Connect with us

Today News

صدر زرداری خیریت سے ہیں قوم جھوٹی خبروں پر کان نہ دھرے، سینیٹر سلیم مانڈوی والا

Published

on



پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سوشل میڈیا پر صدر مملکت آصف علی زرداری سے متعلق پوسٹ اور خبروں کی تردید کردی۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر بے بنیاد اور من گھڑت، جھوٹی اور گمراہ کن ہے ایسی خبروں کا پھیلاؤ قابلِ مذمت ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ قوم سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ خبروں پر کان نہ دھرے، سیاسی مقاصد کے لیے فیک نیوز کا استعمال انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں سے درخواست ہے کہ فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری خیریت سے ہیں، جھوٹی خبروں پر یقین نہ کیا جائے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آشا بھوسلے – ایکسپریس اردو

Published

on


آشا بھوسلے برصغیر کی موسیقی کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب تھیں جسے جتنا پڑھا جائے اتنا ہی دلکش محسوس ہوتا ہے۔ ان کی آواز میں ایک عجیب سی لچک، شوخی اور جذباتی گہرائی تھی جو ہر دور کے سامعین کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ وہ صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک عہد تھیں، ایک ایسا عہد جس نے فلمی موسیقی کو کئی رنگ دیے، کئی نئے رجحانات متعارف کروائے اور گائیکی کے دائرے کو وسعت دی۔ان کا چلے جانا نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا میں جہاں جہاں بھی ہندی اور اردو گانے سنے جاتے ہیں وہاں لوگوں کو غمگین کر گیا۔

آشا بھوسلے کا سفر آسان نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں موسیقی سانسوں میں بسی ہوئی تھی، لیکن عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انھیں سخت مقابلے اور ذاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں انھیں زیادہ تر ثانوی نوعیت کے گانے ملتے تھے، لیکن انھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ یہی ثابت قدمی بعد میں ان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔ ان کی آواز میں وہ خاص بات تھی جو کسی بھی عام دھن کو یادگار بنا سکتی تھی۔

اگر ہم ان کے گانوں کی بات کریں تو ان کی ہمہ جہتی حیران کن ہے۔ رومانوی گیت ہوں کلاسیکل انداز کے نغمے قوالی پاپ یا آئٹم سانگ ہر صنف میں انھوں نے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کا مشہور گانا پیا تو اب تو آجا آج بھی سننے والوں کو سر دھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

اس گانے میں جو ادائیں جو اداکاری آواز کے ذریعے پیش کی گئی وہ بہت کم گلوکاروں کے حصے میں آتی ہے،اسی طرح دم مارو دم ایک ایسا گانا ہے جس نے نوجوان نسل میں ایک نئی لہر پیدا کی۔ یہ صرف ایک گانا نہیں بلکہ ایک ثقافتی اظہار تھا جس نے اس دور کے مزاج کو خوبصورتی سے بیان کیا۔ اس گانے میں آشا کی آواز کی بے فکری اور روانی سننے والے کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔رومانوی گیتوں میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ چرا لیا ہے تم نے جو دل کو ایک ایسا نغمہ ہے جو محبت کے جذبات کو نہایت نرم اور دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس گانے میں ان کی آواز کی مٹھاس اور نزاکت سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے، یہی وہ خاصیت ہے جس نے انھیں دہائیوں تک مقبول رکھا۔

آشا بھوسلے کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے وقت کے ساتھ خود کو بدلا۔ جہاں بہت سے فنکار ایک خاص انداز میں محدود ہو جاتے ہیں ،وہاں آشا نے ہر نئے رجحان کو اپنایا۔ 70 کی دہائی کا کیبری اسٹائل ہو یا 90 کی دہائی کا پاپ انھوں نے ہر دور میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ میرا دل جیسا گانا ان کی جرات مندی اور جدیدیت کی بہترین مثال ہے۔

کلاسیکل موسیقی میں بھی ان کی مہارت کم نہیں تھی، اگرچہ انھیں زیادہ تر ہلکے پھلکے یا فلمی گانوں کے لیے جانا جاتا ہے لیکن جب بھی انھوں نے کلاسیکل گیت گائے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی آواز میں سُر کی پختگی اور تال کی سمجھ واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔

ان کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے مختلف موسیقاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے انداز کو ان کے مطابق ڈھالا لیکن اپنی پہچان کبھی کھونے نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گانے سن کر فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ آواز آشا بھوسلے کی ہے۔ ان کا انداز منفرد ہے چاہے وہ شوخ ہو سنجیدہ ہو یا درد بھرا۔

ذاتی زندگی میں بھی انھیں کئی نشیب و فراز دیکھنے پڑے ان کو اس وقت گہرے صدمے کا سامنہ ہوا جب ان کی بیٹی ورشا بھوسلے نے خودکشی کرلی تھی ،وہ وقت ان کے لیے بہت کٹھن تھا۔ ان کے گانوں میں جو جذباتی گہرائی محسوس ہوتی تھی وہ شاید انھی تجربات کا نتیجہ ہے۔ جب وہ درد بھرا گیت گاتی تھیں تو لگتا تھا جیسے وہ خود اس کیفیت سے گزر رہی ہوں۔آشا بھوسلے کی لمبی عمر اور طویل کیریئر بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔

کئی دہائیوں تک مسلسل کامیاب رہنا آسان نہیں ہوتا ،خاص طور پر ایک ایسے میدان میں جہاں مقابلہ بہت سخت ہو۔ ان کو تو گھر ہی میں اپنی بہن لتا منگیشکر اور اوشا منگیشکر کے ساتھ اپنی جگہ بنانی تھی۔ انھوں نے ہر دور میں خود کو ثابت کیا اور نئی نسل کے گلوکاروں کے لیے ایک مثال قائم کی۔آج بھی ان کے گانے نہ صرف پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان کی آواز میں ایک لازوال کشش ہے ،جو وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ موسیقی کی دنیا میں ایک لیجنڈ کا درجہ رکھتی ہیں۔

اگر ان کے چند مزید یادگار گانوں کا ذکر کیا جائے تو ان آنکھوں کی مستی کے، رات باقی بات باقی اور آؤ حضور تم کو بھی ان کے فن کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ ہر گانا ایک الگ کہانی سناتا ہے اور ہر کہانی میں آشا جی کی آواز ایک نئی جان ڈال دیتی تھی۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آشا بھوسلے صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک ادارہ تھیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے فن سے لوگوں کے دل جیتے بلکہ موسیقی کو ایک نئی سمت بھی دی۔ ان کی آواز آنے والی نسلوں کے لیے ایک خزانہ ہے ایک ایسا خزانہ جو کبھی پرانا نہیں ہوگا۔

آشا بھوسلے کی گائیکی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فن میں اصل طاقت تنوع محنت اور خود پر یقین میں ہوتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جنھوں نے انھیں ایک عام گلوکارہ سے ایک عہد ساز شخصیت بنا دیا۔

وہ بارہ اپریل 2026 کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔ برصغیر ایک بہت بڑی گائیکہ سے محروم ہوگیا۔ پاکستان میں بھی ان کی گائیکی کے چاہنے والے بیحد افسردہ ہوئے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔





Source link

Continue Reading

Today News

حکمران اور ظلم – ایکسپریس اردو

Published

on


کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ دنیا چند ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہے۔ جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ عالمی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جنگ کے علم بردار دکھاوا کرتے ہیں انھیں معلوم نہیں کہ تباہی میں صرف ایک لمحہ لگتا ہے، تعمیر نو میں پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔ پوپ لیو کا یہ کہنا سو فی صد درست ہے ۔

ہمارے ہاں تو ماضی کے ایسے فاتحین جھنوں نے خون کی ندیاں بہائیں، انھیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سچ تو یہ کہ ایسا پوری دنیا میں ہے۔ جو جتنا ظالم حکمران ہوتا ہے، اتنا ہی بڑا ہیرو سمجھا جاتا ہے، آج بھی یہی کھیل کھیلا جارہاہے ۔ امریکی و اسرائیلی حکمرانوں کی جنگی پالیسیوں کے خلاف خود ان کے عوام کو سڑکوں پر احتجاج اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنا پڑا۔ دونوں کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے مگر دونوں اپنی جنگی پالیسی سے باز نہیں آئے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکی صدر اب بھی کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے دس جنگیں رکوائی ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ امریکی صدر نے خود امریکا اور اسرائیل سے ایران پر حملے کرائے اور مزید تباہی کی دھمکیاں ابھی جاری ہیں۔

دنیا میں امریکا واحد سپر پاور ہے جس کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر نے جنگوںکا نیا ریکارڈ بنا دیا ہے۔ انھوں نے رات کی تاریکی میں امریکی کمانڈوز وینزویلا بھیج کر وہاں کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرایا اور کئی ماہ سے امریکا میں قید کر رکھا ہے اور اب کیوبا کو دھمکایا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے واحد حکمران ہیں جو خود کو رحم دل بھی کہتے ہیں اور جنگ تھوپ کر خود ہی جنگ بندی بھی کر لیتے ہیں مگر اسرائیل میں صرف بربریت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جس کے مظالم رکنے میں نہیں آ رہے جس نے لاکھوں فلسطینی شہید کیے جن میں ہزاروں معصوم بچے بھی شامل ہیں اور اب لبنان اس کی جارحیت کا نشانہ بنا ہوا ہے اور اسرائیل نے اپنی جدید ٹیکنالوجی سے ایران کے سپریم لیڈر و دیگر اہم رہنماؤں کو شہید کیا ہے۔

امریکا کے حکمرانوں نے جھوٹے الزامات لگا کر پٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے لیبیا اور عراق پر حملے کرکے وہاں کے حکمرانوں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا تھا جب کہ اس سے قبل ویت نام میں شکست کھائی تھی اور اب ایران سے جنگ میں امریکی صدر اپنی فتح پر شادیانے بجانے میں مصروف ہے۔ امریکی حکمران ایک طرف مذاکرات کرنے پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کرکے اپنی ساکھ برباد کر چکے ہیں وہ صبح کچھ رات کو کچھ اعلان کرکے ناقابل اعتماد بھی ہو چکے ہیں۔ یوں تو دنیا میں بے شمار حکمران آئے اور چلے گئے لیکن جو خود تو مر گئے مگر تباہی و بربادی کی مثالیں چھوڑ گئے۔ امریکی صدر و اسرائیلی وزیر اعظم کی کابینہ تو مجبور ہے مگر دونوں ملکوں کی منتخب پارلیمنٹ کی اکثریت بھی خاموش ہے جس کا تازہ ثبوت امریکی سینیٹ کا اکثریتی فیصلہ ہے جس نے اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور نہیں ہونے دی۔

روحانی پیشواپوپ لیو نے درست کہا ہے کہ تباہی و بربادی لمحوں میں پھیلا دی جاتی ہے مگر جنگوں میں ہونے والی تباہیاں سالوں میں بھی دوبارہ تعمیر نہیں ہوتیں جب کہ دوبارہ تعمیر کے لیے بہت زیادہمالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ امریکا و اسرائیل نے اربوں ڈالروں کے ہتھیاروں سے ایران میں تباہی پھیلائی اور اس رقم سے زیادہ رقم اب ایران کو تعمیر و ترقی اور تباہی کی بحالی کے لیے درکار ہے۔

اپنی ذاتی انا کی تسکین اور من مانی کے لیے امریکا و اسرائیل کے حکمرانوں نے ایران پر جنگ مسلط کرکے جو بھاری رقم خرچ کی، وہ رقم وہ اپنے عوام کی خوشحالی و ترقی اور دنیا میں پھیلی بے انتہا غربت کے خاتمے پر خرچ کرتے تو لبنان، فلسطین اور ایران کا ناقابل تلافی جانی اور بہت بڑا مالی نقصان ہوتا نہ دنیا میں ان حکمرانوں کے خلاف بڑے احتجاج نہ ہوتے نہ انھیں ظالم گردانا جاتا۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج اسلام آباد نہیں جائیں گے، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی

Published

on



وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے۔

اس سے قبل امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے کسی واضح جواب نہ ملنے پر نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر کر دیا گیا ہے۔ تاہم اب امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ دورہ منسوخی کے بجائے عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے اور اسے کسی بھی وقت دوبارہ شیڈول کیا جا سکتا ہے۔

معاملے سے باخبر امریکی حکام کے مطابق، واشنگٹن سفارتی رابطوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور مناسب پیش رفت کی صورت میں دورے کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران نے بھی امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک ایرانی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف اسی صورت میں مذاکرات میں شرکت کرے گا جب اسے یقین ہو کہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے، بصورت دیگر ایسے اقدامات وقت کا ضیاع ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم دونوں جانب سے غیر یقینی بیانات کے بعد اس عمل میں تاخیر کا امکان بڑھ گیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending