Connect with us

Today News

عالمی بحران کو ٹالنے میں شہباز شریف، عاصم منیر اور اسحاق ڈار کا اہم کردار ہے، نواز شریف

Published

on



لاہور:

 

 

مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے ایران امریکا اسرائیل جنگ بندی میں پاکستان کی بہترین سفارت کاری پر وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ کو مبارک باد پیش کی ہے۔

ایکس (ٹویٹر) پر جاری پوسٹ میں نواز شریف نے لکھا کہ میں وزیرِاعظم شہباز شریف، نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شاندار سفارتی کوششوں کو دل کی گہرائیوں سے سراہتا ہوں جنہوں نے ایک بڑے عالمی بحران کو ٹالنے، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

نواز شریف نے مزید لکھا کہ میں ایران اور امریکا کی قیادت کو بھی امن اور تدبر کا راستہ اختیار کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ یہ قدم عالمی استحکام کی طرف ایک بامعنی پیش رفت ثابت ہو۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جڑانوالہ میں گھریلو تنازع پر میاں بیوی نے زہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا

Published

on


جڑانوالہ کے تھانہ بلوچنی کی حدود 69 رب میں میاں بیوی کی جانب سے مبینہ خودکشی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔

پولیس کے مطابق ابرار نامی شخص کو اپنی اہلیہ سونیا بی بی کے کردار پر شک تھا، جبکہ خاتون کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کے اظہر نامی نوجوان کے ساتھ مبینہ تعلقات تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسی معاملے پر میاں بیوی کے درمیان شدید جھگڑا ہوا، جس کے بعد دونوں نے مبینہ طور پر زہریلی گولیاں نگل لیں، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئے۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور دونوں لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔

واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا جبکہ متوفی جوڑے کے چار کمسن بچے بھی ہیں۔

پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

نمک برآمدی کنسائمنٹس مثالی پیکنگ کیساتھ ایکسپورٹ کے احکامات

Published

on



کراچی:

پاکستان کسٹمز ایکسپورٹ کلکٹریٹ نے نمک کے برآمدی کنسائمنٹس کی مثالی پیکنگ کے ساتھ بلارکاوٹ ایکسپورٹ کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں. 

یہ احکامات کلکٹر کسٹمز ایکسپورٹ رضوان محمود کے ساتھ سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے بانیچیئرمین اسماعیل ستار کی قیادت میں ایسوسی ایشن کیچیئرپرسن صائمہ اختر ودیگر عہدیداروں پر مشتمل اجلاس میں جاری کیے گئے. 

سالٹ ایکسپورٹرز اور کسٹمز حکام نے عالمی مارکیٹ میں سالٹ انڈسٹری کی ساکھ کو متاثر کرنے والے دیرینہ مسائل کے حل کیلیے ٹھوس اقدامات پر اتفاق کرتے ہوئے بندرگاہ پر کنٹینرز کی نامناسب ری سیلنگ کے باعث بیرون ملک پہنچنے پر پیکنگ کے خراب ہونے کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے، برآمدات کو عمومی تجارتی کوڈ کے تحت ظاہر کرنے کی روش ختم کرکے غیر ضروری اور بار بار ایگزامینیشن روکنے کی ہدایت کی گئی.

اجلاس کے دوران سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن صائمہ اختر، سینئر وائس چیئرمین عاصم یعقوب پراچہ اور رکن زوہیب اختر نے کسٹمز حکام کو بتایا کہ بیرونِ ملک خریداروں کی جانب سے ایسی کنسائنمنٹس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جو خراب پیکنگ کے ساتھ انہیں موصول ہورہی ہیں جس کی بنیادی وجہ بندرگاہ پر کسٹمز جانچ کے بعد ناقص ری سیلنگ ہے. 

کسٹمز حکام نے اس مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تصدیق کی اور نشاندہی کی کہ غلط ایچ ایس کوڈ کے تحت برآمدی ڈیکلریشن جمع کرانے کی وجہ سے بھی بار بار انسپیکشن کرنا پڑتا ہے جو تاخیر اور اضافی پیچیدگیوں کا باعث بن رہا ہے۔

اجلاس میں ڈپٹی کلکٹر عثمان حمید بٹ اور اسسٹنٹ کلکٹر عاصمہ سکندر نے واضح کیا کہ غلط ایچ ایس کوڈ کا اندراج خود ہی بار بار انسپیکشن کی بنیادی وجہ ہے.

انھوں نے بتایا کہ بہت سے برآمد کنندگان مخصوص ذیلی کوڈز استعمال کرنے کی بجائے عمومی خانے پر انحصار کرتے ہیں حالانکہ ٹیبل سالٹ کیلیے 2501.00.10، راک سالٹ کیلیے 2501.00.20 اور صرف ان ہی اقسام کے لیے 2501.00.90 مخصوص ایچ ایس کوڈز ہیں ہے جو ان دونوں زمروں میں نہ آتی ہوں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

Published

on


آج کل ہم بڑی مشکل میں ہیں نہ کچھ سوجھ رہا ہے نہ کچھ سمجھ میں آرہا ہے کہ کریں توکیا کریں حالانکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہرطرف خوشیوں کے فوارے چھوٹ رہے ہیں ، پھلجڑیاں اڑ رہی ہیں اورہوائیاں چل رہی ہے ۔ یوںکہیے کہ

اک اندازتبسم میں ہے گم ساراچمن

 یہ خبر کس کوکلی کی جان کس مشکل میں ہے

اورجس کلی کی جان مشکل میں ہے وہ کلی ہمارے دل کی کلی ہے کیوں کہ ہمیں کالم کے لیے کوئی موضوع ہی نہیں مل رہا ہے ، ڈھونڈتے رہتے ہیں لیکن ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں کہ اہل خانہ ہمہ آفتاب ہوچکا ہے ، آخر کچھ لکھیںتو کس پر لکھیں دیکھتے ہیں اوردیکھتے رہ جاتے ہیں اپنے اردگرد جو ہورہا ہے دیکھ کر اگر ہونٹوں پر کچھ آتا ہے تو صرف یہی کہ ؎

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

اردگرد کا ہمارا ماحول ہمارا معاشرہ ہمارا نظام مطلب یہ سارا ملک ایسا ہوچکا ہے، ہورہا ہے، ہوتا جا رہا ہے کہ صرف دیکھا جاسکتا ہے، وہ بھی اگر لوہے کا جگر ہو، مرمر کا دل ہو اورسمندر سمندر سینہ ہو ، لیکن کہا کچھ نہیں جا سکتا ہے، اس لیے کہ

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

 ایسا کچھ باقی رہا ہی نہیں جو صادر نہ ہوچکا ہو جو نازل نہ ہوچکا ہو جو برپا نہ ہوچکا ہو، جب باقی کچھ رہا ہی نہیں تو کس پر کچھ کہاجائے یاکچھ لکھا جائے کچھ ویسی حالت ہے کہ

آج کل آپ ساتھ چلتے نہیں

آج کل لوگ مجھ سے جلتے نہیں

 جو کچھ ملنے کا تھا سب مل چکا ہے بلکہ جو نہیں ملنے کا تھا وہ بھی مل چکا ہے ،کچھ عجیب سی صورت حال ہے، سمجھ میں نہیں آرہا ہے ،کہاں کچھ ایسا ڈھونڈا جائے جس پر کچھ کہا یا لکھا جائے کہ سب کچھ تو ہوچکا ہے ، ایسا باقی رہا کیا ہے جس سے بچنے کے لیے کس ، یا جسے پانے کی تمنا کریں اس لیے یہی کہنا پڑتا ہے کہ آپ کو دیکھ کر ۔ کیا کہوں اورکہنے کو … اورکہناچاہیں بھی تو وہی کیفیت ہوجاتی ہے کہ ؎

لیتے لیتے تیرا نام سا رہ گیا

میرے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا

 اسی لیے تو کہہ رہے ہیں کہ ہماری جان بڑی مشکل میں ہے۔ اگر ’’کلی‘‘ کی طرح ہونٹ بند رکھتے ہیں تو بھی مشکل اوراگر ہونٹ کھولتے ہیں تو بھی خطرہ ہی خطرہ ۔ کیوں کہ کلی تو پتے تک کھلی ہے جب تک اس کے ہونٹ بند ہیں، ہونٹ کھلے تو پھول، اورپھر فنا۔ کسی سالک نے کیاخوب کہا ہے کہ ۔

کلی کے حال پر روتی ہے شبنم

گلوں کی چاک دامانی سے پہلے

 یہی وجہ ہے کہ آج کل ہماری جان بڑی مشکل میں ہے اورصرف یہی کہہ پا رہے ہیں کہ آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا ۔ کہ اس ملک میں جو کچھ ہورہا ہے صادر ہورہا ہے نازل ہورہا ہے برپا ہورہا ہے اس پر کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا ہے ،کہنے کو کوئی رخنہ اس میں رہا ہے ، صرف دیکھنے کی چیز ہے اوراسے باربار دیکھ رہے ہیں اور اگر کچھ کہنے کے لیے سوچیں بھی تو اس کے سوا اورکیا ؟ کہ

پریشان ہوں پریشانی سے پہلے

بہا جاتا ہوں طغیانی سے پہلے

 اس لیے آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیاکہوں اے وطن اوردیکھنے کو کیا رہ گیا میرے عزیز وطن۔

کبھی کبھی تو اس پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ارد گرد اور پاس پڑوس کے دانا دانشور کیسے یہ اتنے لمبے لمبے طورمار لکھ لیتے ہیں اوران پر اپنی دانائی دانشوری کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں، نہ جانے کہاں سے کیا کیا کوڑیاں ڈھونڈ کر لے آتے ہیں اور پھر ان کوڑیوں سے طرح طرح کے فلسفے نکالتے ہیں لیکن وہ تو دانا دانشور ہیں۔ ہم جیسے عامی امی لوگ کیا کریں؟ سوائے اس کے کہ …آپ کو دیکھ کر دیکھتا … کیاکہوں اورکہنے کو کیا،ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں دیکھا نہیں ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں سنا نہیں اورایسا بھی کچھ باقی نہیں رہا ہے جو ملا نہیں جو ہم نے سہا نہیں ہے

 دل من بہ دور روتب زحمن فراغ دارد

 کہ چوں سروپائے بنداست وچوں لالہ داغ دارد

ترجمہ: آپ کے دورمیں ہمیں چمن کی ضرورت نہیں کہ سرو کی طرح پابند ہیں اورلالہ کی طرح دل پر داغ بھی رکھتے ہیں مطلب کہ آپ کو دیکھ کر …

 وزیروں باتدبیروں سے ہمیں کیا بلکہ کیاکیا نہیں ملا، مشیروں باتقریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں سنا۔ معاونین باتحریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں پڑھا۔ اس کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں آپ کو دیکھ کر ۔ آپ کو سن کر اورآپ کو پڑھ کر اورکہنے کو کیا۔

 وہ ایک خاتون دوسری سے کہہ رہی تھی کہ وہ لوگ اچھے نہیں جو اپنے بچوں کے عیبوں کو چھپاتے ہیں، تو اپنے بچوں کے عیب کبھی نہ چھپاؤ لیکن میرے بچوں میں کوئی عیب ہو بھی تو ۔

ہم بھی اپنے اس معاشرے، اس نظام، ان حکومتوں، ان وزیروں، ان مشیروں اور ان معاونوں کے عیب چھپانے کے بالکل قائل نہیں ۔ لیکن ان میں کوئی عیب ہو بھی تو۔

جب کوئی عیب کوئی برائی کوئی کرپشن کوئی بے ایمانی بددیانتی ان میں ہے ہی نہیں، صفات ہی صفات ہیں تو یہی کہنا پڑتا ہے کہ ؎

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

کیاکہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

 رہی بات اس کی جو ہمارے ہونٹوں پہ کانپتا رہ جاتا ہے اورکسی کا نام سا رہ جاتا ہے تو ہربات کہنے کی تو نہیں ہوتی، اورپھر ہمیں کہنے کی ضرورت بھی نہیں کہ وہ بات بہت پہلے مرشد کہہ چکے ہیں کہ

ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام

ایک مرگ ناگہانی اور ہے





Source link

Continue Reading

Trending