Connect with us

Today News

امن کی کوشش ، انسانیت کی بقاء کے لیے امید کا پیغام

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کو عملا بلاک کر دیا گیا ہے ، اگرتہران معاہدہ کرنا چاہتاہے تو اب بھی مذاکرات کی میزپر واپس آسکتاہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل صدرٹرمپ کے بحری محاصرے یا ناکہ بندی کے فیصلے کی حمایت کرے گا جب کہ نیٹو اتحادیوں نے ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ناکہ بندی کے منصوبے میں شامل نہیں ہوں گے۔

اتحادیوں نے تجویز دی ہے کہ وہ صرف جنگ کے خاتمے کے بعد ہی مداخلت کریں گے اور محاصرے میں حصہ لے کر تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔ چین نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بین الاقوامی برادری کے مفادات کے خلاف ہوگی اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امن اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران امریکا تنازع طے کرانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، ہماری کاوشوں سے جنگ بندی اب بھی قائم ہے،انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان کو جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کا موقع ملاہے۔دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف آیندہ 48 گھنٹوں میں سعودی عرب اور ترکیے کا دورہ کریں گے، وزیر اعظم کی سعودی اور ترک حکام سے اہم معاملات پر مشاورت متوقع، اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ساتھ ہوگا۔

عالمی سیاست کے افق پر جب کشیدگی کے سیاہ بادل اپنی پوری ہیبت کے ساتھ چھا جاتے ہیں اور طاقت کے ایوانوں میں فیصلے انسانی تقدیروں پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں تو تاریخ ایک بار پھر اپنے اوراق کھول کر ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ جنگ کا ہر باب دراصل ایک اجتماعی المیے کی داستان ہوتا ہے، جب کہ امن کی ہر کوشش انسانیت کے لیے امید کا ایک نیا چراغ روشن کرتی ہے۔

ایسے ہی ایک نازک اور فیصلہ کن لمحے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ایک ایسے سفارتی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے ،جہاں نصف صدی سے برسرپیکار دو طاقتیں، امریکا اور ایران، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بات چیت پر آمادہ ہوئی ہیں۔ یہ پیش رفت محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئے امکان کی نوید ہے، جس میں طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

 یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور اگرچہ کسی واضح معاہدے پر منتج نہیں ہوا، لیکن سفارت کاری کے اصولوں کے مطابق یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایسے معاملات میں فوری نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔ اصل کامیابی اس بات میں مضمر ہوتی ہے کہ فریقین بات چیت پر آمادہ ہوں اور ایک دوسرے کے موقف کو سننے کے لیے تیار ہوں، یہی وہ پہلا قدم ہوتا ہے جو کسی بھی بڑے معاہدے کی بنیاد بنتا ہے۔

 دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے اس کشیدگی کو ایک نئی شدت بخشی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان ایک ایسا اقدام ہے جس کے اثرات نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی شہ رگ کہنا مبالغہ نہیں، کیونکہ دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اگر اس گزرگاہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں، توانائی کی قیمتوں اور صنعتی پیداوار پر فوری طور پر مرتب ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ چین نے اس ممکنہ ناکہ بندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین کو تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

چین کا یہ موقف نہ صرف اس کے اقتصادی مفادات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کو بھی ظاہر کرتا ہے، جہاں وہ خود کو ایک ذمے دار اور متوازن طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔اسی طرح نیٹو کا اس تنازع میں براہ راست شامل ہونے سے گریز ایک اہم اشارہ ہے۔ مغربی اتحاد کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کرنا ،اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنے کے خواہاں ہیں، یہ رویہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اب طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور توازن کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

 اسرائیل کا کردار بھی اس پورے منظرنامے میں نہایت اہم ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے امریکی موقف کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کرتا ہے جو ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کر سکے، تاہم یہ حکمت عملی بھی اپنے اندر کئی خطرات سموئے ہوئے ہے، کیونکہ دباؤ کی پالیسی اکثر ردعمل کو جنم دیتی ہے۔ایران کی جانب سے سخت ردعمل اور اس کی عسکری قیادت کی وارننگز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حالات کسی بھی وقت بگڑ سکتے ہیں۔

جب ریاستیں اپنی خودمختاری کو خطرے میں محسوس کرتی ہیں تو وہ اکثر جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتی ہیں، اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سفارت کاری کی ناکامی کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ایسے میں جے ڈی وینس کی جانب سے مذاکرات کو مثبت قرار دینا ایک امید افزا اشارہ ہے۔ اگرچہ یورینیم افزودگی اور جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے پیچیدہ معاملات کا حل فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مسلسل بات چیت، اعتماد سازی اور تدریجی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ موقع ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ ایک طرف یہ اس کے لیے عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مستحکم کرنے کا سنہری موقع ہے، تو دوسری جانب یہ ایک بڑی ذمے داری بھی ہے، اگر پاکستان اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے تو وہ نہ صرف ایک موثر ثالث کے طور پر ابھر سکتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں ایک اہم کردار بھی حاصل کر سکتا ہے،تاہم کسی بھی ناکامی کی صورت میں اس کے اثرات اس کی خارجہ پالیسی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازع کو کس حد تک طول دینا چاہتی ہیں اور کس حد تک اسے حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اکثر تنازعات صرف اصولی اختلافات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے بھی جاری رہتے ہیں۔ توانائی کے وسائل، جغرافیائی اہمیت اور سیاسی اثر و رسوخ جیسے عوامل اس تنازع کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔آبنائے ہرمز کی جیو اکنامک اہمیت اس تمام بحث کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔ یہ محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے، اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر فوری اور شدید ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس تنازع کو بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں فعال کردار اور لبنان کے مسئلے پر اس کا واضح مؤقف بھی اس کی خارجہ پالیسی کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان نے جس جرات، بصیرت اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نازک ذمے داری کو قبول کیا ہے، وہ نہایت قابلِ تحسین ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسی امید کی کرن ہیں جو ایک تاریک عالمی منظرنامے میں روشنی کا پیغام دے رہی ہیں، اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ پاکستان جنگ کے خاتمے اور قیام امن کے لیے اپنی بھرپور کوشش کررہا ہے، توقع اور امید ہے کہ بہت جلد نہ صرف جنگ بندی میں توسیع ہوگی ، بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرا دور بھی شروع ہوگا، جس میں مزید فریقین بھی شریک ہوکر جنگ کے خاتمے میں اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تاریخ انسانی شاہدہے کہ جنگ ہمیشہ تباہی وبربادی کا پیشہ خیمہ ثابت ہوتی ہے، اور اس کے خاتمہ ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے، دنیا کو امن کو ضرورت ہے، یقینا امریکا، ایران اور اسرائیل کو بلاخر ایک امن معاہدے پر متفق ہونا پڑے گا، یہی وقت کیا اہم ترین ضرورت ہے اور اسی میں انسانیت کی فلاح کا راز مضمر ہے۔

دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام ہے، اگر امریکا، ایران اور اسرائیل اس حقیقت کو تسلیم کر لیں تو ایک ایسا مستقبل ممکن ہے جہاں جنگ کے بجائے امن، نفرت کے بجائے ہم آہنگی اور تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ حاصل ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری انسانیت کے لیے فلاح اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا کے ساتھ مزید براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، ایران

Published

on


ایران نے امریکا پر بے جا مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دوسرے دور کے براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے بتایا کہ امریکا اہم معاملات پر اپنے بے جا مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے بقول یہی وجہ ہے کہ ہم اس وقت امریکا کے ساتھ دوسرے دور کے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔

نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو ایران کے بنیادی خدشات کو سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی ضرورت ہے جن میں سے ایک ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیئم امریکا کو دینے پر بھی تیار نہیں۔ یہ ناقابلِ قبول شرط ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ فریقین (امریکا اور ایران) کے درمیان بالواسطہ رابطہ برقرار ہے لیکن ہماری خواہش ہے کہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے فریم ورک معاہدہ طے پا جائے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ جلد سامنے آئے گا۔ 

 





Source link

Continue Reading

Today News

لاہور: سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہری پریشان

Published

on



لاہور میں سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ مہنگائی اور دکانداروں کی منافع خوری پر قابو نہ پایا جا سکا جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

 سرکاری نرخوں اور اوپن مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ پیاز کی سرکاری قیمت 50 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم یہ 80 سے 100 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح ٹماٹر 75 روپے کے بجائے 150 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

دیگر سبزیوں میں آلو 20 روپے کے بجائے 35 روپے، بھنڈی 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ دیسی ٹینڈے 160 روپے کی بجائے 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ لہسن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں دیسی لہسن 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ چائنیز لہسن 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کیلا 215 روپے کے بجائے 350 سے 400 روپے، سیب کالا کولوں پہاڑی 215 کے بجائے 350 روپے جبکہ انگور ٹافی 380 کے بجائے 700 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ سفید انگور بھی 500 روپے سے زائد میں دستیاب ہیں۔

گوشت کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چھوٹے بکرے کا گوشت 1800 روپے کے بجائے 2700 سے 3000 روپے فی کلو، گائے کا گوشت 800 کے بجائے 1200 روپے جبکہ برائلر مرغی کا گوشت 540 کے بجائے 570 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

شہریوں محمد جاوید اور رشید احمد کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان تھے، اب گراں فروشی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر گراں فروشی کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں، جن میں مقدمات کا اندراج اور جرمانے بھی شامل ہیں، تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں استحکام نہ آ سکا۔



Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز پر سیکیورٹی ٹیکس دینے والوں کو ترجیحاً پہلے گزرنے دیں گے؛ ایران

Published

on


آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایک دن بعد ہی ایران نے امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم نہ کرنے کے ردعمل میں دوبارہ بند کردی اور اب ایک اہم اعلان سامنے آیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے محدود تعداد میں تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ان کے بقول آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اب نئی شرائط کے تحت ترجیح دی جائے گی جس کے تحت سیکیورٹی اور سیفٹی اخراجات ادا کرنے والے جہازوں کو پہلے گزرنے کی اجازت ملے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ جو جہاز نئے پروٹوکولز پر عمل کریں گے اور سیکیورٹی اخراجات (ٹیکس) ادا کریں گے انھیں ترجیح دی جائے گی اور جو ادائیگی نہیں کریں گے ان کے گزرنے کو مؤخر کر دیا جائے گا۔

ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ آج سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنا دشمن کے ساتھ تعاون سمجھا جائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

پاسداران انقلاب کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام امریکا کے ناکہ بندی کو ختم نہ کرنے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ردعمل میں اٹھایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ آج پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا اور سخت چیکنگ بھی کی جب کہ بحری جہازوں کو پیغامات بھیجے گئے کہ آبی گزرگاہ دوبارہ سے بند کردی گئی ہے۔

اسی دوران پاسداران انقلاب کی گشت پر مامور گن بوٹس کا آمنا سامنا کچھ ایسے جہازوں سے ہوا جنھوں نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔ کم از کم 4 جہازوں کو ہوائی فائرنگ کرکے واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔

ان میں سے دو تیل بردار جہازوں پر بھارتی پرچم لہرا رہا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز پر روکنے پر نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

 





Source link

Continue Reading

Trending