیم ، جرمنی اور برطانیہ تک چینی سامان لے جانے کا کامیاب سفر کیا۔نئے تجارتی راستے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے چین نے روس اور شمالی کوریا سے متصل سرحدی علاقے ہونچون میں ایک نئے ’’ سنگاپور ‘‘ کی بنیاد رکھ دی ہے۔یہاں سے آرکٹک روٹ کے راستے چینی سامان بھیجا جائے گا۔

البتہ فی الحال اگلے کئی برس تک نہ سنگاپور کی تجارتی اہمیت کو خطرہ ہے اور نہ ہی آبنائے ملاکا بے وقعت ہونے والی ہے۔کل کی کل دیکھی جائے گی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

تذکرہ شاعر مشرق کا – ایکسپریس اردو

Published

on


قارئین! اس کالم میں ہم ذکر کریں گے شاعر مشرق حکیم الامت، مفکر پاکستان عظیم فلسفی سر علامہ محمد اقبال کا۔ان کے فکر و فلسفے و شاعری پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ ان کی زیست پر اختصار کے ساتھ تھوڑی سی روشنی ڈالیں۔ علامہ صاحب کی ولادت 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ شہر میں شیخ نور محمد کے گھر میں ہوئی، ان کی والدہ محترمہ امام بی بی نیک سیرت خاتون تھیں۔ علامہ صاحب کا خاندان تجارت پیشہ خاندان تھا، البتہ علامہ صاحب کی شخصیت اس کے برعکس تھی۔ علامہ صاحب نے میٹرک 1893 میں، ایف اے 1895، بی اے 1897 میں، ایم اے 1899 میں کیا۔ یہ تمام تعلیمی مراحل انھوں نے سیالکوٹ میں ہی طے کیے۔ البتہ اس کے بعد وہ لاہور تشریف لے آئے اور بطور پروفیسر فروغ تعلیم کے سلسلے کا آغاز کر دیا۔ بعدازاں وہ حصول تعلیم کے لیے انگلستان تشریف لے گئے۔

1908 میں علامہ صاحب نے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی، امام بی بی کے فرزند علامہ اقبال صاحب نے اولین شادی 1895 میں 18 برس کی عمر میں کی، دوسری شادی 33 برس کی عمر میں، 1910 میں کی۔ بیوی کا نام سردار بیگم تھا، تیسری شادی 37 برس میں، 1914 مختار بیگم سے کی۔ علامہ صاحب کے ایک بھائی تھے جن کا نام عطا محمد تھا۔ علامہ صاحب کے ایک بیٹے جاوید اقبال چیف جسٹس آف سپریم کورٹ بھی رہے ۔ علامہ کی اولین نظم کوہ ہمالیہ تھی جو انھوں نے قلم بند کی علامہ صاحب کی اولین کتاب بانگ درا تھی جوکہ بچوں کے لیے لکھی گئی۔ علامہ صاحب ابتدا میں ترقی پسند نظریات سے متاثر تھے۔ چنانچہ انھوں نے عظیم فلسفی کارل مارکس کے بارے میں کہا کہ :

وہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیب

نیست پیغمبر لیکن دربغل دار کتاب

البتہ جب عام محنت کشوں کے حالات دیکھتے تو افسردہ ہو جاتے اور یوں کلام کیا کہ:

تو قادر ہے عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

دنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات

دوسرے لفظوں میں کچھ اس طرح اپنے نظریات بیان کیے کہ:

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امرا کے دَر و دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوز و یقین سے

کنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

جس کھیت سے میسر نہ ہو دہقاں کو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

البتہ بعدازاں علامہ صاحب تصوف و روحانیت کی جانب راغب ہو گئے تو مسلمانوں سے کچھ ان الفاظ میں مخاطب ہوئے کہ:

اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید

سب کچھ یاد ہے مگر خدا یاد نہیں

یا یہ کلام فرمایا کہ:

اپنے کردار پر ڈال کر پردہ

ہر شخص کہتا ہے کہ زمانہ خراب ہے

قیام پاکستان سے قبل کا واقعہ ہے کہ لاہور میں لوگوں نے ایک ہی شب میں مسجد قائم کر دی، گویا پورا شہر مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔ اس موقع پر علامہ صاحب خاموش نہ رہے اور کہا کہ:

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

البتہ وہ ناامید نہ تھے انھیں پورا یقین تھا کہ مسلمان سرخرو ہوں گے چنانچہ کہا:

نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

علامہ صاحب کو تمام تر امیدیں نوجوانوں سے تھیں لہٰذا نوجوانوں سے کلام کرتے ہوئے مخاطب ہوتے ہیں کہ۔

تُو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں

مزید کہا کہ

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

علامہ صاحب مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے زبردست حامی تھے، اپنی خواہش کا اظہار یوں کیا کرتے تھے کہ:

ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر

وہ مسلمانوں کو خوددار دیکھنا چاہتے تھے، اسی لیے کہا کہ:

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ ہے نئی صبح شام پیدا کر

علامہ صاحب آگے سے آگے بڑھنے کا سبق دیتے ہوئے کلام کرتے ہیں۔

 منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر

مل جائے تجھے دریا تو سمندر تلاش کر

علامہ اقبال برصغیر کے مسلمانوں کی حالت زار سے بے حد پریشان ہوتے، اسی لیے انھوں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔علامہ صاحب کی زندگی کے آخری ایام جاوید منزل لاہور میں گزرے، البتہ 21 اپریل 1938 کو صبح پانچ بج کر چودہ منٹ پر ان کا زندگی سے ناتا ختم ہو گیا، گویا نماز فجر کے وقت انھوں نے 60 برس پانچ ماہ 12 یوم عمر پائی۔ وہ لاہور میں بادشاہی مسجد میں آسودہ خاک ہیں۔ 21 اپریل 2026 کو ان کی 88 ویں برسی ہے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم پاکستان کو ایک اصلاحی جمہوری ملک بنائیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

داخلی سیاسی استحکام کو مستحکم کرنا ہوگا

Published

on


پاکستان کے جمہوری سیاسی استحکام کے تناظر میں ہماری داخلی سیاست میں کافی مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کی عملی نوعیت گہری بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ہر جمہوری دور میں سیاسی محاذآرائی یا سیاسی ٹکراؤ نے ملک کی سیاست کو غیر مستحکم بھی کیا اور سیاسی عمل کے مقابلے میں غیر سیاسی نظام کو مضبوط بھی بنایا۔ یہ ہی وجہ ہے اس ملک کی سیاست ہمیشہ سے غیر یقینی اورکمزور بنیادوں پر موجود رہی ہے۔

آج بھی پاکستان کی سیاست نہ صرف کمزور بنیادوں پر موجود ہے بلکہ اب تو اس جمہوری نظام کو ہائبرڈ جمہوری نظام کا نیا نام دیا جارہا ہے۔بہت سے سکہ بند دانشور اور سیاسی حضرات اس ہائبرڈ نظام کا سیاسی جواز بھی پیش کرکے جمہوری نظام کو مزید کمزور بنیادوں پر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عالمی درجہ بندی میں ہمارے جمہوری نظام کی ساکھ بھی کمزور ہے اور اس نظام پر کئی طرح کے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور ہماری جمہوری درجہ بندی کو مختلف تناظر میں چیلنج کیا جاتا ہے۔اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت عالمی،علاقائی اور داخلی سیاست کے تناظر میں اپنی سفارت کاری کی بنیاد پر خوب پذیرائی حاصل کر رہی ہے ۔ہمارے دشمن بھی یہ اعتراف کررہے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اپنے سفارتی کارڈ کی بنیاد پر بہت اچھا کھیلی اور اس کھیل سے پاکستان کا تشخص کافی مثبت ابھرا ہے۔

ہمارے مقابلے میں بھارت ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود عالمی سیاست میں وہ پذیرائی حاصل نہیں کرسکا جو ہم نے حاصل کی ہے ۔ اس پر یقیناً ہماری سیاسی اور عسکری قیادت دونوں مبارکباد کی مستحق ہیں اور ان کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔اہم بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ یا ایران اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے درمیان ہم نے اب تک جنگ بندی ،تنازعات کے خاتمے اور پرامن ماحول کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ نہ صرف مثالی ہے بلکہ اس پر قومی سطح پر کوئی بڑی گہری تقسیم بھی دیکھنے کو نہیں ملی۔  حکومت ،حزب اختلاف،میڈیا اور سول سوسائٹی سب نے ملکی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہوکر ایک ذمے دار ریاست اور معاشرے کی عکاسی کی ہے اور اس پر سب کی تعریف ہونا چاہیے،کیونکہ ہمارے یہاں جو سیاسی تقسیم ہے اس میں اس طرز کے اتفاق رائے کا پیدا ہونا معمولی بات نہیں۔حزب اختلاف کا اس ماحول میں اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کو بھلا کر احتجاجی سرگرمیوں کو ختم کرنا بھی حکومت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور اسے بھی ایک ذمے دارانہ کردار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اب یہ سیاسی مثبت ماحول آگے بڑھنا چاہیے۔ سیاست اور جمہوریت میں حکومت ،حزب اختلاف اور دیگر فریقوں کی سطح پر جو داخلی اختلافات ہیں یا جو ایک دوسرے کے خلاف ٹکراو یا سیاسی دشمنی کا ماحول ہے اسے ختم ہونا چاہیے۔حزب اختلاف کی سیاست عملی طور پرجمہوریت کے نظام کا حسن ہوتی ہے اور اس کے سیاسی وجود کو قبول کرکے ہی جمہوری راستے کو آگے کی طرف بڑھایا جاسکتا ہے۔اسی طرح حزب اختلاف کو طاقت کی بنیاد پر دیوار سے لگانے کی حکمت عملی بھی موثر نہیں ہوتی بلکہ اس سے اختلافات کی سیاسی نوعیت میں اور زیادہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔اس وقت ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات نے سیاسی دشمنی کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی راستوں کو عملی طور پر بند کردیا گیا ہے ۔حزب اختلاف کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا شور مچایا جا رہا ہے ۔

یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی اور جمہوری داخلی استحکام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔سیاست ہی نہیں عدلیہ،میڈیا اور سول سوسائٹی کی سطح پر بھی بہت سے چیلنجز ہیں مگر ان کو درست حکمت عملی کے تحت حل نہیں کیا جا رہا۔اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی استحکام ہے درست بات نہیں۔مسئلہ پی ٹی آئی تک محدود نہیں بلکہ سیکیورٹی اور سیاست کے تناظر میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات بھی عملی طورپر مثبت نہیں اور وہاں کے سیاسی حالات وہاں سیکیورٹی جیسے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کے نظام سے بہت سے لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر نالاں ہیں جس میں گورننس کا بحران سب سے زیادہ نمایاں ہے۔

ایک بات جو پاکستان کی سیاست میںغلط ہو رہی ہے وہ ایک طرف سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کا رجحان ہے جو سیاسی ماحول میں اور زیادہ تلخیاں پیدا کر رہا ہے۔اس سے پہلے سے موجود سیاسی تقسیم جہاں اور زیادہ گہری ہو رہی ہے وہیں ایک دوسرے کے خلاف تلخیاں بھی بڑھ رہی ہیں جو سیاسی استحکام کو پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آرہی ہے۔سیاسی عدم استحکام معاشی اور سیکیورٹی کے عدم استحکام کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔

ہماری معیشت اور سیکیورٹی کے مسائل کا براہ راست تعلق بھی ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام سے ہی جڑا ہوا ہے۔اس لیے ہمیں سیاسی عدم استحکام یا سیاسی تلخیوں کی سیاست کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے حل کے لیے ایک بڑے سیاسی فریم ورک میںاتفاق رائے سے اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم سیاسی محاذ پر سب مل کرایک دوسرے کی سیاسی قبولیت کوممکن بنائیں اور اپنے سیاسی مخالفین کو سیاسی دشمن کی بنیاد پر دیکھنے کی پالیسی کو ترک کر دیں۔ سیاسی رواداری کے کلچرکو مستحکم کرنا ہوگا۔ گورننس سے جڑے مسائل کا حل بھی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ ہی عمل ہماری حکومت کی سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔

یقیناً اس میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر جہاں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے وہاں اب ایک دوسرے کے لیے دل کشادہ کرکے ایک دوسرے کی قبولیت کو بھی ممکن بنانا ہوگا۔سیاسی دشمنیوں کی بنیاد پر سیاسی استحکام ممکن نہیں اور حزب اختلاف کو بھی سوچنا ہوگا کہ سیاست میں عملی طور پر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا اہم ہوتا ہے اور جو سیاسی ڈیڈ لاک ہے اسے توڑے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا ۔لیکن کیونکہ حکومت کے پاس حزب اختلاف کے مقابلے میں زیادہ اختیارات ہوتے ہیں تو ان کی ذمے داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سیاسی حکمت عملیوں کی بنیاد پر سیاسی لچک کا مظاہرہ کرکے درمیانی راستہ نکالے جو سب کو بحران کی صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکے ۔

لیکن اگر حکومت داخلی مسائل کو غیر اہم سمجھتی ہے یا اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اس سے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ممکن ہے کہ حکومت کو وقتی طور پر کامیابی مل سکے اور وہ سیاسی مسائل کو کچھ عرصہ کے لیے پس پشت ڈال سکے ۔لیکن یہ حکومت کا مستقل حل نہیں ہوگا اور جب ہماری پالیسی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ٹال مٹول تک محدود رہے گی تو مستقبل کی بہتری کے امکانات بھی محدود ہوجائیں گے۔اس وقت جو بھی عالمی صورتحال ہمارے حق میں ہے اس کا ہمیں اپنی داخلی سیاست سے جڑے مسائل کو بنیاد بنا کر ایک بڑے فریم ورک میں حل تلاش کرنا چاہیے،مسئلہ کسی کی جیت اور ہار کا نہیں بلکہ ریاست اور پاکستان کے مفاد کا ہے کیونکہ ہم جن بڑے چیلنجز سے دوچار ہیں ان میں ہم مزید محاذ آرائی کی سیاست کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

ہمیں سیاسی ضد اور انا کا راستہ چھوڑنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ سیاسی استحکام کا پیدا ہونا اس وقت ریاست کے بڑے مفاد میں ہے ۔لیکن اگر ہم اس کے مقابلے میں خوش فہمی کی سیاست میں زندہ رہنا اور سب اچھے کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو عملا ہم اپنے پہلے سے موجود مسائل کو اور زیادہ خراب کرنے کا سبب بنیں گے۔اس لیے جو سفارت کاری کی بنیاد حکومت نے عالمی معاملات پر ڈالی ہے اسی طرز کی سفارت کاری کی ہمیں داخلی سیاست سے جڑے مسائل کے حل پر بھی دینی ہوگی ۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس وقت جو پاکستان میں سیاسی تقسیم ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ہم ان مسائل پر توجہ دیں جو اس وقت ہمارے اصل مسائل اور چیلنجز ہیں جن کا براہ راست تعلق ریاست کے مفاد سے ہے ۔





Source link

Continue Reading

Trending