Connect with us

Today News

ریلوے کے پاس بوگیوں کی کمی، مسافر جان خطرے میں ڈال کر چھتوں پہ سفر کرنے پر مجبور

Published

on



لاہور:

پاکستان ریلویز کے پاس بوگیوں کی کمی بڑھ گئی، سیکڑوں مسافر اپنی جان خطرے میں ڈال کر بوگیوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہوگئے، فیض احمد فیض گاڑی شاہدرہ سے روانہ ہوئی تو مسافر چھتوں پر چڑھ گئے ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس خاموش تماشائی بن گئے۔

ایکسپریس کے مطابق پاکستان ریلویز کے وزیر حنیف عباسی ریلوے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں مگر ریلوے انتظامیہ ان کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

ریلوے ذرائع کے مطابق ایک طرف آئے روز حادثات نے ریلوے انفراسٹرکچر کی خستہ حالی کو بے نقاب کردیا ہے دوسری طرف چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنے والے مسافر ریل گاڑیوں کی بوگیوں کی کمی سامنے لے آئے۔

ایکسپریس نیوز کو ملنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح فیض احمد فیض جو لاہور شاہدرہ ریلوے اسٹیشن سے شام سات ساڑے سات بجے  نارووال کے لیے روانہ ہوئی تو سو کے قریب مسافر جن کو ریل گاڑی کے اندر جگہ نہ ملی وہ ریل گاڑی کی بوگیوں پر چڑھ گئے جو کسی بھی حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سب سے حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس دونوں ہی خاموش تماشائی بن کر منظر دیکھتے رہے کسی نے بھی مسافروں کو چھت پر کھڑے ہونے سے نہیں رکا۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا جن مسافروں کو روکتے ہیں تو وہ لڑائی مار کٹائی کرتے ہیں ریلوے انتظامیہ بوگیاں بڑھاتی نہیں اور گالیاں ہم سنتے ہیں، ریلوے قانون کے تحت ریل گاڑی کی بوگیوں کی چھت پر سفر کرنا جرم ہے، ریلویز پولیس نے درجنوں مسافر وں کو پکڑا بھی ہے مگر پھر بھی مسافر جاں خطرہ میں ڈال کر سفر کرتے رہتے ہیں۔

ریلوے ذرائع کے مطابق ناروال سیکشن پر چلنے والی ریل گاڑیوں کی بوگیوں کی تعداد 8 سے کم کر کے 4 کر دی ہے یہی وجہ ہے کہ مسافر ٹرینوں کی چھتوں پر چڑھ کر سفر کرتے ہیں۔

ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بوگیوں کی کمی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسافر چھتوں پر چڑھ کر سفر کریں، چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے مقدمات بھی درج کیے ہیں اور قانون کے تحت کارروائی کا عمل جاری رہتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران امریکا معاہدہ – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکا اور ایران اسلام آباد میں تاریخی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے اور معاہدے کا مسودہ تیار تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی تصدیق کی کہ دونوں فریق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے قریب تھے لیکن امریکا نے آخری لمحات میں اپنے مطالبات کو زیادہ سخت کردیا۔ کیونکہ امریکا ، ایران سے یورینیم افزودگی اور موجود ذخائر سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ دوسری جانب ایرانی فریق ضمانتوں کا خواہاں تھا۔ اور یہ شبہ ظاہر کر رہا تھا کہ امریکا جوہری معاملے پر ایران کی دستبرداری اور ہرمز کے راستے کھولنے کے بعد وعدوں سے پیچھے ہٹ سکتا ہے ۔

ایک اور وجہ یہ تھی کہ ایرانی ٹیم اور تہران میں موجود قیادت کے درمیان سیکیورٹی وجوہات کے باعث کمیونیکشن کا فقدان تھا۔ امریکی ٹیم کے پاس سہولت تھی کہ وہ مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ سے رابطہ کر سکتے تھے۔ امریکی نائب صدر نے بارہ مرتبہ ٹرمپ سے بات کی ۔ یہ طویل مذاکرات 21گھنٹوں پر مشتمل نتیجہ خیز تو نہ ہو سکے لیکن انھوں نے کیا مستقبل کا فریم ورک تیار کیا اس کا جواب وقت دے گا؟ایرانی وزیر خارجہ نے ان مذاکرات کو انقلاب کے بعد امریکا کے ساتھ سب سے زیادہ سنجیدہ مذاکرات قرار دیا۔

بہرحال ایران کا مطالبہ مان کر امریکا نے اسرائیل پر دباؤ ڈالتے ہوئے لبنان میں جنگ بندی کرا دی ۔ چنانچہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر کھول دیا ۔ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو آبنائے ہرمز پھر سے بند ہو سکتی ہے ۔ دوسری طرف امریکا نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی کی ہوئی ہے اوراس کے لیے مزید بحری فوج ایرانی ساحلوں پر بھیج رہا ہے ۔ اس صورت حال پر ایرانی ترجمان نے امریکا کو وارننگ دی ہے کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ اگر یہ خلاف ورزی جاری رہی تو آبنائے ہرمز پھر سے بند ہو سکتی ہے ۔ بہرحال صدرٹرمپ بہت خوش ہیں اور آبنائے ہرمز کھلنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے ، نہ صرف پاکستانی قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل صاحب کا شکریہ ادا کیا اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں ۔

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق امریکا ایران جنگ کی وجہ سے امریکی مارکیٹوں کو صرف ایک دن میں گیارہ ہزار پانچ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکا کو کتنا بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔ صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کی عاقبت نااندیشی نے وہ رجیم چینج جو ان کے منصوبے کے مطابق ایک ہفتے کے اندر ہو جانا تھا ، اس میں امریکا کو ناکامی ہوئی اب تو امریکی میڈیا بھی کہہ رہا ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو شکست ہوئی ایران کے مقابلے میں ۔ خلیجی اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہونے میں کئی ماہ لگیں گے ۔ بلکہ امن معاہدہ طے ہونے میں تقریباً 6ماہ لگ سکتے ہیں ۔ اگر یہ غیر یقینی صورت حال برقرار رہی تو آئندہ ماہ تک عالمی سطح پر غذائی بحران جنم لے سکتا ہے ۔

اس بدترین صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ جنگ بندی بھی اتنی مدت تک برقرار رہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں کیا یہ ممکن ہے اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہے تو نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست یقینی ہے ۔

ٹرمپ کا خود کو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے مشابے کہنے پر قدامت پرست مسیحوں نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے ۔ جس سے صدرٹرمپ کی مقبولیت جو پہلے ہی سے گری ہوئی ہے مزید گرنے کا خدشہ ہے ۔ دوسری جانب خاتون اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلانی نے بھی اس عمل پر ٹرمپ کی مذمت کی ۔ ایرانی صدر نے بھی ایرانی قوم کی طرف سے اس بارے میں دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایک امریکی پروفیسر نے ٹرمپ کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے وقوف نہیں بلکہ لومڑی جیسی چالاکی رکھتے ہیں ۔ دوسری طرف 200امریکی ماہرین صحت نے ٹرمپ کو خود پسندی کا مہلک بیمار قرار دیتے ہوئے انھیں ذہنی عدم استحکام کا حامل قرار دیا ہے۔

پشین گوئی کی بھی ایک سائنس ہے ۔8اپریل کو جنگ بند ہونے پر یہ 40روز ہ جنگ کہلائی ۔40کے ہندسے کی بڑی اہمیت ہے ۔ لیکن اس کے اثرات 39ویں دن کے آخر سے شروع ہو جاتے ہیں ۔ وہ 42ویں دن تک جاری رہتے ہیں ۔ اس ڈھائی پونے تین سال کے دورانیے میں انتہائی اچھی اور انتہائی بُری چیزیں رونما ہو سکتی ہیں ۔ اس جنگ کی شدت 8اپریل کو اچانک ٹوٹ گئی۔

جب جنگ بندی ہوگئی تو میں نے سوچا کہ اب آنے والی اہم تاریخیں کون سی ہو سکتی ہیں ۔ تو وہ 12-13اپریل نکلیں ۔ لیکن اس کی مرکزی تاریخ 16اپریل نکلی جو سب سے زیادہ اہم تھی۔ لیکن میں نے Around Datesبھی شامل کر لیں جو 15اور 17اپریل تھیں ۔ لیکن اس کا مکمل دورانیہ 11ویں گھر ، 12ویں 13ویں اور 14ویںگھر کے حوالے سے 19,20,21,22 اپریل کی تاریخیں بنتی ہیں ۔ بہرحال اپریل کے آخری ایام اور مئی کے مہینے بھی جنگ بندی کے حوالے سے عدم استحکام ہی رہے گا کیونکہ صدر ٹرمپ کے سر پہ چاند گرہن لگا ہوا ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

برگِ فیض!

Published

on



اسلام آباد شہر سے اندازاً کوئی پچیس تیس کلومیٹر کے فاصلے پر خوبصورت پہاڑوں کے درمیان ایک انتہائی منظم رہائشی کالونی ہے، یہاں تک پہنچنے کا راستہ بارہ کہو سے مڑ کرایک مصروف سڑک کے ذریعے طے پاتا ہے۔اظہر چوہدری ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں منتقل ہو گیا۔دو تین بار اس کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، اس رہائشی کالونی میں سو کے قریب خاندان قیام پذیر ہیں۔

میں پہلی بار جب گیا تو ایسے لگا کہ ایک انجان سے علاقے میں آ چکا ہوں ، یہاں کا ماحول کافی آدم بیزار نظر آتا تھا۔رہنے والے بھی ایسے ہی لگے کہ وہ شور ‘ گاڑیوں کی بے ہنگم ٹریفک اور انسانوں کے سیلاب سے بچ کر ‘ ایک محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکے ہیں۔ویسے تو میں اور اظہر چوہدری لائل پور‘ یعنی فیصل آباد کے پیدائشی باشندے ہیں۔ البتہ اب اس مٹی سے واسطہ کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ والدین کی قبریں وہ غمگین جگہیں ہیں جن کی بدولت آج بھی مجھے لائل پور سے عشق ہے۔

آج سے دوسال قبل اظہر چوہدری کا فون آیا کہ خیبر پختونخواہ کا ایک علاقہ ہے جس کا نام بونیر ہے ۔ کیا وہاں کسی قسم کی کوئی واقفیت ہے ؟ ذہن کے آخری حصے میں بھی بونیر سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ابھر سکا ۔ مگر اجنبی سے سوال کا مقصد پوچھنا ضروری لگا۔جواب سن کر ایک جہان حیرت کھل گیا ۔ بتانے لگا کہ اس کی اہلیہ نے اسلام آباد سے بونیر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ وہاں ایک قدرتی آفت سے متاثرہ لوگ مصیبت میں ہیں۔ کہنے لگا کہ اہلیہ نے عام لوگوں کے لیے راشن سے لے کر کپڑے اور ہر طرح کی ضروریات کا سامان اکٹھا کررکھا ہے ۔ اس میں کسی قسم کی حکومت کی معاونت حاصل نہیں ہے۔ بلکہ ناہید صاحبہ نے یہ تمام اہتمام اپنی گرہِ خاص اور نزدیکی دوستوں کے تعاون سے برپا کیا ہے ۔

جن میں سے اکثریت اسی ویران آبادی میں مقیم ہے ۔ جب بیگم صاحبہ سے خود بات کی اور انھوں نے امدادی سامان کی تفصیل بتائی ‘توششدر رہ گیا۔ اس کے بعد کئی منٹ خاموشی کے ساتھ کرسی پر بیٹھا رہا۔ سازو سامان میری توقع سے بھی کافی بڑھ کر تھا ۔ خیر کیونکہ بونیر میں نے کبھی کام نہیں کیا تھا لہٰذا اظہر اور ان کی اہلیہ کو کچھ بھی نہ بتا پایا۔ صرف یہ مشورہ دیا کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ بہرحال اس معاملے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ دو تین ہفتے گزر گئے تو اظہر کا فون آیا ۔ معلوم ہوا کہ اہلیہ ناہید صاحبہ اور ان کی چند سہیلیاں ‘ ٹرک میں پورا سامان لاد کر بونیر لے گئیں ۔ وہاں بغیر کسی مقامی مدد کے مستحق پناہ گزین لوگوں تک پہنچیں ۔

ان کو مکمل سامان دے دیا۔بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ ان نیک خواتین نے ہر خاندان کو اپنی جیب سے پیسے بھی دیئے تاکہ زندگی کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے ۔یہ تمام کام انھوں نے صرف اور صرف ذاتی حیثیت میں کیا تھا۔ساتھ ساتھ کسی بھی مدد لینے والے خاندان کی عزت نفس کو مجروح نا ہونے دیا۔ میرے لیے تمام حقائق بہت برگزیدہ تھے۔ کیونکہ میں اور میرا خاندان ‘ اپنے معمولی سے وسائل کے ذریعے امدادی کام کرنے کی کوشش میں مصروف کار رہتا ہے۔ اظہر کے خاندان اور میرے خانوادے کی ایک قدر مشترک ہے کہ ہم لوگ اپنے کسی بھی سماجی کام کی تشہیر نہیں ہونے دیتے ۔ یہ بات مجبوراً اس لیے بتانی پڑ رہی ہے کہ میں بیگم اظہر کے کام کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔

چند ماہ پہلے اظہر لاہور میں میرے دفتر آیا تو پہلی بار اس موضوع پر تفصیل سے بات ہوئی ۔ان کی اہلیہ یعنی ناہید صاحبہ نے ایک فلاحی تنظیم ترتیب دی ہے جس کا نام برگِ فیض ہے ۔یہ اپنے اور اپنے خیر خواہوں کے تعاون سے حد درجے اعلیٰ خدمت کیے جا رہی ہے۔ ذرا بات آگے سنیئے ۔ جس کالونی میں وہ رہائشی پزیر ہے، اس میں تعمیرات ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن وہاں کے مزدوروں اور سیکیورٹی گارڈز کے لیے کھانے کا کوئی معقول انتظام نہیں تھا۔ اظہر اور ان کی اہلیہ نے مل کر مقامی مارکیٹ کے برآمدے میں عام لوگوں کے لیے کھانے کی فراہمی شروع کر دی ۔

اس مختصر سی مارکیٹ میں ایک چھوٹا سا ہوٹل ہے ۔ اس سے معاہدہ کر لیا گیا کہ روز مارکیٹ کے برآمدے میں لوگوں کو مفت کھانا کھلائیںگے جس کے اخراجات ناہید صاحبہ اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد برداشت کریں گے۔ کھانے کی تصاویر دیکھ کر حیران ہو گیا۔ کیونکہ سو کے لگ بھگ بندے روز دوپہر کا کھانا بڑے سلیقے سے کھاتے نظر آ رہے تھے۔ جیسے جیسے اس نیک کام کی خوشبو عام لوگوں تک پھیلنے لگی تو کھانا کھانے والوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔ برآمدے کی جگہ کم پڑ گئی ۔ چنانچہ مارکیٹ کی چھت پر طعام کا سلسلہ منتقل کرنا پڑا۔ اظہر سے قطعاً نہیں پوچھا کہ چھت پر کتنے آدمی باعزت طریقے سے کھانا کھا رہے ہیں۔ لیکن گمان ہے کہ ان کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ جن میں مزدور ‘ گارڈ ‘ اور متعدد سفید پوش لوگ شامل ہیں ۔ یہ کام جس قرینے سے کیا جا رہا ہے ، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

بیگم صاحبہ نے ایک اور اچھوتا کام کر کے اچھائی کے قافلے کو ترویج دی ہے ۔ مقامی آبادی جس میں متمول حضرات رہتے ہیں ۔ ان سے استعمال شدہ کپڑے اور چیزیں اکٹھی کر لیتی ہیں۔ پھر اسے ایک چھوٹا سا بازار لگا کر عام لوگوں میں معمولی سی قیمت یا مفت تقسیم کر دیتی ہیں۔ ان پیسوں سے دستر خوان مزید وسیع ہو جاتا ہے۔

ایک بات بتانا بھول گیا کہ ناہید اظہر صاحبہ بڑا طویل عرصہ ہوم اکنامکس کالج لاہور میں تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دیتی رہی ہیں۔ ذہن میں سوال تھا کہ اس نیک کام کو شروع کیسے کیا گیا؟ جواب یہ ہے کہ ڈاکٹرناہید اور ان کی چند رفقائے کار نے 2024ء میں ایک سو پچیس ضرورت مند خاندانوں کو رمضان پیکیج کے نام پر راشن ‘ عید کے کپڑے اور بچوں کے کھلونے تقسیم کیے تھے۔ یہ بذات خود ایک احسن قدم ہے ۔ مگر جب کوئی بھی انسان نیک کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو خدا راستے کھولتے چلا جاتا ہے۔

2025ء میں برگِ فیض کا قیام کیا گیا۔ اور اس کے زیر اہتمام انھی خواتین نے انکریج فارمز میں سحری کا انتظام کر ڈالا ۔ جس میں اس آبادی کے تمام مستحق لوگ روزہ رکھنے کے لیے سحری کرتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ پچھلے سال رمضان ہی میں مزدوروں ‘ مالیوں اور مقامی گارڈز کے لیے عیدی کا انتظام بھی کر دیا۔ اسی اثنا ء میں ناہید صاحبہ کے ذہن میں خدا نے یہ خیال ڈالا کہ عام لوگوں کو کھانا کھلانا صرف رمضان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ سلسلہ سارا سال جاری و ساری ہونا چاہیے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ابتداء میں جس مارکیٹ کی چھت پر لوگوں کے لیے کھانے کے اہتمام کا ذکر کیا ہے ۔ اس کی داغ بیل اس سحری کے انتظام سے نکلی ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے اب یہ معاملہ صرف مخلوق کے لیے کھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی کئی جہتیں سامنے آ چکی ہیں۔ برگِ فیض‘ ان مریضوں کے لیے جو علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں ‘انھیں مالی امداد فراہم کرتی ہے۔

ساتھ ساتھ یتیم بچیوں کے گھر بسانے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ مستحق بچوں کے لیے تعلیمی کتابیں ‘ اسکول کی فیسیں اور بستے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ اگر کسی سفید پوش خاندان کو اپنی چھت بنانے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو یہ تنظیم ان کی مالی امداد بھی کرتی ہے۔اب آپ خود بتائیے کہ بونیر کے مستحق لوگوں سے شروع ہوا کام کس طرح خدا کی مدد سے بڑھتا چلا جا رہاہے ۔

اب تو ناہید اظہر صاحبہ کی ایک منظم ٹیم بن چکی ہے۔ان کا ارادہ ہے کہ لوگوں کو ٹیکنیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کا بوجھ ‘ ذاتی ہنر کی بدولت آسانی سے اٹھا سکیں ۔ یہاں ضرور کہوں گا کہ برگ فیض نے حکومت یا کسی بھی حکومتی ادارے سے کبھی رابطہ نہیں کیا ۔انھوں نے کبھی کسی سے مالی امداد کی درخواست نہیں کی ۔ بیگم ناہید اظہر نے ثابت کیا کہ انسانی خدمت صرف اور صرف جذبے کی محتاج ہوتی ہے۔ اگر خدمت کا جذبہ ذہن میں موجزن ہو تو پھر ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دست غیب سے مدد حیران کن طریقے سے سامنے آ جاتی ہے۔

 علم ہے کہ جب اظہر اور بیگم صاحبہ میرا یہ کالم پڑھیں گے تو شاید ناراض ہو جائیں ۔ کیونکہ وہ اپنے کام کی تشہیر نہیں کرنا چاہتے ۔ مگر ان کی ناراضگی سے قطعاً خائف نہیں ہوں۔ چاہتا ہوںکہ آپ ‘اپنی اپنی سطح پر برگِ فیض کی طرز پر ہر وہ فلاحی کام کرنے کی کوشش کریں جن سے لوگوں کے مسائل قدرے کم ہوجائیں۔یہ ضرور کہوں گا کہ اسلام آباد کے لوگوں کو کم از کم اس نجی تنظیم کے فلاحی کام کو خود جا کر دیکھنا چاہیے۔ اگر انھیں یقین ہو جائے کہ یہ تنظیم خدا کی راہ میں کسی صلے کے بغیر تن تنہا کام کر رہی ہے‘ تو پھر برگِ فیض کے منتظمین کا ہاتھ تھام لینا چاہیے تاکہ اس فلاحی کام کے دائرے کو وسعت دی جا سکے۔ ان کی استطاعت اتنی مضبوط ہوجائے کہ یہ لوگ نیکیوں کا سفر ہمیشہ جاری و ساری رکھ سکیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

اسلام آباد ریڈ زون میں داخلہ بند، جُڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل، شہری رُل گئے

Published

on



وفاقی دارالحکومت میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخلہ بند کر دیاگیا جبکہ جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کر دیا گیا جس کے باعث مسافر رل گئے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈ زون میں داخلہ مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے جبکہ نجی و سرکاری اسکولوں اور دفاتر کو ورک فرام ہوم کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔

سیکیورٹی پابندیوں کے باعث جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہی جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر شہروں سے آنے اور جانے والے افراد دن بھر لاری اڈوں پر خوار ہوتے رہے اور متبادل سفری ذرائع تلاش کرتے رہے۔

بس سروس بند ہونے کے باعث بڑی تعداد میں مسافروں نے ریلوے اسٹیشنوں کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں ٹرینوں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ کراچی سے پشاور جانے والی خیبر میل بھی تین گھنٹے تاخیر کا شکار رہی، تاہم اس کے باوجود مسافر طویل انتظار کرتے رہے۔

شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ عوامی سہولیات کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ عام زندگی کم سے کم متاثر ہو۔

 



Source link

Continue Reading

Trending