Today News
ایران امریکا معاہدہ – ایکسپریس اردو
امریکا اور ایران اسلام آباد میں تاریخی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے اور معاہدے کا مسودہ تیار تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی تصدیق کی کہ دونوں فریق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے قریب تھے لیکن امریکا نے آخری لمحات میں اپنے مطالبات کو زیادہ سخت کردیا۔ کیونکہ امریکا ، ایران سے یورینیم افزودگی اور موجود ذخائر سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ دوسری جانب ایرانی فریق ضمانتوں کا خواہاں تھا۔ اور یہ شبہ ظاہر کر رہا تھا کہ امریکا جوہری معاملے پر ایران کی دستبرداری اور ہرمز کے راستے کھولنے کے بعد وعدوں سے پیچھے ہٹ سکتا ہے ۔
ایک اور وجہ یہ تھی کہ ایرانی ٹیم اور تہران میں موجود قیادت کے درمیان سیکیورٹی وجوہات کے باعث کمیونیکشن کا فقدان تھا۔ امریکی ٹیم کے پاس سہولت تھی کہ وہ مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ سے رابطہ کر سکتے تھے۔ امریکی نائب صدر نے بارہ مرتبہ ٹرمپ سے بات کی ۔ یہ طویل مذاکرات 21گھنٹوں پر مشتمل نتیجہ خیز تو نہ ہو سکے لیکن انھوں نے کیا مستقبل کا فریم ورک تیار کیا اس کا جواب وقت دے گا؟ایرانی وزیر خارجہ نے ان مذاکرات کو انقلاب کے بعد امریکا کے ساتھ سب سے زیادہ سنجیدہ مذاکرات قرار دیا۔
بہرحال ایران کا مطالبہ مان کر امریکا نے اسرائیل پر دباؤ ڈالتے ہوئے لبنان میں جنگ بندی کرا دی ۔ چنانچہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر کھول دیا ۔ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو آبنائے ہرمز پھر سے بند ہو سکتی ہے ۔ دوسری طرف امریکا نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی کی ہوئی ہے اوراس کے لیے مزید بحری فوج ایرانی ساحلوں پر بھیج رہا ہے ۔ اس صورت حال پر ایرانی ترجمان نے امریکا کو وارننگ دی ہے کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ اگر یہ خلاف ورزی جاری رہی تو آبنائے ہرمز پھر سے بند ہو سکتی ہے ۔ بہرحال صدرٹرمپ بہت خوش ہیں اور آبنائے ہرمز کھلنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے ، نہ صرف پاکستانی قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل صاحب کا شکریہ ادا کیا اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں ۔
سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق امریکا ایران جنگ کی وجہ سے امریکی مارکیٹوں کو صرف ایک دن میں گیارہ ہزار پانچ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکا کو کتنا بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔ صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کی عاقبت نااندیشی نے وہ رجیم چینج جو ان کے منصوبے کے مطابق ایک ہفتے کے اندر ہو جانا تھا ، اس میں امریکا کو ناکامی ہوئی اب تو امریکی میڈیا بھی کہہ رہا ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو شکست ہوئی ایران کے مقابلے میں ۔ خلیجی اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہونے میں کئی ماہ لگیں گے ۔ بلکہ امن معاہدہ طے ہونے میں تقریباً 6ماہ لگ سکتے ہیں ۔ اگر یہ غیر یقینی صورت حال برقرار رہی تو آئندہ ماہ تک عالمی سطح پر غذائی بحران جنم لے سکتا ہے ۔
اس بدترین صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ جنگ بندی بھی اتنی مدت تک برقرار رہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں کیا یہ ممکن ہے اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہے تو نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست یقینی ہے ۔
ٹرمپ کا خود کو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے مشابے کہنے پر قدامت پرست مسیحوں نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے ۔ جس سے صدرٹرمپ کی مقبولیت جو پہلے ہی سے گری ہوئی ہے مزید گرنے کا خدشہ ہے ۔ دوسری جانب خاتون اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلانی نے بھی اس عمل پر ٹرمپ کی مذمت کی ۔ ایرانی صدر نے بھی ایرانی قوم کی طرف سے اس بارے میں دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایک امریکی پروفیسر نے ٹرمپ کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے وقوف نہیں بلکہ لومڑی جیسی چالاکی رکھتے ہیں ۔ دوسری طرف 200امریکی ماہرین صحت نے ٹرمپ کو خود پسندی کا مہلک بیمار قرار دیتے ہوئے انھیں ذہنی عدم استحکام کا حامل قرار دیا ہے۔
پشین گوئی کی بھی ایک سائنس ہے ۔8اپریل کو جنگ بند ہونے پر یہ 40روز ہ جنگ کہلائی ۔40کے ہندسے کی بڑی اہمیت ہے ۔ لیکن اس کے اثرات 39ویں دن کے آخر سے شروع ہو جاتے ہیں ۔ وہ 42ویں دن تک جاری رہتے ہیں ۔ اس ڈھائی پونے تین سال کے دورانیے میں انتہائی اچھی اور انتہائی بُری چیزیں رونما ہو سکتی ہیں ۔ اس جنگ کی شدت 8اپریل کو اچانک ٹوٹ گئی۔
جب جنگ بندی ہوگئی تو میں نے سوچا کہ اب آنے والی اہم تاریخیں کون سی ہو سکتی ہیں ۔ تو وہ 12-13اپریل نکلیں ۔ لیکن اس کی مرکزی تاریخ 16اپریل نکلی جو سب سے زیادہ اہم تھی۔ لیکن میں نے Around Datesبھی شامل کر لیں جو 15اور 17اپریل تھیں ۔ لیکن اس کا مکمل دورانیہ 11ویں گھر ، 12ویں 13ویں اور 14ویںگھر کے حوالے سے 19,20,21,22 اپریل کی تاریخیں بنتی ہیں ۔ بہرحال اپریل کے آخری ایام اور مئی کے مہینے بھی جنگ بندی کے حوالے سے عدم استحکام ہی رہے گا کیونکہ صدر ٹرمپ کے سر پہ چاند گرہن لگا ہوا ہے ۔
Today News
پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے
کراچی میں گیس، بجلی و پانی سے متاثرہ خواتین نے ایک منفرد اور پرامن احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے ہیں کہ آج ہمیں شدید مہنگی گیس و بجلی بھی میسر نہیں اور قدرت کے فراہم کردہ پینے کے پانی سے بھی ہم محروم ہیں۔
خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لیا اور بہت چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھایا ہوا تھا جو چپ چاپ دھوپ میں کھڑی رہیں اور میڈیا والوں نے جب ان سے معلومات کیں تو وہ پھٹ پڑیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور 2026 میں بھی ہمیں بنیادی سہولیات میسر نہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم آگے جانے کی بجائے اس دور میں آ گئے ہیں کہ جس کو ماضی میں پتھر کا زمانہ کہا جاتا تھا جس میں بجلی تھی نہ گیس، آنے جانے کے لیے پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں تو تھیں نہیں اور جانوروں کے ذریعے چلائی جانے والی لکڑی سے بنائی گئی گدھا گاڑی اور بیل گاڑیوں اور اونٹوں، گھوڑوں اور گدھوں پر سوار ہو کر سفر کیا جاتا تھا۔
گھروں میں روشنی کے لیے دیے، لالٹینیں اور موم بتیاں استعمال کی جاتی تھیں، ہوا کے لیے بجلی کے پنکھوں کا ہی تصور نہیں تھا لوگ اپنے گھروں کے کچے صحنوں اور چھتوں پر قدرتی ہوا میں سوتے تھے اور شدید گرمی میں جب ہوا بند ہوتی تھی لوگوں کا سونا دشوار ہوتا تھا تو وہ ہاتھ سے جھلنے والے یا بنائی گئی اشیا سے کھینچنے والے پنکھے استعمال کر کے گزارا کر لیتے تھے۔
ان دنوں کھانے محفوظ کرنے کے لیے فرجوں کا تصور ہی نہیں تھا نہ گیس ہوتی تھی نہ بجلی۔ لکڑی کے چولہوں، اپلوں سے دیہاتوں میں اور شہروں میں رات اور صبح کا ناشتہ اور کھانا گھریلو ضرورت کے مطابق کم مقدار میں اتنا ہی پکایا جاتا تھا جو وقت پر ہی استعمال ہو جاتا تھا۔ گھروں کے صحنوں میں کچھ چیزیں کے لیے چھینکے لٹکائی جاتی تھی، جن کو چھلنی یا جالی سے ڈھک کر لٹکا دیا جاتا تھا تاکہ گرمی سے خراب نہ ہوں۔ پینے کے لیے کنوؤں سے پانی کھینچ کر مٹی کے گھڑوں میں رکھ لیا جاتا تھا جو رات کی معمولی ٹھنڈی میں ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔ دودھ کو ابال کر محفوظ کر لیا جاتا تھا۔
رات کا کھانا مغرب سے پہلے اور صبح کا ناشتہ یا کھانا فجر کے بعد ہونے والی قدرتی روشنی میں کھا کر دیہاتوں کے لوگ کاموں کے لیے کھیتوں میں اور شہروں میں لوگ اپنے کاروبار اور دکانوں پر چلے جاتے تھے اور مغرب سے قبل دکانیں اور خرید و فروخت بند کرکے لوگ اپنے گھروں میں جاکر کھانے اور نماز عشا سے فارغ ہو کر جلد سو جاتے تھے اور فجر کے وقت اپنی نیند پوری کرکے سکون سے فریش اٹھتے تھے اور اپنی اپنی مصروفیات میں مگن ہو کر پرسکون زندگی گزارتے تھے۔
قدرتی ماحول میں زندگی گزارنے سے بیماریاں برائے نام تھیں۔ چوری چکاری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھتے تھے جہاں سے ہوا بھی آتی تھی۔ خواتین مردوں سے بھی پہلے بیدار ہو کر گھریلو کاموں میں مصروف ہو جاتی تھیں۔ راقم نے بچپن میں اپنے آبائی شہر شکارپور میں خود دیکھا کہ دودھ ،دہی کی دکانیں نماز فجر کے بعد کھل جاتیں اور دس بجے تک دودھ دہی ختم کرکے دکانیں بند کر دی جاتی تھیں۔ دوپہر بارہ بجے تک گوشت و مچھلی مارکیٹ بند اور عصر تک سبزیوں اور پھلوں کی دکانیں، پتھارے اور ریڑھیوں پر خریداری جاری رہتی اور لوگ جلد فارغ ہو کر گھروں میں چلے جاتے تھے۔
ہندوؤں کی کہاوت مشہور ہے کہ صبح دن نکلتے ہی کاروبار شروع کرو اور عصر کے بعد دن کی روشنی میں ختم کر لو۔ بجلی گیس کا تصور نہ تھا لوگ ضرورت کا پانی مختلف ذرائع سے حاصل کر لیتے تھے۔ دیہاتوں میں پانی کے حصول کے لیے خواتین اپنے بڑے بچوں کو ساتھ لے جا کر دور دراز علاقوں سے پانی حاصل کر لیا کرتی تھیں۔ پھر بجلی آئی، پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں میسر آئیں، گیس ملنے لگی تو ضروریات بدل گئیں۔ سائیکلوں کی جگہ موٹرگاڑیوں نے سفر آسان کیا اور ضروریات تبدیل ہوتی گئیں۔
موٹر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کی بہتات ہوئی۔ بجلی و گیس میسر آئی تو سب کچھ بدل گیا۔ صبح کا کھانا دوپہر کو، دوپہر کا کھانا رات گئے۔ دیر سے سونا اور اٹھنا معمول بنا لیا گیا۔ گوشت، مچھلی، پھلوں، سبزیوں، دودھ کی دکانیں دن بھر کی بجائے رات گئے تک کھلتی ہیں۔ مارکیٹیں دن گیارہ بجے کے بعد کھلنے کے بعد رات دیر تک کھل کر بجلی استعمال کرتی ہیں۔ سڑکوں پر رات کو دن کا منظر ٹریفک کا اژدھام عام ہے۔
بجلی نہ ہو تو پٹرول و گیس کے سلنڈر، جنریٹر کام آتے ہیں۔ پینے کے پانی کی کمی جگہ جگہ بورنگ کرا کر حاصل کردہ پانی میں کچھ ادویات ملا کر اس پانی کو صحت افزا قرار دے کر منہ مانگے کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے جسے دودھ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا اور ہر مضر صحت اشیا عام فروخت ہو کر بیماریاں بڑھا رہی ہیں۔ بجلی، گیس و پانی نہ ملنے کی شاکی خواتین کا کہنا تھا کہ حکومت کے انتہائی گراں نرخوں پر بھی بجلی میسر ہے نہ گیس، سرکاری واٹر لائنوں میں پانی نہیں، نجی واٹر ٹینکر منہ مانگے داموں پانی فروخت کر رہے ہیں، گیس کمپنیاں اپنے اعلان کردہ شیڈول پر بھی گھروں کو گیس فراہم نہیں کر رہیں جب دیکھو بجلی کی لوڈ شیڈنگ صرف پٹرول ہی سرکاری داموں میسر ہے۔ مہنگے پٹرول سے لوگ خود گاڑیاں ضرورت پر ہی استعمال کر رہے ہیں۔ خواتین صبح بچوں کو بغیر ناشتے دیگر اشیا دے کر اسکول بھیجتی ہیں۔
گیس نہیں تو بجلی نہ ہونے سے ہیٹر ناکارہ پڑے ہیں۔ گھروں میں بہ مشکل سالن بن پاتا ہے تو باہر سے مہنگی اور مضر صحت آٹے کی روٹیاں خریدنا مجبوری بن چکی۔ وقت پر گھروں میں بجلی و گیس نہ ہونے سے مردوں کو کھانا نہ ملے تو سننا خواتین کو پڑتی ہیں کیونکہ ان کا بس خواتین پر ہی چلتا ہے حکومت کا تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا، اس لیے خواتین کے لیے تو یہ دور پتھروں والا دور ہی بن کر رہ گیا ہے جب سہولتیں نہ ہونے پر بھی گزارا ہو جاتا تھا مگر اب مہنگی سہولیات کی موجودگی میں بھی گزارا ہے نا سکون، مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا جس کے پاس عوام کو دینے کے لیے صرف دعوے رہ گئے ہیں۔
Today News
نا امیدی کے اندھیرے میں امید کی کرنیں
مذاکرات کا دوسرا دور یقینی ہے۔ امکانی طور پر یہ دور تاریخ ساز ہو گا کیوں کہ اس میں جنگ بندی کا معاہدہ متوقع ہے۔ایران امریکا معاہدے میں رکاوٹ کیا ہے؟ کیا یہ معاہدہ واقعی ایٹمی پروگرام پر رکا ہوا ہے اور اس میں ایٹمی پروگرام پر پانچ برس اور دس برس کی پابندی کا اختلاف ہے؟ خبر تو یہی ہے لیکن اس سطح سفارتی سرگرمی کو جس کا تعلق امن عالم سے ہو، سمجھنے کے لیے اس نوعیت کی خبروں پر انحصار عام طور پر نہیں کیا جاتا۔ ان خبروں سے آگے بڑھ کر ان سرگرمیوں پر بھی توجہ دی جاتی ہے جو پس پردہ یا ان ریکارڈ جاری رہتی ہیں۔
ایک رائے تو یہ تھی کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھا دیا، اس کی ذمے داری ختم ہوئی لیکن مذاکرات کے بعد بھی پاکستان کی کوششیں جاری رہیں۔ وزیر اعظم سعودی عرب سے ہوتے ہوئے قطر گئے اور اس کے بعد ترکیہ میں جہاں وہ چار برادر ملک ایک بار پھر مل بیٹھے یعنی پاکستان، ترکیہ ، سعودی عرب اور مصر۔ جنگ بندی کے بعد یہ ملک سکون کا سانس لے چکے تھے ، اب انھوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر آنے والے دنوں، ان کے چیلنجوں اور ان سے نمٹنے کی تجاویز پر غور کیا یعنی اس دفاعی اتحاد کے امکانات کا جائزہ لیا جنھیں صحافتی دنیا میں مسلم نیٹو کے نام سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم جس وقت عرب دنیا کے طوفانی دورے کے بعد ترکیہ میں مستقبل کی صورت گری میں مصروف تھے، فیلڈ مارشل جنگ زدہ تہران میں تھے اور ایرانی بھائیوں کے ساتھ مستقل امن کی تدابیر پر غور کر رہے تھے۔ ان سرگرمیوں کا مطلب کیا ہے؟
معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ دو فریق میز پر بیٹھ گئے اور جنگ بندی ہو گئی۔ جنگ بندی کے ساتھ بہت کچھ اور بھی وابستہ ہے، اس سب کے حقیقت بنے بغیر مستقل جنگ بندی محض ایک خواب ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام بڑی رکاوٹ نہیں۔ اصل رکاوٹ کچھ اور ہے۔ اس رکاوٹ کا تعلق مشرق وسطی سے بھی ہے اور امریکا سے بھی۔ ان چیزوں میں حزب اللہ اور حوثیوں جیسی وہ پراکسیز بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے ایران سے عرب دوستوں کو بھی تحفظات ہیں اور امریکا کو تو ہیں ہی۔
بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ حزب اللہ اور حوثی ایران کی ریڈ لائن ہیں جن پر سمجھوتہ ممکن نہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ان پر سمجھوتہ ممکن نہیں تو پھر مستقل جنگ بندی بھی غیر یقینی ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بیک وقت متحرک ہیں۔ پاکستان کی سول ملٹری قیادت کے ایک وقت میں متحرک ہونے کی ایک وجہ یہ ہے لیکن ان دوروں سے متصل قبل ایک واقعہ اور بھی ہوا ہے۔ پاکستانی فضائیہ سعودی عرب پہنچ گئی ہے جس نے مشرق وسطی میں طاقت کا ایک نیا توازن قائم کر دیا ہے۔
سعودی عرب میں پاکستان کا عسکری وجود ایک نئی اور غیر معمولی پیش رفت ہے جس کا تعلق مشرق وسطی میں استحکام سے غیر معمولی ہے۔ یہاں پاکستان کی عسکری موجودگی سعودی عرب کے دفاع کو ہی مضبوط نہیں بنا رہی، کچھ اور بھی یقینی بنا رہی ہے۔حزب اللہ وغیرہ سے سعودی عرب کو تحفظات ہیں جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ کا ہدف صرف اسرائیل ہے۔ یہ مؤقف وزن رکھتا ہے لیکن مشرق وسطی میں نان اسٹیٹ ایکٹرز عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہیں۔ مستقل جنگ بندی کے راستے میںایک بڑی رکاوٹ یہ ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی نے یہ رکاوٹ عملًا دور کر دی ہے لیکن اتنا کافی نہیں۔ اس کے لیے سیاسی سطح پر مکمل اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے حالیہ غیر ملکی دوروں کا تعلق اسی چیز سے ہے۔ گویا مشرق وسطی میں بھی نان اسٹیٹ ایکٹرز کا دور تمام ہونے کو ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اسٹریٹجک پیش رفت اور بھی ہونے والی ہے۔
اس کا تعلق قطر کی تجویز سے ہے۔ قطر نے تجویز پیش کی تھی کہ مشرق وسطی میں استحکام کے لیے پاکستان اور ترکیہ کو شامل کر کے ایک دفاعی اتحاد تشکیل دیا جائے۔ مستقل جنگ بندی اس اتحاد کی تمہید بن رہی ہے۔ اس دفاعی اتحاد میں سعودی عرب، دیگر عرب ممالک اور امکانی طور پر ایران بھی شامل ہو گا جس کی قیادت فطری طور پر پاکستان کرے گا۔ گویا پاکستان صرف تاریخ ساز جنگ بندی کو ہی یقینی نہیں بنا رہا ہے بلکہ ایشیا کی سپر پاور کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے بلکہ بہت حد تک بدل گئی ہے۔ اس تبدیلی میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ ایران امریکا معاہدہ بس چند قدم ہی دور دکھائی دیتا ہے لیکن اس اہم تاریخی واقعے کے ساتھ اب بھی بہت سا اگر مگر جڑا ہوا ہے جس سے خدشات جنم لیتے ہیں۔فیلڈ مارشل ایران گئے جہاں ان کی ایرانی قیادت سے غیر معمولی ملاقاتیں رہیں۔ ان ملاقاتوں کا ہی نتیجہ تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی۔ بحری راستہ کھل گیا۔ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی لیکن امریکی محاصرہ جاری رہا۔ محاصرہ صرف جاری نہیں رہا بلکہ ایران کو ماضی قریب کی طرح دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیا اس راستے سے کہ ایران کے تجارتی جہاز نہیں گزر سکتے۔ تیل بردار جہاز تو بالکل بھی نہیں۔ امید افزا ماحول میں یہ بات نا امیدی کی تھی۔ صرف نا امیدی کی نہیں تھی بلکہ برا شگون تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ ایران نے آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند کر دی۔مستقل امن کی راہ میں امریکی رویہ بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب اچھا نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا کر کے پاکستان کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دیں۔ اس خرابے میں امید کا ایک پہلو اور تھا۔
لبنان میں جنگ بندی بھی ہو گئی لیکن نیتن یاہو کی نیت اب بھی اچھی دکھائی نہیں دیتی۔ امریکا ایران مستقل جنگ بندی کا معاہدہ ہوتا ہے تو کیا لبنان میں جنگ بندی کا معاملہ بھی اس میں شامل ہو گا، امریکا اور اسرائیلی کہتے ہیں کہ نہیں۔ یہ ایک اور برا شگون ہے مستقل امن کی راہ میں تیسری رکاوٹ ہے۔
اس کے باوجود دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطی واقعی بدل رہا ہے لیکن مکمل تبدیلی کی راہ میں اب بھی رکاوٹیں موجود ہیں لیکن بھری اطلاع یہ ہے کہ مایوس بھری ان خبروں کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان پس پردہ مکالمہ جاری ہے۔ یہ امید کی سب سے بڑی کرن ہے جو یقین دلاتی ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور بھی ہو گا اور امن کا معاہدہ بھی، ان شاء اللہ۔
Today News
ایرانی فورسز نے تجارتی جہاز پر قبضے کی امریکی کوشش کو ناکام بنا دیا، ایرانی میڈیا کا دعویٰ
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحیرۂ عمان میں ایرانی فورسز نے ایک ایرانی تجارتی جہاز کو قبضے میں لینے کی مبینہ امریکی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ بحیرۂ عمان میں پیش آیا، تاہم بیان میں متعلقہ جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ امریکی فورسز نے ایرانی تجارتی جہاز کو ایرانی حدود میں واپس جانے پر مجبور کرنے کے لیے فائرنگ کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جہاز کی مدد کی جس کے بعد امریکی فورسز کو پسپا ہونا پڑا اور وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج ایک ایرانی مال بردار جہاز ٹوسکا نے امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز ٹوسکا کو امریکی بحریہ نے تحویل میں لے لیا ہے۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper