Connect with us

Today News

متحدہ عرب امارات کو رواں ماہ قرض کی ادائیگی بروقت کرنے کیلئے انتظامات مکمل

Published

on



حکومت پاکستان نے بیرونی ادائیگیوں کے لیے انتظامات مکمل کرلیے ہیں اور متحدہ عرب امارات کو قرض کی ادائیگی رواں ماہ بروقت کر دی جائے گی۔

وفاقی وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کو سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی مالی معاونت جلد ملنے کا امکان ہے، سعودی عرب کی جانب سے یہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل ہوگی۔

ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب کی مالی معاونت سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی جبکہ دیگر دوست ممالک کے ساتھ بھی مالی معاونت کے لیے بات چیت کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو مکمل مالی تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے، حالیہ سعودی وزیرخزانہ کی دورہ پاکستان کے دوران اعلٰیٰ سطح کی ملاقاتوں میں قرض، ادھار تیل کی سہولت اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے علاوہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے پر اتفاق کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق سعودی وزیرخزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان کے دورہ پاکستان میں سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر قرض اور آئل فنانسنگ سہولت میں توسیع کی درخواست کی گئی، تیل سہولت مزید 5 سال بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کو رواں ماہ تقریباً 4 ارب 80 کروڑ ڈالر قرض کی ادائیگی کے دباؤ کا سامنا ہے، ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی پہلے ہی کی جاچکی، ایسے میں زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے مزید مالی مدد ناگزیر ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

’گریٹر اسرائیل‘ منصوبہ کیا ہے؟

Published

on



ایک طرف پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک امن کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف صیہونی طاقتیں ’گریٹر اسرائیل‘ کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ آخر یہ گریٹر اسرائیل ہے کیا؟

دنیا کی سیاست میں یہ محض کوئی جدید اصطلاح نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی مذہبی کتابوں میں پیوست ہیں۔ عبرانی زبان میں اسے ’ارضِ اسرائیل الکاملہ‘ یعنی ’اسرائیل کی مکمل سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔

یہ نظریہ بائبل کے ان حوالوں پر مبنی ہے جن میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کی زمین کو ایک ’الٰہی وعدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس نقشے میں موجودہ فلسطین کے ساتھ ساتھ اردن، لبنان، شام کے بڑے حصے، عراق، سعودی عرب کا کچھ علاقہ اور مصر کا جزیرہ نما سینا بھی شامل ہو جاتا ہے۔

صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل کے دور سے ہی اس نظریے میں دو واضح سوچیں موجود رہی ہیں۔ جہاں سیکولر صہیونی اسے ایک سیاسی ریاست کے طور پر دیکھتے تھے، وہیں مذہبی گروہ اسے ایک مقدس مشن کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے کبھی اپنی مستقل سرحدوں کا اعلان نہیں کیا، کیونکہ انتہا پسندوں کے نزدیک اسرائیل کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں ان کا ’مذہبی حق‘ ختم ہو۔

اس خواب کی تعبیر کے لیے 1967 کی ’چھ روزہ جنگ‘ ایک بڑا موڑ ثابت ہوئی، جس میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ آج ان علاقوں میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد غیر قانونی یہودی آباد کاروں کی موجودگی اسی توسیعی نظریے کا تسلسل ہے۔

امریکی سیاست، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں نے اس سوچ کو عالمی قوانین کے برعکس اخلاقی اور سیاسی سہارا فراہم کیا۔ موجودہ اسرائیلی قیادت، بالخصوص وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے وزراء، اکثر ایسے نقشے لہراتے نظر آتے ہیں جن میں فلسطین کا وجود ہی غائب ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات اردن کو بھی اسرائیل کا حصہ دکھایا جاتا ہے۔

آج لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں اور جنوبی لبنان میں یہودی بستیوں کا مطالبہ ثابت کرتا ہے کہ یہ انتہا پسندانہ نظریات اب اسرائیل کی ریاستی پالیسی بن چکے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ’گریٹر اسرائیل‘ کا یہ جنون محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا بارود ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نہ ختم ہونے والی آگ میں جھونک سکتا ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

جنگ بندی مذاکرات، ایران کے انکار کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس

Published

on


امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے پیش نظر وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس مشاورتی اجلاس ہوا۔

ایکسپریس نیوز کو ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں اعلی سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت اعلی حکام نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس مین ایران کے مذاکرات میں شرکت سے انکار کے بعد پیدا صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ وزیر داخلہ نے امریکی اور ایرانی سفیروں سے اپنی ملاقات پر وزیراعظم کو اعتماد میں لیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس مین ایران امریکہ مذاکرات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ جبکہ ایران کی مذاکرات میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور

Published

on


پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے صوبائی ایمپلائز سوشل سیکیورٹی (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

پنجاب اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے لیبر اینڈ ہیومن ریسورس کا اہم اجلاس چوہدری امجد علی جاوید کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں متعدد اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے لیبر اینڈ ہیومن ریسورس خواجہ محمد منشا اللہ بٹ نے بھی شرکت کی۔

بل کے تحت محکمہ لیبر کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے کروانے کی شق شامل کی گئی ہے جبکہ سوشل سکیورٹی ادارے کی گورننگ باڈی میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے نمائندے کو بھی شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی رپورٹ کے بعد بل ایوان سے منظور کیا جائے گا جبکہ اس کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔

اجلاس میں فیکٹری ورکرز میں سلیکوسس کے باعث ہونے والی اموات کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ نے اس حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سلیکوسس ایک قابلِ تدارک مگر لاعلاج پیشہ ورانہ پھیپھڑوں کی بیماری ہے جو طویل عرصے تک سلیکا ڈسٹ کے سامنے رہنے سے لاحق ہوتی ہے۔

حکام نے پنجاب بھر میں سلیکوسس کے خطرات پر قابو پانے کے لیے ایکشن پلان بھی پیش کیا۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ پیشہ ورانہ حفاظتی معیارات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ مزدوروں کو حفاظتی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ان کا باقاعدہ طبی معائنہ کروایا جائے۔ اس کے علاوہ آگاہی مہمات چلانے اور متاثرہ افراد کے لیے بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ فیکٹریوں کی مؤثر نگرانی کے لیے مخصوص عملہ تعینات کیا جائے اور وہ فیکٹریاں جو حفاظتی معیارات پر عملدرآمد نہیں کرتیں، انہیں سیل کیا جائے۔





Source link

Continue Reading

Trending