Today News
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری
پاکستان کی امن کوششیں رنگ لے آئیں، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران، پاکستان کا شکریہ۔ ایرانی صدر نے بھی جنگ روکنے میں پاکستان کا کردار قابل ستائش قرار دے دیا۔ اسرائیل ، لبنان میں جنگ بندی کا آغاز ہو گیاہے۔ یہ انتہائی غیرمعمولی پیش رفت ہے۔
پاکستان نے اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا اور اس کے بعد وہ ترکیہ بھی گئے جب کہ پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران گئے جہاں انھوں نے ایران کے اہم لیڈروں سے بات چیت کی جس کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان سامنے آیا۔ جب سے خلیج جنگ شروع ہوئی ہے، اس معاملے میں پاکستان نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان نے اسلام آباد میں متحرک فریقوں کو اکٹھا کیا اور انھیں آپس میں بات چیت کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس کے بعد ہی معاملات آگے بڑھے ہیں اور اب امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنگ بند ہو جائے گی اور تنازعات کا کوئی نہ کوئی آبرومندانہ حل بھی نکل آئے گا۔ فی الحال جو باتیں اور خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ ملی جلی ضرور ہیں لیکن عالمی منڈی میں جو مثبت ٹرینڈ دیکھنے میں آیا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ عالمی سٹیک ہولڈرز کو خلیج میں امن کا مکمل یقین ہے۔
اگلے روز کی خبروں کے مطابق سوشل میڈیا اکائونٹ X پر پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ لبنان میں جنگ بندی ہو چکی ہے، ہرمز کی خلیج کے ذریعے تمام تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے راستہ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے، البتہ فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھولنے کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کھلنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم، فیلڈ مارشل دونوں بہترین اور عظیم لوگ ہیں، امریکی صدر نے مدد کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے بھی اظہار تشکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کے لیے شاندار دن ہے، امر یکہ بھی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ آبی گزرگاہ ہمیشہ کھلی رہے۔ تاہم ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل نہیں ہو جاتا۔ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا اکائونٹ پر اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات چیت جاری ہے۔ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا، ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی صدر کے دعوئوں کو مسترد کردیا ہے۔
ادھر تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں صورت حال مزید بہتر ہو جائے گی۔
امریکی صدر نے ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے جنگ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جوہری پروگرام کی وجہ سے یہ کرنا پڑی، یہ جنگ بہت جلد ختم ہونی چاہیے اور یہ جنگ اچھے طریقے سے ختم ہونے جارہی ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا حزب اللہ نے معقول انداز اپنایا تو یہ ان کے لیے ایک عظیم لمحہ ہوگا، کوئی ہلاکتیں نہیں ہوں گی، آخر کار امن لازمی طور پر ہونا چاہیے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی علاقائی استحکام کے لیے اہم کامیابی ہے،یہ دن لبنان کے لیے تاریخی ہو سکتا ہے، معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔حزب اللہ کے مسئلے سے مناسب انداز میں نمٹ لیں گے۔ امریکی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے معاملات پر بھی خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور اس حوالے سے بھی اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایران امن، استحکام اور خطے میں برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، ایرانی عوام کا وعدے توڑے جانے کی وجہ سے امریکا پر اعتماد نہیں۔
انھوں نے زور دیا کہ عالمی قوانین اور اصولوں کے تحت ایرانی قوم کے حقوق برقرار رہنے چاہیں، امریکا اس تنازع میں فاتح بن کر نہیں ابھرے گا، تنازع سے خطے کے ممالک اور دنیا سنگین نقصانات اٹھائے گی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی کشیدگی کی صورت میں مخالفین کو بھاری ضربوں اور ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آرمی ڈے پر تقریب سے خطاب میں ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ دشمن کے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور آخری سانس تک اپنے عہد پر قائم رہیں گے۔
دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ ایران ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ادھر لبنان اور اسرائیل میں 10 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا جس کے بعد دارالحکومت بیروت میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا، جشن منایا گیا اور بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
جنگ بندی کے آغاز کے ساتھ ہی بیروت و دیگر علاقوں میں پناہ پینے والے ہزاروں خاندانوں نے جنوبی مضافات (Dahieh) کی طرف واپسی شروع کر دی، لوگ اپنے گھروں کی حالت دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان اور خطے کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی حزب اللہ کی ہوئی ہے، جنگ بندی لبنان کی مزاحمت اور ایران کی حمایت کا نتیجہ ہے۔
حزب اللہ نے لبنان میں جاری جنگ بندی کے دوران اسرائیل کی جانب سے کسی بھی دھوکے یا غداری کی صورت میں کہا ہے کہ وہ انگلی ٹریگر پر رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمت کے تناظر میں مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اہم پیش رفت ہے اور یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ سعودی عرب نے بھی لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے کھولنے کی خبر پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ اس حوالے سے پاکستان کے لیے بہتر خبر یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 32 روپے 12 پیسے کمی کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ساتھ جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔
اس صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خلیج میں مستقل طور پر جنگ بند ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ امریکا اور ایران جنگ کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو اس لڑائی سے متاثر نہ ہو رہا ہو۔ اب اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اسی لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے بھی اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔
ابھی جنگ کے حوالے سے فریقین کی جانب سے متضاد خبریں آ رہی ہیں۔ امریکا کے صدر ٹرمپ بھی ملی جلی باتیں کر رہے ہیں جب کہ ایران کی طرف سے بھی اسی قسم کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس قسم کی خبریں اس وقت تک آتی رہیں گی جب تک کہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل بھی یہ کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ہمارے پاس اچھی خبریں ہیں۔ برطانیہ، یورپی یونین اور چین نے بھی صورت حال میں اس مثبت تبدیلی کو سراہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ ہیں ہے کہ خلیج میں جنگ بند کرانے کے لیے پاکستان نے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران جانا غیرمعمولی واقعہ ہے۔ وہاں انھوں نے ایرانی ٹاپ قیادت کے ساتھ جو بات چیت کی ہے، اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے پوری دنیا پر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ایسا مضبوط ملک ہے جو بڑے تنازعات کو حل کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس صورت حال میں اگر بھارتی پالیسی کو دیکھا جائے تو ان کی سفارت کاری ناکام نظر آتی ہے۔ بھارت دنیا میں تنہا نظر آ رہا ہے۔ اتنی بڑی سفارتی سرگرمیوں کے درمیان بھارت کہیں نظر نہیں آیا جب کہ پاکستان اس عالمی ڈپلومیسی کا محور بنا ہوا ہے۔
Source link
Today News
ایران امریکا مذاکرات میں پیشرف ہوئی ہے لیکن کئی اہم نکات پر اختلافات ہیں، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں کچھ معاملات پر اتفاق ضرور ہوا ہے، تاہم کئی اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ، دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اب وہ بالواسطہ ذرائع سے پیغامات بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔
ایرانی اسپیکر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جن میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کی میزائل و عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا شامل تھا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، وینزویلا نہیں ہے۔
Source link
Today News
وزیر اعظم سعودیہ، قطر اور ترکیہ کے دورے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے سہہ ملکی دورے کے بعد ہفتہ کو وطن واپس پہنچ گئے۔
وزیراعظم نے تین روزہ دور سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دوران تینوں برادر ممالک کی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
وزیرِ اعظم نے برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کی مزید مضبوطی، خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی کوششوں اور خطے و عالمی صورتحال پر عالمی رہنماں سے تبادل خیال کیا۔
انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکیہ کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر تولگا برمیک اور دیگر نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف واپسی پر لاہور پہنچ گئے۔
ایئرپورٹ پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور سینیئر ایڈوائیزر پنجاب علی ڈار نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ محسن نقوی نے وزیر اعظم کو اپنے دورہ ایران پر بریفنگ بھی دی۔
قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ میں خوبصورت شہر انطالیہ سے روانہ ہو رہا ہوں، میں یہاں پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی اور گرمجوش استقبال پر اپنے عزیز بھائی رجب طیب اردوان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں انطالیہ سے خوشگوار یادوں کے ساتھ روانہ ہو رہا ہوں اور اس عزمِ نو کے ساتھ کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائیگا۔
Source link
Today News
آزما کردیکھیں !!
ہم کئی بار کہتے ہیں اور کئی بار کہتے بھی نہیں، بس محسوس کرتے ہیں اور اپنی کیفیت کو کوئی نام بھی نہیں دے سکتے … ہم بہت بور ہوگئے ہیں، زندگی میں یکسانیت آ گئی ہے اور اپنا آپ بے کار لگنے لگتا ہے، اس صورت حال میں ہمیں یہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے گھر والے بھی ہم سے اکتا گئے ہیں اور جب ذہن ایک منفی بات پر یقین کر لیتا ہے تو وہ نیلی عینک پہن کر ہر بات کو نیلا ہی دیکھتا ہے چونکہ اپنے اندر سوچیں منفی ہوتی ہیں تو ہر کسی کی ہر بات منفی لگتی ہے، خواہ وہ روز مرہ کی عام سی باتیں ہوں، وہ فقرے جو گھر میں پہلے بھی آپ سے کہے جاتے تھے، اب آپ سنتے ہیں تو آپ کو ان کے ہر ہر حرف میں کئی معانی چھپے نظر آتے ہیں،آپ سادہ سی بات کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ، بین السطور دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
… ابا آپ ٹھیک سے بیٹھا کریں، جس طرح آپ بیٹھے ہیں، اس طرح تو آپ کو کمر کا درد بھی ہو سکتا ہے۔
… اماں، ایک بات کو بار بار نہ دہرایا کریں۔
… ابا آپ ہر وقت فون پر رہتے ہیں، یہ آپ کے لیے اچھا نہیں ہے۔
… اماں آپ اپنے فون کو بیگ میں رکھتی ہیں تو اس پر رگڑیں لگ لگ کر خراب ہو جاتا ہے۔
… میرے دوستوں کے آنے پر آپ دونوں ذرا آہستہ بولا کریں۔
یہی ساری باتیں اور لہجے ہوتے ہیں جو ہمارے بچوں کے ہمارے ساتھ ہمیشہ ہوتے ہیں مگر ہوتا یہ ہے کہ جب ہم عمر کی سہ پہر اور شام میں پہنچتے ہیں تو ہمیں یہ سب باتیں چبھنا شروع ہوجاتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ یہ وہ بچے ہیں جن کے ساتھ ہم ہمیشہ نرمی سے بات کرتے تھے، ان کے سوالات پر ہم انھیں چوم چوم کر جواب دیتے تھے لیکن یہ فطرت ہے اور اسی لیے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم اپنے والدین کو بڑھاپے کی عمر میں پاؤ تو ان سے نرمی سے بات کرو… اس لیے کہ والدین اپنی جوانی اپنی اولادوں کے لیے گنوا دیتے ہیں اور جب وہ بڑھاپے میں پہنچتے ہیں تو اس وقت اولادوں کی ترجیحات بدل چکی ہوتی ہیں۔
اب ہم لوگوں کو چاہیے کہ اس تیز رفتار زمانے میں اولادوں سے سوائے اس کے کوئی امید نہ رکھیں کہ وہ ہم سے رابطہ رکھیں، ہمارے ساتھ ایک ہی گھر میں ہیں، دوسرے گھر میں، دوسرے شہر میں یا دوسرے ملک میں، بس اتنا تعلق رکھیں کہ ہمیں ان کی موجودگی محسوس ہو- ہم اپنی عمر کے اس دور میں اپنے لیے ایسی مصروفیات تلاش کریں جو کہ ہمیں وقت ہی نہ دیں کہ ہم بچوں کی لاپروائی کے روگ لگا کر بیٹھ جائیں، منفی سوچ سوچ کر اپنی صحت خراب کر لیں۔ چلیں کچھ طریقے بتاتی ہوں کہ ہم اور آپ کیا کر سکتے ہیں۔
… ان تمام چیزوں کی فہرست بنائیں جو آپ کرنا چاہتے تھے اور کر نہ سکے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا،آپ کی فہرست ابھی تک آپ کے لیے ہے، اس کی تکمیل کی کوشش کریں۔
… اچھا استاد ڈھونڈیں یا آن لائن کسی اچھی ایپ سے اپنی مذہبی کتاب کو سمجھ کر پڑھیں ، کچھ دعائیں اور آیات زبانی یاد کرسکیں تو کریں، نہ بھی کر سکیں تو کم از کم جو کچھ پڑھتے ہیں، اس کا مطلب آتا ہو۔
… کبھی کبھار کسی فلاحی ادارے، اولڈ ہوم ، دارالامان، اسپتال یا یتیم خانے کا چکر لگائیں، وہاں کچھ وقت صرف کریں تو آپ کو اپنی زندگی میں اتنی نعمتیں نظر آنے لگیں گی جو پہلے آپ کو نظر نہیں آتی تھیں۔
… اچھی کتابیں پڑھیں، جس وقت کتاب آپ کے ہاتھ میں ہو، اس وقت آپ کے اور کتاب کے بیچ کوئی اور مخل نہ ہو۔ دنیا کے ہر موضوع پر کتابیں پڑھیں ،آن لائن بھی پڑھیں لیکن اپنی رہی سہی نظر کو بچانے کے لیے اسکرین سے ہٹ کر کچھ کاغذی کتابیں پڑھیں، نئی کتاب کے اوراق کی خوشبو کا اپنا ایک لطف ہے اور اسے سرہانے رکھ کر سونا اور بھی اچھی،آپ خوابوں میں بھی اس کتاب کے سفر میں رہتے ہیں، ان جگہوں پر اور ان کرداروں کے بیچ خود کو موجود پاتے ہیں۔
… کسی نئی جگہ کا سفر کریں جہاں کوئی آپ کو جانتا نہ ہو، آپ کے نام، عہدے، عمر یا دولت کے ترازو کے بغیر… یہ آپ کو بتاتا ہے کہ بغیرکسی لیبل کے آپ کون ہیں، جب تک زندگی ہے، سفر کرنے میںکوئی مضائقہ نہیں ہے، اللہ تعالی نے یہ دنیا ہمارے لیے بنائی ہے، اس کی کاریگری دیکھنے کے لیے ہمیںمالی اور جسمانی سکت ہو تو جہاں اور جب جا سکیں ، ضرور جائیں۔ چھوٹی موٹی الجھنوں سے ہٹ کر سفر اور سفر کے ساتھیوں کے ساتھ لطف انداز ہوں۔
… اپنے فون اور دوستوں کے بغیرکبھی اکیلے کسی ہوٹل یا ریستوران میں کھانا کھائیں، بے شک وہ کوئی گمنام سی جگہ ہو، سادہ سا کھانا بھی کھا سکتے ہیں، اس سے آپ اپنی ہی کمپنی سے لطف اندوز ہونا سیکھیںگے۔
… کبھی بالکل تنہا ہوں تو فون پر بھی کسی سے بات کئے بغیر ایک دن گزار کر دیکھیں ، کچھ رکے ہوئے چھوٹے موٹے کام کریں، لان میں پودوں کو دیکھیں اور پرندوں کے چہچہانے کی آوزیں سنیں، اپنے ساتھ وقت گزاریں،آپ کو احساس ہو گا کہ آپ کے دماغ میں کتنا شور مچا ہوا ہے۔
… بغیر کسی منزل کاتعین کئے لمبی سیر کے لیے جائیں، ہر وقت بیٹھے رہنا یا سیر کے لیے نکلنے میں ہچکچاہٹ سے آپ کی طبیعت میں سستی پیدا ہو جاتی ہے اورآپ خود کو ایک جگہ پر محدود کر لیتے ہیں ۔کبھی کبھی حرکت سمت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اٹھیں اور چلیں۔
… اکیلے کھڑے ہو کر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے نظارے دیکھیں، پارک میں جا کر گھاس کے قطعے پر بیٹھ کر اس کی نرمی اور ٹھنڈک کو محسوس کریں، دھوپ میں بیٹھیں اور جسم کو قدرتی حرارت محسوس اور جذب کرنے دیں ۔ بارش میں بھیگیں، سردی کی بارش ہو تو خود کو اچھی طرح گرم کپڑے پہن کر محفوظ کر کے ، برآمدے میں بیٹھ کر سوپ یا کافی پئیں، جسم کو اندر سے حرارت ملے گی اور باہر کی سردی سے بچت ہو گی۔ ساحل سمندر پر جا کر پورے چاند کی روشنی میںجوار بھاٹا دیکھیں، کس طرح لہریں ساحل پر آ کر سر پیٹتی اور لوٹ جاتی ہیں، آپ کو اندازہ ہو گا کہ خوبصورتی کو تنہا آنکھ بھی دیکھ سکتی ہے اور دل محسوس کر سکتا ہے۔
… فطرت میں بیٹھیں اور صرف سکون سے گہرے سانس لیں، سکون اکثر خاموشی میں چھپا ہوتا ہے خواہشوں کی تکمیل میں نہیں۔کبھی بالکل الٹا کرنے کو دل چاہے تو کسی شور شرابے والی جگہ پر جا کر اپنے دل کی دھڑکنوں کو شور کی تال پر اچھلتے ہوئے محسوس کریں ۔
… کسی کو بتائے بغیر اپنے خوابوں کا تعاقب کریں، ترقی اکثر مختلف ہوتی ہے، اگر کوئی دیکھ نہ رہا ہو تو خواب ہم مرتے دم تک دیکھتے ہیں تو ان کا تعاقب بھی آخری سانس تک کیا جا سکتا ہے۔ آپ زندگی کو نئے ڈھب سے جی کر دیکھیں،آپ کو ہر لمحہ نیا لطف محسوس ہو گا۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی