Today News
ایران امریکا مذاکرات، ایرانی مذاکراتی ٹیم منگل کو پاکستان پہنچے گی؛ امریکی میڈیا کا دعویٰ
ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے سلسلے میں ایرانی مذاکراتی ٹیم منگل کو پاکستان پہنچے گی۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد اُن شخصیات پر مشتمل ہوگا جنہوں نے پہلے مرحلے میں مذاکرات میں شرکت کی تھی جس سے مذاکراتی عمل میں تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام کو توقع ہے کہ بدھ کے روز جنگ بندی میں توسیع سے متعلق ایک علامتی مشترکہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔
سی این این کے مطابق اگر معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان آنے پر آمادہ ہوئے تو ایرانی صدر بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ دونوں صدور کی آمد کی صورت میں مشترکہ اعلامیے پر دستخط بھی متوقع ہیں۔
تاہم امریکی چینل نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے تاحال باضابطہ طور پر کسی وفد کی روانگی کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز بیان کہا تھا کہ ہمارے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں۔
Today News
زینہ – ایکسپریس اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تضاد بیانی سے ایک دنیا واقف ہے۔ حالیہ امریکا ایران جنگ کے دوران ان کے آئے دن بدلتے بیانات سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا خاصا مشکل رہا ہے۔ جمعرات کو وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے واشنگٹن کی تقریباً تمام شرائط مان لی ہیں اور اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہمارے حوالے کرنے پر رضا مند ہو گیا ہے۔
دونوں فریق جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے قریب ہیں۔ انھوں نے یہ کہا کہ اگر امریکا ایران معاہدہ طے پا گیا تو وہ اسلام آباد جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ایران نے 20 برس تک جوہری ہتھیار نہ حاصل کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ میں 20 برس کی کسی حد کو نہیں مانتا اور اگر ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ اسی نشست میں انھوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو زبردست شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنگ بندی کے لیے بہت عمدہ کام کر رہا ہے۔
ہم ایران کے ساتھ ڈیل کے بہت قریب ہیں۔ ادھر ایک سینئر ایرانی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیچیدہ معاملات پر بریک تھرو ہو گیا ہے تاہم جوہری پروگرام پر بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے اور ایرانی منجمد اثاثوں کو بحال کرنے پر آمادہ ہے تاہم تہران مستقل جنگ بندی اور مستقبل میں دوبارہ حملہ نہ کرنے کی اقوام متحدہ کی ضمانت چاہتا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران کی اعلیٰ سطح قیادت کے مذاکرات میں ہر دو جانب سے دی گئی تجاویز پر 21 گھنٹے طویل بات چیت کے دوران بیش تر امور پر اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ مذاکرات کی تان جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ٹوٹی تھی۔ بعدازاں امریکا نے ہرمز کی ناکہ بندی کرکے ماحول کو اور کشیدہ کر دیا لیکن پاکستان کی جانب سے ثالثی اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مخلصانہ کوششیں جاری ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفود کے ہمراہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور ایران کے دورے کرکے دو طرفہ تجاویز کے تبادلے اور ایران و خلیجی ممالک کی قیادت سے مفید بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجے میں یہ امید ہو چلی ہے کہ امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطح قیادت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔
وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر پر امریکا ایران اور خلیجی ممالک سب کو کامل اعتماد ہے۔ بالخصوص صدر ٹرمپ دونوں شخصیات کی قائدانہ صلاحیتوں کے خاصے معترف ہیں اور امریکا ایران جنگ سے قبل بھی وہ مختلف مواقعوں پر ان کی اعلانیہ تعریف کرتے رہے ہیں۔ غالب امکان، امید اور توقع یہی ہے کہ پاکستانی قیادت کی مخلصانہ سفارتی کاوشیں رنگ لائیں گی اور امریکا ایران دوسرے مرحلے کے مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور ہر دو فریق کے درمیان اعتماد کے ساتھ قابل قبول معاہدہ طے پا جائے گا اور ہر دو جانب سے اس پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد بھی کیا جائے گا۔
امریکا ایران کے درمیان بنیادی اختلاف یورینیم کی افزودگی اور جوہری توانائی کے حصول پر پابندیوں کا ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی سے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ پچھلے دنوں صدر ٹرمپ یہ بیان دے چکے ہیں کہ اگر گزشتہ سال امریکا ایران پر حملہ نہ کرتا تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا کر امریکا اور اسرائیل پر حملہ کر دیتا، لیکن صدر ٹرمپ کے اس بیان میں کوئی صداقت نہیں۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایسی کوئی شہادت نہیں دی کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، یہ محض صدر ٹرمپ کی خام خیالی ہے۔
ایران اپنے اس موقف پر تادم تحریر قائم ہے کہ عالمی قوانین کے تحت سول مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا پورا اختیار حاصل ہے۔ باخبر ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکا ایران مذاکرات کے پہلے دور میں ایران اس بات پر بھی آمادہ ہو گیا تھا کہ وہ پانچ سال تک یورینیم افزودہ نہیں کرے گا، لیکن امریکا نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور اسی باعث مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے۔ صدر ٹرمپ کے اس دعوے میں وزن نظر نہیں آتا کہ ایران تمام افزودہ یورینیم کو امریکا کے حوالے کرنے پر رضامند ہوگیا ہے۔
البتہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر جوہری سرگرمیوں پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے سخت گیر موقف میں لچک پیدا کریں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے پر ایران میں اعلیٰ ایرانی قیادت سے بات چیت کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کرکے ایک صائب فیصلہ کیا ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 12 فی صد تک کم ہو گئیں۔ ادھر صدر ٹرمپ کی کاوشوں سے لبنان اسرائیل جنگ بندی سے کشیدگی میں مزید کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اسرائیل پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں مستقل قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اسرائیل اور ایران طے پانے والے معاہدوں پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ پاکستان کی ثالثی قیام امن کا زینہ ثابت ہوگی۔
Today News
امریکی سینٹکام نے قبضے میں لیے جانیوالے ایرانی جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی
امریکی سینٹکام نے قبضے میں لیے جانے والے ایران کے تجارتی جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔
سینٹکام کے مطابق امریکی میرینز نے جہاز پر قبضہ کر لیا اور یہ ایرانی تجارتی جہاز اب امریکا کی تحویل میں ہے۔
https://t.co/SdInnL4ZW8
— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 19, 2026
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک ایرانی مال بردار جہاز ٹوسکا نے امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز ٹوسکا کو امریکی بحریہ نے تحویل میں لے لیا ہے۔
اس کے بعد ایران نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز نے بحیرۂ عمان کے پانیوں میں ایرانی تجارتی جہاز پر فائرنگ کی اور اس کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنا دیا جبکہ متعدد اہلکار جہاز پر سوار تھے اور جہاز کو قبضے میں لے لیا گیا۔
ایرانی حکام نے اس کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اس اقدام کا جلد اور مؤثر جواب دیں گی۔
Today News
پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے
کراچی میں گیس، بجلی و پانی سے متاثرہ خواتین نے ایک منفرد اور پرامن احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے ہیں کہ آج ہمیں شدید مہنگی گیس و بجلی بھی میسر نہیں اور قدرت کے فراہم کردہ پینے کے پانی سے بھی ہم محروم ہیں۔
خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لیا اور بہت چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھایا ہوا تھا جو چپ چاپ دھوپ میں کھڑی رہیں اور میڈیا والوں نے جب ان سے معلومات کیں تو وہ پھٹ پڑیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور 2026 میں بھی ہمیں بنیادی سہولیات میسر نہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم آگے جانے کی بجائے اس دور میں آ گئے ہیں کہ جس کو ماضی میں پتھر کا زمانہ کہا جاتا تھا جس میں بجلی تھی نہ گیس، آنے جانے کے لیے پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں تو تھیں نہیں اور جانوروں کے ذریعے چلائی جانے والی لکڑی سے بنائی گئی گدھا گاڑی اور بیل گاڑیوں اور اونٹوں، گھوڑوں اور گدھوں پر سوار ہو کر سفر کیا جاتا تھا۔
گھروں میں روشنی کے لیے دیے، لالٹینیں اور موم بتیاں استعمال کی جاتی تھیں، ہوا کے لیے بجلی کے پنکھوں کا ہی تصور نہیں تھا لوگ اپنے گھروں کے کچے صحنوں اور چھتوں پر قدرتی ہوا میں سوتے تھے اور شدید گرمی میں جب ہوا بند ہوتی تھی لوگوں کا سونا دشوار ہوتا تھا تو وہ ہاتھ سے جھلنے والے یا بنائی گئی اشیا سے کھینچنے والے پنکھے استعمال کر کے گزارا کر لیتے تھے۔
ان دنوں کھانے محفوظ کرنے کے لیے فرجوں کا تصور ہی نہیں تھا نہ گیس ہوتی تھی نہ بجلی۔ لکڑی کے چولہوں، اپلوں سے دیہاتوں میں اور شہروں میں رات اور صبح کا ناشتہ اور کھانا گھریلو ضرورت کے مطابق کم مقدار میں اتنا ہی پکایا جاتا تھا جو وقت پر ہی استعمال ہو جاتا تھا۔ گھروں کے صحنوں میں کچھ چیزیں کے لیے چھینکے لٹکائی جاتی تھی، جن کو چھلنی یا جالی سے ڈھک کر لٹکا دیا جاتا تھا تاکہ گرمی سے خراب نہ ہوں۔ پینے کے لیے کنوؤں سے پانی کھینچ کر مٹی کے گھڑوں میں رکھ لیا جاتا تھا جو رات کی معمولی ٹھنڈی میں ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔ دودھ کو ابال کر محفوظ کر لیا جاتا تھا۔
رات کا کھانا مغرب سے پہلے اور صبح کا ناشتہ یا کھانا فجر کے بعد ہونے والی قدرتی روشنی میں کھا کر دیہاتوں کے لوگ کاموں کے لیے کھیتوں میں اور شہروں میں لوگ اپنے کاروبار اور دکانوں پر چلے جاتے تھے اور مغرب سے قبل دکانیں اور خرید و فروخت بند کرکے لوگ اپنے گھروں میں جاکر کھانے اور نماز عشا سے فارغ ہو کر جلد سو جاتے تھے اور فجر کے وقت اپنی نیند پوری کرکے سکون سے فریش اٹھتے تھے اور اپنی اپنی مصروفیات میں مگن ہو کر پرسکون زندگی گزارتے تھے۔
قدرتی ماحول میں زندگی گزارنے سے بیماریاں برائے نام تھیں۔ چوری چکاری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھتے تھے جہاں سے ہوا بھی آتی تھی۔ خواتین مردوں سے بھی پہلے بیدار ہو کر گھریلو کاموں میں مصروف ہو جاتی تھیں۔ راقم نے بچپن میں اپنے آبائی شہر شکارپور میں خود دیکھا کہ دودھ ،دہی کی دکانیں نماز فجر کے بعد کھل جاتیں اور دس بجے تک دودھ دہی ختم کرکے دکانیں بند کر دی جاتی تھیں۔ دوپہر بارہ بجے تک گوشت و مچھلی مارکیٹ بند اور عصر تک سبزیوں اور پھلوں کی دکانیں، پتھارے اور ریڑھیوں پر خریداری جاری رہتی اور لوگ جلد فارغ ہو کر گھروں میں چلے جاتے تھے۔
ہندوؤں کی کہاوت مشہور ہے کہ صبح دن نکلتے ہی کاروبار شروع کرو اور عصر کے بعد دن کی روشنی میں ختم کر لو۔ بجلی گیس کا تصور نہ تھا لوگ ضرورت کا پانی مختلف ذرائع سے حاصل کر لیتے تھے۔ دیہاتوں میں پانی کے حصول کے لیے خواتین اپنے بڑے بچوں کو ساتھ لے جا کر دور دراز علاقوں سے پانی حاصل کر لیا کرتی تھیں۔ پھر بجلی آئی، پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں میسر آئیں، گیس ملنے لگی تو ضروریات بدل گئیں۔ سائیکلوں کی جگہ موٹرگاڑیوں نے سفر آسان کیا اور ضروریات تبدیل ہوتی گئیں۔
موٹر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کی بہتات ہوئی۔ بجلی و گیس میسر آئی تو سب کچھ بدل گیا۔ صبح کا کھانا دوپہر کو، دوپہر کا کھانا رات گئے۔ دیر سے سونا اور اٹھنا معمول بنا لیا گیا۔ گوشت، مچھلی، پھلوں، سبزیوں، دودھ کی دکانیں دن بھر کی بجائے رات گئے تک کھلتی ہیں۔ مارکیٹیں دن گیارہ بجے کے بعد کھلنے کے بعد رات دیر تک کھل کر بجلی استعمال کرتی ہیں۔ سڑکوں پر رات کو دن کا منظر ٹریفک کا اژدھام عام ہے۔
بجلی نہ ہو تو پٹرول و گیس کے سلنڈر، جنریٹر کام آتے ہیں۔ پینے کے پانی کی کمی جگہ جگہ بورنگ کرا کر حاصل کردہ پانی میں کچھ ادویات ملا کر اس پانی کو صحت افزا قرار دے کر منہ مانگے کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے جسے دودھ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا اور ہر مضر صحت اشیا عام فروخت ہو کر بیماریاں بڑھا رہی ہیں۔ بجلی، گیس و پانی نہ ملنے کی شاکی خواتین کا کہنا تھا کہ حکومت کے انتہائی گراں نرخوں پر بھی بجلی میسر ہے نہ گیس، سرکاری واٹر لائنوں میں پانی نہیں، نجی واٹر ٹینکر منہ مانگے داموں پانی فروخت کر رہے ہیں، گیس کمپنیاں اپنے اعلان کردہ شیڈول پر بھی گھروں کو گیس فراہم نہیں کر رہیں جب دیکھو بجلی کی لوڈ شیڈنگ صرف پٹرول ہی سرکاری داموں میسر ہے۔ مہنگے پٹرول سے لوگ خود گاڑیاں ضرورت پر ہی استعمال کر رہے ہیں۔ خواتین صبح بچوں کو بغیر ناشتے دیگر اشیا دے کر اسکول بھیجتی ہیں۔
گیس نہیں تو بجلی نہ ہونے سے ہیٹر ناکارہ پڑے ہیں۔ گھروں میں بہ مشکل سالن بن پاتا ہے تو باہر سے مہنگی اور مضر صحت آٹے کی روٹیاں خریدنا مجبوری بن چکی۔ وقت پر گھروں میں بجلی و گیس نہ ہونے سے مردوں کو کھانا نہ ملے تو سننا خواتین کو پڑتی ہیں کیونکہ ان کا بس خواتین پر ہی چلتا ہے حکومت کا تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا، اس لیے خواتین کے لیے تو یہ دور پتھروں والا دور ہی بن کر رہ گیا ہے جب سہولتیں نہ ہونے پر بھی گزارا ہو جاتا تھا مگر اب مہنگی سہولیات کی موجودگی میں بھی گزارا ہے نا سکون، مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا جس کے پاس عوام کو دینے کے لیے صرف دعوے رہ گئے ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper