Connect with us

Today News

جڑانوالہ میں گھریلو تنازع پر میاں بیوی نے زہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا

Published

on


جڑانوالہ کے تھانہ بلوچنی کی حدود 69 رب میں میاں بیوی کی جانب سے مبینہ خودکشی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔

پولیس کے مطابق ابرار نامی شخص کو اپنی اہلیہ سونیا بی بی کے کردار پر شک تھا، جبکہ خاتون کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کے اظہر نامی نوجوان کے ساتھ مبینہ تعلقات تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسی معاملے پر میاں بیوی کے درمیان شدید جھگڑا ہوا، جس کے بعد دونوں نے مبینہ طور پر زہریلی گولیاں نگل لیں، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئے۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور دونوں لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔

واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا جبکہ متوفی جوڑے کے چار کمسن بچے بھی ہیں۔

پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کوٹری، شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ سے مووی میکر جاں بحق

Published

on



کوٹری:

کوٹری کے علاقے کوٹری سائٹ میں شادی کی ایک تقریب اس وقت افسوسناک واقعے میں بدل گئی جب ہوائی فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔

پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والا شخص 40 سالہ مووی میکر میر جونیجو تھا جو تقریب میں ویڈیو ریکارڈنگ کر رہا تھا کہ اسی دوران نامعلوم سمت سے آنے والی گولی اس کو جا لگی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

واقعے کے بعد لاش کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

حکام کے مطابق یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گولی کس سمت سے چلائی گئی اور اس میں کون ملوث ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امن مذاکرات کا تسلسل ناگزیر

Published

on


ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوسکتا ہے۔ اگلے دو دن میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں، پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہو تو پاکستان ہماری ترجیح ہے جب کہ پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کردی ہے۔ دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر پڑنا شروع ہو چکے ہیں، اگر تنازع طویل ہوا اور توانائی کے شعبے کو مزید نقصان پہنچا تو عالمی شرح نمو کم ہو کر 2 فیصد تک آ سکتی ہے جب کہ اگلے سال مہنگائی میں 6 فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے۔

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کو متاثر کر سکتا ہے۔ حالیہ پیش رفتیں،ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، عالمی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ، اور خطے میں تیز ہوتی سفارتی سرگرمیاں،یہ سب اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دنیا ایک بار پھر ایک بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوبارہ آغاز بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس کے پس منظر میں چھپی پیچیدگیاں اس امید کو مکمل یقین میں بدلنے نہیں دیتیں۔ یورینیئم افزودگی کے معاملے پر اختلاف، جو بظاہر ایک سائنسی اور تکنیکی مسئلہ معلوم ہوتا ہے، درحقیقت سیاسی عدم اعتماد، تاریخی تنازعات اور عالمی طاقت کے کھیل کا مظہر ہے۔

امریکا کی جانب سے بیس سالہ پابندی کا مطالبہ اور ایران کا پانچ سال پر اصرار اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے ارادوں پر مکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ اختلاف صرف مدت کا نہیں بلکہ نظریے، خودمختاری اور سلامتی کے تصور کا ہے،اگر اس تنازع کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ ماضی کے معاہدے، جو بڑی امیدوں کے ساتھ طے پائے، داخلی سیاسی تبدیلیوں اور عالمی دباؤ کے باعث پائیدار ثابت نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو دونوں فریق ایک دوسرے کے وعدوں پر مکمل یقین کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

اس عدم اعتماد کی فضا کو ختم کیے بغیر کسی بھی معاہدے کی کامیابی محض ایک عارضی حقیقت ہوگی۔ایسے میں پاکستان کا بطور میزبان سامنے آنا ایک غیر معمولی سفارتی موقع بھی ہے اور ایک کڑا امتحان بھی۔ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش اور فریقین کا اس پر آمادگی ظاہر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب ایسے پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہے جو غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ہوں۔

پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، مسلم دنیا میں اس کا مقام اور بڑی طاقتوں کے ساتھ اس کے متوازن تعلقات اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔تاہم یہ کردار ادا کرنا آسان نہیں۔ ثالثی کا عمل صرف میز فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ اعتماد قائم کرنے، اختلافات کو سمجھنے اور ایک قابلِ قبول راستہ نکالنے کا عمل ہے۔ پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مذاکرات شفاف، مسلسل اور نتیجہ خیز ہوں، اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی سطح پر اس کے کردار کو ایک نئی پہچان بھی ملے گی۔

 اسی تناظر میں پاکستان کی قیادت کے سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے دورے بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ دورے ایک مربوط سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ سعودی عرب، جو مسلم دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے، حالیہ برسوں میں اپنے علاقائی کردار کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں مفاہمت کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔ترکیہ، اپنی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کے باعث، ہمیشہ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اس کی سفارتی مہارت اور علاقائی اثر و رسوخ اسے اس عمل میں ایک اہم فریق بناتے ہیں۔ قطر، جو ماضی میں بھی کئی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے، ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے جہاں پیچیدہ مسائل کو نسبتاً نرم ماحول میں زیر بحث لایا جا سکے۔تاہم ان تمام سفارتی کوششوں کے باوجود زمینی حقائق خاصے پیچیدہ اور بعض اوقات تشویشناک ہیں۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس پیچیدگی کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ تنگ مگر انتہائی اہم بحری گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ امریکی نگرانی اور ناکہ بندی کے دعوؤں کے باوجود تجارتی جہازوں کا گزرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں نہیں۔

 عالمی مالیاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ بھی اسی خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی یا اس میں اضافہ ہوا تو عالمی شرحِ نمو میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ مہنگائی میں اضافہ، توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی اور ترقی پذیر ممالک پر بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ بحران صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گا۔خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے پہلی شرط نیت کی شفافیت ہے۔ جب تک فریقین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا وقتی فائدہ حاصل کرنے کے بجائے مسئلے کے حل کی نیت سے میز پر نہیں آئیں گے، کوئی بھی معاہدہ دیرپا ثابت نہیں ہوگا۔ ایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عالمی برادری کے خدشات محض سیاسی نہیں بلکہ سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح امریکا کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کو نظرانداز کر کے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔دوسری اہم شرط تسلسل ہے۔ ماضی میں کئی بار مذاکرات ہوئے، لیکن وہ کسی نہ کسی وجہ سے ٹوٹ گئے۔ اس عدم تسلسل نے عدم اعتماد کو جنم دیا۔ اس بار ضروری ہے کہ مذاکرات کو ایک طویل المدتی عمل کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ فوری نتائج حاصل کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر۔تیسری شرط علاقائی شمولیت ہے۔ مشرق وسطیٰ کے مسائل کا حل صرف دو ممالک کے درمیان ممکن نہیں۔

اس کے لیے ایک وسیع تر علاقائی مکالمہ درکار ہے، جس میں تمام متعلقہ فریقین کو شامل کیا جائے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور قطر جیسے ممالک اس ضمن میں ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔چوتھی شرط اعتماد سازی کے عملی اقدامات ہیں۔ قیدیوں کا تبادلہ، پابندیوں میں جزوی نرمی، انسانی بنیادوں پر تعاون اور کشیدگی میں کمی جیسے اقدامات اس عمل کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف مذاکرات کو تقویت دیتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی اعتماد پیدا کرتے ہیں۔پانچویں شرط عالمی طاقتوں کا ذمے دارانہ کردار ہے۔ چین، روس اور یورپی ممالک کو بھی اس عمل میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، اگر عالمی سیاست صرف مفادات کے گرد گھومتی رہی تو ایسے تنازعات کبھی حل نہیں ہو سکیں گے۔

ایک متوازن اور منصفانہ عالمی نظام ہی پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا اس وقت جس سمت جا رہی ہے، وہاں کسی نئی جنگ کی گنجائش نہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، معاشی عدم استحکام، اور سماجی بے چینی نے پہلے ہی عالمی نظام کو کمزور کر رکھا ہے۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل تنازع پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، لہٰذا یہ وقت ہے کہ تمام فریقین اپنی ذمے داریوں کا ادراک کریں۔

مذاکرات کو محض ایک رسمی عمل کے بجائے ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوشش بنایا جائے۔ اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کی راہ تلاش کی جائے۔ طاقت کے مظاہرے کے بجائے اعتماد سازی پر زور دیا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ امن کسی ایک فریق کی جیت نہیں بلکہ سب کی بقا کا ضامن ہے،اگر یہ اصول اپنائے گئے تو بعید نہیں کہ موجودہ بحران ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو، جہاں مشرقِ وسطیٰ جنگوں کی سرزمین کے بجائے امن، استحکام اور تعاون کی علامت بن جائے، لیکن اگر یہ موقع بھی ضایع ہو گیا تو تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ انسان نے اپنی ضد، انا اور مفادات کی خاطر ایک اور موقع کھو دیا۔

 دنیا کو امن چاہیے اور یہ امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب طاقتور تحمل کا مظاہرہ کریں، کمزور اعتماد کا، اور سب مل کر ایک ایسا راستہ اختیار کریں جو تصادم کے بجائے مکالمے، دشمنی کے بجائے تعاون، اور جنگ کے بجائے امن کی طرف لے جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری انسانیت کو ایک محفوظ، مستحکم اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران امریکا جنگ اور بدلتا ہوا توازن

Published

on


ایران پر مسلط کردہ امریکی و اسرائیلی جنگ اورجارحیت نے خطے کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ تاریخ امریکی اور اسرائیلی حساب کتاب سے نہیں بلکہ ایران کی بے مثال چالیس روزہ مزاحمت، قربانیوں، عوام کی پائیدار استقامت اور صبر کے ساتھ خطے میں توازن کو بدلتے ہوئے لکھی جا رہی ہے۔

تاریخ میں ہمیشہ چالیس روزہ جنگ کو ایک تزویراتی عنوان سے یاد رکھا جائے گا کہ جہاں پوری دنیا کی طاقت اور ٹیکنالوجی سمیت دباؤ، پابندیاں، دھونس دھمکی اور نہ جانے اور کیا کچھ شامل تھا لیکن اس کے مقابلے میں ایک قوم، ایک ملت اپنے شہداء کی یاد کے عزم کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کر رہی تھی اور اس تاریخ میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ اس مقابلہ کی بدولت دنیا کی سپر پاور کو جھکنے پر مجبور کیا گیا۔

وہ سپر پاور جو ایران میں پہلے رجیم چینج، پھر ایران کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے یعنی ایران کی تقسیم کا منصوبہ لائی تھی اور ساتھ ساتھ ایران کے تیل اور گیس کے وسائل پر تسلط حاصل کرنا چاہتی تھی تمام تر حربوں اور جنگی مشقوں کے بعد ایک نقطہ پر اپنی پوری توانائی خرچ کرنے پر مجبورہو گئی یعنی ایک سمندری راستے کی بندش کو کھلوانے کے لیے۔ حالیہ ایران اور امریکا جنگ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران نے محض ردِعمل کی پالیسی سے نکل کر ایک منظم اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اس حکمت عملی کو اکثر’’اسٹرٹیجک صبر‘‘(Strategic Patience) کہا جاتا ہے، مگر ناقدین اور مبصرین کے مطابق یہ صبر محض انتظار نہیں بلکہ ایک منظم تیاری تھی، جس کا مقصد طاقت کے توازن کو اپنے حق میں موڑنا تھا۔

ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو روایتی جنگی قوت سے ہٹ کر غیر روایتی میدانوں میں مضبوط کیا۔ بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور خطے میں اتحادی گروہوں کے ساتھ روابط یہ سب عناصر ایک وسیع دفاعی حکمت ِ عملی کا حصہ بنے۔ مثال کے طور پر ایران کے شہاب اورقدر میزائل پروگرام نہ صرف خطے میں اس کی مار کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی دباؤ بھی پیدا کرتے ہیں۔اسی طرح، ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی، خصوصاً شاہد سیریز نے جنگی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ یوکرین جنگ میں روس کے ذریعے ان ڈرونز کے استعمال نے عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو اجاگر کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ ایران کم لاگت میں موثر جنگی صلاحیت پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

 اسٹرٹیجک صبرکی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ایران نے براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ عراق، شام، لبنان اور یمن میں مختلف گروہوں کے ساتھ تعلقات نے ایران کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر مستحکم کیا۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں انصار اللہ اور عراق میں الحشد الشعبی جیسے گروہوں نے ایران کی Forward Defense حکمتِ عملی کا کردار ادا کیا اور آج بھی اسی کاحصہ ہیں، جس کے تحت وہ اپنی سرحدوں سے دور خطرات کو روکنے کی کوشش کرتا ہے،یعنی اگر بین الاقوامی سیاست اور جنگ کے قوانین کی زبان میں بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایران نے جنگ کو صرف ایران میں نہیں لڑا ہے بلکہ خطے میں لڑ کر یہ بتا دیا ہے کہ اگر ایران محفوظ نہیں رہے گا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اس بات کا اظہار گاہے بہ گاہے ایران کے فوجی اور سول قائدین بھی اپنے بیانات میں کرتے چلے آئے ہیں۔ شہید آیت اللہ خامنہ ای نے بھی جنگ سے قبل امریکی حکام کو اپنی گفتگو کے ذریعہ خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا تو پھر ایک بڑی جنگ خطے کو گھیر لے گی۔

حالیہ جنگ میں ایران کی طرف سے جو چیز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایران نے دفاعی جنگ سے نکل کر فارورڈ جنگ لڑی ہے، یعنی حالیہ عرصے میں یہ دیکھا گیا کہ ایران نے صرف دفاعی پوزیشن پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بعض مواقع پر فیصلہ کن اقدام بھی کیا۔ چاہے وہ اسرائیلی اہداف پر براہ راست یا بالواسطہ حملے ہوں یا امریکی مفادات کے خلاف ردعمل ہو ایران نے یہ پیغام دیا کہ اب وہ صرف برداشت کرنے والا فریق نہیں رہا،بلکہ وہ دشمن کو اسی زبان میں جواب دے رہاہے جو دشمن کو سمجھ آتی ہے، یعنی طاقت کی زبان۔

یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ایران نے خوف کے توازن کو بھی تبدیل کر دیا ہے؟ اس کا جواب مکمل طور پر سادہ نہیں۔ ایک طرف ایران کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتیں اور علاقائی اثر و رسوخ اسے ایک مضبوط پوزیشن دیتے ہیں، لیکن دوسری طرف اسے سخت اقتصادی پابندیوں، داخلی معاشی مسائل، اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا بھی ہے۔

امریکی پابندیوں نے ایران کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل میں اضافہ ہوا،لیکن ان سب مسائل اور مشکلات کے باوجود ایران نے ایک ایسی بے مثال جنگ لڑی ہے کہ جس میں دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا ہے۔حالانکہ امریکا اور اسرائیل دونوں ہی خطے میں فضائی برتری رکھتے ہیں، خاص طور پر فضائی طاقت، سائبر وارفیئر، اور انٹیلی جنس کے میدان میں۔اس تمام تر صورتحال میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے اپنے وسائل اور حالات کے مطابق ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے جس نے اسے نظر انداز کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ایران نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور جدید فضائیہ رکھنے والی افواج کا تنہا مقابلہ کیا اور ان طاقتوں کو گھٹنوں پر لانے کے لیے مجبور کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کی حکمت ِ عملی نے نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی سطح پر بھی اثر ڈالا ہے۔ خطے کے کئی ممالک اب ایران کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاص طور پر اس جنگ کے بعد اب ایک نیا ایران ابھر کر سامنے آرہاہے۔ دنیا ایران کو چوتھی بڑی طاقت کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ یورپی ممالک کی سیاست میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایران کی پالیسی اسٹرٹیجک صبر سے فیصلہ کن اقدام تک ایک تدریجی ارتقاء ہے، جس نے ایران کوایک منفرد پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ نہ مکمل فتح ہے اور نہ مکمل ناکامی، بلکہ ایک جاری عمل ہے جس میں ہر قدم نئے چیلنجز اور مواقع کو جنم دیتا ہے۔لہٰذا ایران کے لیے ابھی مزید چیلنجز ہیں اور جو ایران کی سیاست سے اب واقف ہو چکے ہیں وہ یہ بھی جان چکے ہیں کہ سینتالیس سال کی طرح ایران اب بھی ان تمام چیلنجز اور مسائل سے خودکو نکال لے جائے گا کیونکہ جب ایران امریکا اور اسرائیل کے مقابلہ میں اکیلے ہی چالیس دن کی جنگ لڑ سکتا ہے تو پھر باقی چیلنجز کو بھی نمٹانے کی صلاحیت ایران میں موجود ہے۔

یہاں ایران کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے جہاں ایران کی مسلح افواج، سول قیادت اور دیگر اداروں کا ذکر کیا جا رہاہے، وہاں ساتھ ساتھ ایران کے عوام کا بے مثال اتحاد، صبر اور استقامت ہے جس نے اس جنگ میں ایران کو قدم قدم پر کامیابیاں دی ہیں۔ اس تمام تر صورتحال میں جو توازن اس وقت خطے میں پیدا ہواہے اسے باقی رہنا چاہیے۔ یہ توازن کب تک برقرار رہتا ہے اور کس حد تک تبدیل ہوتا ہے، اس کا انحصار نہ صرف ایران بلکہ اس کے حریفوں کی حکمتِ عملیوں پر بھی ہوگا، تاہم ایک بات طے ہے غرب ایشیاء کی سیاست اب ایران کے کردار کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending