Connect with us

Today News

بائیں بازو کی بے حال قیادت اور کارکن…گل محمد منگی

Published

on



ایک دور تھا کہ ملک میں بائیں بازو کی صرف تین چار پارٹیاں ہوتی تھیں جن میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، مزدور کسان پارٹی، سوشلسٹ پارٹی اور لیبر پارٹی ہوا کرتی تھیں۔ تب بھی بائیں بازو کے کارکنوں کو حیرت ہوتی تھی اور وہ برملا اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ جب نظریہ ایک ہے تو پھر تین،چار لیفٹ کی جماعتوں کی کیوں کر ضرورت پیش آ رہی ہے؟ تب بھی لیفٹ کے لیڈر اپنے اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف تاویلیں پیش کرتے تھے جس طرح آج کر رہے ہیں۔

ان لیڈروں کی انا اور ضدپرستی نے آج لیفٹ کو اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سے ان کی واپسی اور یکجا ہونے کی خواہش محض مذاق کے علاوہ کچھ نہیں۔ تمام لیڈر اپنی لیڈری پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا رعب، دبدبہ اور کرسی چھوڑنے پر تیار نہیں۔ ان کو تو بس اس بات سے غرض ہے کہ جب اسٹیج پر آئیں تو ان کے لیے ’’زندہ آباد‘‘ کے نعرے لگائے جائیں۔ میں نے بڑی محنت سے لیفٹ کی کچھ سیاسی جماعتوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں جو کہ اس وقت میدان عمل سے گو کہ کوسوں دور سہی مگر کبھی کبھار سوشل میڈیا، اخبارات اور ان کے کارکنوں کی زبانی ان کی سرگرمیاں سننے یا دیکھنے کو ملتی ہیں۔

ان کے زیادہ بیان رسمی ہوتے ہیں اور عام آدمی کے مسائل پر نہیں ہوتے ہیں۔ لیفٹ کی ایسی معروف اور غیرمعروف یا برائے نام پارٹیوں، گروہوں، تنظیموں اور ٹولیوں میں سے کچھ کے نام نامی یہ ہیں۔ جس میں کچھ قوم پرستانہ رجحان کی بھی حامل ہیں۔

 (1) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (انجینئر جمیل احمد ملک) (2) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (امداد قاضی) (3) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (مائوئسٹ) (4) انقلابی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (5) عوامی ورکرز پارٹی (بخشل تھلو) (6) ریڈ ورکرز فرنٹ (7) پاکستان انقلابی پارٹی (مشتاق چوہدری) (8) پاکستان انقلابی پارٹی (صابر علی حیدر) (9) پاکستان لیبر کونسل (10) پورھیت مزاحمت تحریک (11) مزدور کسان پارٹی (ڈاکٹر تیمور) (12) سوشلسٹ پارٹی (13) سوشلسٹ ریزسٹنٹ مومینٹ(14) عوامی تحریک (15) قومی عوامی تحریک (16) لیبر قومی موومنٹ (17) نیشنل پارٹی بلوچستان، ڈاکٹر مالک (18) پاکستان مزدور اتحاد (19) عوامی راج تحریک (20) انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈنسی (21) پاکستان سرائیکی پارٹی (22) قومی محاذ آزادی (23) حقوق خلق پارٹی (24) برابری پارٹی (25) عوامی نیشنل پارٹی (26) ورکرز سولیڈرٹی فیڈریشن (27) پاکستان مزدور محاذ (28) سوشلسٹ ستھ(29) سندھ یونائیٹڈ پارٹی (30) پختونخوا ملی عوامی پارٹی (31) ھلال پاکستان ترقی پسند فورم (32) عوامی حقوق (33) کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی (34) تحریک مظلومین پاکستان (35) انقلابی سوشلسٹ موومنٹ (36) پاکستان ایکوئلٹی پارٹی (37) وطن دوست انقلابی پارٹی (38) سندھ ساگر پارٹی (39) طبقاتی جدوجہد (40) نیشنل ڈیموکریٹک موومینٹ (41) نیشنل پارٹی، ڈاکٹر حئی گروپ (42) عوامی جمہوری پارٹی (43) جیئے سندھ محاذ (خالق جونیجو) (44) جیئے سندھ محاذ (آریسر) (45) سندھ ترقی پسند پارٹی (46) پاکستان سوشلسٹ فورم (47) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (48) تحریک مظلومین پاکستان (49) سماج بدلو تحریک (50) دادا امیر حیدر جدوجہد کمیٹی (51) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (52) سندھ نیشنل فرنٹ (53) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (اسلم بنگلزئی) (54) مزدور کسان پارٹی (افضل خاموش) (55) بی این پی (عوامی) (56) بلوچستان نیشنل پارٹی (اختر مینگل) (57) یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی (58) پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) (59) عوامی جمہوری اتحاد پارٹی (سربراہ رانا مقصود، لاہور) (60) جمہوری اتحاد پارٹی (61) مزدور کسان پارٹی (بنگش گروپ) (62) ترقی پسند لکھاری محاذ (پنجاب) (63) پنجاب لوک امن (64) رکھ بچائو لوک لہر (65) طبقاتی کمیونسٹ پارٹی (66) غریب اتحاد انجمن شمسیہ (67) وارث شاہ وچار پرچار پرہیا(68) ادبی واشنا، مریدکے (69) پاکستان پیس فائونڈیشن پنجاب (70) عوامی اتحاد پارٹی (غفار رندھاوا) (71) جاگو پاکستان تحریک (قیوم نظامی) (72) عوامی ورکرز پارٹی (اختر حسین) (73) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اور دیگر۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیفٹ کی اتنی ساری پارٹیاں بنانے کا آخر کوئی تو ذمے دار ہوگا؟ اس کے پیچھے کچھ تو مقاصد ہوں گے؟ کیا کبھی آپ نے اس پر غور کیا ہے؟ میں نے جو تعداد اوپر بیان کی ہے، یہ ابھی میرے خیال میں ادھوری ہے۔ بہت ساری ایسی اور بھی لیفٹ کی پارٹیاں ہیں جو اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ گئی ہوں گی اور ان سے معذرت کرتا ہوں، اگر ان تمام کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ایک سو یا اس بھی تجاوز کر جائے گی۔

اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ’’بائیں بازو والے کم از کم فرقوں کے حوالے سے دوسروں کو مات دے چکے ہیں‘‘ بہرحال اصل معاملہ یہ ہے کہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں جو کہ پسے ہوئے طبقات کو ان کے حقوق دلانے کا دعویٰ کرتی ہیں ان کے ہاں اتنے سارے فرقے کس طرح پیدا ہوگئے؟ جب کہ بعض کے منشور تک ایک جیسے ہیں۔ ان کا دعویٰ اپنی جگہ مگر بہت ساری جماعتوں یا تنظیموں کا تو نظریہ بھی ایک ہی ہے! مگر اس کے باوجود ان کے اختلافات جو کہ فروعی یا مفادپرستانہ ہیں۔

ان کو بھی پیسہ بٹورنے کی لت لگ چکی ہے اور یہ بات کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ ان کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی تھوڑی بہت یا زیادہ فنڈنگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک ’’لیڈری‘‘کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور جو کوئی ان کی قیادت کو چیلنج کرتا ہے اسے باہر نکال کر دم لیتے ہیں۔ اب تو کچھ نے چین، ویتنام، نیپال اور کچھ اور ممالک میں اپنے کاروبار بھی سیٹ کرلیے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ سے حکومتوں کے اندر بھی پنجے گاڑ چکے ہیں۔ جس طرح بتایا جاتا ہے کہ جب شملہ معاہدے پر پیش رفت نہیں ہو رہی تھی تو بائیں بازو کے ایک لیڈر نے ذوالفقار علی بھٹو کی مدد کی اور اندرا گاندھی کو منوالیا۔

یہ بات خود لیفٹ کے ایک سے زیادہ لیڈر فخریہ بیان کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس صلاحیت سے عاری ہیں کہ وہ سب کو کم از کم ایک میز پر ہی بٹھالیں۔ اس حوالے سے عابد منٹو نے ایک اچھی کوشش کی اور لیفٹ کے مختلف دھڑوں کو جوڑ کر ’’عوامی ورکرز پارٹی‘‘ بنائی جو اب ’’دولخت‘‘ہوچکی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لیفٹ کا جو لیڈر کرسی پر بیٹھتا ہے اسے چپک ہی جاتا ہے۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے باوجود جتنے بھی ممالک آزاد ہوئے وہاں پر بھی یہی حالت ہے۔ ان کو جمہوریت اور آمریت میں تفریق کرنا آتی ہی نہیں یا پھر اس صلاحیت سے محروم ہیں یا نظریاتی ممانعت ہے؟ کیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا؟ 
 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اٹک: کرکٹ میچ کے دوران نوجوان کھلاڑی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق

Published

on


اٹک کے علاقے بسال میں کرکٹ میچ کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں نوجوان کھلاڑی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق پنڈی گھیب کے گاؤں کسراں سے تعلق رکھنے والا نوجوان کرکٹر امان اللہ ریلوے گراؤنڈ بسال میں میچ کھیل رہا تھا کہ بیٹنگ کے دوران اچانک دل کا دورہ پڑنے سے گر پڑا اور جانبر نہ ہوسکا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقامی افراد نے فوری طور پر اسے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا کے ساتھ مزید براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، ایران

Published

on


ایران نے امریکا پر بے جا مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دوسرے دور کے براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے بتایا کہ امریکا اہم معاملات پر اپنے بے جا مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے بقول یہی وجہ ہے کہ ہم اس وقت امریکا کے ساتھ دوسرے دور کے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔

نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو ایران کے بنیادی خدشات کو سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی ضرورت ہے جن میں سے ایک ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیئم امریکا کو دینے پر بھی تیار نہیں۔ یہ ناقابلِ قبول شرط ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ فریقین (امریکا اور ایران) کے درمیان بالواسطہ رابطہ برقرار ہے لیکن ہماری خواہش ہے کہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے فریم ورک معاہدہ طے پا جائے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ جلد سامنے آئے گا۔ 

 





Source link

Continue Reading

Today News

لاہور: سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہری پریشان

Published

on



لاہور میں سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ مہنگائی اور دکانداروں کی منافع خوری پر قابو نہ پایا جا سکا جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

 سرکاری نرخوں اور اوپن مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ پیاز کی سرکاری قیمت 50 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم یہ 80 سے 100 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح ٹماٹر 75 روپے کے بجائے 150 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

دیگر سبزیوں میں آلو 20 روپے کے بجائے 35 روپے، بھنڈی 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ دیسی ٹینڈے 160 روپے کی بجائے 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ لہسن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں دیسی لہسن 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ چائنیز لہسن 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کیلا 215 روپے کے بجائے 350 سے 400 روپے، سیب کالا کولوں پہاڑی 215 کے بجائے 350 روپے جبکہ انگور ٹافی 380 کے بجائے 700 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ سفید انگور بھی 500 روپے سے زائد میں دستیاب ہیں۔

گوشت کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چھوٹے بکرے کا گوشت 1800 روپے کے بجائے 2700 سے 3000 روپے فی کلو، گائے کا گوشت 800 کے بجائے 1200 روپے جبکہ برائلر مرغی کا گوشت 540 کے بجائے 570 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

شہریوں محمد جاوید اور رشید احمد کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان تھے، اب گراں فروشی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر گراں فروشی کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں، جن میں مقدمات کا اندراج اور جرمانے بھی شامل ہیں، تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں استحکام نہ آ سکا۔



Source link

Continue Reading

Trending