Connect with us

Today News

کائنات، اکلوتی زمین اور بے قابو انسان

Published

on



’’ہم نے اپنے خاندان کو بہت یاد کیا… خلا میں سب کچھ ہے، مگر گھر جیسی کوئی جگہ نہیں… اور زمین جیسی کوئی دنیا نہیں۔‘‘یہ الفاظ Artemis II کے ایک خلا باز کے تھے جو گزشتہ ہفتے چاند کے گرد تاریخی خلائی سفر کے بعد زمین پر واپس آئے اور میڈیا سے گفتگو کی۔ یہ ایک کامیاب خلائی مشن تو تھا ہی لیکن ایک گہرا انسانی احساس اور اعتراف بھی تھا۔

دوسرے ساتھی خلاباز نے خلا کے منظر کو یوں بیان کیا: ’’چاروں طرف ایک وسیع، سیاہ خلا ہے، خاموش، لامتناہی… اور اس کے بیچ ایک چھوٹا سا نیلا سیارہ، جیسے سمندر میں تیرتی ایک لائف بوٹ… پرسکون، مگر نہایت نازک۔‘‘ ایسے لمحے کو ماہرین ’’اوور ویو ایفیکٹ‘‘ کہتے ہیں یعنی وہ کیفیت جب انسان پہلی بار زمین کو ایک مکمل اکائی کے طور پر دیکھتا ہے۔ نہ سرحدیں، نہ جنگیں، نہ سیاست… صرف ایک سیارہ، ایک گھر، ایک مشترکہ تقدیر…

اس حالیہ سفر میں انسان نے تقریباً 695,000 میل کا فاصلہ طے کیا، لگ بھگ 10 دن خلا میں گزارے، مشن پر قریب 4 ارب ڈالر خرچ ہوئے مگر واپسی پر سب سے بڑی دریافت نہ چاند تھا، نہ ٹیکنالوجی بلکہ زمین کی قدر کا احساس تھا!
یہی احساس برسوں پہلے Carl Sagan نے بھی دلایا تھا۔ کارل ساگان بیسویں صدی کے ایک نامور امریکی ماہر فلکیات، کاسمولوجسٹ اور سائنس کو عام فہم انداز میں پیش کرنے والے (Science Communicator) کے طور پر مشہور ہیں۔

کارل ساگان ماورائے زمین ذہین مخلوق (Extra-terrestrial intelligence) کی تلاش کے لیے کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ ان کا مشہور نقطہ نظر، جو بعد میں ’’Pale Blue Dot‘‘ کے تصور میں ڈھلا، یہ تھا کہ کائنات کی بے پایاں وسعت میں زمین ایک ننھا سا نقطہ ہے مگر یہی نقطہ زندگی کا واحد معلوم مرکز ہے۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ’’ہمیں اس سیارے کی قدر کرنی چاہیے، کیونکہ ہمیں اب تک کہیں اور کوئی ایسا گھر نہیں ملا۔‘‘ یہ محض شاعرانہ بات نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔ آج تک جتنی بھی کھوج ہوئی ہے، کہیں بھی ایسی زندگی نہیں ملی جو زمین جیسی ہو۔ پانی، فضا، درجہ حرارت، حیاتیاتی تنوع… یہ سب عناصر ایک نازک توازن میں یہاں موجود ہیں اور یہی توازن زندگی کو ممکن بناتا ہے۔

اسی حقیقت کو مزید تقویت اس وقت ملی جب James Webb Space Telescope نے کائنات کی دور ترین تصاویر بھیجیں۔ اربوں نوری سال دور کہکشاؤں، ستاروں اور کہکشانی دھول کے یہ مناظر نہ صرف سائنسی لحاظ سے حیران کن تھے بلکہ فلسفیانہ طور پر بھی جھنجھوڑ دینے والے تھے۔ ان تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سائنسدان نے کہا:
’’How insignificant we are‘‘

یعنی ہم اس کائنات میں کس قدر حقیر ہیں! یہ جملہ محض عاجزی کا اظہار نہیں بلکہ ایک آفاقی حقیقت کا اعتراف تھا۔ کائنات کی وسعت کے سامنے انسان واقعی ایک معمولی وجود ہے مگر اس معمولی وجود کے پاس ایک غیرمعمولی چیز ہے: زمین۔

یہ دلچسپ حقیقت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ایک طرف ہم کائنات میں انتہائی غیراہم ہیں لیکن دوسری طرف ہمارے پاس ایک ایسا سیارہ ہے جو بے حد قیمتی ہے اور منفرد بھی۔ مگر ہم اس قیمتی سیارے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ اگر ہم خلا بازوں کی آنکھوں سے زمین کو دیکھیں تو وہ ایک خوبصورت، نیلا اور سفید کرہ ہے… زندگی سے بھرپور، پرسکون۔ مگر زمین کے اندر رہ کر ہم نے اس کا ایک مختلف چہرہ بنا دیا ہے: آلودگی، جنگ، استحصال اور بے ہنگم ترقی کا چہرہ۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے زمین کے وسائل کو بے دریغ استعمال کیا ہے۔ جنگلات کاٹے گئے، دریا زہر آلود ہوئے، فضا دھوئیں سے بھر گئی۔ ماحولیاتی تبدیلی اب ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے… گلوبل وارمنگ، گلیشیئرز کا پگھلنا، اور موسمی شدتیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔

اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے جو شاید زیادہ تباہ کن ہے: جنگ، پچھلی صدی کی دو عالمی جنگوں نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مگر ہم نے اس سے سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں جاری ہیں اور ہر جنگ نہ صرف انسانی جانوں کو نگلتی ہے بلکہ زمین کے جسم پر بھی زخم چھوڑ جاتی ہے۔ روس یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ہاتھوں غزہ اور لبنان کی تباہی اور حالیہ امریکا ایران جنگ۔ ان سب میں ہزاروں ٹن گولہ بارود استعمال ہوا۔ ہر بم، ہر دھماکہ، زمین کی مٹی، پانی اور فضا کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔

یہ سب کچھ اس سیارے پر ہو رہا ہے جسے خلا سے دیکھنے پر ایک ’’پرامن کشتی‘‘ یعنی لائف بوٹ کہا گیا۔ جنگوں کے علاوہ ہمارا روزمرہ طرزِ زندگی بھی کم نقصان دہ نہیں۔ ہم نے ایک ایسی طرز معیشت اور طرز زندگی تشکیل دی ہے جو صرف کھپت یعنی consumption پر مبنی ہے۔ زیادہ استعمال، زیادہ پیداوار، زیادہ فضلہ… یہی ترقی کا پیمانہ بن چکا ہے۔ پلاسٹک کے ڈھیر، آلودہ سمندر، ختم ہوتے جنگلات… یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اپنے اس گھر کو آہستہ آہستہ برباد کر رہے ہیں۔

کارل ساگان نے کہا تھا کہ زمین ہماری ذمے داری ہے۔ مگر ہم نے اس ذمے داری کو نظرانداز کیا ہے۔ James Webb Space Telescope کی تصاویر گواہ ہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے اور ہم اس میں کتنے تنہا ہیں۔ اربوں کہکشائیں ہیں، مگر زندگی کا کوئی دوسرا ثبوت نہیں۔ اس تنہائی میں زمین ایک معجزہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جتنے بھی طاقتور ہو جائیں، ہم زمین کے بغیر کچھ نہیں۔ ہم خلا میں زندہ نہیں رہ سکتے، ہم کسی اور سیارے پر فوری طور پر آباد نہیں ہو سکتے۔ ہماری بقا اسی سیارے سے جڑی ہوئی ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سیارے کی حفاظت کی ذمے داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں؟ دنیا کو چھوڑیں، ہم اگر اپنی طرف دیکھیں تو بھی تصویر واضح ہو جاتی ہے۔ 1971 میں جب پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا تو مغربی پاکستان کی آبادی تقریباً 6 کروڑ تھی جب کہ آج یہ تعداد 24 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور کمزور منصوبہ بندی نے وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ اکثر بغیر صفائی کے دریاؤں اور نالوں میں ڈالنا اور پانی کا بے دریغ استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ماحول کی تباہی کسی نہ کسی انداز میں جاری ہے، اس پر جاری جنگیں سیر پر سوا سیر ہیں۔

یہ سب اسی زمین کے ساتھ ہو رہا ہے جو ہمارا واحد مسکن ہے۔ انسان اس نعمت یعنی زمین کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا بھی ہے اور سب سے بڑا نقصان پہنچانے والا بھی۔
فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ اس سیارے کی قدر کرے، اسے محفوظ رکھے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا چھوڑ جائے یا پھر اپنی بے حسی، اپنی جنگوں اور اپنی اندھی ترقی کے ذریعے اس واحد گھر کو تباہ کر دے۔ 
 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی کا نوحہ

Published

on



وطن عزیز پاکستان 1947میں معرض وجود میں آیا، لیکن اتنا وقت گزر جانے کے باوجود ہمارا یہ پیارا وطن مستحکم نہ ہوسکا،جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ اس کو اولین قیادت جیسی بے لوث ایماندار قیادت آج تک نصیب نہ ہوسکی ۔

خدا کی حکمت کہ ان عظیم الشان اکابرین کو بے مروت موت نے زیادہ مہلت نہ دی اور پھرلوٹ کھسوٹ کرنیوالے ٹولے، اس پر قابض ہوتے رہے اور یوں بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے یہ بتدریج تنزلی کی شاہراہ پر رواں دواں ہے۔قدرت نے اس سے انگنت وسائل سے مالامال کیا ہے پر وہ سارے وسائل قبل اس کے عوام الناس کی فلاح کے لیے استعمال ہوں ،وہ اس سے اپنی ہوس کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے رہے اور کر رہے ہیںجب کہ عوام ان کی تنخواہوں و دیگر مراعات کے لیے چندہ جمع کرکے خصوصا ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں تاکہ ان کی نہ ختم ہونے والی ضروریات زندگی کو پورا کیا جاسکے۔

وطن عزیز کے دیگر شہروں کی ترقی خوبصورتی دیکھ کر جہاں دل خوش ہوتا ہے، وہاں روشنیوں کے شہرکراچی کی تباہی وبربادی، لاچاری محتاجی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ بدنصیب شہر کراچی وہ ’’مظلوم ماں‘‘ ہے جو دیگر تمام شہروں ودیہاتوں سے آنیوالے افراد کو نہ صرف گلے لگاتی ہے بلکہ وہ جب تلاش معاش کے لیے یہاں آتے ہیں تو ایک ماں کی بے لوث مامتا ان کے لیے امڈ امڈ کر آرہی ہوتی ہے اور وہ انھیں اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔

یہ دیگر تمام شہروں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے آمدنی پیدا کرتی جس سے ملکی نظام کی چکی چلتی ہے مگر افسوس صد افسوس جب اس کے حقوق کی بات آتی ہے تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ دور حاضر میں کراچی انگنت مسائل سے دوچار ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ،اس کی بیشتر سڑکیں تباہ کردی گئیں، ترقیاتی کاموں کو نظر انداز کر کے جس سے عوام کا بھلا تو دور برا ہی برا ہوتا چلا جا رہا ہے، منٹوں کا راستہ گھنٹوں میں بدل گیا ہے اور اب بھی اس نہ ختم ہونے والے منصوبوں کے اختتام کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ رہتی دنیا میں ہی مکمل ہونگے یا قیامت کے صور کے ساتھ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

پانی ،بجلی،گیس کا شدید بحران اوپر سے ستم یہ کہ بل عدم دستیابی کے باوجود اپنی مقررہ تاریخوں پر ہوش رباء اضافے کیساتھ عوام کے منہ پر دے مارے جاتے ہیں۔سڑکوںکی مرمت کے دوران پانی کی لائنوں پر ضرب لگنے سے کئی کئی دن تک پانی کا رسائو سڑکوں پر اور گھروں میں عدم دستیابی۔گیس کی بندش وہ بھی اس عظیم ملک میں جہاں گیس دستیاب ہوئی ۔حیرت انگیز بات نہیں، عوام قیمت سے گیس اونچے اونچے نرخ پر خریدتے ہیں اور بل بھی ادا کرتے ہیں یہ کیسا انصاف ہے؟ بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام الناس نے مہنگے مہنگے سولر پینل لگوالیے ہیںاپنی سہولت کے پیش نظر۔

اگر برسراقتدار حکومت عوام کو وہ بنیادی سہولتیں مہیا نہ کرسکے جس کی وہ ذمے دار ہے تو کیا وہ اقتدار میں رہنے کی اہل ہے؟لیکن اس بات کا احساس ان اشرافیہ کو کہاںہوسکتا ہے ان کی فکر میں تو یہ بات ہی نہیں کہ ایک دن اس فانی زندگی نے ختم ہوجانا ہے۔ عوام بے حس ہوچکے ، بلکہ مردہ ہوچکے ہیں، ہر ظلم و ستم کو خاموشی سے برداشت کرکے اس جبر کی چکی میں پس پس کر کہ اب وہ اپنے حق کی آواز اٹھانا تک بھول گئے توکیا رب نہیں دیکھ رہا، فرشتے نامہ اعمال لکھ نہیں رہے، سب کچھ ہورہا ہے جیسا اللہ رب العزت کی منشاء ہے صرف رسی دراز چھوڑی ہوئی ہے جس دن اس سے وہ تنگ کرے گا سب کو سب کی گئی حق تلفیاں یاد آجائیں گی۔

آئے دن نت نئے ٹیکسز ان پرلاگو کیے جاتے ہیں جب کہ آمدنی چار آنے اور خرچہ روپیہ والا حساب ہے۔یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی انسانی پہنچ سے بہت دور ہوگئی ہیں۔دور حاضر میںدی جانیوالی تعلیم و تربیت تو بہت دورکی بات اس لائق نہیں کہ گزرے معاشرے جیسے اسلاف تیار ہوسکیںجس میں والدین اور اساتذہ برابر کے قصور وار ہیںچونکہ دونوں ہی نے اپنے فرائض کو ایمانداری کے ساتھ نبھانا چھوڑ دیا جو کہ ماضی کے بے لوث والدین اور اساتذہ کا طرہ امتیاز تھیں،ہر کوئی نفسا نفسی کی دوڑمیں لگا ہوا ہے جس کے زیر اثر وہ اپنی عطا پر خوش نہیں بلکہ دوسرے کی عطا پر شاکی نظر آتا ہے اور یوں وہ اپنی خوشیاں بیچ کر اپنے لیے دکھ درد جمع کررہا ہے ۔

عوام بے حسی کی مورت بن گئے ہیں تو اللہ ماشاء اللہ ان پر حکمران بھی ویسے ہی مسلط کردیے گئے ہیں جو اتنے احساس سے عاری ہیں کہ گزر گاہوں کی ایک ساتھ بندش کردیتے ہیں جو کہ کسی ناگہانی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں اور یوں یہ کراچی شہر کی ’’گڈ گورننس‘‘کی بھرپور عکاسی کرتی جا بجا نظر آتی ہیں جب کہ ان ترقیاتی کاموں کی نسبت مہنگائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک سفید پوش بھی اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرسکے نہ کہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کے یا خودکشی کر کے اس جہاں فانی سے کوچ کر جائے، پر ان باتوں پر نظرتو صرف وہ حکمران پالیسی ساز ڈال سکتے ہیں جنھیں خوف خدا ہو اور وہ عوامی مشکلات تکلیفوںکو آسانی میں بدلنے کا جذبہ رکھتے ہوں،اپنی عاقبت کے لیے پر افسوس صد افسوس موجودہ حالات کو دیکھ کریہ بات واضح طور پر عیاں ہے کہ ان کو وطن عزیز کے شہریوں سے ان کے دکھ درد مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔

حالیہ پیڑولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافہ جس کا اثر صرف ذرائع آمدورفت کی سہولتوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات زندگی بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں ۔شہر کراچی کی کئی معروف شاہراہیںٹریفک جام کا ایسا کرب ناک منظرنامہ پیش کرتی نظر آتی ہیں جب کہ انڈر پاس ،بائی پاس و دیگر جدیدیت کے نام پر نت نئے ڈیزائین سڑکوں پر بنائے گئے جن کی قلعی بارش کے چند قطروں سے کھل جاتی ہے پھر دوبارہ ان کی مرمت کے نام پر لاکھوں کروڑوں کی خرد برد کر کے اپنی خندق بھرے جاتے ہیں پھر بھی لالچ اور ہوس کی نہ ختم ہونے والی بھوک مٹتی ہی نہیں چونکہ حرام ان کے منہ کوجو لگ گیا ہے اور اس ٹریفک جام میں پھنسے مظلوم عوام کا وقت تکان اور سب سے بڑھ کر اس ایندھن کا کیا جس کی قیمت مڈل کلاس کو اپنی جیب سے دینی پڑتی ہے۔

ظاہر ہے والدین بڑی مشکلات اٹھا کر اپنی اولادکو پروان چڑھاتے ہیں، وہ کہاں اس بات کو تصور میں لاسکتے ہیں کہ ہم اپنے آرام اور خوشی کے لیے اپنے بچوں کے خوبصورت مستقبل میں رکاوٹ بنیںاوروہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر انھیںاپنے سے دور کردیتے ہیں۔ سعادت مند اولاد بھی چکی کے دوپاٹوں میں پس کر نہ یہاں کے ہو پاتے ہیں نہ وہاں کے۔ لیکن مشرقی ممالک خصوصا پاکستان میں رہنے والے والدین کی اکثریت آخری عمر میں اپنی مٹی سے والہانہ محبت و عقیدت کے باعث اس کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور یوں محبت کرنے والی اولاد اور والدین مختلف نفسیاتی دبائو کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 
 



Source link

Continue Reading

Today News

ایران امریکا مذاکرات میں پیشرف ہوئی ہے لیکن کئی اہم نکات پر اختلافات ہیں، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

Published

on



ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں کچھ معاملات پر اتفاق ضرور ہوا ہے، تاہم کئی اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ، دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اب وہ بالواسطہ ذرائع سے پیغامات بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔

ایرانی اسپیکر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جن میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کی میزائل و عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا شامل تھا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، وینزویلا نہیں ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

وزیر اعظم سعودیہ، قطر اور ترکیہ کے دورے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے

Published

on



وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے سہہ ملکی دورے کے بعد ہفتہ کو وطن واپس پہنچ گئے۔

وزیراعظم نے تین روزہ دور سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دوران تینوں برادر ممالک کی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

 وزیرِ اعظم نے برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کی مزید مضبوطی، خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی کوششوں اور خطے و عالمی صورتحال پر عالمی رہنماں سے تبادل خیال کیا۔

 انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکیہ کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر تولگا برمیک اور دیگر نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف واپسی پر لاہور پہنچ گئے۔

ایئرپورٹ پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور سینیئر ایڈوائیزر پنجاب علی ڈار نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ محسن نقوی نے وزیر اعظم کو اپنے دورہ ایران پر بریفنگ بھی دی۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ میں خوبصورت شہر انطالیہ سے روانہ ہو رہا ہوں، میں یہاں پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی اور گرمجوش استقبال پر اپنے عزیز بھائی رجب طیب اردوان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں انطالیہ سے خوشگوار یادوں کے ساتھ روانہ ہو رہا ہوں اور اس عزمِ نو کے ساتھ کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائیگا۔



Source link

Continue Reading

Trending