Connect with us

Today News

آئی ایم ایف کی معاشی شرح نمو کم اور مہنگائی بڑھنے کی پیشگوئی

Published

on



اسلام آباد:

آئی ایم ایف نے تازہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں پاکستان کی معیشت سے متعلق نئی پیشگوئیاں جاری کرتے ہوئے آئندہ مالی سال 2026-27 کیلیے شرحِ نمو کم کر کے 3.5 فیصد کر دی ہے، جو اس سے قبل 4.1 فیصد متوقع تھی۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور اسے بڑھا کر 8.4 فیصد تک کر دیا گیا ہے، جو پہلے 7 فیصد تھی۔

رواں مالی سال کے لیے بھی مہنگائی کا تخمینہ 6.3 فیصد سے بڑھا کر 7.2 فیصد کر دیا گیا۔آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ملک اپنی تقریباً 90 فیصد توانائی کی ضروریات اسی خطے سے پوری کرتا ہے۔

تیل اور گیس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ کر جی ڈی پی کے 0.9 فیصد (تقریباً 5 ارب ڈالر) تک پہنچ سکتا ہے، جو اس سے پہلے 0.4 فیصد تھا۔

عالمی سطح پر بھی آئی ایم ایف نے معاشی ترقی کی رفتار میں کمی کی پیشگوئی کی ہے۔ ادارے کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جبکہ تیل کی قیمتیں 100 سے 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔

آئی ایم ایف نے حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مالی نظم و ضبط بہتر بنائیں، اخراجات مؤثر بنائیں اور عالمی اقتصادی استحکام کیلیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

prime minister meeting trump advisor in turkiye us president message delivered

Published

on


وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر مسعد بولس نے ترکیے میں ملاقات کی اور امریکی صدر کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچا دیا جبکہ خطے کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترکیے کے شہر انطالیہ میں ڈپلومیسی فورم کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے عرب و افریقی امور مسعد بولس نے اہم ملاقات کی، اس موقع پر دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اور ان کے ساتھ اپنے خوش گوار تعلقات کا ذکر کیا، پاک-بھارت کشیدگی کے دوران جنگ کے دہانے پر پہنچنے والی صورت حال میں جنگ بندی کرانے پر صدر ٹرمپ کی قیادت کو سراہا۔

وزیراعظم نے لبنان میں جنگ بندی کے کامیاب انعقاد میں بھی امریکی قیادت کے کردار کی تعریف کی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں خطے کی مجموعی صورت حال، پاکستان کی امن کوششوں، جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 وزیراعظم نے پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، خصوصاً تجارت اور معیشت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر مسعد بولس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔

 انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، معاشی ترقی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں امریکی دلچسپی کا اعادہ بھی کیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

JD Vance visit to Pakistan sparks social media frenzy memes take the internet by storm

Published

on


امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ دورہ اسلام آباد نے جہاں سفارتی حلقوں میں ہلچل مچائی، وہیں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے اس موقع کو مزاح کا رنگ دے کر یادگار بنا دیا۔

ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے سلسلے میں ان کی آمد کے بعد انٹرنیٹ پر اے آئی سے تیار کردہ دلچسپ میمز کی بھرمار ہوگئی، جنہوں نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں جے ڈی وینس کو کبھی ہوٹل پر بیٹھے چائے کا پیالہ تھامے دیکھا گیا، تو کہیں وہ روایتی ناشتے ’انڈا پراٹھا‘ سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔ ایک تصویر میں انہیں ’کوئٹہ ککڑ ہوٹل‘ میں ناشتہ کرتے دکھایا گیا، جس نے صارفین کو خوب محظوظ کیا۔

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ اے آئی میمز میں انہیں روایتی پاکستانی لباس شلوار قمیض میں ملبوس دکھایا گیا، جبکہ بعض تصاویر میں وہ بازاروں، مساجد اور شہر کے مختلف مقامات پر گھومتے پھرتے نظر آئے۔ یہاں تک کہ ایک میم میں انہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ گلے ملتے اور امن کا نشان بناتے بھی دکھایا گیا، جبکہ ساتھ میز پر شہباز شریف بیٹھے ہیں اور پس منظر میں نریندر مودی چائے پیش کر رہے ہیں۔

یہی نہیں، کچھ صارفین نے تو انہیں پاکستانی مٹھائی ’ریوڑی‘ کے ڈبوں پر بھی فِٹ کردیا، جہاں روایتی برانڈ امیج کی جگہ ان کا چہرہ لگا دیا گیا۔ کہیں وہ الیکٹرک اسکوٹر پر گھومتے دکھائی دیے تو کہیں چائے خانوں میں گپ شپ کرتے نظر آئے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ سب محض تفریح کے لیے ہے اور اس کے ذریعے پاکستان کی ثقافت کو دنیا کے سامنے دلچسپ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ اگر پاکستانی مزاح کو پیسوں میں بدلا جا سکے تو شاید ملک کے قرضے بھی اتر جائیں۔

ماہرین کے مطابق یہ میمز دراصل ’سافٹ پاور‘ کی ایک نئی شکل ہیں، جہاں بغیر کسی سرکاری مہم کے، عوام خود اپنے ملک کا مثبت اور رنگین چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ان میمز سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستانی عوام جے ڈی وینس کی ممکنہ واپسی کے منتظر ہیں، اور چاہتے ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کرے۔

یوں ایک سنجیدہ سفارتی دورہ، پاکستانیوں کے مزاح اور تخلیقی صلاحیت کے باعث سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ ٹرینڈ میں بدل گیا، جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔





Source link

Continue Reading

Today News

حافظ نعیم الرحمٰن کی پیپلز پارٹی پر سخت تنقید، ’’حق دو کراچی‘‘ تحریک پر دھمکیوں کا الزام

Published

on



امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں ’’حق دو کراچی‘‘ کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کیا کل ’’حق دو کراچی ‘‘ کا نعرہ لگانے پر شہریوں کو گرفتار بھی کیا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل فسطائیت اور فاشزم کے مترادف ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال میں نہ شہریوں کو پانی فراہم کیا جا سکا اور نہ ہی سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عوام اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں پر دہشت گردی کی دفعات لگائی جاتی ہیں، جو قابل مذمت ہے۔ ان کے مطابق صوبہ سندھ کی 98 فیصد اور پاکستان کی نصف معیشت کا انحصار کراچی پر ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ’’حق دو کراچی‘‘ کا نعرہ کسی ایک قوم یا برادری کا نہیں بلکہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی مشترکہ آواز ہے اور یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک شہر کو اس کے تمام جائز حقوق نہیں مل جاتے۔



Source link

Continue Reading

Trending