Connect with us

Today News

واشنگٹن، وزیر خزانہ کی سعودی فنڈ سربراہ سے اہم ملاقات، پاک سعودی شراکت داری پر اہم پیش رفت

Published

on



واشنگٹن:

واشنگٹن ڈی سی میں جاری ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سعودی فنڈ برائے ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے اہم ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کے لیے سعودی فنڈ برائے ترقی کی مسلسل معاونت پر اظہارِ تشکر کیا اور مستقبل میں ترقیاتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے سعودی عرب کے وزیر خزانہ کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔

گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی،اس کے عالمی توانائی سلامتی پر اثرات اور ممکنہ معاشی نتائج پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے اس تنازع کے جلد اور پرامن حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے خطے میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔

ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون بڑھانے اور ترقیاتی منصوبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیر خزانہ کی ایک آئی جی اے کے منیجنگ ڈائریکٹر تسوتومو یاماموتو سے ملاقات

 وفاقی وزیر خزانہ نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں 2026 کے موقع پر ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) کے منیجنگ ڈائریکٹر، مسٹر تسوتومو یاماموتو سے ملاقات کی۔

وزیر خزانہ نے ایم آئی جی اے کی جانب سے حجم 500 ملین امریکی ڈالر کی مجوزہ قلیل مدتی تجارتی مالیاتی سہولت کا خیرمقدم کیا

 وزیر خزانہ اسے خوراک، کھاد، توانائی اور ضروری مشینری سمیت اہم درآمدات کی مالی اعانت کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ 

وزیر خزانہ نے اس سہولت پر پیش رفت کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے جاری ثالثی مقدمات اور ان سے وابستہ مالیاتی اثرات کا بھی ذکر کیا۔

 وزیر خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایم آئی جی اے کی غیر جانبدار سہولت کاری خوشگوار حل کے حصول میں معاون ثابت ہوگی،

 جبکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے تحفظ اور قومی مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

حکومت کے پائیدار سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی استحکام کو برقرار رکھنے کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر خزانہ نے ایم آئی جی اے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے اور سازگار سرمایہ کاری ماحول کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان، ترکیہ، سعودیہ اور مصری حکام کا اجلاس، نئے 4 فریقی اتحاد کے ڈھانچے کی حتمی تجاویز تیار

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب خاموشی سے لیکن مستقل مزاجی کے ساتھ ایک نئے 4فریقی ڈھانچے کو باقاعدہ شکل دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیاں اہم علاقائی ممالک پر سفارت کاری اور سیکیورٹی پر زیادہ قریبی ہم آہنگی پیدا کرنے کا دبائو ڈال رہی ہیں۔

حکام اسے باقاعدہ اتحاد کہنے سے کترا رہے ہیں تاہم رابطوں کی رفتار اور تعداد یہ ظاہر کرتا ہے کہ 4ملکی فورم ایک منظم گروپ میں تبدیل ہو رہا ہے جس کا مقصد غیر مستحکم خطے میں نتائج پر اثر انداز ہونا ہے۔

اس حوالے سے حالیہ قدم منگل کو اٹھایا گیا جب ان چاروں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اپنے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی سابق مشاورت کے تسلسل میں اسلام آباد میں ملاقات کی۔

پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ اور ترجمان سفیر طاہر انداربی نے کی۔ ترکیہ کے وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ سفیر موسیٰ کولاکلیکایا نے کی، مصر کی نمائندگی اسسٹنٹ وزیر خارجہ سفیر نزیہ النگاری نے کی  اور سعودی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود نے کی۔

اس اجلاس میں اعلیٰ عہدیداروں نے ان تجاویز کو حتمی شکل دی جو  ترکیہ کے شہر انطالیہ میں  17 اپریل کو انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ یہ مشاورت بالخصوص ایران اور امریکہ کے حالیہ فوجی تناؤ کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔

اس فوجی تناؤ نے سفارتی حساب کتاب بدل کر رکھ دیا ہے اور کشیدگی کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری پسِ ردہ کوششوں کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ 

ان چاروں ملکوں کا وزرائے خارجہ کی سطح پر پہلا اجلاس 19 مارچ کو ریاض میں اس وقت ہوا تھا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ محض دس دن بعد وہ دوبارہ اسلام آباد میں جمع ہوئے جو اس اقدام کی فوری ضرورت اور سنجیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔ 

چند ہی دنوں میں انطالیہ میں ایک اور اجلاس طے پانے کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ یہ رفتار اس مشترکہ اعتراف کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے ابھرتے ہوئے بحرانوں کا جواب دینے کے لیے روایتی سفارتی طریقے اب کافی نہیں رہے۔

سفارتی ذرائع نے ’’ دی ایکسپریس ٹریبیون‘‘  کو بتایا کہ بات چیت کا محور ایک ایسے تعاون پر مبنی فریم ورک کی تشکیل ہے جو تنازعات کی روک تھام، اقتصادی ہم آہنگی اور کلیدی علاقائی مسائل پر سیاسی ہم آہنگی کے گرد گھومتا ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ مربوط نقطہ نظر کی ضرورت پر چاروں دارالحکومتوں کے خیالات میں واضح ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس گروپ کے ڈھانچے پر ابھی کام ہو رہا ہے، لیکن یہ عارضی مشاورت سے آگے بڑھ رہا ہے۔

دورے کے دوران وفود نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی جنہوں نے ان برادر ممالک کے درمیان تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ قریبی ہم آہنگی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی کی صورتحال گہری ہو رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھرتا ہوا چار فریقی ڈھانچہ کسی باقاعدہ بلاک کے بجائے ایک عملی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے جس کا محرک علاقائی استحکام، توانائی کی سلامتی اور سفارتی اثر و رسوخ میں مشترکہ مفادات ہیں۔

دریں اثنا ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق  حالیہ اجلاس مقصد باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا اور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

سفارتی سطح پر بھارت میں تبدیلی کی بحث

Published

on


2025-26میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان نے علاقائی اور عالمی سطح کی سفارت کاری کے محاذ پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کا اعتراف عالمی اور علاقائی ممالک ،میڈیا اور رائے عامہ بنانے والے افراد یا مختلف اہم تھنک ٹینک بھی کررہے ہیں۔ یہ یقینا پاکستان کی اہم کامیابی ہے ، ہمیں ڈپلومیٹک محاذ پر اس وقت بھارت پر برتری بھی حاصل ہے ۔

پاکستان کی سفارت کاری دنیا نے زیادہ لچک دار اور توازن اور اعتدال پر مبنی پالیسی و جارحیت یا جنگ کے مقابلے میں ایک امن پسند اور تنازعات کے خاتمے یا جنگ سے دور رہنے کے طور پردیکھا ہے۔ سفارتی محاذ پر پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کے مقابلے میں اپنی اہمیت کو بھی منوایا ہے جو پاکستان کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔خود امریکا کی جانب سے مسلسل پاکستان کی حمایت نے بھی ہماری سفارتکاری کی اہمیت کو بڑھادیا۔

اب حالیہ امریکا،اسرائیل اور ایران تنازعہ میں جو ثالثی کا کردار پاکستان سمیت دیگر ممالک نے ادا کیا ہے اور جو بیٹھک امن کی پاکستان میں سجائی گئی ہے، اس کا بھی بڑا کریڈٹ پاکستان کی سفارت کاری سمیت ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو جاتا ہے ۔یہ بات بھی بھارت کی سطح پر جو موجودہ نریندر مودی کی حکومت ہے اس کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور سفارت کاری میں پاکستانی ریاست کے لیے ابھرتے ہوئے نئے امکانات کو ہضم کرنا آسان نہیں ہے ۔اگرچہ اس علاقائی سیاست میں بھارت ایک بڑی سیاست بھی رکھتا ہے اور معاشی سطح کی ایک بڑی طاقت ہے ۔مگر پاکستان نے اس طاقت میں جو یکطرفہ سوچ تھی اس جمود کو توڑا ہے ۔

بھارت کے ساتھ اپنے لیے ایک توازن پیدا کیا ہے اور اس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جارہا ہے ۔اگر پاکستان امریکا ،ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان عملی طور پر مفاہمت یا جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان کی سفارتی اہمیت عالمی اور علاقائی سطح پر اور زیادہ بڑھ جائے گی۔اگرچہ بھارت نے جنگ بندی کی کھل کر حمایت کی ہے مگر پاکستان کی کوششوں کا زکر نہ کرکے اس نے اپنی سیاسی تعصب پر مبنی سوچ کا اظہار بھی کیا ہے ۔لیکن جب عالمح سطح پر ہمیں پزیرائی مل رہی ہے تو ایسے میں بھارت کی پاکستان کے لیے کھل کر تعریف نہ کرنا بھی ان کے ہی مخالف سمجھا جائے گا۔

پاکستان نے تواتر کی بنیاد پربھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں موجود ڈیڈ لاک کو توڑنے اور بامقصدبنیاد پر مذاکرات کی دعوت دی مگر ہر بار مودی کی حکومت نے یہ سمجھا کہ مذاکرات اب پاکستان کی کمزور ی ہے۔پاکستان جو معاشی طور پر بھارت کے مقابلے میں کمزور ملک ہے ایسے میں اس کا عالمی اور علاقائی سیاست یا سفارت کاری یا دنیا میں موجود جو عالمی تنازعات یا جنگ چیلنجز ہیں، ان میں ثالثی کا کردارظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے اپنے کارڈ کمال ہوشیاری سے کھیلے ہیں۔اسی بنیا د پرہم نے عالمی اور علاقائی سیاست میں اپنے لیے جگہ بھی پیدا کی ہے ۔ایک طرف امریکا اور چین اور دوسری طرف ایران سمیت سعودی عرب یا خلیجی ممالک اور پھر روس سمیت دیگر یورپی ممالک نے حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ اب ہم عالمی سطح کی سیاست میں ماضی کے مقابلے میں ایک مختلف جگہ پر کھڑے ہیں ۔

ہماری یہ نئی سٹرٹیجک پوزیشن خود بھارت کے لیے قابل قبول نہیں اور وہ اب نئی سیاسی حکمت عملیوں کی بنیاد پر سوچ رہا ہے ۔کیونکہ بھارت جو اس خطہ میں ایک بڑے کردار کے طور پر خود کو پیش کرتا تھا اور اسے کسی سطح پر عالمی پزیرائی بھی حاصل تھی مگر 2025-26میں اب جو نئے حالات بنے ہیں یا بن رہے ہیں ، اس میں پاکستان کی اہمیت بھی زیادہ بڑھ گئی ہے اور عالمی دنیا آسانی سے پاکستان کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔بلکہ اب تو بھارت میں یہ نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ ہمیں پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں کچھ اہم اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا۔ان کے بقول اگر ہم مسلسل پاکستان کو ماضی کی طرح نظر انداز کرتے رہے تو اس سے پاکستان علاقائی اور عالمی سیاست میں آگے کھڑا ہوسکتاہے ۔

اس لیے جو موجودہ حالات ہیں اس میں پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں بھی بڑی پیش رفت ہونی چاہیے۔لیکن ہمیں ابھی ایسی کوئی سوچ بھارت کی موجودہ حکومت اور نریندر مودی میں دیکھنے کو نہیں مل رہی اور وہ مزید دیکھو کی پالیسی پر ہی قائم ہیں۔لیکن نریندر مودی پر داخلی سیاست کا دباو بڑھ رہا ہے کہ ان کی پالیسیوں نے بھارت کو سفارت کاری کے محاذ پر کمزور اور پاکستان کو مضبوط کیا ہے ۔کیونکہ بھارت میں یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان نے بھارت کو ’’ جنگ کے بیانیے‘‘ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے اور جو برسوں سے بھارت نے پاکستان کے مقابلے میں اپنی دفاعی طاقت کو قائم کیا ہوا تھا، وہ کمزور ثابت ہوا۔اس عمل نے پاکستان کو امن اور بھارت کو جارح کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کی وجہ بھی بھارت کی سطح پر مودی سرکار اور ان کی پاکستان یا مسلم دشمنی کی سیاست بھی ہے۔

ایسے لگتا ہے کہ اس وقت بھارت پاکستان کے مقابلے میں پیچھے کھڑا ہے اور پاکستان اس وقت فرنٹ فٹ پر کھڑا ہے یا کھیل رہا ہے ۔یقینا یہ سب کچھ بھارت کے لیے آسانی سے قابل قبول نہیں ہوگا اور وہ اب بھی پس پردہ ایسی حکمت عملیوں پر سوچ وبچار کررہا ہوگا کہ وہ کیسے سفارتی محاذ پر پاکستان کو دوبارہ اپنے مقابلے میں کمزور پوزیشن پر لاسکے مگر اب یہ کام بھارت کے لیے آسان نہیں ہوگا ۔

کیونکہ بھارت اس وقت ایک دفاعی پوزیشن پرکھڑا ہے اور اسے اپنے موجودہ جنگی طرز عمل یا پاکستان دشمنی کے ایجنڈے میں سیاسی لچک اور توازن پر مبنی پالیسی کو اختیار کرنا ہوگا۔کیونکہ علاقائی سیاست میں اب جو اہمیت پاکستان کو مل گئی ہے، اسے بھارت آسانی سے نہ تو نظر انداز کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرسکتا ہے ۔اس لیے سفارت کاری کو جو نیا میدان علاقائی سطح کی سیاست میںسجا ہے، اس سے بھارت کو ضرور ایک مثبت حکمت عملی کے تحت فائدہ اٹھانا چاہیے۔

لیکن ساتھ ساتھ جہاں پاکستان کے لیے علاقائی یا عالمی سیاست میں مثبت سفارت کاری کے پہلو سامنے آئے ہیں وہیں ان سے ہمیں عملی طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے داخلی مسائل سے نمٹنا بھی اہم ہوگا۔کیونکہ یہ ہی موقع ہے کہ ہم اپنی داخلی درستگی پر توجہ دیں اور ان معاملات سے جڑے مسائل پر کوئی کوتاہی نہ کی جائے ۔کیونکہ جو بھی قوتیں ہیں جن میں بھارت پیش پیش ہے وہ پاکستان کی داخلی سطح کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی کارڈ یا حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔

اسرائیل اور بھارت بھی دونوں کا اس وقت یہ ہی ایجنڈا ہوگا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارت کاری کو روکا جائے۔اس لیے ہمیں زیادہ خوش اور پرجوش ہونے کی بجائے زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔ہماری سفارت کاری میں زیادہ گہرائی اور سنجیدگی کی ضرورت ہے ۔بالخصوص افغانستان کے معاملے میں بھی جو حالیہ پیش رفت چین کی معاونت سے ہوئی ہے، اس کو ہمیں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ترقی کے لیے مالیاتی نظام کی اہمیت

Published

on


فنانشل سسٹم خصوصاً بینکاری نظام کسی بھی معاشرے میں صرف رقم جمع کرانے یا نکالوانے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک مکمل مالیاتی نظام کا مرکز ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی اور معاشی امور کے ماہرعزیز سنگھور کے مطابق جدید دنیا میں بینکنگ نظام کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں ہے۔ بینکنگ سسٹم صارفین کو بچت کی سہولت فراہم کرتے ہیں، قرضے دیتے ہیں، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور مالیاتی شفافیت کو فروغ دیتے ہیں۔ جب کسی ملک یا شہر میں بینکاری نظام متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

آج کے دور میں فنانشل سسٹم ترقی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔جدید ریاستوں میں مالیاتی نظام کو بنیادی ڈھانچے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح سڑکیں،اسپتال اور اسکول ضروری ہوتے ہیں، اسی طرح بینک بھی ایک بنیادی سہولت شمار ہوتے ہیں۔ کسی جگہ یہ سسٹم نہ ہو یا اگر موجود ہے تو اس میں تعطل یا رکاوٹ آجائے تو پھر اس علاقے کی سماجی زندگی کا ایک اہم پہلو مفلوج ہوجاتا ہے۔ اس کے اثرات سب سے زیادہ عام شہریوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

سرکاری ملازمین، پنشنرز، مزدور اور چھوٹے کاروباری افراد اس صورتحال سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ جن لوگوں کی ماہانہ آمدنی کا انحصار تنخواہوں یا پنشن پر ہوتا ہے، انھیں اپنی رقوم وصول کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایک چھوٹے تاجر کے لیے روزمرہ لین دین، چیک کلیئرنس، رقم کی ترسیل اور کاروباری ادائیگیاں بینکنگ سسٹم کے بغیر ممکن نہیں ہوتیں۔ جب یہ سہولیات میسر نہ ہوں تو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔ اس کا براہ راست اثر مقامی منڈیوں، روزگار کے مواقع اور تجارتی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔

 بلوچستان کا ضلع نوشکی جغرافیائی، تاریخی اور تجارتی لحاظ سے ایک اہم خطہ ہے۔ یہ ضلع نہ صرف سرحدی تجارت کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے بلکہ ماضی میں قافلوں کے گزرگاہ کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتا رہا ہے۔ اس کا شمار ملک کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے، یہ شرح تقریباً 60 فیصد ہے۔ نوشکی ڈویژن کی آبادی 207,834 ہے اور خواندگی کا تناسب 57 فیصد کے قریب ہے مگر خواتین میں خواندگی کا تناسب خاصا کم ہے۔ آبادی میں سے 35 فیصد افراد کی عمریں 10 سال سے کم ہیں ، نوشکی مسلسل دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس دہشت گردی سے عوام براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

بینکاری سہولیات نہ ہو نے کی وجہ سے کاروباری طبقے کو ہی نہیں بلکہ عوام کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے متعلقہ بینکوں کے سربراہان کو باضابطہ خطوط ارسال کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ بینک برانچز کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ عوام اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے۔ یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں دہشت گردوں اور شرپسندوں نے نوشکی میں مالیاتی اداروں کی برانچز کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس کے نتیجے میں مالیاتی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔

 نوشکی کی جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نوشکی کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت اور مویشی بانی پر مشتمل ہے۔ یہاں گندم، جو اور خاص طور پر زیرہ کی پیداوار مشہور ہے۔ کسان اپنی فصلوں کی فروخت کے بعد رقم کی محفوظ ترسیل اور ذخیرہ کے لیے بینکوں پر انحصار کرتے ہیں۔ایک پہلو پنشنرز اور بزرگ شہریوں کی مشکلات ہیں۔ ایسے افراد جو پہلے ہی جسمانی کمزوری یا بیماری کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اپنی پنشن وصول کرنے کے لیے دوسرے شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا خطوط ارسال کرنا ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم صرف خطوط سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک عملی اقدامات نہ کیے جائیں۔ اگر اس معاملے میں مشکلات حائل ہیں تو عارضی برانچز یا موبائل بینکنگ یونٹس کے ذریعے سسٹم فعال کیا جاسکتاہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے دور دراز اضلاع پہلے ہی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں، ایسے میں مالیاتی سسٹم کی عدم موجودگی ترقی کے عمل کو مزید متاثر کرتی ہے۔ ضروری ہے کہ اس کام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔

 آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بینکنگ سسٹم کسی بھی معاشرے کی اقتصادی شہ رگ ہوتے ہیں۔ ان کی عدم فعالیت یا بندش صرف مالیاتی سرگرمیوں کو نہیں متاثر کرتی بلکہ ایک پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔

ضلع نوشکی جیسے اہم علاقے میں بینکوں کی فعالیت نہ صرف عوامی ضرورت ہے بلکہ ایک انتظامی ذمے داری بھی ہے، اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ لہذا بلوچستان کی صوبائی حکومت، وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ بلوچستان خصوصاً ضلع نوشکی کے کاروباری طبقے اور سیاست دانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں تاکہ نوشکی کے شہریوںکو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور علاقے کی معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو سکیں۔ بلوچستان مسلسل برسوں سے بدامنی کا شکار ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending