Today News
واشنگٹن کے سائے سے نکلتا ہوا نیا مشرقِ وسطیٰ
مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی نقشہ اس وقت عالمی سیاست کے بساط پر ایک ایسے بپھرے ہوئے سمندر کی مانند ہے جہاں ہر لہر ایک نئی دفاعی حکمت عملی کو جنم دے رہی ہے۔ 2026 کے تناظر میں اگر ہم اس خطے کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو تزویراتی گہرائی اور دفاعی حصار کے معنی مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ سفارتی برف پگھلنے کے باوجود، نقشے پر موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ایرانی میزائل پروگرام کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والا تناؤ موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ بیان اس نقشے پر لکھی گئی ان عبارتوں کو واضح کرتا ہے جن میں اب جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ ’’دفاعی دائرہ کار‘‘ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی لائن کو اپنی سرحدوں سے نکال کر پورے خطے میں پھیلا دیا ہے، جس کے نتیجے میں نقشے پر موجود بحیرہ عرب، خلیجِ فارس اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے اب براہِ راست تہران کی عسکری صلاحیت کے زیرِ اثر محسوس ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی عسکری کارروائی صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کی معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر سعودی عرب کی جغرافیائی حیثیت مرکزی ہے، جو ایک طرف ایران اور دوسری طرف افریقہ اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ یہاں امریکی اڈوں کی موجودگی نقشے پر ایسے اہم دفاعی نکات بن چکے ہیں جو ایران کی فضائی برتری کے لیے مستقل خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔ تاہم، 2026 کی موجودہ کشیدگی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب کوئی بھی فوجی اڈہ ناقابلِ تسخیر نہیں رہا۔ ایرانی ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی نے نقشے کی طوالت کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے، جہاں فاصلے اب تحفظ کی ضمانت نہیں رہے۔
جب ایرانی وزیرِ خارجہ سعودی عرب کو برادر ملک قرار دیتے ہیں، تو دراصل وہ نقشے پر ایک ایسی لکیر کھینچ رہے ہوتے ہیں جو عرب ریاستوں کو امریکی مفادات سے علیحدہ کرنے کی ایک سفارتی کوشش ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب نقشے پر موجود امریکی اڈوں کو اپنی سیکیورٹی کے لیے ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دے رہا ہے اور خطے کے ممالک کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ان اڈوں کی موجودگی پورے خطے کے نقشے کو جنگ کے شعلوں کی زد میں لا سکتی ہے۔
یہ جغرافیائی سیاسی دباؤ سعودی عرب جیسے ممالک کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی دہائیوں پرانی دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور ایک ایسے توازن کی تلاش کریں جہاں وہ امریکا کے حلیف بھی رہیں اور ایران کے ہدف سے بھی بچ سکیں۔مسلم دنیا کے وسیع تر تناظر میں، مشرقِ وسطیٰ کا دفاعی نقشہ اب محض چند ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پاکستان سے لے کر ترکیہ اور مصر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک نقشے پر ایک ایسی پوزیشن رکھتے ہیں جہاں وہ مشرق اور مغرب کے درمیان توازن برقرار رکھ سکتے ہیں، اگر ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی و معاشی تعاون بڑھتا ہے، تو نقشے پر ایک نیا ’’اسلامک بلاک‘‘ ابھر سکتا ہے جو بیرونی مداخلت کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔ یہ تبدیلی عالمی قوتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگی کیونکہ اس سے بحیرہ روم اور بحر ہند کے درمیان ایک ایسا سیکیورٹی زون بن جائے گا جہاں واشنگٹن یا برسلز کے بجائے فیصلے تہران، ریاض، انقرہ اور اسلام آباد میں ہوں گے۔ اس دفاعی منظرنامے میں سب سے اہم عنصر ’‘خود مختاری‘‘ کا ہے۔
نقشے پر موجود ممالک اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی زمین کو غیر ملکی طاقتوں کے لیے استعمال ہونے دیں گے تو وہ غیر ارادی طور پر دوسروں کی جنگ کا ایندھن بن جائیں گے۔ ایرانی حملوں نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگ میں ہدف صرف زمین نہیں ہوتی بلکہ وہ ’’اعصابی مراکز‘‘ ہوتے ہیں جو فضائی اور الیکٹرانک کمانڈ کنٹرول کرتے ہیں۔ لہٰذا، مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو اب صرف پہاڑوں اور میدانوں کی نظر سے نہیں بلکہ ان نادیدہ لہروں اور سگنلز کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے جو جنگ و امن کا فیصلہ کرتے ہیں۔
عباس عراقچی کا بیان اسی بدلتی ہوئی حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نقشے پر موجود سرحدیں دشمنی کے بجائے مشترکہ دفاع کی لکیریں بن جائیں، تاکہ بیرونی قوتوں کے پاس مداخلت کا کوئی اخلاقی یا عسکری جواز باقی نہ رہے۔ یہ عمل اگرچہ دشوار گزار ہے، لیکن 2026 کے حالات بتا رہے ہیں کہ مسلم دنیا کے پاس اب اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا کہ وہ اپنے نقشے کی حفاظت خود کرے۔ خود مختاری کا یہ سفر صرف عسکری نہیں بلکہ ذہنی اور سیاسی آزادی کا بھی متقاضی ہے، جہاں علاقائی فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق ہوں۔معاشی طور پر، اگر یہ مستحکم اتحاد حقیقت بنتا ہے، تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں کے رخ موڑ سکتے ہیں۔
سب سے پہلا اور بڑا اثر توانائی کی قیمتوں کے استحکام پر پڑے گا۔ دنیا کے تیل اور گیس کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ان ممالک کے کنٹرول میں ہے، اگر یہ ممالک اپنی پیداواری پالیسیاں ایک دوسرے کیساتھ ہم آہنگ کر لیں، تو وہ پیٹرو ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، جو امریکی ڈالر کی عالمی اجارہ داری کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ اس کیساتھ ہی، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم سمندری راستے اب غیر ملکی بحری بیڑوں کے بجائے علاقائی فورسز کے زیر ِ نگرانی ہوں گے، جس سے انشورنس کے اخراجات میں کمی آئے گی اور علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔ ایران کی گیس پائپ لائنز کا جال اگر سعودی عرب اور ترکیہ کے ذریعے یورپ تک پھیل جاتا ہے، تو یہ خطہ دنیا کا سب سے بڑا ’’انرجی ہب‘‘ بن جائے گا، جس سے کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اس نئے منظرنامے میں ایک ’’کھیل تبدیل کرنیوالے‘‘ کی ہے۔ پاکستان اب محض ایک سیکیورٹی فراہم کرنیوالا ملک نہیں رہا، بلکہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک تزویراتی پل بن چکا ہے۔ اگر ایران اور سعودی عرب سی پیک کا حصہ بنتے ہیں، تو وسطی ایشیا سے لے کر خلیج تک ایک ایسا معاشی زون بن جائے گا جو چین کی عالمی سپلائی چین کا مرکز ہوگا۔ اسلام آباد کا کردار اب واشنگٹن کے دباؤ سے نکل کر خود مختار فیصلوں کی طرف مائل ہے، جو اسے مسلم دنیا کے ایک غیر جانبدار اور طاقتور ضامن کے طور پر پیش کرتا ہے۔
پاکستان کی شمولیت اس اتحاد کو عسکری وزن کیساتھ ساتھ ایک ایسی سفارتی ڈھال بھی فراہم کرے گی جو اسے عالمی پابندیوں اور دباؤ سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔آخر میں، مشرقِ وسطیٰ کا یہ نیا رخ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ جغرافیہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا، لیکن جغرافیے کو استعمال کرنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ آج کا مشرق وسطیٰ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں عسکری طاقت اور سفارتی دانش مندی کا ملاپ ناگزیر ہے۔
نقشے پر موجود ہر بندرگاہ، ہر ایئر بیس اور ہر تیل کا کنواں اب ایک تزویراتی اثاثہ ہے جسے بچانے کے لیے علاقائی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ایران کا سعودی عرب کو بھائی کہنا اور امریکی انخلا کا مطالبہ کرنا دراصل اس خواہش کا اظہار ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ دوبارہ سے خطے کے عوام کی امنگوں کے مطابق ترتیب دیا جائے۔
یہ عمل صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک تہذیبی بیداری ہے جو بتاتی ہے کہ بیرونی بیساکھیوں کا دور ختم ہو چکا ہے، اگر یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے، تو آنے والی دہائیاں اس خطے کو دنیا کے سب سے محفوظ اور خوشحال خطے کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھیں گی، جہاں امن کا دارومدار کسی بیرونی بحری بیڑے پر نہیں بلکہ آپسی اعتماد اور مضبوط دفاعی اتحاد پر ہوگا۔ یہ 2026 کا وہ نیا خواب ہے جو اب حقیقت کے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔
Source link
Today News
ایران کی بڑی وارننگ، جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی
ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار ردعمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں۔
بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
Today News
امریکا میں جنگی تیاری تیز، کار ساز کمپنیاں اب ہتھیار بنائیں گی
امریکا میں ایران اور یوکرین سے جاری جنگی صورتحال کے باعث اسلحہ ذخائر پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے بڑی کار ساز کمپنیوں سے مدد طلب کر لی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے معروف کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سمیت دیگر مینوفیکچررز کے اعلیٰ عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ اسلحہ سازی کے شعبے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ کار ساز کمپنیوں اور دیگر صنعتی اداروں کی پیداواری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔
اس حکمت عملی کو ماضی کی مثالوں، خصوصاً جنگ عظیم دوم کے دوران اپنائے گئے ماڈل سے جوڑا جا رہا ہے، جب امریکی صنعتوں نے گاڑیوں کی بجائے جنگی سازوسامان تیار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق پینٹاگون چاہتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی فیکٹریوں، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کی پیداوار بڑھائیں، کیونکہ موجودہ جنگوں کے باعث امریکی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت ایران کے ساتھ کشیدگی سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، تاہم حالیہ جنگی حالات نے اس ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کورونا وبا کے دوران بھی جنرل موٹرز اور فورڈ نے طبی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہزاروں وینٹی لیٹرز تیار کیے تھے، جو ہنگامی صورتحال میں صنعتی شعبے کے کردار کی ایک بڑی مثال ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جدید ترین اسلحہ کی تیاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو امریکی دفاعی صنعت میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے اور نجی شعبہ مزید فعال کردار ادا کرے گا۔
Today News
امریکا نے دباؤ بڑھانے کیلئے ایرانی آئل ٹینکروں پر قبضے کا فیصلہ کرلیا، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی سمندروں میں موجود ایرانی آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اس اقدام کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کو رعایتیں دے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نیا نظام نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی بحریہ سے اجازت لینا لازمی ہوگا۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تمام تجارتی جہاز ایران کی جانب سے طے کیے گئے مخصوص راستوں پر سفر کریں گے، جبکہ غیر ملکی جنگی جہازوں کے داخلے پر سخت پابندی عائد ہوگی۔
ایرانی بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دراصل ایران نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کی ناکہ بندی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔
واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک امریکا اپنے غیر قانونی اقدامات ختم نہیں کرتا، اس وقت تک یہ اہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper