Connect with us

Today News

امریکی نائب صدر کا دورۂ پاکستان مؤخر، مذاکرات کیلیے ایران رضامند نہیں

Published

on


امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہونے والا دورۂ پاکستان مؤخر کردیا گیا۔

نیویارک پوسٹ نے اپنےذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان جانے سے روک دیا کیوں کہ ایران نے تاحال مذاکرات نہ کرنے کا اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔

نیویارک پوسٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات کے لیے ہامی بھرلی اور اپنا وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا تو امریکی وفد بھی اسلام آباد جائے گا۔

ادھر نائب صدر جے ڈی وینس اس وقت وائٹ ہاؤس میں اہم پالیسی اجلاسوں میں مصروف ہیں۔ جس کے بارے میں میڈیا کو بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو کچھ نئی تجاویز پیش کی تھیں لیکن ایران نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا جس کے بعد دورۂ پاکستان عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قبل ازیں ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور وعدے کے باوجود ناکہ بندی ختم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔

اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔

علاوہ ازیں صدر ٹرمپ آج بھی پُراعتماد تھے کہ ایرانی رہنما جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکی وفد سے ملیں گے اور اس کا اختتام ایک عظیم ڈیل پر ہوگا۔

ادھر پاکستان میں بھی جنگ بندی مذاکرات کی مکمل تیاری کرلی گئی تھیں اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم مںصب سے گفتگو میں مذاکرات میں شرکت پر زور دیا تھا۔

تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ امریکا نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے بالخصوص جب اس نے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لیا اور ناکہ بندی ختم نہیں کی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی دھمکیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں اور وہ مذاکرات کے لیے مثبت اور سنجیدہ نہیں ہیں۔

 

یاد رہے کہ 20 روز قبل پاکستان کی ثالثی میں دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

وزیراعظم نے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا

Published

on



شہباز شریف نے جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی میں توسیع ایک مثبت اور اہم قدم ہے جو جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے عمل کو مضبوط بنانے کیلئے نہایت ضروری ہے۔

جنگ بندی میں توسیع اور ایران پر حملے مؤخر کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے بھی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان تنازع کے پرامن اور مذاکراتی حل کے لیے اپنی سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق جنگ بندی کا مکمل احترام کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایک جامع امن معاہدے تک پہنچنے کی توقع ہے جو خطے میں پائیدار امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے فریقین پر زور دیا کہ وہ مستقل اور دیرپا امن کے حصول کے لیے مذاکراتی عمل کو جاری رکھیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں بھرپور انداز میں جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کے مستقل خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ عمل مثبت نتائج کا باعث بنے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایک حیرت انگیز داستانِ حیات

Published

on


چند ماہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک تحریر نظر سے گذری، کسی صاحب نے ملائشیا کے عظیم راہنما ڈاکٹر مہاتیر محمد سے اپنی پہلی ملاقات کا احوال بیان کیا تھا، رائٹر کا نام اجنبی تھا مگر تحریر بہت دلچسپ تھی، تحریر کے نیچے میں نے کمنٹس میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تو محرّر (تھانے والا نہیں، تحریر لکھنے والے رائٹر) نے بڑی مسرّت کا اظہار کیا، اور بتایا کہ وہ ماشاء اللہ سی ایس ایس کے امتحان کے ذریعے سول سروس میں داخل ہوئے اور انکم ٹیکس سروس میں کمشنر کے عہدے تک پہنچے اور اب کئی کتابوں کے مصنّف بھی ہیں۔ یہ میرا ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ کے مصنف محترم محمد بوٹا انجم صاحب سے پہلا تعارف تھا۔ وہ آج کل ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مقیم ہیں، کچھ ہفتے قبل وہ اسلام آباد آئے تو میں نے انھیں کھانے پر مدعو کیا اور وہیں ہم نے ایک دوسرے کو اپنی کتابوں کے تحفے دیے۔

ان کی سوانح حیات ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ ایک حیرت انگیز داستان ہے۔ ایک ایسے نوجوان کی داستان کہ زمانے کی گردش نے جسے ان گنت مسائل اور مصائب سے دوچار کردیا، اس کے سامنے رکاوٹوں کے ہمالیہ کھڑے ہوگئے مگر اس نے مایوس اور ناامید ہونے سے انکار کردیا، اس نے دو چیزوں کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔ امید اور حوصلہ۔ اس نے ایک ہاتھ میں امید کا چراغ تھام لیا اور دوسرے ہاتھ میں حوصلے کا تیشہ لے کر رکاوٹوں کے پہاڑ کاٹنا شروع کردیے۔ ایک پہاڑ کٹتا تو آگ کا دریا سامنے آجاتا۔ وہ عبور ہوتا تو بقول منیر نیازی

؎ اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

جب ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اسی لیے میں نے اپنی خودنوشت ’جہدِ مسلسل‘ انھیں بھیجتے وقت اس پر لکھا تھا ’’محمد بوٹا انجم صاحب کے لیے جو خود جہدِ مسلسل کی مجسّم تصویر ہیں۔‘‘

ان کے والد صاحب تین بھائی تھے جن کی دس ایکٹر زمین تھی، ظاہر ہے کہ اس سے پورے کنبے کا گزارہ مشکل تھا اور بیٹے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے سوا تین ایکڑ کے مالک والد کی خواہش تھی کہ بیٹا صرف آٹھویں جماعت تک پڑھے اور اس کے بعد وہ کاشتکاری میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ مگر قدرت نے اپنا فیصلہ بیٹے کے حق میں لکھ رکھا تھا۔ بچپن سے ہی مصنّف کوتعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے جیسے بچوں کو ٹیوشن پڑھانی پڑی اور تعلیم جاری رکھنے کے لیے بڑی مشکل سے والد صاحب کو منانا پڑا۔ پھران پر ایک ایسا وقت آیا کہ اپنوں نے نظریں پھیر لیں، اور زخم پر زخم لگاتے رہے، پھر کچھ دردِ دل رکھنے والے کام بھی آئے۔ یہ ساری داستان ایک دلچسپ ناول کی طرح ہے جو قاری ایک دو نشستوں میں ہی پڑھ ڈالتا ہے۔

مصنف جب میاں چنوں کے انٹر کالج میں داخل ہوئے توانھیں اخراجات پورے کرنے کے لیے میونسپل کمیٹی کی پارٹ ٹائم نوکری کرنی پڑی، جس کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’مجھے میونسپل کمیٹی میاں چنوں کی جانب سے دس روپے ماہانہ اعزازیہ ملتا تھا جو اُس وقت پارٹ ٹائم جاب کرنے والے ایک طالبعلم کے لیے بڑے معقول پیسے تھے۔ علاوہ ازیں اُن دنوں میں ایک جگہ مزدوری بھی کرتا تھا۔ ہر روز فجر کی اذان کے ساتھ جاگ کر اپنے بزرگوں کے ساتھ کھیتوں میں جاتا جہاں سبزیاں چُنوانے میں اُن کا ہا تھ بٹانے کے ساتھ ساتھ ٹوکریوں کی صورت میں سبزیاں سر پر اُٹھا کر منڈی تک بھی پہنچانی ہوتی تھیں اور مجھے یہ مُشقّت اُٹھا کر اسکول کالج جانے سے پہلے واپس گھر پہنچنا ہوتا تھا۔ تب پورا دن محنت و مُشقّت میں گزرتا تھا۔‘‘

پھر ان کا سفینۂ حیات ان کے بقول ٹائی ٹینک کی طرح ایک ان دیکھے آئس برگ سے ٹکراگیا۔ ان کے والد صاحب حیدرآباد گئے ہوئے تھے جہاں وہ دل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگئے جس کی اطلاع انھیں وہاں کے ایس ایچ او نے دی۔ اس موقع پر انھیں زندگی کی ناقابلِ یقین تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حیدرآباد سے میّت لانے کے لیے والد کے سگے بھائیوں اور بہنوں نے ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ سگی پھوپھیوں نے سو سو روپیہ دیا جو انھوں نے بھائی کی تدفین کے فوراً بعد بھتیجے سے واپس لے لیا۔ اس وقت مصنف کو مجبوراً کالج کی تعلیم چھوڑنا پڑی کیونکہ سب سے بڑا مسئلہ والدہ کی کفالت تھی۔ انیس سال کے نوجوان نے ہمّت نہیں ہاری، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے اور وہ روزگار کی تلاش میں ان دیکھی منزلوں کی جانب نکل پڑے۔

وہ صرف دو سو روپے ماہوار (جو اس کی والدہ کی کفالت کے کافی تھے) کی نوکری یا مزدوری کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاتا رہا، تلاشِ روزگار کے دوران وہ لاہور پہنچا، لوگوں کے سرونٹ کواٹروں میں سوتا رہا، کئی ہفتے صرف بھُنے ہوئے چنے کھاکر اور کارپوریشن کے نلکے سے پانی پی کر گذارا کرتا رہا ۔ مصنف کے بقول ’’اس دوران میں نے ایک روز کھانے پینے کے معاملے میں عیاشی بھی کی کہ چنے یا بھُٹے کھانے کی بجائے چھ آنے کی سبزی اور چار آنے کی دو روٹیاں لے کر کھائیں تو سورۂ رحمن کے ان الفاظ پر یقین محکم ہوگیا کہ ’’تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘ اسی تگ ودو میں مصنف اداکار محمد علی کے بنگلے پر بھی جاپہنچا اور ان سے بھی ملازمت کی درخواست کی۔ اس جدوجہد میں وہ لاہور سے واپسی کے کرائے یعنی صرف پانچ روپے کے لیے اِدھر اُدھر کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ یہ داستانِ عزیمت کم وسیلہ نوجوانوں کے لیے مینارۂ نور کی حیثیّت رکھتی ہے اور اس کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی کتاب کے مصنف محمد بوٹا انجم صاحب نے ہمت اور حوصلے کا پرچم بلند رکھا۔

اعلیٰ تعلیم کا حصول مصنّف کا خواب تھا،اس کے لیے انھیں بے تحاشا پاپڑ بیلنا پڑے۔ انھوں نے مختلف جگہوں پر دن کو سخت قسم کی جسمانی مشقت اور مزدوری کی اور رات کو پڑھائی کرکے تعلیم کے زینے طے کرتے رہے، اس دوران انھوں نے سیلز مینی بھی کی اور بس کنڈکٹری بھی کی۔ ان کا خواب تھا انگریزی زبان وادب میں ایم اے کرنا۔ انھیں داخلہ ملتا رہا مگر تعلیم کے اخراجات نہ ہونے کے باعث ان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ مگر انھوں نے مالی تنگدستی کو راستے کی رکاوٹ نہ بننے دیا اور جدوجہد جاری رکھی، ایک وقت میں وہ غلط سوسائٹی کے باعث گمراہ ہوتے ہوتے بچے اور بالآخر ایک پرائیویٹ کالج میں ایم اے انگلش کی کلاسز میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے علاقے کا ایک نوجوان ملک بشیر احمد سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہوا تو اس کی کامیابی ان کے لیے مہمیز ثابت ہوئی کہ ملک بشیر کامیاب ہوسکتا ہے تو میں کیوں نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ مصنف نے سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری شروع کردی۔ اس کے لیے ان کے بقول ’’تیاری کا یہ عالم تھا کہ میں اگر رات کے وقت لاہور سے میاں چنوں جانے اور وہاں سے واپس آنے کے لیے بس میں سوار ہوتا تو اس میں ایسی نشست کا انتخاب کرتا جہاں پر روشنی کا انتظام ہوتا اور میں پانچ گھنٹے کے اس سفر میں بھی مطالعہ میں محو رہتا، اور گھر میں یہ حالت تھی کہ اپنے روم میٹ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے رات کو اپنی چارپائی گلی کے اس حصّے میں ڈال لیتا جہاں پر بجلی کے ایک کھمبے پر لگے بلب کی روشنی میں پڑہائی کرتا۔‘‘

بالآخر ان کی محنت رنگ لائی اور وہ تحریری امتحان میں بہت اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئے مگر انٹرویو میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹینٹ جنرل (ر) عتیق الرحمن نے انھیں ’’کمزور فیمیلی بیک گراؤنڈ‘‘ ہونے کے سبب (یعنی آپ چونکہ کسی امیر گھرانے کے فرد نہیں ہیں) انٹرویو میں بہت کم نمبر دیے، مگر ان کی اس ناانصافی کے باوجود محمد بوٹا صاحب نے پورے ملک میں اٹھارویں پوزیشن حاصل کی۔ اس پر انھیں ڈی ایم جی یا پولیس سروس الاٹ ہونی چاہیے تھی مگر وہ پھر ناانصافی کا شکار ہوئے اور انھیں انکم ٹیکس سروس الاٹ کی گئی۔ وہاں وہ ترقی کرتے کرتے کمشنر کے عہدے پر پہنچے مگر وہاں بھی ناانصافی کا شکار ہوئے تو انھوں نے استعفیٰ دے دیا اور نئے کیرئیر کا آغاز اسی جوش وجذبے کے ساتھ کردیا جس سے انھوں نے سب سے پہلے اپنی سروس کا آغاز کیا تھا۔

افسر بن کر بھی وہ ایم بی انجم نہیں بنے اور محمد بوٹا ہی رہے۔ ان کا اندازِ تحریر بے حد دلچسپ اور دلنشین ہے۔ ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ میں ان کی سروس کے بڑے دلچسپ واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی غیر معمولی استقامت اور حوصلہ مندی قابلِ تحسین ہے، اللہ نے انھیں امید اور حوصلے کے ساتھ ساتھ بے پناہ انرجی دی ہے۔ جس کی بناء پر انھوں نے ملائشیا میں پوری جواں ہمتی کے ساتھ اپنا بزنس شروع کیا اور آج وہ وہاں کے ایک کامیاب اور معروف بزنس مین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ اس ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں اور اس بے مثال محنت ، حوصلے ، جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کرنے پر وہ ملک کے بڑے سول ایوارڈ کے مستحق بھی ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

میری بزدلی میری محافظ – ایکسپریس اردو

Published

on


ڈر کے بارے میں تو ہم بتاچکے ہیں کہ کتنے کام کی بلکہ کثیر الفوائد اورکثیر المقاصد بلکہ کثیر الجہت چیز ہے کہ جس نے ’’ڈر’’ کو پالیا، اس نے سب کچھ پالیا۔گبرسنگھ تو پاگل تھا، احمق تھا، دیوانہ تھا ، جنگلی تھا ، شہرکا باسی ہوتا تو اسے پتہ ہوتا کہ ڈر کتنا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، اس لیے تو وہ مرگیا لیکن جوڈرگیا ،وہ بچ گیا اورقبر کے بجائے سیدھا اپنے گھر گیا، وہ بھی خیروعافیت کے ساتھ۔

لیکن آج ہم ڈر کی جڑواں بہن بزدلی کے بارے میں بتاناچاہتے ہیں کہ اگر وہ ہمیشہ ہمارے شامل حال نہ رہتی تو ہم آج وہاں ہوتے جہا ںسے ہمیں خود بھی اپنی خبر نہ آتی۔ ویسے تو اپنی اس بزدلی کے ہم پر بہت سارے احسانات ہیں کہ اس نے ہمیں کہاں کہاں ،کیسے کیسے ،بڑی بڑی مصیبتوں سے بچایا ہے لیکن آج صرف ایک واقعہ آپ کو سناتے ہیں ۔

امرتسر میں صوفی کانفرنس تھی، چودہ ممالک کے وفود آئے ہوئے تھے ، ہم پاکستانی وفد کے شرکاء میں تین خواتین اورتین مرد شامل تھے ،ان خواتین میں دو تو بڈھیاں تھیں لیکن ایک نوجوان حسین مہ جبین اوربڑی دل نشین تھی، جو ہم سے بے انتہا ’’متاثر‘‘ تھی ۔دراصل ہم جہاںبھی جاتے ہیں، وہاں اپنا ایک ’’الگ زاویہ‘‘ یا ’’نکتہ‘‘ بنا دیتے ہیں، پاسبان عقل کو کہیں دور باندھ دیتے ہیں اور دل کو بے مہار چھوڑ دیتے ہیں اور نہایت ہی بے معنی اور بیتکی باتیں شروع کردیتے ہیں۔ آفیشل ٹورز، تقریروں اورمقالوں کے بیچ بیچ میں ہم اپنا یہ ’’خصوصی سیشن‘‘ جمادیتے ۔

یہاں بھی حسب معمول ہمارا زاویہ چل نکلا جو ہم نے سنجیدگان، رنجیدگان کے جم غفیر سے خاصی دورایک درخت کے نیچے جمایا تھا چونکہ وہاں سے قہقہے اٹھتے تھے، اس لیے نوجوان کھچ کھچ کرچلے آتے تھے جن میں زیادہ ترلڑکیاں ہوتی تھیں، خوبصورت بھی، قبولصورت بھی ، اکثریت طالبات کی ہوتی ۔ان ہی میںہماری وہ ماہ جبیں بھی تھی، فرضی نام ہے اوریہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ کس شہر کی تھی، ہمیںصرف اس سے دلچسپی تھی کہ حسین بھی بلاکی تھی ، صاحبہ ذوق بھی تھی اورسب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری فین ہوگئی تھی۔

کبھی کبھی تو مجھے غلط فہمی کا شکار بھی بنا دیتی تھی ، پورے سیشن میں ہماری اتنی جان پہچان ہوگئی کہ ڈھونڈتی پھرتی تھی ، ہال میں بھی ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی تھی اور ہم جس شہر ، علاقے اور سماجی ماحول کے باسی ہیں، ہمارے لیے تو یہ انہونا بلکہ سلونا منظر ہے لہذا وہ ماہ جبیں تو ازراہ مروت اور تقاضہ مہمانداری ہمارے ساتھ والی نشست پر بیٹھ جاتی تھی لیکن ہمارے دل میں لڈو پھوٹتے رہتے تھے ۔ امرتسر میں ہمارے قیام کی آخری رات تھی، ہمارے دو ساتھی تو الگ کمرے میں تھے، ہمیں اکیلے پوراکمرہ ملا تھا ، بغل والے کمرے میں وہ تینوں خواتین تھیں ۔رات کے کوئی بارہ بجے ہوں گے، ہم لحاف میں نیم ایستادہ ایک کتاب پڑھ رہے تھے کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، دروازہ کھلاتھا۔ اس نے کہا آجاؤ، خیال تھاکہ ہوٹل کاکوئی ملازم ہوگا یا میزبانوں میں سے کوئی ہوگا یا ہمارے مرد ساتھیوں میں سے بھی کوئی ہوسکتا تھا لیکن دیکھا تو ذہن میں طاہرہ سید کی مترنم آواز گونجی ۔

 کس شبابت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند

اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا

 اپنے دمکتے چہرے کو کھلی زلفوں کے سائے میں لیے ’’وہی‘‘ تھی ، شب خوابی کے لباس میں اور قیامت ڈھارہی تھی اورہم ہواؤں میں اڑنے لگے ، وہ آئی اس نے دیکھا اورفتح کرلیا ، والی کیفیت تھی۔

 بقول پروین شاکر

 دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

 حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ

اپنی مترنم اورشہد آگین آواز میں خوش آمدید کے بعد وہ سیدھی آئی اورہماری پائنتی بیٹھ گئی ، ہم اپنے لحاف میں نیم ایستادہ ہوگئے ۔ پیر دبادوں آپ کے ، نہ صرف کہا بلکہ اپنا مرمریں ہاتھ ہمارے پیروں پر رکھ کر دبایا بھی جو لحاف کے نیچے تھے ۔ پھر بولی چائے یاکافی بنالوں آپ کے لیے ۔ ظاہرہے کہ ایسی پیش کش کاانکار کوئی احمق ہی کرسکتا ہے ، وہ چائے بنانے کے لیے کمرے کے سائیڈ میں گئی، جہاں چائے یاکافی کے سارے انتظامات موجود تھے اوربجلی کی کیتلی بھی ۔ وہ چائے بنارہی تھی اورہم اس کی تاکمر زلفوں میں لٹکے ہوئے تھے ، آثار و قرائن سب کچھ بتارہے تھے کہ ہم پر لٹو ہوچکی ہے، ورنہ اتنی رات گئے اور وہ بھی اکیلی… شاید اپنی ساتھیوں کو سلانے کے بعد۔۔گویا مکمل سپردگی کے ساتھ ۔۔ ٹھیک ہے! وہ ہماری سب سے چھوٹی بیٹی سے بھی کم عمر کی تھی، لیکن ہمیں ایسی کئی فلمیں اورڈرامے یاد تھے جن میں نوخیزونوجواں لڑکیاں عمررسیدہ بوڑھوں پر مرمٹی تھیں۔

سارے حالات بتارہے تھے کہ لڑکی خود کو ہمارے سپرد کرنے آئی ہے ،اس سے جو ہوسکتا تھا، وہ اس نے کیا، آدھی رات کو تن تنہا ہمارے کمر ے میں اورکس لیے آئی۔ اب میری پیش قدمی کی باری تھی، چائے پی چکے تو ہم نے حکمت عملی کاسوچا ، ایک سیدھا طریقہ تو یہ تھا کہ ہم جھپٹ کر اسے آغوش میں لے لیتے لیکن یہ کچھ زیادہ لگا، دوسرا یہ کہ ہم اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ، یہ بھی ذرا زیادہ لگا ، اپنا ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ لیتے، فاصلہ ایک فٹ سے بھی کم تھا، اس لیے ہاتھ اٹھاناچاہا لیکن وہ ہل کر نہیں دے رہا تھا، دیکھا تو بزدلی ہاتھ سے چمٹی ہوئی تھی ، جھٹکنے کی کوشش کی، ہاتھ منزل مقصود پرپہنچاناچاہتے لیکن بزدلی ہاتھ سے پوری طرح چپک گئی تھی ، آخر زورسے جھٹک کر بزدلی کو دورپھینکا اورہاتھ کو ہدف کی طرف بڑھایا لیکن ہاتھ ابھی ہوا ہی میں تھا کہ وہ بول پڑی، ’’اچھا باباجی! آپ کابہت بہت شکریہ۔‘‘ ابھی ہم بابا اورشکریہ کے الفاظ پر غورکررہے تھے کہ اس نے کہا،’’ دراصل جب میں گھر پر ہوتی ہوں تو اس وقت دوکپ چائے بنا کر اپنے باباجان کے کمرے میں چلی جاتی ہوں، پھر ہم باپ بیٹی چائے کی چسکیاں لے کر گپ شپ کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن ایک ہفتے سے میں اپنے بابا جان کو مس کررہی تھی ،آج سوچا وہ بابا نہ سہی یہ بابا سہی کیونکہ آپ بھی تو میرے بابا جیسے ہی ہیں، شکریہ ‘‘۔۔۔وہ چلی گئی تو ہم نے اپنی ناراض اورروتی ہوئی بزدلی کو اٹھایا، اسے گلے لگایا، خوب چوما اورپھر اپنے ساتھ لٹا کر لحاف کھینچ لیا ، آج اگر وہ نہ ہوتی تو میں رسوائے عالم ہوجاتا ۔ اب سمجھ میں آیا کہ یہ جو ہراسگی، ہراسانی کی حماقت کرتے ہیں، ان کے پاس بزدلی کی نعمت نہیں ہوتی۔ دلیری تو دشمن ہوتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending