Connect with us

Today News

مساجد: کل اور آج – ایکسپریس اردو

Published

on


بچپن میں ہمارا اور ہمارے دوستوں کا اکثر وقت محلے کی مسجد میں گزرتا تھا۔ فجر کی نماز کے بعد مسجد میں سپارہ پڑھتے گھر آکر ناشتہ کرتے۔ اس کے علاوہ پانچ وقت مسجد میں باجماعت نماز پڑھتے کیونکہ امام صاحب ہمیں سپارہ پڑھنا نہیں سیکھاتے تھے بلکہ پورے دین پر عمل کرنا بھی سیکھاتے تھے۔

اس وقت مسجدیں بڑی سادہ ہوتی تھیں جن میں نماز پڑھنے کا ایک الگ ہی لطف ہوتا تھا۔ کچے فرش پر چٹائی کی صفیں بچھی ہوتی تھیں۔مسجد میں ایک دیوار پر کالا رنگ کر کے بلیک بورڈ بنایا جاتا تھا جس پر نماز کے اوقات لکھے ہوتے تھے۔وقت دیکھنے کے لیے ایک گھڑی ہوتی تھی جب کہ پنکھے بہت کم مساجد میں ہوتے تھے۔ سامنے کی صف کی بڑی کھڑکیاں کھول کر نماز پڑھتے تھے جن سے ہوا چلنے پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں نمازیوں کو چھو جاتی تھی۔مسجد کا وضو خانہ اور واش روم نہایت سادہ ہوتاتھا۔

مسجد کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے تھے جس وقت بھی کوئی نمازی، نماز پڑھنا چاہے یا چلتا مسافر آ کر یہاں آرام کرنا چاہے تو اسے کوئی دقت نہیں ہوتی تھی بلکہ مسجد کے نمازی جب دیکھتے کہ کوئی مسافر آ کر مسجد میں ٹہرا ہے، آرام کر رہا ہے تو وہ اس کو کھانے کا بھی پوچھتے اور عموماً مسافر کو کھانا بھی محلے والے ہی پہنچا دیتے تھے جب کہ روزانہ شام کو کسی نہ کسی گھر سے امام صاحب اور ان کے گھر والوں کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کھانا آجایا کرتا تھا۔ امام صاحب کی سب عزت کرتے تھے یہاں تک کہ جب وہ کسی کلینک پر دوا لینے جاتے تو ڈاکٹر ان سے فیس تک نہیں لیتا۔

ہم سب بچے جمعہ کی نماز کی پہلی اذان پر مسجد میں پہنچ جاتے تھے اور مسجد کے چھوٹے موٹے کام کر کے وہیں بیٹھے رہتے ہیں پورا خطبہ سنتے۔خطبے میں ہمیں بہت ساری اسلامی معلومات حاصل ہوتی۔

آج سے کوئی 30 برس پہلے تک تقریباً تمام ہی مساجد کا کچھ ایسا ہی حال تھا تاہم اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب مساجد میں بہت ساری ایسی سہولیات دستیاب ہیں جو عام لوگوں کو اپنے گھر میں بھی دستیاب نہیں ہوتی یعنی یہاں بہترین ماربل اور ٹائل کا فرش ملے گا، اس پر اعلیٰ قسم کی صفیں، قالین وغیرہ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے پنکھے اور ایئر کنڈیشنڈ بھی نمازیوں کو دستیاب ہوتے ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک گھڑیاں انھیں تمام نماز کے اوقات بتا رہی ہوتی ہیں۔ واش روم میں بھی اور وضو خانے میں بھی ٹائل وغیرہ لگے ہوتے ہیں۔ مساجد میں نہایت خوبصورت و قیمتی آرائش بھی ہوتی ہے۔ اس سب کے باوجود مساجد میں یہ بھی نوٹس بورڈ پہ لکھا ہوتا ہے کہ ’’مسجد جماعت کے آدھے گھنٹے بعد بند کر دی جائے گی۔‘‘

گویا مساجد جس مقصد کے لیے ہوتی ہیں اس پر ہی کاری ضرب لگی نظر آتی ہے۔اب کوئی چلتا پھرتا نمازی یا مسافر بعد میں مسجد میں آ کر آرام کرنا چاہے یا نماز وغیرہ پڑھنا چاہے تو اس کے لیے یہ نوٹس بورڈ کافی ہوتا ہے۔ گویا پہلے مساجد میں دن رات نماز پڑھنے، آرام کرنے اور واش روم استعمال کرنے کی سہولت ہر ایک کو حاصل ہوتی تھی جو کہ اب نہیں ہے۔ ہماری مساجد کے منتظمین کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔

 دوسری طرف اب نمازی بھی بدل چکے ہیں اور وہ بھی جمعہ کی پہلی اذان میں مسجد کا رخ نہیں کرتے بلکہ جب جماعت کھڑی ہونے لگے تو بڑی تعداد اس وقت ہی مسجد میں داخل ہوتی نظرآتی ہے۔اس طرح سے امام صاحب کا قیمتی اور اہم خطبہ جو لوگوں کے لیے ہوتا ہے، نمازی اس سے محروم رہ جاتے ہیں خاص کر نئی نسل کو جنھیں پہلے ہی اسلامی معلومات نہیں ہے وہ اس موقع کو گنوا بیٹھتے ہیں۔

 یوں مساجد سے نئی نسل کی جو ایک تربیت پہلے ہوا کرتی تھی وہ اب مشکل سے ہی نظر آتی ہے۔مسجد تربیت کا ایک انمول ادارہ ہے کیونکہ جمعہ کے خطبے اور رمضان کے اعتکاف میں لوگوں کو خاص کر نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنے کے بیشتر مواقع میسر آتے ہیں، لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ ان مواقعوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔راقم کے گزشتہ چند برسوں کے مشاہدے کے مطابق اب مساجد میں جب نوجوان اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے آتے ہیں تو ان کی ایک بڑی تعداد کو یہ کہہ کے منع کر دیا جاتا ہے کہ ان کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے۔

اکثر مساجد میں اس پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے اور 18 سال سے کم عمروالے نوجوانوں کو اعتکاف میں بیٹھنے نہیں دیا جاتا اور جواز پیش کیا جاتا ہے کہ کم عمر لڑ کے مسجد کا ماحول خراب کرتے ہیں، مسجد کا احترام نہیں کرتے بدتمیزیاں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یوں بہت سارے ایسے نوجوان جو مسجد میں بیٹھنا چاہتے ہیں لیکن اعتکاف اس لیے نہیں کر سکتے کہ ان کی عمر 18 سال سے کم ہے چنانچہ وہ رمضان کے مہینے میں اپنی مصروفیت پھر کہیں اور ڈھونڈ لیتے ہیں یعنی دنیا داری میں مشغول ہوجاتے ہیں۔

ہمارے ایک واقف کار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچے کو جب اعتکاف کے لیے مسجد میں لے کر گئے انھیں بھی 18 سال سے کم عمر کی وجہ سے منع کر دیا گیا جس پر انھوں نے کہا کہ اسلام میں تو بالغ کا اصول ہے، بالغ پرنماز بھی فرض ہے تو یہ آپ کون سا قانون یہاں نافذ کر رہے ہیں؟ان کا شکوہ تھا کہ میں بطور باپ اپنے بیٹے کو لے کر مسجد گیا لیکن انھوں نے بیٹھنے نہیں دیا پھر دوسری مسجد گئے وہاں بھی انھیں فارم میں لکھا ہوا دکھا دیا گیا کہ 18 سال سے کم اور 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ مزید یہ بھی معلوم ہواکہ سفارش کی بنیاد پر اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو بھی اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت درپردہ دے دی گئی گویا سرکاری محکموں کی طرح یہاں بھی سفارش، تعلقات پر اپنے ہی قائم کردہ قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

یہ صاحب جن مساجد میں گئے ، وہ دونوں مساجد دو مختلف تنظیموں کے زیر انتظام تھی ۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم مسجد کی سطح پر ہی نوجوانوں کی تربیت نہیں کر سکتے اور اپنے اسلامی اصول بالغ ہونے کو بھی نافذ نہیں کر رہے ہیں تو پھر دنیا بھر میں کیا اسلامی انقلاب لائیں گے؟

اسلامی انقلاب لانے کے لیے تو ہمیں نئی نسل کی تربیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیں اور انھیں اسلامی تعلیمات سے زیادہ سے زیادہ آگاہ کریں نیز انھیں اسلام سے قریب لائیں۔ اس طرح سے تو ہم نوجوانوں کو صرف مسجد سے ہی دور نہیں کریں گے بلکہ اسلام سے بھی دور کر دیں گے۔ ہمارے ہاں 18 سال کی عمر ہونے سے پہلے نوجوانوں کی بڑی تعداد فارغ اوقات رکھتی ہے اس لیے وہ مساجد کا بھی رخ کر لیتی ہے۔ 18 سال کے بعد جب شناختی کارڈ بن جاتا ہے تو زیادہ تر نوجوان کھانے کمانے میں مصروف ہو جاتے ہیں پھر ظاہر سی بات ہے اتنا وقت ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا کہ وہ اعتکاف میں بیٹھے۔

بہر حال یہ ایک اہم معاملہ ہے جس میں ہمارے نوجوانوں کی تربیت کا بھی مسئلہ ہے اور ہماری مساجد کو بہتر بنانے کا بھی۔ اس طرف خصوصی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ مسجد کے دروازے زیادہ سے زیادہ وقت تمام لوگوں کے لیے کھلے ہوں اور صرف نوجوان اور بچے ہی نہیں بزرگ اور مسافر بھی جب چاہیں مساجد میں آ سکیں نیز انھیں وضو اور حاجت کی سہولیات بھی میسر ہوں جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتی تھیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے، صوبائی وزیر کھیل

Published

on



صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکرنے کہا ہے آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے ۔

صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکر نے وزیر اعلیٰ پنجاب میراتھن ریس کے حوالے سے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ لوگ صبح سے یہاں پہنچ چکے ہیں، پنجابیوں کو صبح سویرے اٹھانا مشکل ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے سب لاہوریوں کو اٹھا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا وثزن تھا کی نوجوانوں کو کھیلوں میں زیادہ حصہ لینا ہو گا اور وہ پورا ہو رہا ہے  اور ہمارا گول ہے کہ اگلے نومبر تک ہم ایک لاکھ لوگوں کی رجسٹریشن کریں اور ان کو اکٹھا کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب بڑے انعامات آج ملے گے انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ ریس میں شامل ہونگا ، پوزیشن تو نہیں لے سکتا لیکن ریس میں حصہ لینے کے لیے پرجوش ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جیسی دبئی میں میراتھن ہوتی ہے میں چاہتا ہوں کہ میں اس کا مقابلہ کروں، ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں سے شہریوں نے حصہ لیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

 کپتان محمد رضوان نے مسلسل 7 میچز میں راولپنڈیز کی ناکامی کی اصل وجہ بتا دی

Published

on



پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز راولپنڈیز کے کپتان محمد رضوان نے مسلسل سات میچز میں ناکامی اور ٹیم کے پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے کی اصل وجہ بیان کر دی۔

لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد رضوان نے کہا کہ ان کی اپنی کارکردگی اچھی نہیں رہی، جس کا اثر براہ راست ٹیم کے نتائج پر پڑا۔

انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر میری طرف سے کوئی کمی رہی ہوگی، اسی لیے ایسا نتیجہ سامنے آیا۔ میں نوجوان کھلاڑی کے ساتھ اوپن کر رہا تھا، پوزیشن کے حوالے سے میری اپنی خواہش ضرور ہو تی ہے لیکن ٹیم کا فیصلہ ہمیشہ متفقہ ہوتا ہے۔

محمد رضوان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم مسلسل ہار رہی ہو تو مثبت پہلو تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے، تاہم کچھ چیزیں حوصلہ افزا بھی رہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر ٹیم کو دیکھا جائے تو کہیں کوئی واضح کمی نظر نہیں آتی لیکن قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔

راولپنڈیز کے کپتان نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کو صرف نتائج سے نہیں جانچنا چاہیے، بطور کپتان آپ صرف کوشش کر سکتے ہیں لیکن اگر غلطیاں ہو جائیں تو پھر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

محمد رضوان نے اپنی ذاتی فارم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر میری پرفارمنس نہ ہو تو پاکستان ٹیم میں جگہ نہیں بنتی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہمت ہار جاؤں۔ کرکٹ میرے لیے جنون ہے، مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا، میں محنت کرکے واپس آؤں گا۔

رضوان نے اعتراف کیا کہ یہ ان کے کیریئر کا سب سے مشکل مرحلہ ہے، انہوں نے کہاکہ میں مانتا ہوں کہ یہ میری ناکامی ہے، اب میرے ہاتھ میں صرف محنت کرنا ہے۔

واضح رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز نے راولپنڈیز کو 32 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا اور یہ راولپنڈیز کی مسلسل ساتویں شکست ہے، ٹیم اب تک ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

دنیا کا متوقع جغرافیہ

Published

on



 دنیا بھر کے جوتش 2026کو تبدیلی (آپ یہاں تباہی بھی پڑھ سکتے ہیں) کا سال ضرور قرار دے رہے تھے لیکن کسی کے خواب و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ تبدیلی یا تباہی اتنی سرعت اور تیز رفتاری سے رونما ہوں گی۔ دنیا کو یہ بھی نظر آرہا تھا کہ امریکا کا بحیثیت سپر پاور وقت ختم ہوا چاہتا ہے لیکن پھر بھی کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ امریکا کی عسکری قوت اور وہ بھی ایران کے مقابلے میں (ساتھ میں چین، روس اور شمالی کوریا آپ خود شامل کر لیجیے گا) یوں منہ کے بل آگرے گی۔

پاکستان کو تو ہر وقت ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس وقت ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ دنیا میں ہر دور میں سب پرانی بات New World Order ہی رہی ہے اور جو یہ بات کرتا ہے وہ ہی نیا عالمی نقشہ پیش کرتا ہے۔ آج ایک دفعہ پھر نئی عالمی درجہ بندی کی بات ہورہی ہے اور ہم اس کالم میں آپ کو آگے کی متوقع درجہ بندی کے بارے میں کچھ بتانے کی سعی کریں گے۔ آگے یہ ہوگا کہ دنیا قوت کے تین مراکز میں تقسیم ہوجائے گی۔ تینوں مراکز یا خطوں کے کیا خدوخال ہوں گے؟ یہی اس کالم کا مرکزی خیال ہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ دنیا میں ایک نئی صف بندی ہونے جارہی ہے اور اس صف بندی کے نتیجے میں دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس صف بندی کا سب سے زیادہ اثر مشرق وسطیٰ پر پڑے گا کہ جہاں بہت سے ممالک کی جغرافیائی ہئیت برقرار نہیں رہے گی اور ان کی بقا اسی میں ہوگی کہ وہ دوسرے ملک میں ضم ہوجائے۔ اسرائیل کو بھی اگر برقرار رہنا ہے تو اسے گریٹر اسرائیل کے خواب کو چھوڑنا ہوگا اور زمینی حقائق کو قبول کرنا ہوگا ،ورنہ دنیا میں جو کچھ ان کے ساتھ ماضی میں ہوا تھا وہ شاید پھر سے شروع ہوجائے۔ ان کی ریاست پر تحفظات کے اظہار کا آغاز ہوگیا ہے۔

قرآن نے تو قیامت تک ان کے ساتھ کیا ہوگا ،وہ بیان کردیا ہے۔ تیل کی دولت تو جب تک تیل ہے مشرق وسطیٰ سے آتی رہے گی لیکن اس دفعہ تیل کی آمدنی کی سرمایہ کاری ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسی میں بھی ہوں گی تاکہ اس نئی درجہ بندی والی دنیا میں سب کو حصہ دیا جاسکے۔ دولت کے حوالے سے تو بات ہوگئی لیکن دولت مند ہوسکتا ہے کیا بلکہ یقیناً اب مشرق وسطیٰ میں اس طرح سے رہائش اور سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور وہ اپنے لیے ایک نئی جنت کی تلاش شروع کردیں گے۔

آپ سمجھ لیجیے کہ ایشیا ایک اکائی کی صورت میں اور قوت کے ساتھ اپنا بھرپور اور کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوگا اور اس کی قیادت چین کررہا ہوگا، اس کے نائبین میں پاکستان بھی شامل ہوگا، اگر آپ زیادہ حیرت کا اظہار نہ کریں تو یقین کیجیے کہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی اپنے اس نئے کردار کے لیے تیار ہیں بلکہ شاید آمادگی کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے آنے والا وقت بہت اہم اور کلیدی ہے۔

پاکستان دنیا کی درجہ بندی میں ایک انتہائی اہم ملک کے طور پر کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے ہماری اشرافیہ کو ٹینکروں میں پانی کی سپلائی، بجلی کے مہنگے منصوبے اور سڑکوں کی تعمیر میں رشوت کو چھوڑنا ہوگا، اگر ٹینکروں میں پانی آسکتا ہے تو لائنوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ ایک اہم عالمی کردار ادا کرنے کے لیے اپنے عوام کو مطمئن رکھنا بہت ضروری ہے اور ماضی میں برطانیہ نے اور حال میں امریکا نے بھی یہی کیا تھا۔ اتنے لکھے کو بہت جان لیجیے۔ ہندوستان کا کیا حتمی کردار ہوگا؟ یہ کہنا ذرا قبل از وقت ہوگا۔

ہندوستان کی بہتری تو اسی میں ہے کہ وہ چین کی قیادت میں ایشیا کی صف میں شامل ہوجائے لیکن مودی اور بی جے پی کی انتہا پسند قیادت کے لیے یہ کڑوی گولی نگلنا بہت مشکل ہوگا۔ ویسے بھی اس وقت ہندوستان کی قیادت حالات کا صحیح تجزیہ کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر سخت دباؤ میں ہے اور اس صورتحال میں ان کے غلط فیصلے کرنے کا احتمال زیادہ ہے، اگر ہندوستان کی قیادت چین کی سربراہی والی کڑوی گولی نگلنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو پھر ان کا انجام بھی سویت یونین والا ہوگا جو شاید ہندوستان کے لیے تو اچھا نہ ہوں لیکن خطے کے امن کے لیے بہت سودمند ہوگا۔ چین نے جتنی سرمایہ کاری اپنے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ذریعے افریقہ میں کی ہے تو افریقہ کو چین کی قیادت قبول کرنے میں کوئی تامل یا پس و پیش نہیں ہوگا۔

مغرب نے ہمیشہ افریقہ کو صرف غلاموں کی منڈی کے طور پر دیکھا ہے لیکن مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔ افریقہ اپنے معدنی ذخائر کی بدولت دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کرے گا اور چین کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ جب کوئی بھی افریقہ میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھا تو چین نے سرمایہ کاری کی تھی، لہٰذا جب پھل کھانے کا وقت آئے گا تو چین کا حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔اب ہم یورپ کی طرف آتے ہیں۔

بدقسمتی سے برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ دور میں دوبارہ شکست ہوئی ہے لیکن اس دفعہ محاذ سفارتی تھا۔ امریکا نے اپنے گماشتوں کے ذریعے برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس کا مقصد یورپی یونین کو کمزور کرنا تھا لیکن اس کا الٹ ہوا یعنی یورپی یونین مضبوط ہوئی اور برطانیہ کی معیشت کمزور ہوگئی۔ برطانیہ کو احساس ہوگیا ہے کہ اس سے غلطی کرائی گئی ہے۔

برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اپنے ملک کی پہلے والی حیثیت بحال کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں لیکن اس وقت یورپ کے اہم ممالک فرانس، جرمنی اور اٹلی ہیں اور یہ نہ صرف یورپ کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ہنگری میں حزب اختلاف کی فتح کو نوشتہ دیوار سمجھ لینا چاہیے۔ ہمارے خیال میں آنے والے دنوں یورپ متحد ہوکر متحدہ یورپ کی صورت میں نمودار ہوگا۔

نیٹو طاق نسیاں ہوجائے گا کہ جس کی جانب صدر ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیٹو دراصل پہلے سوویت یونین اور بعد میں روس سے مقابلے کے لیے تھا اور روس یوکرین جنگ اسی لیے شروع کروائی گئی تھی کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کر کے نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پہنچایا جاسکے لیکن اب ایسا نظر آرہا ہے کہ روس متحدہ یورپ کا ایک کلیدی کردار ہوگا جو اس کے صبر اور حوصلے کا اعتراف اور نئی عالمی درجہ بندی میں اس کا انعام بھی ہوگا۔

اب آخر میں رہ گیا ’’بڈھا شیر‘‘ چین اور روس کی کوشش ہے کہ امریکا کو شمالی اور جنوبی امریکا تک محدود کردیا جائے وہ بالآخر اس میں کامیاب ہوجائیں گے اور یوں امریکا اپنے ہی گھر میں قریب قریب نظر بند کردیا جائے گا۔ ہرچند کے کینیڈا نے بھی اپنے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہت نظر ثانی کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکا اس کا پڑوسی ہے اور زخم کھایا ہوا پڑوسی بھرے ہوئے پیٹ والے پڑوسی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

امریکا جتنا جلدی ان نئے حالات سے سمجھوتہ کر لے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا کیونکہ جیسے پاکستان نے بنگلہ دیش کے قیام کو تو قبول کرلیا ہے لیکن اس کے قیام میں ہندوستان کے کردار کو وہ کبھی بھولا نہیں ہے، اسی طرح امریکا پر سویت یونین توڑنے کا قرض ابھی باقی ہے اور اگر مستقبل میں کبھی یہ قرض ادا بھی ہوا تو وہ امریکا کی اپنی غلطی سے ہی ہوگا۔ یہ مستقبل کی دنیا کا ایک عمومی جائزہ ہے، ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بہت ہی قبل از وقت اور کچھ کو دیوانے کا خواب بھی لگ سکتا ہے۔

ہم دونوں صورتوں میں آپ کی آراء کا احترام کرتے ہیں، لکھ اس لیے دیا کہ کل ہم نہ ہوں تو تحریر ضرور باقی رہے گی کیونکہ جو لوگ اس قسم کی تحاریر لکھتے ہیں وہ اس بات کے لیے بھی تیار رہتے ہیں کہ ’’کل ہوں نہ ہوں۔‘‘
 



Source link

Continue Reading

Trending