Connect with us

Today News

امریکا،ایران کشیدگی خاتمے کیلیے پاکستانی ثالثی کی دنیا معترف

Published

on



اسلام آباد:

ایسے لمحے میں جب مشرق وسطیٰ کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے،فوجی دباؤ بڑھ رہا ہے اور سفارتکاری آہستہ آہستہ کسی پیش رفت کے قریب پہنچ رہی ہے۔ مگر اس نازک توازن کے درمیان  پاکستان عالمی توجہ کے عین مرکز میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔

ایکسپریس24/7 کے پروگرام ‘‘فل فریمُُ میں گفتگو کے دوران سینئراینکرپرسن فہد حسین اور ایرانی امور  کے ماہر ولی نصر نے  مشرق وسطیٰ بحران پر بات چیت  میں کہا کہ جنگ کے اشارے اور سفارتی مواقع آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔

حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دو متوازی راستے تقریباً بیک وقت سامنے آ رہے ہیں۔ فہد حسین کا کہناتھا کہ ایک طرف معتبر سفارتی اشارے مل رہے ہیں کہ امریکی اور ایرانی ٹیمیں چند دنوں میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے اسلام آباد واپس آ سکتی ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بناتے ہوئے بحری ناکہ بندی شروع کر رکھی ہے۔

یہ دوہراپن اتفاقیہ نہیں  یہ ایک گہری حکمتِ عملی کاعکاس ہے جہاں دباؤ اور مذاکرات ساتھ ساتھ موجود ہوتے ہیں۔  ولی نصر کا کہنا تھا کہ ناکہ بندی محض کشیدگی میں اضافہ نہیں ، یہ ایک دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت بحری ناکہ بندی جنگی عمل کے مترادف ہوتی ہے پھر بھی جدید تنازعات میں مکمل بندش ہمیشہ مقصد نہیں ہوتا۔ فہد حسین کا کہناتھا کہ تباہی کے بجائے رکاوٹیں ڈالنا ترجیحی طریقہ بن چکا ہے۔

آبنائے ہرمز جیسے کسی گزرگاہی مقام پر جزوی ناکہ بندی بھی عالمی توانائی کے بہاؤ کو غیر مستحکم کر سکتی ہے، انشورنس کے اخراجات بڑھا سکتی ہے اور سپلائی چینز پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ یہ واضح ہے کہ  آپ کو نظام کو روکنے کی ضرورت نہیں،آپ کو صرف اسے غیر مستحکم کرنا ہے۔

تہران کی جانب سے جنگ میں   نئے طریقے آزمانے  پر بات چیت میں ولی  نصر کا کہنا تھا کہ یہ زبان جان بوجھ کر اختیار کی گئی ہیاورغیر متناسب حکمت عملیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو روایتی میدانِ جنگ سے آگے بڑھتی ہیں۔ 

یہ تصادم اس بارے میں نہیں ہے کہ کس کے پاس بڑے ہتھیار، بم ہیں بلکہ یہ دوسرے کی برداشت، چوٹ سہنے کی صلاحیت کے بارے میں پتہ لگانا ہے۔  یہ حکمت عملی امریکہ،ایران تعلقات کی اصل نوعیت  کا پتہ بتاتی ہے جہاں واشنگٹن فوائد حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے، وہیں تہران طویل مدتی اخراجات برداشت کرنے کی اپنی آمادگی کا اشارہ دیتا ہے۔

یہ عدم توازن ایک خطرناک ماحول پیدا کرتا ہے جہاں کشیدگی غلط اندازوں کی وجہ سے بھی بڑھ سکتی ہے،موجودہ ناکہ بندی نہ تو مکمل ہے اور نہ ہی غیر متنازع، جہاز اب بھی آبنائے ہرمز سے گزرتے رہتے ہیں، کچھ واپس مڑ جاتے ہیں ،صورتحال غیر مستحکم  ہے،کسی بھی طویل غیر یقینی صورتحال کے اثرات عالمی منڈیوں میں لہریں پیدا کر سکتے ہیں۔  

اگر کشیدگی باب المندب تک پھیل جائے، جو بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کے درمیان ایک اہم دروازہ ہے تو دنیا کو اپنے دو نہایت اہم توانائی راستوں میں بیک وقت خلل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔  یہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا، علمی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

اسلام آباد تاریخی مذاکرات کے حوالے سے بات چیت میں  ولی نصر کا کہنا تھا  کہ  امریکہ ایران مذاکرات 21 گھنٹے جاری رہے اور 2015 کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اہم براہِ راست رابطے کی نشاندہی کرتے ہیں،اس کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ 

دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف اس بات پر نہیں تھا کہ آیا کوئی معاہدہ ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ اس پر تھا کہ وہ معاہدہ کتنی مدت تک برقرار رہے،5 سال یا 20 سال۔ فہد حسین کا کہنا تھا کہ بات چیت ناکام نہیں ہوئی،یہ تعطل کا شکار ہو ئی۔ولی نصر کا کہناتھا کہ  مذاکرات میں اس وقت اسلام آباد کے علاوہ کوئی اور مرکزی کردار موجود نہیں ہے،پاکستان کی منفرد حیثیت اس کے ان تمام بڑے فریقین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ہے جو اس میں شامل ہیں۔ 

اسکی امریکہ، ایران، سعودی عرب اور چین کے ساتھ روابط ہیں۔ یہ غیر معمولی ہم آہنگی اسے ایک انتہائی منقسم ماحول میں ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر کام کرنے کے قابل بناتی ہے،یہ محض سہولت کاری نہیں ہے۔

یہ اعلیٰ ترین سطح کی اسٹریٹجک سفارت کاری ہے،پاکستان کی طاقت اس کی غیر جانبداری میں ہے، ایک ثالث کو اپنا مؤقف مسلط نہیں کرنا چاہیے۔ اسے وفاداری کے ساتھ پیغامات منتقل کرنے اور مکالمے کے لیے حالات پیدا کرنے چاہئیں۔

یہی کام پاکستان نے کیا ہے۔سعودی عرب، ترکیہ اور چین کے ساتھ فعال روابط کے ذریعے اسلام آباد نے مذاکرات کی حمایت کے لیے ایک وسیع تر سفارتی نظام قائم کیا ہے، وزیرِاعظم کی اہم علاقائی دارالحکومتوں تک رسائی ایک مربوط کوشش کی عکاسی کرتی ہے جو رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے کی جا رہی ہے،اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ بھی اعتماد کی ایک ایسی سطح قائم کر لی ہے جو تاریخی طور پر موجود نہیں تھی۔

یہ تبدیلی تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں انتہائی اہم ثابت ہوئی ہے۔دو یا تین سال پہلے، ہم کبھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے تھے کہ پاکستان کے پاس اس قسم کا اثر و رسوخ ہوگا،پاکستان کا ایک سفارتی مرکز کے طور پر ابھرنا دور رس اثرات رکھتا ہے۔

یہ ملک کو مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر پوزیشن دیتا ہے، اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو بڑھاتا ہے، اورامریکہ اور چین جیسے بڑے طاقتور ممالک کے درمیان تعلقات کو متوازن رکھنے کی اس کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں  پیش رفت ہوئی ہے، صورتحال بدستور نازک ہے۔ جنگ بندی کا وقت محدود ہے۔ فوجی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، اندازے غلط ہو سکتے ہیں۔اس کے باوجود حل کا موقع اب بھی موجود ہے۔ ایران پابندیوں میں ریلیف اور معاشی گنجائش کا خواہاں ہے تو امریکہ ایک طویل اور مہنگے تنازعے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے،اس نازک صورتحال میں پاکستان کا کردار مرکزی رہے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے انقلابی منصوبہ کا آغاز

Published

on



گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے انقلابی منصوبہ کا آغاز کر دیا گیا۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی گرین پاکستان منصوبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

سی ای او ییلو گرین فارم غلام مصطفی خاندان سمیت پاکستان منتقل ہو کر جدید زراعت کے فروغ میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔

غلام مصطفیٰ کے مطابق انہوں نے طویل المدتی زرعی منصوبے کو منفرد اور پائیدار موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع ذاتی زمین میں بھی کم ہی دستیاب ہوتے ہیں۔

مقامی کسان محمد عبداللہ لیاقت نے کہا کہ جی پی آئی کے تحت 17 ہزار ایکڑ رقبہ حاصل کر کے زراعت کو وسعت دی گئی اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے گئے۔ جی پی آئی نے جدید زراعت متعارف کروائی اور ایگری مالز کے قیام کے ذریعے بیج، کھاد اور زرعی ادویات ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔

کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر کے مطابق جی پی آئی کا یہ منصوبہ بڑھتی آبادی کے پیشِ نظر ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ ڈریپ ایریگیشن، پیوٹ اور اسپرنکلر سسٹمز کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ منصوبے کے تحت جدید زرعی مشینری اور طریقوں کو فروغ دے کر روایتی کاشتکاروں کو جدید زراعت کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔

گرین پاکستان انیشیٹو زرعی خود کفالت،پائیدار ترقی اور تحفظِ خوراک کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

خلیجی جنگ میں مودی کی اسرائیل نواز پالیسی، بھارت کی خودمختاری پر سوال

Published

on


خلیجی جنگ میں مودی کی اسرائیل نواز پالیسی کے باعث بھارت کی خودمختاری پر سوال اُٹھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی جریدہ ایشیا ٹائمز کے مطابق ایران کے معاملے پر بھارت کی غیر واضح خارجہ پالیسی سخت تنقید کی زد میں ہے۔

پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا جبکہ بھارت کی سفارت کاری بالکل خاموش رہی۔

مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے محض تیل اور سپلائی کے نظام کی بات کی۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی مداخلت کے بجائے رابطے اور یقین دہانی تک محدود رہا۔

چین اور پاکستان کی قریبی شراکت داری نے خطے میں بھارت کی نام نہاد اہمیت کو شدید دھچکا پہنچایا۔ پاکستان سے بہترین تعلقات کے بعد امریکا کیلئے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا ایران سے نہ جیت سکا تو چین سے کیسے لڑے گا؟ بیلاروسی صدر کا بڑا بیان

Published

on


بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے امریکا کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسی بڑی طاقت سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا۔ ان کے مطابق اگر امریکا ایران کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکا تو وہ چین جیسے مضبوط ملک کا سامنا بھی نہیں کر پائے گا۔

بیلاروسی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کے اصل مفادات تیل اور گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں، اور وہ ان وسائل کے حصول کے لیے مختلف خطوں میں مداخلت کرتا رہا ہے۔

اپنے خلاف عائد ’آمر‘ ہونے کے امریکی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے لوکاشینکو نے کہا کہ اصل آمریت تو کیوبا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، مگر وہاں نہ حقیقی جمہوریت موجود ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعووں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے ایک خودمختار ملک میں اسکول پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق لوکاشینکو کا یہ بیان عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں امریکا، چین اور دیگر ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending