Today News
برگِ فیض!
اسلام آباد شہر سے اندازاً کوئی پچیس تیس کلومیٹر کے فاصلے پر خوبصورت پہاڑوں کے درمیان ایک انتہائی منظم رہائشی کالونی ہے، یہاں تک پہنچنے کا راستہ بارہ کہو سے مڑ کرایک مصروف سڑک کے ذریعے طے پاتا ہے۔اظہر چوہدری ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں منتقل ہو گیا۔دو تین بار اس کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، اس رہائشی کالونی میں سو کے قریب خاندان قیام پذیر ہیں۔
میں پہلی بار جب گیا تو ایسے لگا کہ ایک انجان سے علاقے میں آ چکا ہوں ، یہاں کا ماحول کافی آدم بیزار نظر آتا تھا۔رہنے والے بھی ایسے ہی لگے کہ وہ شور ‘ گاڑیوں کی بے ہنگم ٹریفک اور انسانوں کے سیلاب سے بچ کر ‘ ایک محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکے ہیں۔ویسے تو میں اور اظہر چوہدری لائل پور‘ یعنی فیصل آباد کے پیدائشی باشندے ہیں۔ البتہ اب اس مٹی سے واسطہ کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ والدین کی قبریں وہ غمگین جگہیں ہیں جن کی بدولت آج بھی مجھے لائل پور سے عشق ہے۔
آج سے دوسال قبل اظہر چوہدری کا فون آیا کہ خیبر پختونخواہ کا ایک علاقہ ہے جس کا نام بونیر ہے ۔ کیا وہاں کسی قسم کی کوئی واقفیت ہے ؟ ذہن کے آخری حصے میں بھی بونیر سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ابھر سکا ۔ مگر اجنبی سے سوال کا مقصد پوچھنا ضروری لگا۔جواب سن کر ایک جہان حیرت کھل گیا ۔ بتانے لگا کہ اس کی اہلیہ نے اسلام آباد سے بونیر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ وہاں ایک قدرتی آفت سے متاثرہ لوگ مصیبت میں ہیں۔ کہنے لگا کہ اہلیہ نے عام لوگوں کے لیے راشن سے لے کر کپڑے اور ہر طرح کی ضروریات کا سامان اکٹھا کررکھا ہے ۔ اس میں کسی قسم کی حکومت کی معاونت حاصل نہیں ہے۔ بلکہ ناہید صاحبہ نے یہ تمام اہتمام اپنی گرہِ خاص اور نزدیکی دوستوں کے تعاون سے برپا کیا ہے ۔
جن میں سے اکثریت اسی ویران آبادی میں مقیم ہے ۔ جب بیگم صاحبہ سے خود بات کی اور انھوں نے امدادی سامان کی تفصیل بتائی ‘توششدر رہ گیا۔ اس کے بعد کئی منٹ خاموشی کے ساتھ کرسی پر بیٹھا رہا۔ سازو سامان میری توقع سے بھی کافی بڑھ کر تھا ۔ خیر کیونکہ بونیر میں نے کبھی کام نہیں کیا تھا لہٰذا اظہر اور ان کی اہلیہ کو کچھ بھی نہ بتا پایا۔ صرف یہ مشورہ دیا کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ بہرحال اس معاملے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ دو تین ہفتے گزر گئے تو اظہر کا فون آیا ۔ معلوم ہوا کہ اہلیہ ناہید صاحبہ اور ان کی چند سہیلیاں ‘ ٹرک میں پورا سامان لاد کر بونیر لے گئیں ۔ وہاں بغیر کسی مقامی مدد کے مستحق پناہ گزین لوگوں تک پہنچیں ۔
ان کو مکمل سامان دے دیا۔بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ ان نیک خواتین نے ہر خاندان کو اپنی جیب سے پیسے بھی دیئے تاکہ زندگی کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے ۔یہ تمام کام انھوں نے صرف اور صرف ذاتی حیثیت میں کیا تھا۔ساتھ ساتھ کسی بھی مدد لینے والے خاندان کی عزت نفس کو مجروح نا ہونے دیا۔ میرے لیے تمام حقائق بہت برگزیدہ تھے۔ کیونکہ میں اور میرا خاندان ‘ اپنے معمولی سے وسائل کے ذریعے امدادی کام کرنے کی کوشش میں مصروف کار رہتا ہے۔ اظہر کے خاندان اور میرے خانوادے کی ایک قدر مشترک ہے کہ ہم لوگ اپنے کسی بھی سماجی کام کی تشہیر نہیں ہونے دیتے ۔ یہ بات مجبوراً اس لیے بتانی پڑ رہی ہے کہ میں بیگم اظہر کے کام کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔
چند ماہ پہلے اظہر لاہور میں میرے دفتر آیا تو پہلی بار اس موضوع پر تفصیل سے بات ہوئی ۔ان کی اہلیہ یعنی ناہید صاحبہ نے ایک فلاحی تنظیم ترتیب دی ہے جس کا نام برگِ فیض ہے ۔یہ اپنے اور اپنے خیر خواہوں کے تعاون سے حد درجے اعلیٰ خدمت کیے جا رہی ہے۔ ذرا بات آگے سنیئے ۔ جس کالونی میں وہ رہائشی پزیر ہے، اس میں تعمیرات ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن وہاں کے مزدوروں اور سیکیورٹی گارڈز کے لیے کھانے کا کوئی معقول انتظام نہیں تھا۔ اظہر اور ان کی اہلیہ نے مل کر مقامی مارکیٹ کے برآمدے میں عام لوگوں کے لیے کھانے کی فراہمی شروع کر دی ۔
اس مختصر سی مارکیٹ میں ایک چھوٹا سا ہوٹل ہے ۔ اس سے معاہدہ کر لیا گیا کہ روز مارکیٹ کے برآمدے میں لوگوں کو مفت کھانا کھلائیںگے جس کے اخراجات ناہید صاحبہ اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد برداشت کریں گے۔ کھانے کی تصاویر دیکھ کر حیران ہو گیا۔ کیونکہ سو کے لگ بھگ بندے روز دوپہر کا کھانا بڑے سلیقے سے کھاتے نظر آ رہے تھے۔ جیسے جیسے اس نیک کام کی خوشبو عام لوگوں تک پھیلنے لگی تو کھانا کھانے والوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔ برآمدے کی جگہ کم پڑ گئی ۔ چنانچہ مارکیٹ کی چھت پر طعام کا سلسلہ منتقل کرنا پڑا۔ اظہر سے قطعاً نہیں پوچھا کہ چھت پر کتنے آدمی باعزت طریقے سے کھانا کھا رہے ہیں۔ لیکن گمان ہے کہ ان کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ جن میں مزدور ‘ گارڈ ‘ اور متعدد سفید پوش لوگ شامل ہیں ۔ یہ کام جس قرینے سے کیا جا رہا ہے ، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
بیگم صاحبہ نے ایک اور اچھوتا کام کر کے اچھائی کے قافلے کو ترویج دی ہے ۔ مقامی آبادی جس میں متمول حضرات رہتے ہیں ۔ ان سے استعمال شدہ کپڑے اور چیزیں اکٹھی کر لیتی ہیں۔ پھر اسے ایک چھوٹا سا بازار لگا کر عام لوگوں میں معمولی سی قیمت یا مفت تقسیم کر دیتی ہیں۔ ان پیسوں سے دستر خوان مزید وسیع ہو جاتا ہے۔
ایک بات بتانا بھول گیا کہ ناہید اظہر صاحبہ بڑا طویل عرصہ ہوم اکنامکس کالج لاہور میں تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دیتی رہی ہیں۔ ذہن میں سوال تھا کہ اس نیک کام کو شروع کیسے کیا گیا؟ جواب یہ ہے کہ ڈاکٹرناہید اور ان کی چند رفقائے کار نے 2024ء میں ایک سو پچیس ضرورت مند خاندانوں کو رمضان پیکیج کے نام پر راشن ‘ عید کے کپڑے اور بچوں کے کھلونے تقسیم کیے تھے۔ یہ بذات خود ایک احسن قدم ہے ۔ مگر جب کوئی بھی انسان نیک کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو خدا راستے کھولتے چلا جاتا ہے۔
2025ء میں برگِ فیض کا قیام کیا گیا۔ اور اس کے زیر اہتمام انھی خواتین نے انکریج فارمز میں سحری کا انتظام کر ڈالا ۔ جس میں اس آبادی کے تمام مستحق لوگ روزہ رکھنے کے لیے سحری کرتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ پچھلے سال رمضان ہی میں مزدوروں ‘ مالیوں اور مقامی گارڈز کے لیے عیدی کا انتظام بھی کر دیا۔ اسی اثنا ء میں ناہید صاحبہ کے ذہن میں خدا نے یہ خیال ڈالا کہ عام لوگوں کو کھانا کھلانا صرف رمضان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ سلسلہ سارا سال جاری و ساری ہونا چاہیے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ابتداء میں جس مارکیٹ کی چھت پر لوگوں کے لیے کھانے کے اہتمام کا ذکر کیا ہے ۔ اس کی داغ بیل اس سحری کے انتظام سے نکلی ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے اب یہ معاملہ صرف مخلوق کے لیے کھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی کئی جہتیں سامنے آ چکی ہیں۔ برگِ فیض‘ ان مریضوں کے لیے جو علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں ‘انھیں مالی امداد فراہم کرتی ہے۔
ساتھ ساتھ یتیم بچیوں کے گھر بسانے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ مستحق بچوں کے لیے تعلیمی کتابیں ‘ اسکول کی فیسیں اور بستے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ اگر کسی سفید پوش خاندان کو اپنی چھت بنانے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو یہ تنظیم ان کی مالی امداد بھی کرتی ہے۔اب آپ خود بتائیے کہ بونیر کے مستحق لوگوں سے شروع ہوا کام کس طرح خدا کی مدد سے بڑھتا چلا جا رہاہے ۔
اب تو ناہید اظہر صاحبہ کی ایک منظم ٹیم بن چکی ہے۔ان کا ارادہ ہے کہ لوگوں کو ٹیکنیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کا بوجھ ‘ ذاتی ہنر کی بدولت آسانی سے اٹھا سکیں ۔ یہاں ضرور کہوں گا کہ برگ فیض نے حکومت یا کسی بھی حکومتی ادارے سے کبھی رابطہ نہیں کیا ۔انھوں نے کبھی کسی سے مالی امداد کی درخواست نہیں کی ۔ بیگم ناہید اظہر نے ثابت کیا کہ انسانی خدمت صرف اور صرف جذبے کی محتاج ہوتی ہے۔ اگر خدمت کا جذبہ ذہن میں موجزن ہو تو پھر ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دست غیب سے مدد حیران کن طریقے سے سامنے آ جاتی ہے۔
علم ہے کہ جب اظہر اور بیگم صاحبہ میرا یہ کالم پڑھیں گے تو شاید ناراض ہو جائیں ۔ کیونکہ وہ اپنے کام کی تشہیر نہیں کرنا چاہتے ۔ مگر ان کی ناراضگی سے قطعاً خائف نہیں ہوں۔ چاہتا ہوںکہ آپ ‘اپنی اپنی سطح پر برگِ فیض کی طرز پر ہر وہ فلاحی کام کرنے کی کوشش کریں جن سے لوگوں کے مسائل قدرے کم ہوجائیں۔یہ ضرور کہوں گا کہ اسلام آباد کے لوگوں کو کم از کم اس نجی تنظیم کے فلاحی کام کو خود جا کر دیکھنا چاہیے۔ اگر انھیں یقین ہو جائے کہ یہ تنظیم خدا کی راہ میں کسی صلے کے بغیر تن تنہا کام کر رہی ہے‘ تو پھر برگِ فیض کے منتظمین کا ہاتھ تھام لینا چاہیے تاکہ اس فلاحی کام کے دائرے کو وسعت دی جا سکے۔ ان کی استطاعت اتنی مضبوط ہوجائے کہ یہ لوگ نیکیوں کا سفر ہمیشہ جاری و ساری رکھ سکیں۔
Source link
Today News
’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘
شاید یہ ورلڈ کپ کے دنوں کی بات ہے ، کیمرہ پاکستانی ڈگ آئوٹ میں بیٹھے بابر اعظم کی جانب گیا جو مایوسی سے سر جھکائے بیٹھے تھے، ناقص فارم اس کی وجہ تھی، مجھے انھیں ایسے دیکھ کر بڑا افسوس ہوا، میں نے اس پر ایک کالم بھی لکھنا شروع کیا جس کا عنوان تھا ’’بابر اعظم کا اداس چہرہ‘‘ البتہ پھر اسے مکمل کیے بغیر ڈلیٹ کر دیا،اس امید کے ساتھ کہ وہ جلد فارم میں واپس آئیں گے تو لکھوں گا کہ ’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘ ، شکر ہے یہ وقت چند ماہ بعد ہی آ گیا۔
جب کوئی کھلاڑی اچھا پرفارم نہ کر سکے اور میڈیا خامیوں پر بات کرے تو اس کے پرستار سمجھتے ہیں کہ صحافی اس کے خلاف ہیں، حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہوتی، بابر کسی ایک شہر نہیں پورے ملک کے اسٹار ہیں، ان کا جب نام لیا جائے تو لاہور نہیں بلکہ پاکستان ساتھ لکھا ہوتا ہے۔
انھوں نے متواتر عمدہ کارکردگی سے اپنے لیے ایسا معیار سیٹ کر لیا کہ ففٹی کریں تو بھی لگتا ہے جیسے کچھ نہیں کیا، پھر ان سے فارم روٹھ گئی اور برسوں یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران بابر سے کئی غلطیاں بھی ہوئیں، سب سے بڑی غلطی ڈومیسٹک کرکٹ سے دوری تھی، اس سے انھیں جلد فارم بحال کرنے کا موقع نہ ملا۔
جب انسان کچھ بن جائے تو پھر اس کی ایگو سینئرز کے ساتھ مشاورت سے بھی روکتی ہے کہ میں اتنا بڑا اسٹار مجھے کوئی کیا سکھائے گا، بابر نے بھی خامیاں دور کرنے کیلیے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں سے زیادہ رابطہ نہ کیا،اس کا نقصان ہوا، اب بھی ان کی فارم ڈومیسٹک لیگ (پی ایس ایل ) سے ہی واپس آئی ہے ناں، پشاور زلمی کی جانب سے وہ ماضی والے بابر ہی نظر آ رہے ہیں جو میدان میں اپنے کھیل سے بھرپور لطف اندوز ہوتا ہے،وہ نہ صرف خود پرفارم کر رہے ہیں بلکہ دیگر کو بھی اچھی کارکردگی کی تحریک دلائی ہے۔
اسی لیے ان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر آ گئی، بابر کے مداحوں کو برا تو لگے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، چھوٹی بائونڈریز، ڈیڈ پچز، کمزور بولنگ یہ عوامل کسی بھی بیٹر کو بریڈ مین بنا سکتے ہیں، البتہ بابر کی اپنی کلاس ہے، طویل عرصے بعد پاکستان کو اتنا اچھا کوئی کھلاڑی ملا، مسئلہ اعتماد کا بھی تھا جو اگر آپ میں نہ ہو تو سڑک بھی پار نہیں کر سکتے۔
انٹرنیشنل کرکٹ میں بابر کی حالیہ ناکامیوں کا بڑا سبب خود اعتمادی کا فقدان بنا، البتہ اب لگتا ہے کہ یہ ایشو حل ہو جائے گا، البتہ انھیں بھی اب احتیاط سے کیریئر کو آگے بڑھانا چاہیے، برے دور میں بابر کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہ جس گروپ کے ’’زیرسایہ‘‘ ہیں اس نے انھیں فائدے سے زیادہ نقصان ہی پہنچایا، وہ لوگ ان کا نام استعمال کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
اب اس حوالے سے ان کو احتیاط برتنی چاہیے، ساتھ ’’کنگ‘‘ جیسے ٹائٹلز کو سر پر سوار نہ کریں، کوہلی سے موازنے جیسی باتیں بھی بھلا دیں، ایسا پرفارم کریں کہ بھارتی کرکٹرز کا موازنہ بابر کے ساتھ ہو، مشکل وقت میں وہی لوگ انھیں برا بھلا کہتے رہے جو کامیابی کے دنوں میں خوشامدیں کرتے تھے، خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں،سوشل میڈیا سے جتنا دور رہیں گے اتنا اچھا ہے، ابھی ان کی بڑی کرکٹ باقی ہے، اگلے سال ون ڈے ورلڈکپ ہونا ہے، اس میں فتح کیلیے ہمیں اصل بابر اعظم درکار ہوگا۔
بھارت کیخلاف وہ عمدہ پرفارم نہیں کر پاتے اس جمود کا خاتمہ کریں، بڑی ٹیموں سے میچز میں پاکستان کو فتح دلائیں تب ہی مزا آئے گا، ابھی بابر نے پی ایس ایل میں چند اچھی اننگز ہی کھیلی ہیں کہ ان کے دوست نما دشمن سوشل میڈیا پر متحرک ہو گئے اور دوبارہ ٹی ٹوئنٹی کا قومی کپتان بنوانے کی مہم شروع کر دی، درحقیقت کپتانی نے بھی بابر کو بڑا نقصان پہنچایا، قومی ٹیم میں ان کے گہرے دوست بھی پرائے ہو گئے، اپنی کارکردگی پر توجہ کم ہوئی تو فارم بھی متاثر ہونے لگی، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کپتانی کے ساتھ ٹیم میں جگہ بھی گنوا بیٹھے، اب خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں، کپتانی کا بالکل نہ سوچیں، سلمان علی آغا کی فارم خراب ہے، ان کو قیادت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں، پھر نیا کپتان لانا پڑے گا۔
یہ سب باتیں بورڈ کے سوچنے کی ہیں، بابر کے ہاتھ میں بیٹ ہوتا ہے انھیں اس سے ہی پرفارم کرنا چاہیے، وہ کئی ریکارڈز توڑ سکتے ہیں، اگر پھر انھیں کپتانی، کنگ یا اس جیسی باتوں میں لگایا تو پھر شاید دوسرا موقع نہ ملے، ایک وقت تھا جب ہم یہی سوچتے تھے کہ نئی نسل کا کوئی کرکٹر ایسا نہیں جو دوسروں کو کرکٹ کی جانب راغب کر سکے، اشتہارات میں بھی سابق اسٹارز کو ہی لینا پڑتا تھا پھر ہمیں بابر اعظم ملے جنھوں نے بہت جلد اپنا نام بنا لیا، میدان میں آمد پر ’’بابر بابر‘‘ کے نعرے لگتے، پھر زوال آیا لیکن اب پھر عروج کا دور آتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے، بابر کے سامنے چاہے حریف بولر جہانداد خان ہو یا ابرار وہ جسپریت بمرا کا سامنا کریں یا راشد خان کا ان کی کلاس وہی رہے گی، ساری دنیا اس بات کو جانتی ہے، جو مسائل تھے انھیں دور کرنے کا موقع مل گیا جس سے فائدہ بھی اٹھایا،اب ہمیں وہی بابر اعظم دیکھنا ہے جس کے کور ڈرائیو کی دنیا دیوانی ہے۔
اگر وہ170 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائیں گے تو کون بے وقوف انھیں باہر کرنے کا کہے گا،سب کی یہی خواہش ہو گی کہ وہ پاور پلے کا بہترین استعمال کر کے اسکور بنائیں، ہاں اپنے خول میں بند ہو کر رہ گئے پھر تنقید تو ہو گی، وقت کے ساتھ چلنا ضروری ہے، شاید بابر بھی یہ جان چکے، لگتا ہے پرانا بابر واپس آ چکا، آپ کا کیا خیال ہے؟
Source link
Today News
بھارت؛ آتشبازی کی فیکٹری میں دھماکا، 16افراد ہلاک
بھارتی ریاست تامل ناڈو میں آتشبازی کی فیکٹری میں دھماکے سے 16افراد ہلاک ہوگئے۔
بھارتی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی،حکام نے تحقیقات شروع کردیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی بھارتی ریاست گجرات میں آتش بازی کی فیکٹری میں دھماکے سے 18افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں فیکٹری کی عمارت گر گئی اور فیکٹری میں کام کرنے والے کئی ملازمین ملبے تلے دب گئے۔
فائر اینڈ ریسکیو ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اب تک، جائے وقوع سے 8 لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ اندر پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
Source link
Today News
ایک طرف مذاکرات دوسری طرف امریکی صدر کی دھمکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں، مولانا فضل الرحمٰن
سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کل سے پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے، اگرچہ پاکستان کو اس عالمی ثالثی کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے، لیکن ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف امریکی صدر کی دھمکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے معروف شاعر سید سلمان گیلانی مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا حکمرانوں کی نااہلی اور غلط حکمت عملی کے باعث ہماری سرحدیں اور کاروباری راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے چین جیسا قریبی دوست ملک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہے۔
مولانا نے کہا مصنوعی نظام کو مسترد کر کے مجلسِ شوریٰ کے اسلامی نظام کی طرف آنا ہوگا، جے یو آئی ہی وہ واحد قوت ہے جو فارم 47 کے اس تاریک دور کو ختم کر کے ملک کو ایک شفاف نظام دے سکتی ہے۔
انھوں نے بھارت کو وارننگ دی کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں جے یو آئی کے کارکن پاک فوج کے شانہ بشانہ سب سے پہلے میدانِ جنگ میں ہوں گے، انہوں نے سید سلمان گیلانی مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے درویش صفت لوگوں کے جانے سے ایک جہاں یتیم ہو جاتا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا "جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی نظریاتی دفاعی لائن ہے"۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا سید سلمان گیلانی کی پوری زندگی ختمِ نبوت کے تحفظ سے عبارت ہے ، مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا سلمان گیلانی کا کلام ہر جگہ گونجا ہے ، مولانا عبدالغفور حیدری نے انہیں ایک "درویش صفت باغی" قرار دیا جس نے ہمیشہ ظلم کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔آخر میں مرحوم کی مغفرت اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper