Connect with us

Today News

برگِ فیض!

Published

on



اسلام آباد شہر سے اندازاً کوئی پچیس تیس کلومیٹر کے فاصلے پر خوبصورت پہاڑوں کے درمیان ایک انتہائی منظم رہائشی کالونی ہے، یہاں تک پہنچنے کا راستہ بارہ کہو سے مڑ کرایک مصروف سڑک کے ذریعے طے پاتا ہے۔اظہر چوہدری ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں منتقل ہو گیا۔دو تین بار اس کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، اس رہائشی کالونی میں سو کے قریب خاندان قیام پذیر ہیں۔

میں پہلی بار جب گیا تو ایسے لگا کہ ایک انجان سے علاقے میں آ چکا ہوں ، یہاں کا ماحول کافی آدم بیزار نظر آتا تھا۔رہنے والے بھی ایسے ہی لگے کہ وہ شور ‘ گاڑیوں کی بے ہنگم ٹریفک اور انسانوں کے سیلاب سے بچ کر ‘ ایک محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکے ہیں۔ویسے تو میں اور اظہر چوہدری لائل پور‘ یعنی فیصل آباد کے پیدائشی باشندے ہیں۔ البتہ اب اس مٹی سے واسطہ کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ والدین کی قبریں وہ غمگین جگہیں ہیں جن کی بدولت آج بھی مجھے لائل پور سے عشق ہے۔

آج سے دوسال قبل اظہر چوہدری کا فون آیا کہ خیبر پختونخواہ کا ایک علاقہ ہے جس کا نام بونیر ہے ۔ کیا وہاں کسی قسم کی کوئی واقفیت ہے ؟ ذہن کے آخری حصے میں بھی بونیر سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ابھر سکا ۔ مگر اجنبی سے سوال کا مقصد پوچھنا ضروری لگا۔جواب سن کر ایک جہان حیرت کھل گیا ۔ بتانے لگا کہ اس کی اہلیہ نے اسلام آباد سے بونیر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ وہاں ایک قدرتی آفت سے متاثرہ لوگ مصیبت میں ہیں۔ کہنے لگا کہ اہلیہ نے عام لوگوں کے لیے راشن سے لے کر کپڑے اور ہر طرح کی ضروریات کا سامان اکٹھا کررکھا ہے ۔ اس میں کسی قسم کی حکومت کی معاونت حاصل نہیں ہے۔ بلکہ ناہید صاحبہ نے یہ تمام اہتمام اپنی گرہِ خاص اور نزدیکی دوستوں کے تعاون سے برپا کیا ہے ۔

جن میں سے اکثریت اسی ویران آبادی میں مقیم ہے ۔ جب بیگم صاحبہ سے خود بات کی اور انھوں نے امدادی سامان کی تفصیل بتائی ‘توششدر رہ گیا۔ اس کے بعد کئی منٹ خاموشی کے ساتھ کرسی پر بیٹھا رہا۔ سازو سامان میری توقع سے بھی کافی بڑھ کر تھا ۔ خیر کیونکہ بونیر میں نے کبھی کام نہیں کیا تھا لہٰذا اظہر اور ان کی اہلیہ کو کچھ بھی نہ بتا پایا۔ صرف یہ مشورہ دیا کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ بہرحال اس معاملے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ دو تین ہفتے گزر گئے تو اظہر کا فون آیا ۔ معلوم ہوا کہ اہلیہ ناہید صاحبہ اور ان کی چند سہیلیاں ‘ ٹرک میں پورا سامان لاد کر بونیر لے گئیں ۔ وہاں بغیر کسی مقامی مدد کے مستحق پناہ گزین لوگوں تک پہنچیں ۔

ان کو مکمل سامان دے دیا۔بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ ان نیک خواتین نے ہر خاندان کو اپنی جیب سے پیسے بھی دیئے تاکہ زندگی کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے ۔یہ تمام کام انھوں نے صرف اور صرف ذاتی حیثیت میں کیا تھا۔ساتھ ساتھ کسی بھی مدد لینے والے خاندان کی عزت نفس کو مجروح نا ہونے دیا۔ میرے لیے تمام حقائق بہت برگزیدہ تھے۔ کیونکہ میں اور میرا خاندان ‘ اپنے معمولی سے وسائل کے ذریعے امدادی کام کرنے کی کوشش میں مصروف کار رہتا ہے۔ اظہر کے خاندان اور میرے خانوادے کی ایک قدر مشترک ہے کہ ہم لوگ اپنے کسی بھی سماجی کام کی تشہیر نہیں ہونے دیتے ۔ یہ بات مجبوراً اس لیے بتانی پڑ رہی ہے کہ میں بیگم اظہر کے کام کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔

چند ماہ پہلے اظہر لاہور میں میرے دفتر آیا تو پہلی بار اس موضوع پر تفصیل سے بات ہوئی ۔ان کی اہلیہ یعنی ناہید صاحبہ نے ایک فلاحی تنظیم ترتیب دی ہے جس کا نام برگِ فیض ہے ۔یہ اپنے اور اپنے خیر خواہوں کے تعاون سے حد درجے اعلیٰ خدمت کیے جا رہی ہے۔ ذرا بات آگے سنیئے ۔ جس کالونی میں وہ رہائشی پزیر ہے، اس میں تعمیرات ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن وہاں کے مزدوروں اور سیکیورٹی گارڈز کے لیے کھانے کا کوئی معقول انتظام نہیں تھا۔ اظہر اور ان کی اہلیہ نے مل کر مقامی مارکیٹ کے برآمدے میں عام لوگوں کے لیے کھانے کی فراہمی شروع کر دی ۔

اس مختصر سی مارکیٹ میں ایک چھوٹا سا ہوٹل ہے ۔ اس سے معاہدہ کر لیا گیا کہ روز مارکیٹ کے برآمدے میں لوگوں کو مفت کھانا کھلائیںگے جس کے اخراجات ناہید صاحبہ اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد برداشت کریں گے۔ کھانے کی تصاویر دیکھ کر حیران ہو گیا۔ کیونکہ سو کے لگ بھگ بندے روز دوپہر کا کھانا بڑے سلیقے سے کھاتے نظر آ رہے تھے۔ جیسے جیسے اس نیک کام کی خوشبو عام لوگوں تک پھیلنے لگی تو کھانا کھانے والوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔ برآمدے کی جگہ کم پڑ گئی ۔ چنانچہ مارکیٹ کی چھت پر طعام کا سلسلہ منتقل کرنا پڑا۔ اظہر سے قطعاً نہیں پوچھا کہ چھت پر کتنے آدمی باعزت طریقے سے کھانا کھا رہے ہیں۔ لیکن گمان ہے کہ ان کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ جن میں مزدور ‘ گارڈ ‘ اور متعدد سفید پوش لوگ شامل ہیں ۔ یہ کام جس قرینے سے کیا جا رہا ہے ، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

بیگم صاحبہ نے ایک اور اچھوتا کام کر کے اچھائی کے قافلے کو ترویج دی ہے ۔ مقامی آبادی جس میں متمول حضرات رہتے ہیں ۔ ان سے استعمال شدہ کپڑے اور چیزیں اکٹھی کر لیتی ہیں۔ پھر اسے ایک چھوٹا سا بازار لگا کر عام لوگوں میں معمولی سی قیمت یا مفت تقسیم کر دیتی ہیں۔ ان پیسوں سے دستر خوان مزید وسیع ہو جاتا ہے۔

ایک بات بتانا بھول گیا کہ ناہید اظہر صاحبہ بڑا طویل عرصہ ہوم اکنامکس کالج لاہور میں تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دیتی رہی ہیں۔ ذہن میں سوال تھا کہ اس نیک کام کو شروع کیسے کیا گیا؟ جواب یہ ہے کہ ڈاکٹرناہید اور ان کی چند رفقائے کار نے 2024ء میں ایک سو پچیس ضرورت مند خاندانوں کو رمضان پیکیج کے نام پر راشن ‘ عید کے کپڑے اور بچوں کے کھلونے تقسیم کیے تھے۔ یہ بذات خود ایک احسن قدم ہے ۔ مگر جب کوئی بھی انسان نیک کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو خدا راستے کھولتے چلا جاتا ہے۔

2025ء میں برگِ فیض کا قیام کیا گیا۔ اور اس کے زیر اہتمام انھی خواتین نے انکریج فارمز میں سحری کا انتظام کر ڈالا ۔ جس میں اس آبادی کے تمام مستحق لوگ روزہ رکھنے کے لیے سحری کرتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ پچھلے سال رمضان ہی میں مزدوروں ‘ مالیوں اور مقامی گارڈز کے لیے عیدی کا انتظام بھی کر دیا۔ اسی اثنا ء میں ناہید صاحبہ کے ذہن میں خدا نے یہ خیال ڈالا کہ عام لوگوں کو کھانا کھلانا صرف رمضان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ سلسلہ سارا سال جاری و ساری ہونا چاہیے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ابتداء میں جس مارکیٹ کی چھت پر لوگوں کے لیے کھانے کے اہتمام کا ذکر کیا ہے ۔ اس کی داغ بیل اس سحری کے انتظام سے نکلی ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے اب یہ معاملہ صرف مخلوق کے لیے کھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی کئی جہتیں سامنے آ چکی ہیں۔ برگِ فیض‘ ان مریضوں کے لیے جو علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں ‘انھیں مالی امداد فراہم کرتی ہے۔

ساتھ ساتھ یتیم بچیوں کے گھر بسانے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ مستحق بچوں کے لیے تعلیمی کتابیں ‘ اسکول کی فیسیں اور بستے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ اگر کسی سفید پوش خاندان کو اپنی چھت بنانے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو یہ تنظیم ان کی مالی امداد بھی کرتی ہے۔اب آپ خود بتائیے کہ بونیر کے مستحق لوگوں سے شروع ہوا کام کس طرح خدا کی مدد سے بڑھتا چلا جا رہاہے ۔

اب تو ناہید اظہر صاحبہ کی ایک منظم ٹیم بن چکی ہے۔ان کا ارادہ ہے کہ لوگوں کو ٹیکنیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کا بوجھ ‘ ذاتی ہنر کی بدولت آسانی سے اٹھا سکیں ۔ یہاں ضرور کہوں گا کہ برگ فیض نے حکومت یا کسی بھی حکومتی ادارے سے کبھی رابطہ نہیں کیا ۔انھوں نے کبھی کسی سے مالی امداد کی درخواست نہیں کی ۔ بیگم ناہید اظہر نے ثابت کیا کہ انسانی خدمت صرف اور صرف جذبے کی محتاج ہوتی ہے۔ اگر خدمت کا جذبہ ذہن میں موجزن ہو تو پھر ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دست غیب سے مدد حیران کن طریقے سے سامنے آ جاتی ہے۔

 علم ہے کہ جب اظہر اور بیگم صاحبہ میرا یہ کالم پڑھیں گے تو شاید ناراض ہو جائیں ۔ کیونکہ وہ اپنے کام کی تشہیر نہیں کرنا چاہتے ۔ مگر ان کی ناراضگی سے قطعاً خائف نہیں ہوں۔ چاہتا ہوںکہ آپ ‘اپنی اپنی سطح پر برگِ فیض کی طرز پر ہر وہ فلاحی کام کرنے کی کوشش کریں جن سے لوگوں کے مسائل قدرے کم ہوجائیں۔یہ ضرور کہوں گا کہ اسلام آباد کے لوگوں کو کم از کم اس نجی تنظیم کے فلاحی کام کو خود جا کر دیکھنا چاہیے۔ اگر انھیں یقین ہو جائے کہ یہ تنظیم خدا کی راہ میں کسی صلے کے بغیر تن تنہا کام کر رہی ہے‘ تو پھر برگِ فیض کے منتظمین کا ہاتھ تھام لینا چاہیے تاکہ اس فلاحی کام کے دائرے کو وسعت دی جا سکے۔ ان کی استطاعت اتنی مضبوط ہوجائے کہ یہ لوگ نیکیوں کا سفر ہمیشہ جاری و ساری رکھ سکیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے

Published

on


کراچی میں گیس، بجلی و پانی سے متاثرہ خواتین نے ایک منفرد اور پرامن احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے ہیں کہ آج ہمیں شدید مہنگی گیس و بجلی بھی میسر نہیں اور قدرت کے فراہم کردہ پینے کے پانی سے بھی ہم محروم ہیں۔

خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لیا اور بہت چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھایا ہوا تھا جو چپ چاپ دھوپ میں کھڑی رہیں اور میڈیا والوں نے جب ان سے معلومات کیں تو وہ پھٹ پڑیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور 2026 میں بھی ہمیں بنیادی سہولیات میسر نہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم آگے جانے کی بجائے اس دور میں آ گئے ہیں کہ جس کو ماضی میں پتھر کا زمانہ کہا جاتا تھا جس میں بجلی تھی نہ گیس، آنے جانے کے لیے پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں تو تھیں نہیں اور جانوروں کے ذریعے چلائی جانے والی لکڑی سے بنائی گئی گدھا گاڑی اور بیل گاڑیوں اور اونٹوں، گھوڑوں اور گدھوں پر سوار ہو کر سفر کیا جاتا تھا۔

 گھروں میں روشنی کے لیے دیے، لالٹینیں اور موم بتیاں استعمال کی جاتی تھیں، ہوا کے لیے بجلی کے پنکھوں کا ہی تصور نہیں تھا لوگ اپنے گھروں کے کچے صحنوں اور چھتوں پر قدرتی ہوا میں سوتے تھے اور شدید گرمی میں جب ہوا بند ہوتی تھی لوگوں کا سونا دشوار ہوتا تھا تو وہ ہاتھ سے جھلنے والے یا بنائی گئی اشیا سے کھینچنے والے پنکھے استعمال کر کے گزارا کر لیتے تھے۔

ان دنوں کھانے محفوظ کرنے کے لیے فرجوں کا تصور ہی نہیں تھا نہ گیس ہوتی تھی نہ بجلی۔ لکڑی کے چولہوں، اپلوں سے دیہاتوں میں اور شہروں میں رات اور صبح کا ناشتہ اور کھانا گھریلو ضرورت کے مطابق کم مقدار میں اتنا ہی پکایا جاتا تھا جو وقت پر ہی استعمال ہو جاتا تھا۔ گھروں کے صحنوں میں کچھ چیزیں کے لیے چھینکے لٹکائی جاتی تھی، جن کو چھلنی یا جالی سے ڈھک کر لٹکا دیا جاتا تھا تاکہ گرمی سے خراب نہ ہوں۔ پینے کے لیے کنوؤں سے پانی کھینچ کر مٹی کے گھڑوں میں رکھ لیا جاتا تھا جو رات کی معمولی ٹھنڈی میں ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔ دودھ کو ابال کر محفوظ کر لیا جاتا تھا۔

رات کا کھانا مغرب سے پہلے اور صبح کا ناشتہ یا کھانا فجر کے بعد ہونے والی قدرتی روشنی میں کھا کر دیہاتوں کے لوگ کاموں کے لیے کھیتوں میں اور شہروں میں لوگ اپنے کاروبار اور دکانوں پر چلے جاتے تھے اور مغرب سے قبل دکانیں اور خرید و فروخت بند کرکے لوگ اپنے گھروں میں جاکر کھانے اور نماز عشا سے فارغ ہو کر جلد سو جاتے تھے اور فجر کے وقت اپنی نیند پوری کرکے سکون سے فریش اٹھتے تھے اور اپنی اپنی مصروفیات میں مگن ہو کر پرسکون زندگی گزارتے تھے۔

قدرتی ماحول میں زندگی گزارنے سے بیماریاں برائے نام تھیں۔ چوری چکاری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھتے تھے جہاں سے ہوا بھی آتی تھی۔ خواتین مردوں سے بھی پہلے بیدار ہو کر گھریلو کاموں میں مصروف ہو جاتی تھیں۔ راقم نے بچپن میں اپنے آبائی شہر شکارپور میں خود دیکھا کہ دودھ ،دہی کی دکانیں نماز فجر کے بعد کھل جاتیں اور دس بجے تک دودھ دہی ختم کرکے دکانیں بند کر دی جاتی تھیں۔ دوپہر بارہ بجے تک گوشت و مچھلی مارکیٹ بند اور عصر تک سبزیوں اور پھلوں کی دکانیں، پتھارے اور ریڑھیوں پر خریداری جاری رہتی اور لوگ جلد فارغ ہو کر گھروں میں چلے جاتے تھے۔

ہندوؤں کی کہاوت مشہور ہے کہ صبح دن نکلتے ہی کاروبار شروع کرو اور عصر کے بعد دن کی روشنی میں ختم کر لو۔ بجلی گیس کا تصور نہ تھا لوگ ضرورت کا پانی مختلف ذرائع سے حاصل کر لیتے تھے۔ دیہاتوں میں پانی کے حصول کے لیے خواتین اپنے بڑے بچوں کو ساتھ لے جا کر دور دراز علاقوں سے پانی حاصل کر لیا کرتی تھیں۔ پھر بجلی آئی، پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں میسر آئیں، گیس ملنے لگی تو ضروریات بدل گئیں۔ سائیکلوں کی جگہ موٹرگاڑیوں نے سفر آسان کیا اور ضروریات تبدیل ہوتی گئیں۔

موٹر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کی بہتات ہوئی۔ بجلی و گیس میسر آئی تو سب کچھ بدل گیا۔ صبح کا کھانا دوپہر کو، دوپہر کا کھانا رات گئے۔ دیر سے سونا اور اٹھنا معمول بنا لیا گیا۔ گوشت، مچھلی، پھلوں، سبزیوں، دودھ کی دکانیں دن بھر کی بجائے رات گئے تک کھلتی ہیں۔ مارکیٹیں دن گیارہ بجے کے بعد کھلنے کے بعد رات دیر تک کھل کر بجلی استعمال کرتی ہیں۔ سڑکوں پر رات کو دن کا منظر ٹریفک کا اژدھام عام ہے۔

بجلی نہ ہو تو پٹرول و گیس کے سلنڈر، جنریٹر کام آتے ہیں۔ پینے کے پانی کی کمی جگہ جگہ بورنگ کرا کر حاصل کردہ پانی میں کچھ ادویات ملا کر اس پانی کو صحت افزا قرار دے کر منہ مانگے کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے جسے دودھ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا اور ہر مضر صحت اشیا عام فروخت ہو کر بیماریاں بڑھا رہی ہیں۔ بجلی، گیس و پانی نہ ملنے کی شاکی خواتین کا کہنا تھا کہ حکومت کے انتہائی گراں نرخوں پر بھی بجلی میسر ہے نہ گیس، سرکاری واٹر لائنوں میں پانی نہیں، نجی واٹر ٹینکر منہ مانگے داموں پانی فروخت کر رہے ہیں، گیس کمپنیاں اپنے اعلان کردہ شیڈول پر بھی گھروں کو گیس فراہم نہیں کر رہیں جب دیکھو بجلی کی لوڈ شیڈنگ صرف پٹرول ہی سرکاری داموں میسر ہے۔ مہنگے پٹرول سے لوگ خود گاڑیاں ضرورت پر ہی استعمال کر رہے ہیں۔ خواتین صبح بچوں کو بغیر ناشتے دیگر اشیا دے کر اسکول بھیجتی ہیں۔

گیس نہیں تو بجلی نہ ہونے سے ہیٹر ناکارہ پڑے ہیں۔ گھروں میں بہ مشکل سالن بن پاتا ہے تو باہر سے مہنگی اور مضر صحت آٹے کی روٹیاں خریدنا مجبوری بن چکی۔ وقت پر گھروں میں بجلی و گیس نہ ہونے سے مردوں کو کھانا نہ ملے تو سننا خواتین کو پڑتی ہیں کیونکہ ان کا بس خواتین پر ہی چلتا ہے حکومت کا تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا، اس لیے خواتین کے لیے تو یہ دور پتھروں والا دور ہی بن کر رہ گیا ہے جب سہولتیں نہ ہونے پر بھی گزارا ہو جاتا تھا مگر اب مہنگی سہولیات کی موجودگی میں بھی گزارا ہے نا سکون، مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا جس کے پاس عوام کو دینے کے لیے صرف دعوے رہ گئے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

نا امیدی کے اندھیرے میں امید کی کرنیں

Published

on


مذاکرات کا دوسرا دور یقینی ہے۔ امکانی طور پر یہ دور تاریخ ساز ہو گا کیوں کہ اس میں جنگ بندی کا معاہدہ متوقع ہے۔ایران امریکا معاہدے میں رکاوٹ کیا ہے؟ کیا یہ معاہدہ واقعی ایٹمی پروگرام پر رکا ہوا ہے اور اس میں ایٹمی پروگرام پر پانچ برس اور دس برس کی پابندی کا اختلاف ہے؟ خبر تو یہی ہے لیکن اس سطح سفارتی سرگرمی کو جس کا تعلق امن عالم سے ہو، سمجھنے کے لیے اس نوعیت کی خبروں پر انحصار عام طور پر نہیں کیا جاتا۔ ان خبروں سے آگے بڑھ کر ان سرگرمیوں پر بھی توجہ دی جاتی ہے جو پس پردہ یا ان ریکارڈ جاری رہتی ہیں۔

ایک رائے تو یہ تھی کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھا دیا، اس کی ذمے داری ختم ہوئی لیکن مذاکرات کے بعد بھی پاکستان کی کوششیں جاری رہیں۔ وزیر اعظم سعودی عرب سے ہوتے ہوئے قطر گئے اور اس کے بعد ترکیہ میں جہاں وہ چار برادر ملک ایک بار پھر مل بیٹھے یعنی پاکستان، ترکیہ ، سعودی عرب اور مصر۔ جنگ بندی کے بعد یہ ملک سکون کا سانس لے چکے تھے ، اب انھوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر آنے والے دنوں، ان کے چیلنجوں اور ان سے نمٹنے کی تجاویز پر غور کیا یعنی اس دفاعی اتحاد کے امکانات کا جائزہ لیا جنھیں صحافتی دنیا میں مسلم نیٹو کے نام سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم جس وقت عرب دنیا کے طوفانی دورے کے بعد ترکیہ میں مستقبل کی صورت گری میں مصروف تھے، فیلڈ مارشل جنگ زدہ تہران میں تھے اور ایرانی بھائیوں کے ساتھ مستقل امن کی تدابیر پر غور کر رہے تھے۔ ان سرگرمیوں کا مطلب کیا ہے؟

معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ دو فریق میز پر بیٹھ گئے اور جنگ بندی ہو گئی۔ جنگ بندی کے ساتھ بہت کچھ اور بھی وابستہ ہے، اس سب کے حقیقت بنے بغیر مستقل جنگ بندی محض ایک خواب ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام بڑی رکاوٹ نہیں۔ اصل رکاوٹ کچھ اور ہے۔ اس رکاوٹ کا تعلق مشرق وسطی سے بھی ہے اور امریکا سے بھی۔ ان چیزوں میں حزب اللہ اور حوثیوں جیسی وہ پراکسیز بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے ایران سے عرب دوستوں کو بھی تحفظات ہیں اور امریکا کو تو ہیں ہی۔

بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ حزب اللہ اور حوثی ایران کی ریڈ لائن ہیں جن پر سمجھوتہ ممکن نہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ان پر سمجھوتہ ممکن نہیں تو پھر مستقل جنگ بندی بھی غیر یقینی ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بیک وقت متحرک ہیں۔ پاکستان کی سول ملٹری قیادت کے ایک وقت میں متحرک ہونے کی ایک وجہ یہ ہے لیکن ان دوروں سے متصل قبل ایک واقعہ اور بھی ہوا ہے۔ پاکستانی فضائیہ سعودی عرب پہنچ گئی ہے جس نے مشرق وسطی میں طاقت کا ایک نیا توازن قائم کر دیا ہے۔

سعودی عرب میں پاکستان کا عسکری وجود ایک نئی اور غیر معمولی پیش رفت ہے جس کا تعلق مشرق وسطی میں استحکام سے غیر معمولی ہے۔ یہاں پاکستان کی عسکری موجودگی سعودی عرب کے دفاع کو ہی مضبوط نہیں بنا رہی، کچھ اور بھی یقینی بنا رہی ہے۔حزب اللہ وغیرہ سے سعودی عرب کو تحفظات ہیں جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ کا ہدف صرف اسرائیل ہے۔ یہ مؤقف وزن رکھتا ہے لیکن مشرق وسطی میں نان اسٹیٹ ایکٹرز عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہیں۔ مستقل جنگ بندی کے راستے میںایک بڑی رکاوٹ یہ ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی نے یہ رکاوٹ عملًا دور کر دی ہے لیکن اتنا کافی نہیں۔ اس کے لیے سیاسی سطح پر مکمل اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے حالیہ غیر ملکی دوروں کا تعلق اسی چیز سے ہے۔ گویا مشرق وسطی میں بھی نان اسٹیٹ ایکٹرز کا دور تمام ہونے کو ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اسٹریٹجک پیش رفت اور بھی ہونے والی ہے۔

اس کا تعلق قطر کی تجویز سے ہے۔ قطر نے تجویز پیش کی تھی کہ مشرق وسطی میں استحکام کے لیے پاکستان اور ترکیہ کو شامل کر کے ایک دفاعی اتحاد تشکیل دیا جائے۔ مستقل جنگ بندی اس اتحاد کی تمہید بن رہی ہے۔ اس دفاعی اتحاد میں سعودی عرب، دیگر عرب ممالک اور امکانی طور پر ایران بھی شامل ہو گا جس کی قیادت فطری طور پر پاکستان کرے گا۔ گویا پاکستان صرف تاریخ ساز جنگ بندی کو ہی یقینی نہیں بنا رہا ہے بلکہ ایشیا کی سپر پاور کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے بلکہ بہت حد تک بدل گئی ہے۔ اس تبدیلی میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ ایران امریکا معاہدہ بس چند قدم ہی دور دکھائی دیتا ہے لیکن اس اہم تاریخی واقعے کے ساتھ اب بھی بہت سا اگر مگر جڑا ہوا ہے جس سے خدشات جنم لیتے ہیں۔فیلڈ مارشل ایران گئے جہاں ان کی ایرانی قیادت سے غیر معمولی ملاقاتیں رہیں۔ ان ملاقاتوں کا ہی نتیجہ تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی۔ بحری راستہ کھل گیا۔ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی لیکن امریکی محاصرہ جاری رہا۔ محاصرہ صرف جاری نہیں رہا بلکہ ایران کو ماضی قریب کی طرح دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیا اس راستے سے کہ ایران کے تجارتی جہاز نہیں گزر سکتے۔ تیل بردار جہاز تو بالکل بھی نہیں۔ امید افزا ماحول میں یہ بات نا امیدی کی تھی۔ صرف نا امیدی کی نہیں تھی بلکہ برا شگون تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ ایران نے آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند کر دی۔مستقل امن کی راہ میں امریکی رویہ بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب اچھا نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا کر کے پاکستان کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دیں۔ اس خرابے میں امید کا ایک پہلو اور تھا۔

لبنان میں جنگ بندی بھی ہو گئی لیکن نیتن یاہو کی نیت اب بھی اچھی دکھائی نہیں دیتی۔ امریکا ایران مستقل جنگ بندی کا معاہدہ ہوتا ہے تو کیا لبنان میں جنگ بندی کا معاملہ بھی اس میں شامل ہو گا، امریکا اور اسرائیلی کہتے ہیں کہ نہیں۔ یہ ایک اور برا شگون ہے مستقل امن کی راہ میں تیسری رکاوٹ ہے۔

 اس کے باوجود دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطی واقعی بدل رہا ہے لیکن مکمل تبدیلی کی راہ میں اب بھی رکاوٹیں موجود ہیں لیکن بھری اطلاع یہ ہے کہ مایوس بھری ان خبروں کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان پس پردہ مکالمہ جاری ہے۔ یہ امید کی سب سے بڑی کرن ہے جو یقین دلاتی ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور بھی ہو گا اور امن کا معاہدہ بھی، ان شاء اللہ۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایرانی فورسز نے تجارتی جہاز پر قبضے کی امریکی کوشش کو ناکام بنا دیا، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

Published

on



ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحیرۂ عمان میں ایرانی فورسز نے ایک ایرانی تجارتی جہاز کو قبضے میں لینے کی مبینہ امریکی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ بحیرۂ عمان میں پیش آیا، تاہم بیان میں متعلقہ جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ امریکی فورسز نے ایرانی تجارتی جہاز کو ایرانی حدود میں واپس جانے پر مجبور کرنے کے لیے فائرنگ کی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جہاز کی مدد کی جس کے بعد امریکی فورسز کو پسپا ہونا پڑا اور وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج ایک ایرانی مال بردار جہاز ٹوسکا نے امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز ٹوسکا کو امریکی بحریہ نے تحویل میں لے لیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending