Connect with us

Today News

سعودی عرب کا پاکستان کیلیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں توسیع

Published

on


سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت اور 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں توسیع  کا اعلان کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ مملکت سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی منظوری دے دی ہے، جن کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب کا موجودہ 5 ارب ڈالر کا ڈپازٹ اب سالانہ بنیاد پر رول اوور کا پابند نہیں رہے گا بلکہ اسے طویل مدت کے لیے بڑھا دیا جائے گا۔

انہوں نے یہ اعلان واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے لیے سعودی مالی تعاون اور حکومت کی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی سے متعلق اہم تفصیلات شیئر کیں۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ یہ مالی معاونت پاکستان کی بیرونی فنانسنگ ضروریات کے لیے نہایت اہم وقت پر فراہم کی گئی ہے، جس سے زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے اور بیرونی کھاتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے اہداف کے مطابق ذخائر کو تقریباً 18 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے، جو تقریباً 3.3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے واپس کیا، جسے انہوں نے ’نان ایونٹ‘ قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تمام بیرونی ادائیگیاں اور واجبات بروقت پورے کرے گی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ واشنگٹن میں انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور امریکا میں پاکستان کے سفیر کے ہمراہ سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدان سے تفصیلی ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی، تاہم باضابطہ تصدیق سے قبل حکومت نے اس حوالے سے کوئی عوامی بیان نہیں دیا تھا۔

انہوں نے سعودی قیادت، خصوصاً ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدان اور نائب وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل حمایت اور تعاون قابل تحسین ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کی سیاسی و معاشی قیادت کے کردار کو بھی سراہا ۔ انہوں نے وزیر اعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیر اعظم، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور متعلقہ ٹیموں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت اعتماد اور مثبت تاثر انتہائی اہم ہیں ۔ پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی کے تحت گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اور پانڈا بانڈ کے اجرا پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنایا جا سکے۔

انہوں نے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ معاشی استحکام، بیرونی ذمہ داریوں کی تکمیل، اصلاحات کے تسلسل اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ روابط کو برقرار رکھے گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مصلحت کے بازار میں …فاطمہ پیرزادہ

Published

on



 کہا جاتا ہے کہ 12 سے 25 سال تک کی عمر محض خواب دیکھنے کی نہیں، بلکہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی سب سے خوبصورت دہلیز ہوتی ہے۔ یہ وہ عہدِ شباب ہے جہاں انسان کی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک اور حوصلوں میں شاہین جیسی اڑان ہونی چاہیے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ یہی وہ سنہرا دور ہے جب ہم اپنی سوچ کے افق پر نئے رنگ بکھیریں اور اپنی تقدیر کے فیصلے خود اپنے قلم سے لکھیں۔آج میں زندگی کی اسی خوبصورت دہلیز پر کھڑی، خود سے اور اس بے حس نظام سے ایک معصومانہ مگر تلخ سوال کرتی ہوں کہ میں اپنے خوابوں کو آخر کس رنگ سے سجاؤں؟ کیا ان خوابوں کو وہ ’’عدل‘‘ مل پائے گا جس کے بغیر ہر حقیقت محض ایک سراب ہے۔

میں اپنے خوابوں کا نشان کہاں ڈھونڈوں؟ ان بوسیدہ دیواروں پر جہاں عدل کی شمع مدہم پڑ چکی ہے، یا اس ریاست کے افق پر جہاں سچ کی صدا بلند کرنے پر مصلحتوں کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ خواب ہی حقیقت کا روپ دھارتے ہیں، مگر یہاں تو تلخ حقیقتوں کے ہاتھوں خوابوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ تاریخ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جب وجود سے روح نکل جائے تو وہ محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتا ہے جسے مٹی کے سپرد کر دینا ہی قدرت کا آخری قرینہ ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ان ایوانوں سے انصاف کی روح رخصت ہو رہی ہو، تو ان بلند و بالا عمارتوں کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی، پھر ان اونچے عہدوں اور کرسیوں کا ٹھکانہ مٹی کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں رہتا۔

ان سنگِ مرمر کے ایوانوں کی چمک اس وقت ماند پڑ جاتی ہے جب وہاں سچائی کا خون ارزاں ہو جائے، کیونکہ مٹی اپنے محسنوں کو تو یاد رکھتی ہے، مگر مصلحت پسندوں کو تاریخ کے فراموش کردہ ابواب میں دھکیل دیتی،کیونکہ مٹی کبھی جھوٹ نہیں بولتی اور تاریخ کبھی کسی کا قرض نہیں رکھتی۔ میرا قلم ابھی اس مٹی کے نوحے ہی رقم کر رہا تھا کہ سماعتوں میں ایک ایسا شور گونجنے لگا ہے جس نے عالمی ضمیر پر تنی مصلحتوں کی ردائے سیمیں تار تار کر دی ہے۔

میرا ضمیر اب قلم کو مصلحت کی پناہ گاہوں میں رکنے نہیں دیتا، بلکہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں ان جغرافیائی سرحدوں کی قید سے نکل کر ان ایوانوں کا رخ کروں، جہاں عدل کے قصیدے تو پڑھے جاتے ہیں اور انصاف کے علم بھی بلند کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت کی مقتل گاہ میں انسانیت سسک رہی ہے۔ یہ کیسا عالمی تضاد ہے کہ ایک طرف تو حقوقِ انسانی کے معتبر چارٹر تالیف کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف معصوموں کی سسکیوں پر’’ مصلحت وقت‘‘ کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ جہاں ضمیر کی پکار کو مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے، وہاں انصاف محض ایک بے جان استعارہ رہ جاتا ہے، جس کی روح ظلم کی چکی میں پستی رہتی ہے۔ میں ان بلند و بالا منصبوں سے پوچھتی ہوں کہ جب انسانیت کی قبا تار تار ہو رہی ہو، تو تمہارے یہ ’’من کے تمغے‘‘اور ’’وقار کے دعوے‘‘ کس المیے کی نقاب پوشی کر رہے ہیں؟حقیقت تو یہ ہے کہ انسانیت کی قیمت ان مصنوعی تمغوں کی چمک سے ہرگز طے نہیں ہو سکتی۔

یاد رہے کہ جب تاریخ اپنا حساب مانگے گی، تو یہ چمکتے ہوئے اعزازات ان دامنوں پر لگے لہو کے گہرے دھبوں کو کبھی نہیں چھپا پائیں گے۔میں ان عالمی منصفوں کے سامنے ان کا اپنا ہی منشور رکھتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ فلسطین کے وہ معصوم بچے تمہاری ’’انسانی برابری‘‘ کی کسی بھی تعریف سے خارج نہیں کیے جا سکتے؛ ان کا خاک میں اٹا ہوا بچپن تمہارے ان سنہرے الفاظ کی افادیت پر ایک مستقل سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہ خاموش فریاد ہے جسے تمہارے تمام تر عالمی منشور بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔ سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کی وادیوں سے اٹھنے والی سسکیاں اتنی نحیف نہیں ہیں کہ تمہارے عدل کے ترازو میں سما نہ سکیں، بلکہ تمہارا نظام ہی ان کی آواز کی بازگشت سننے سے قاصر ہے۔

جب تمہارا قانون ہر فرد کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، تو دنیا بھر میں بہتا ہوا بے گناہوں کا لہو دراصل تمہارے اس عالمی تحفظ کا تمسخر اڑا رہا ہے۔ میرا یہ اضطراب کسی بغاوت کا اعلان نہیں، بلکہ اس ’’انصاف‘‘ کی پکار ہے جس کا وعدہ تم نے خود انسانیت سے کیا تھا۔ میں اس عدل کی متلاشی ہوں جس کی فراہمی ہر ریاست کا فرض ہے، مگر افسوس! اگر یہ سنہرے اصول صرف طاقتور کی مصلحتوں کے اسیر ہیں، تو ایک عام انسان ان ضابطوں میں اپنا عکس کہاں تلاش کرے؟ یاد رکھیے! جو عدل سرحدوں اور رنگوں کی تمیز کرنے لگے، وہ ضمیر کی عدالت میں ہمیشہ تشنہ ہی رہتا ہے۔اگر آج تمہارے ایوانوں کی خاموشی نہیں ٹوٹتی، تو تاریخ تمہیں ’’منصف‘‘ نہیں بلکہ ’’سہولت کار‘‘ لکھے گی۔

اور آنیوالے کل میں جب انسانیت ان تہذیبی کھنڈرات سے اپنا گم گشتہ وجود تلاش کرے گی، تو تمہارے پاس کاغذ کے بے جان ٹکڑوں کے سوا کوئی جواب نہ ہوگا۔ میں آج تمہارے ضمیر کی دہلیز پر یہ سوال چھوڑتی ہوں، کیا انصاف صرف طاقتور کا ہتھیار ہے، یا حق اور سچ والوں کی آخری پناہ گاہ بھی؟ یاد رکھیے! اگر آج ہم نے اپنا یہ جمود نہیں توڑا، تو سمجھ لیجیے ہم سب نے انصاف کیساتھ ساتھ انسانیت اور اپنے وجود کے زوال پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔

میرے شعور نے ان بدلتے ہوئے حالات میں جو محسوس کیا، ان تمام حقائق اور اس تڑپ کو ایک مختصر آرٹیکل کی ’’تنگ دامنی‘‘ میں قید کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں نے اپنا قلم اس مٹی کے قرض اور ضمیر کی پکار کے سپرد کر دیا ہے اور یہ سفر اب رکنے والا نہیں ہے۔میں نے اپنا فرض ادا کرنے کی شروعات کر دی ہے، اب انتظار ہے ان منصفوں اور تاریخ دانوں کا جن کے قلم میں سچائی کی تپش سہنے کی جرات باقی ہے۔’’ نو ائے خاکِ وفائے سَرِ مقتل کی صورت میں حق کا یہ چہرہ اب وقت کی امانت ہے، جو بہت جلد اپنی تمام تر داستان کیساتھ آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔
 



Source link

Continue Reading

Today News

واشنگٹن کے سائے سے نکلتا ہوا نیا مشرقِ وسطیٰ

Published

on



مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی نقشہ اس وقت عالمی سیاست کے بساط پر ایک ایسے بپھرے ہوئے سمندر کی مانند ہے جہاں ہر لہر ایک نئی دفاعی حکمت عملی کو جنم دے رہی ہے۔ 2026 کے تناظر میں اگر ہم اس خطے کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو تزویراتی گہرائی اور دفاعی حصار کے معنی مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ سفارتی برف پگھلنے کے باوجود، نقشے پر موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ایرانی میزائل پروگرام کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والا تناؤ موجود ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ بیان اس نقشے پر لکھی گئی ان عبارتوں کو واضح کرتا ہے جن میں اب جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ ’’دفاعی دائرہ کار‘‘ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی لائن کو اپنی سرحدوں سے نکال کر پورے خطے میں پھیلا دیا ہے، جس کے نتیجے میں نقشے پر موجود بحیرہ عرب، خلیجِ فارس اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے اب براہِ راست تہران کی عسکری صلاحیت کے زیرِ اثر محسوس ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی عسکری کارروائی صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کی معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوں گے۔

مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر سعودی عرب کی جغرافیائی حیثیت مرکزی ہے، جو ایک طرف ایران اور دوسری طرف افریقہ اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ یہاں امریکی اڈوں کی موجودگی نقشے پر ایسے اہم دفاعی نکات بن چکے ہیں جو ایران کی فضائی برتری کے لیے مستقل خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔ تاہم، 2026 کی موجودہ کشیدگی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب کوئی بھی فوجی اڈہ ناقابلِ تسخیر نہیں رہا۔ ایرانی ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی نے نقشے کی طوالت کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے، جہاں فاصلے اب تحفظ کی ضمانت نہیں رہے۔

جب ایرانی وزیرِ خارجہ سعودی عرب کو برادر ملک قرار دیتے ہیں، تو دراصل وہ نقشے پر ایک ایسی لکیر کھینچ رہے ہوتے ہیں جو عرب ریاستوں کو امریکی مفادات سے علیحدہ کرنے کی ایک سفارتی کوشش ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب نقشے پر موجود امریکی اڈوں کو اپنی سیکیورٹی کے لیے ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دے رہا ہے اور خطے کے ممالک کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ان اڈوں کی موجودگی پورے خطے کے نقشے کو جنگ کے شعلوں کی زد میں لا سکتی ہے۔

یہ جغرافیائی سیاسی دباؤ سعودی عرب جیسے ممالک کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی دہائیوں پرانی دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور ایک ایسے توازن کی تلاش کریں جہاں وہ امریکا کے حلیف بھی رہیں اور ایران کے ہدف سے بھی بچ سکیں۔مسلم دنیا کے وسیع تر تناظر میں، مشرقِ وسطیٰ کا دفاعی نقشہ اب محض چند ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پاکستان سے لے کر ترکیہ اور مصر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک نقشے پر ایک ایسی پوزیشن رکھتے ہیں جہاں وہ مشرق اور مغرب کے درمیان توازن برقرار رکھ سکتے ہیں، اگر ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی و معاشی تعاون بڑھتا ہے، تو نقشے پر ایک نیا ’’اسلامک بلاک‘‘ ابھر سکتا ہے جو بیرونی مداخلت کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔ یہ تبدیلی عالمی قوتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگی کیونکہ اس سے بحیرہ روم اور بحر ہند کے درمیان ایک ایسا سیکیورٹی زون بن جائے گا جہاں واشنگٹن یا برسلز کے بجائے فیصلے تہران، ریاض، انقرہ اور اسلام آباد میں ہوں گے۔ اس دفاعی منظرنامے میں سب سے اہم عنصر ’‘خود مختاری‘‘ کا ہے۔

نقشے پر موجود ممالک اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی زمین کو غیر ملکی طاقتوں کے لیے استعمال ہونے دیں گے تو وہ غیر ارادی طور پر دوسروں کی جنگ کا ایندھن بن جائیں گے۔ ایرانی حملوں نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگ میں ہدف صرف زمین نہیں ہوتی بلکہ وہ ’’اعصابی مراکز‘‘ ہوتے ہیں جو فضائی اور الیکٹرانک کمانڈ کنٹرول کرتے ہیں۔ لہٰذا، مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو اب صرف پہاڑوں اور میدانوں کی نظر سے نہیں بلکہ ان نادیدہ لہروں اور سگنلز کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے جو جنگ و امن کا فیصلہ کرتے ہیں۔

عباس عراقچی کا بیان اسی بدلتی ہوئی حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نقشے پر موجود سرحدیں دشمنی کے بجائے مشترکہ دفاع کی لکیریں بن جائیں، تاکہ بیرونی قوتوں کے پاس مداخلت کا کوئی اخلاقی یا عسکری جواز باقی نہ رہے۔ یہ عمل اگرچہ دشوار گزار ہے، لیکن 2026 کے حالات بتا رہے ہیں کہ مسلم دنیا کے پاس اب اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا کہ وہ اپنے نقشے کی حفاظت خود کرے۔ خود مختاری کا یہ سفر صرف عسکری نہیں بلکہ ذہنی اور سیاسی آزادی کا بھی متقاضی ہے، جہاں علاقائی فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق ہوں۔معاشی طور پر، اگر یہ مستحکم اتحاد حقیقت بنتا ہے، تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں کے رخ موڑ سکتے ہیں۔

سب سے پہلا اور بڑا اثر توانائی کی قیمتوں کے استحکام پر پڑے گا۔ دنیا کے تیل اور گیس کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ان ممالک کے کنٹرول میں ہے، اگر یہ ممالک اپنی پیداواری پالیسیاں ایک دوسرے کیساتھ ہم آہنگ کر لیں، تو وہ پیٹرو ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، جو امریکی ڈالر کی عالمی اجارہ داری کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ اس کیساتھ ہی، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم سمندری راستے اب غیر ملکی بحری بیڑوں کے بجائے علاقائی فورسز کے زیر ِ نگرانی ہوں گے، جس سے انشورنس کے اخراجات میں کمی آئے گی اور علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔ ایران کی گیس پائپ لائنز کا جال اگر سعودی عرب اور ترکیہ کے ذریعے یورپ تک پھیل جاتا ہے، تو یہ خطہ دنیا کا سب سے بڑا ’’انرجی ہب‘‘ بن جائے گا، جس سے کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے۔

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اس نئے منظرنامے میں ایک ’’کھیل تبدیل کرنیوالے‘‘ کی ہے۔ پاکستان اب محض ایک سیکیورٹی فراہم کرنیوالا ملک نہیں رہا، بلکہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک تزویراتی پل بن چکا ہے۔  اگر ایران اور سعودی عرب سی پیک کا حصہ بنتے ہیں، تو وسطی ایشیا سے لے کر خلیج تک ایک ایسا معاشی زون بن جائے گا جو چین کی عالمی سپلائی چین کا مرکز ہوگا۔ اسلام آباد کا کردار اب واشنگٹن کے دباؤ سے نکل کر خود مختار فیصلوں کی طرف مائل ہے، جو اسے مسلم دنیا کے ایک غیر جانبدار اور طاقتور ضامن کے طور پر پیش کرتا ہے۔

پاکستان کی شمولیت اس اتحاد کو عسکری وزن کیساتھ ساتھ ایک ایسی سفارتی ڈھال بھی فراہم کرے گی جو اسے عالمی پابندیوں اور دباؤ سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔آخر میں، مشرقِ وسطیٰ کا یہ نیا رخ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ جغرافیہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا، لیکن جغرافیے کو استعمال کرنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ آج کا مشرق وسطیٰ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں عسکری طاقت اور سفارتی دانش مندی کا ملاپ ناگزیر ہے۔

نقشے پر موجود ہر بندرگاہ، ہر ایئر بیس اور ہر تیل کا کنواں اب ایک تزویراتی اثاثہ ہے جسے بچانے کے لیے علاقائی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ایران کا سعودی عرب کو بھائی کہنا اور امریکی انخلا کا مطالبہ کرنا دراصل اس خواہش کا اظہار ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ دوبارہ سے خطے کے عوام کی امنگوں کے مطابق ترتیب دیا جائے۔

یہ عمل صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک تہذیبی بیداری ہے جو بتاتی ہے کہ بیرونی بیساکھیوں کا دور ختم ہو چکا ہے، اگر یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے، تو آنے والی دہائیاں اس خطے کو دنیا کے سب سے محفوظ اور خوشحال خطے کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھیں گی، جہاں امن کا دارومدار کسی بیرونی بحری بیڑے پر نہیں بلکہ آپسی اعتماد اور مضبوط دفاعی اتحاد پر ہوگا۔ یہ 2026 کا وہ نیا خواب ہے جو اب حقیقت کے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔
 



Source link

Continue Reading

Today News

ایسا کیسے

Published

on



متحدہ عرب امارات کے حوالے سے ایران اور امریکا، اسرائیل جنگ کے تناظر میں سوشل میڈیا کے رنگ ہر طرح کے ہی تھے، خاص کر پاکستان کے تین ارب ڈالرز کے حوالے سے ایک عجیب سی صورت حال تھی کیونکہ پاکستان کے معاشی حالات اور تیل کی بڑھتی قیمتیں بہت سی الجھنیں الگ اس کے باوجود پاکستان کا بڑھ کر ثالثی کا کردار مثبت طور پر نمایاں ہوا ہے لیکن یو اے ای نے ایک مشکل وقت میں ہمارا بھی ہاتھ تھاما تھا۔

ہمیں یہ یاد ہے لیکن ادھر اُدھر سے ٹویٹ کی اڑتی چڑیاں ایک عام انسان کی ذہنی حالت کو بدلنے میں کردار ادا کرتی ہیں اور وہ ہوا بھی جس طرح پاکستان نے ایران اور امریکا سے آئے نمایندوں کو خوش آمدید کہا، اس میں خاص کر پاکستان پر بلا جواز تنقید ایران کے نمایندوں کے حوالے سے ایک فکر انگیز سوچ کو جنم دیتی ہے۔

 جب سے متحدہ عرب امارات کی دولت کا ایک دنیا میں چرچا ہوا لوگوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ ریگستان میں سونے کے محل، یہ محل بنانے، سنوارنے اور مواقع فراہم کرنے میں پاکستان اور اس کی عوام کا بھی حصہ ہے یہ ایک الگ باب ہے لیکن مسلمان ہونے کے ناتے قدرتی طور پر جو دردمند دل رب العزت کی طرف سے عطا کردہ ہے، اس کا کیا کیا جائے جو امت مسلمہ کی محبت میں ہمکتا ہی ہے،وگرنہ اسے سازشوں، افواہوں اور لگائی بجھائی کے جدید طریقوں سے تیار نہ کیا جائے اور آج کل ایسا ہو رہا ہے۔

ان حالات میں لگتا تھا کہ اب میرا اپنا کوئی مددگار نہیں، میں اکیلی کمزور عورت میرا کون سا رشتہ دار یا سگا تھا جو ان کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا۔ ایک جانب دولت مند تو دوسری جانب ایک کمزور غریب خاتون، وہاں رشوت، چرب زبانی کے حربے اختیار کیے گئے اور مظلوم ہونے کے باوجود میں کیس ہار گئی۔میرے لیے یہ اذیت ناک تھا سنا تھا کہ دبئی اور دیگر امارات کی ریاستوں میں قانون کے حوالے سے بہت شفافیت ہے اگر جرم ثابت ہو جائے تو چوکتے نہیں چارج کرنے میں، لیکن میں تو اپنے نصیبوں پر آنسو بہانے کو رہ گئی تھی، اتنے پیسے آنے جانے اور ویزے کے حصول پر خرچ کرکے بھی قصوروار اور کیس خارج۔
’’آپ بتائیں کیا کریں ہم؟‘

’’دیکھیں وہ وکیل بہت مشہور ہے اس طرح کے کیسز کے لیے وہ اپنی چرب زبانی سے جج کو قائل کر لیتا ہے اور لینے دینے کے معاملے میں بھی سنا ہے کہ….‘‘
’’کیا دبئی میں بھی….؟‘‘

’’بھئی یہ دنیا ہے آپ سمجھیں۔ کہاں نہیں چلتی رشوت، مظلوم کا ساتھ دینے کا مطلب ہے کہ آخرت میں انعام ملے گا، اب کون اتنا لمبا انتظار کرے، اس لیے شاید آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا،کیا جج نے پیسے کھا لیے؟‘‘

’’میں نے تو بہت اعتماد اور یقین کے ساتھ کیس کیا تھا کہ میں حق پر ہوں، اب کیا کروں۔ ایک دوسرے ملک میں جا کر خاص پاکستان سے جا کر کتنا پیسہ لگا ہمارا اور صلہ یہ ملا کہ میں ہی حق پر ہو کر ہار گئی۔ اب کس سے درخواست کروں؟ کوئی تو ہوگا اس جج سے اوپر۔ اوپر تو اللہ ہے، پر اس نے بھی تو فیصلے کا حق اپنے بندوں کو دیا ہے۔ کوئی تو ہوگا جو ان کی بھی چیکنگ کریں، جانچیں اصل جھوٹ کا فیصلہ کرے۔‘‘

’’آپ وہاں کے بادشاہ کو ای میل کر دیں کیونکہ والی ریاست کو ہی تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ پھر اللہ آپ کے لیے راستہ بنائے۔‘‘
سوچ کر کہا گیا تھا۔

اور ایسا ہی کیا گیا ایک موہوم سی امید تھی جو اس سوچ کے ٹھنڈے انداز میں کہے جواب میں مقید تھی، پھیل کر نور کا ہالہ بنا چکی تھی۔ یقین کا ہالہ جو رب العزت عطا کرتا ہے بس اس کے تحت ساری الف سے یے تک کی بات لکھ دی گئی کہ دل میں یہی تھا کہ فیصلہ تو آسمان اور زمین کے مالک کا ہے یہ درخواست تو خانہ پری ہے پر اس میں بھی وہی یقین مجسم تھا۔

اور کچھ عرصے بعد۔
’’آپ نے آخر کیا کیا تھا؟‘‘ سوال پوچھا گیا جو پہلے ٹھنڈی سانس کے ساتھ یقین کے موتی تسبیح کی مانند تھما گئے تھے۔
’’جیسا آپ نے کہا تھا کہ دبئی کے بادشاہ کے نام ای میل کریں۔‘‘
’’کیا واقعی…؟‘‘ حیرت نمایاں تھی۔

اس حیرت میں جیت کی آمیزش تھی جو فون کے دوسری جانب سے سنی گئی تھی۔
ساری سازشیں، چرب زبانی، دروغ گوئی، بھڑکانا سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے جب رب العزت کا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔

اس بات کو دس برس سے زائد گزر چکے ہیں۔ اس دوران دنیا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے۔ آج بھی وہ واقعہ لوگوں کی یادداشت اور تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے جب دیبل کے ساحل پر بحری قذاقوں نے سمندری جہاز لوٹا تو ایک عورت نے فریاد کی تھی۔
’’یا حجاج! ہماری مدد کرو۔‘‘

ایک کمزور عورت کی پکار نے ہند کی تاریخ بدل ڈالی تھی، محمد بن قاسم کا نام اس حوالے سے ابھرا گو اور بہت سے حالات و واقعات بھی ابھرتے ہیں لیکن حکمرانوں اور مظلوم رعایا کا تاریخی کنکشن اسلامی منظرنامے پر بارہا ابھرے ہیں۔اس ترقی یافتہ دور میں ایک چھوٹی سی مثال نے کسی غم زدہ دل کو کامیابی اور امید کے دیے تھما دیے تھے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ حالیہ حالات میں مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو در بدر کر دے، حقائق سے آنکھیں پھیر لیں۔ دنیا بہکانے والوں ریاکاروں سے بھری ہوئی ہے پر فیصلہ رب العزت کی جانب سے ہی صادر ہوتا ہے پھر دلوں پر یہ برف کیسی، پکار پر سرد مہری، عزم، یقین اور اوپر والے کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں؟

دیکھیں اور سوچیں کیا یہود و نصاریٰ ہمارے دوست ہو سکتے ہیں۔ چودہ سو سال پہلے سب کچھ تحریر میں آ چکا ہے۔ اور ہم ناامید نہیں ہیں کہ رب العزت کو مایوسی پسند نہیں۔ ایک معمولی سی ای میل پر ایکشن لینے والے آج کیا ردعمل دکھاتے ہیں، وقت منتظر ہے۔
 



Source link

Continue Reading

Trending