Today News
paec another international milestone – ایکسپریس اردو
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے عالمی سطح پر ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے جہاں لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کولیبریٹنگ سینٹر قرار دے دیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تاریخی کامیابی پر انمول میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے کولیبریٹنگ سینٹر کی تختی پیش کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے ممبر سائنس ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ اس اعزاز کے بعد پاکستان کے پانچ ادارے عالمی ایجنسی کے کولیبریٹنگ سینٹر بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے 45 ممالک میں موجود 92 مراکز کی فہرست میں پاکستان کا چوتھے نمبر پر ہونا باعثِ فخر ہے۔
تقریب کے دوران تقریباً ایک ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی جدید ٹرو بیم لیناک مشین کا افتتاح بھی کیا گیا اور نئی کیموتھراپی بے کے قیام سے مریضوں کی گنجائش 20 سے بڑھا کر 50 کر دی گئی ہے۔
ڈائریکٹر انمول ڈاکٹر عامرہ شامی اور ڈی جی ڈاکٹر شازیہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی ادارے کی تحقیق اور طبی معیار میں بہتری کا مظہر ہے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ملک بھر میں 21 کینسر اسپتال چلا رہا ہے جہاں 80 فیصد مریضوں کو علاج کی جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
Today News
اسلام آباد مکالمے کی ایک نئی کوشش
اسلام آباد کے مذاکرات نے امید کی ایک مدہم سی شمع روشن کی۔ امریکا اور ایران کے نمائندے ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مکالمے کی صورت پیدا ہوئی، اگرچہ اس ملاقات سے کوئی فوری اور خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس واپس لوٹ گئے لیکن اس کے باوجود یہ لمحہ اپنے اندر مستقبل کی کئی ممکنہ راہوں کی جھلک لیے ہوئے تھا۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں اپنے پیچھے صرف تباہی اور پشیمانی چھوڑ جاتی ہیں جب کہ مذاکرات امید اور استحکام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی ہولناکیاں آج بھی انسانی شعور پر نقش ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ طاقت کے استعمال سے وقتی فتح تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر پائیدار امن نہیں۔ اسی طرح ویتنام، افغانستان اور عراق کی جنگوں نے بھی یہی ثابت کیا کہ بندوق کی گونج آخرکار مکالمے کی ضرورت کو جنم دیتی ہے۔
ایران اور امریکا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے بداعتمادی، پابندیوں اور سیاسی کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تناؤ اور پراکسی تنازعات اس تعلق کی پہچان بن گئے۔ ان تمام تلخیوں کے باوجود اگر دونوں فریق ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں تو یہ امر اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بالآخر مکالمہ ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔
اس ملاقات کے بعد ایک بار پھر امید کی ایک مدہم مگر روشن کرن ابھری ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی جلد منعقد ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں تین مختلف مقامات جنیوا، استنبول اور اسلام آباد زیرغور آئے اور ہر ایک اپنی تاریخی وسفارتی اہمیت رکھتا ہے۔
جنیوا طویل عرصے سے عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک غیرجانبدار مرکز کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے جب کہ استنبول نے بھی مشرق اور مغرب کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کیا ہے تاہم اطلاعات یہی اشارہ دیتی ہیں کہ دوسرے دور کے انعقاد کے امکانات ایک بار پھر پاکستان ہی کے حق میں زیادہ روشن ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ امن کے تسلسل کی ایک خوش آئند علامت ہوگی۔ مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ تعطل اور ڈیڈلاک سفارتی عمل کا فطری حصہ تو ہوتے ہیں مگر اصل دانشمندی ان رکاوٹوں کو عبور کرنے میں ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو بالآخر راستے نکل آتے ہیں جب کہ مکالمے کی بندش صرف فاصلے بڑھاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اختلافات کے باوجود رابطے کی یہ ڈور مضبوطی سے تھامی رکھی جائے کیونکہ پائیدار امن کی بنیاد اس مسلسل اور سنجیدہ مکالمے میں مضمر ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کو کسی بڑی سفارتی فتح کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے ایک ابتدائی قدم کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ امن کے سفر میں پہلا قدم ہمیشہ سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اعتماد کی فضا ایک دن میں قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل کوششیں اور خلوص نیت درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اس ملاقات کے فوری نتائج سامنے نہیں آئے لیکن مذاکرات کے دوسرے دور کی متوقع خبر امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھری ہے۔
جنگ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس کا خمیازہ وہ لوگ بھگتتے ہیں جو روزمرہ کی زندگی سے جھوج رہے ہوتے ہیں۔ تباہ حال شہر، بے گھر خاندان، مہاجرین کی طویل قطاریں اور یتیم بچوں کی خاموش آنکھیں جنگ کی اصل تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے برعکس مذاکرات امید، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے دانشور ادیب اور امن پسند حلقے ہمیشہ مکالمے کو ہی مسائل کے حل کا ذریعہ قرار دیتے آئے ہیں۔
تاریخ میں کئی ایسے مواقع ملتے ہیں جب بظاہر ناقابلِ حل تنازعات بھی مذاکرات کے ذریعے حل ہوئے۔ مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ، جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت اس حقیقت کے روشن ثبوت ہیں کہ جب فریقین خلوص نیت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو دیرپا امن کا حصول ممکن ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقات بھی اسی عالمی روایت کا ایک تسلسل ہے۔ اس لمحے کی اہمیت اس میں مضمر ہے نہ کہ کسی فوری کامیابی میں۔ یہ اس یقین کا اظہار ہے کہ دہائیوں پر محیط دشمنی کے باوجود مکالمے کے دروازے بند نہیں ہوتے، اگرچہ سیاسی مفادات اور ماضی کی تلخ یادیں اس راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں لیکن انسانیت کی مشترکہ بھلائی ان تمام رکاوٹوں سے بالاتر ہے۔
ادب اور تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ امن کی خواہش انسانی فطرت کا بنیادی جزو ہے۔ جنگیں وقتی طور پر نفرت کو جنم دے سکتی ہیں لیکن دلوں میں بسنے والی امن کی آرزو کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کر سکتیں۔ یہی آرزو دنیا کو بار بار مکالمے کی میز کی طرف واپس لاتی ہے۔ آج جب دنیا مختلف تنازعات، معاشی عدم استحکام اور ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ہر وہ کوشش جو امن کے قیام کی طرف پیش رفت کرے، قابلِ قدر ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سفارت کاری کا عمل صبر اور تسلسل کا متقاضی ہوتا ہے۔ ایک ملاقات یا ایک معاہدہ تمام مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔ تاہم یہ اقدامات اعتمادسازی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جو مستقبل میں مثبت پیش رفت کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان متوقع دوسرے دور مذاکرات اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں۔
آج کی دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہتھیاروں کی دوڑ نہیں بلکہ مکالمے کی ہے۔ نفرت اور عدم برداشت کے اس عہد میں اگر کہیں سے امن کی کوئی صدا بلند ہوتی ہے تو وہ پوری انسانیت کے لیے امید کا پیغام بن جاتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ پیش رفت بھی اسی امید کی علامت ہے، ایک ایسی امید جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اختلافات کے باوجود باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ذریعے مشترکہ مستقبل کی تعمیر ممکن ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملاقات محض ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے اس مسلسل سفر کی ایک جھلک ہے جس کا مقصد جنگ کے اندھیروں سے نکل کر امن کی روشنی تک پہنچنا ہے۔ اگرچہ اس سفر کی منزل ابھی دور ہے لیکن ہر قدم جو مکالمے کی سمت اٹھایا جائے، انسانیت کے لیے ایک نئی امید کا پیامبر ہوتا ہے کیونکہ بالآخر ہر مسئلے کا پائیدار حل صرف اور صرف مذاکرات اور امن میں ہی پوشیدہ ہے۔
Source link
Today News
بدلتی عالمی صف بندی اور پاکستان
آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عالمی نظام تبدیل ہو رہا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس سمت جا رہی ہے اور اس میں پاکستان کا کردار کیا ہو سکتا ہے؟ یوکرین کی جنگ، تائیوان کے گرد بڑھتی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل عدم استحکام، یہ سب محض الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی تصویر کے نمایاں خدوخال ہیں۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا نے ایک طویل عرصہ امریکی بالادستی کے زیرسایہ گزارا۔ اس دور کو اکثر ’’یونی پولر موومنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے اہم فیصلوں میں امریکا کا کردار غالب تھا مگر اب یہ منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین کی معاشی قوت، روس کی جغرافیائی حکمت عملی اور دیگر ابھرتی طاقتوں نے ایک کثیر قطبی دنیا کی بنیاد رکھ دی ہے جہاں طاقت صرف ایک مرکز میں مرتکز نہیں رہی بلکہ مختلف خطوں اور ریاستوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔
امریکا آج بھی ایک بڑی عالمی طاقت ہے مگر اسے اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئے اتحاد قائم کرنا پڑ رہے ہیں۔ نیٹو کی توسیع، ایشیا میں نئی سیکیورٹی شراکت داریاں اور چین کے بڑھتے اثر ورسوخ کو روکنے کی کوششیں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب چین نہ صرف معاشی میدان میں بلکہ سفارتی اور اسٹریٹجک محاذ پر بھی اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔ ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ جیسے منصوبے اس کے عالمی وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ روس، یوکرین جنگ کے بعد، مغرب کے مقابل ایک متبادل بلاک بنانے کی کوشش میں مصروف ہے، جس نے عالمی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ نئی صف بندی مختلف تنازعات کی صورت میں بھی واضح ہو رہی ہے۔ یوکرین جنگ نے مغرب اور روس کے درمیان خلیج کو گہرا کر دیا ہے جب کہ تائیوان کا مسئلہ امریکا اور چین کے درمیان ممکنہ تصادم کا اشارہ دے رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی جنگیں اس بات کی غماز ہیں کہ بڑی طاقتیں براہِ راست ٹکراؤ سے گریز کرتے ہوئے اپنے مفادات کے لیے دوسرے میدانوں کا انتخاب کر رہی ہیں۔ یوں دنیا بتدریج مختلف بلاکس میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی پوزیشن نہایت اہم مگر پیچیدہ ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری اور سی پیک جیسے منصوبے ہیں تو دوسری طرف امریکا کے ساتھ طویل مگر اتار چڑھاؤ کا شکار تعلقات بھی موجود ہیں۔
روس کے ساتھ حالیہ برسوں میں بڑھتے روابط بھی ایک نئی جہت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس بدلتی دنیا میں ایک متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی اختیار کر پا رہا ہے یا نہیں؟
اس نئی عالمی ترتیب میں پاکستان کے لیے مواقع بھی کم نہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جو ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیا کو جوڑتا ہے۔ اگر درست حکمت عملی اپنائی جائے تو پاکستان علاقائی تجارت، توانائی کے منصوبوں اور راہداریوں کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ کثیر قطبی دنیا پاکستان کو یہ موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ مختلف طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کر کے اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کرے۔ تاہم چیلنجز بھی اتنے ہی سنگین ہیں۔ کسی ایک عالمی بلاک کی طرف جھکاؤ پاکستان کے لیے سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
معاشی کمزوری اور بیرونی انحصار اس کی پالیسی سازی کو محدود کرتے ہیں جب کہ داخلی سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اس کے امکانات کو متاثر کرتی ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے اندرونی استحکام بنیادی شرط ہے۔
پاکستان کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کو واضح اور مستقل بنیادوں پر استوار کرے۔ ’’سب کے ساتھ تعلق، کسی کے خلاف نہیں‘‘ کا اصول محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی پالیسی بننا چاہیے۔ Geo-politics سے Geo-economics کی طرف منتقلی ناگزیر ہے، جہاں توجہ طاقت کے کھیل سے ہٹ کر معاشی ترقی، تجارت اور علاقائی روابط پر مرکوز ہو۔ وسط ایشیا، خلیجی ممالک، ایران اور ترکی کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنا کر پاکستان اپنی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان ماضی کی ’’فرنٹ لائن اسٹیٹ‘‘ پالیسی سے سبق سیکھے۔ وقتی فوائد کے لیے کسی ایک طاقت کے ساتھ مکمل وابستگی طویل المدتی نقصانات کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک خودمختار خارجہ پالیسی اسی وقت ممکن ہے جب داخلی سطح پر سیاسی استحکام، معاشی خود انحصاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی موجود ہو۔
بدلتی ہوئی دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی ترجیحات خود طے کرتی ہیں، نہ کہ دوسروں کے ایجنڈے پر چلتی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اگر وہ اس موقع کو سمجھداری سے استعمال کرے تو نہ صرف اپنے داخلی مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور مؤثر کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر بدلتی عالمی صف بندی میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔
Source link
Today News
لبنان میں زخمی 4 اسرائیلی فوجیوں میں سے ایک نے دم توڑ دیا؛ باقی کی حالت بھی نازک
لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے جن میں سے ایک نے آج دم توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کے روز اسرائیلی فوج کی ایک ٹیم سیکیورٹی آپریشن کے لیے جنوبی لبنان کے ایک دیہات پہنچی تھی جہاں ان کی مڈ بھیڑ حزب اللہ کے جنگجوؤں سے ہوگئی۔
اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے 48 سالہ فوجی کی شناخت باراک کالفون کے نام سے ہوئی جو جمعے کے روز اپنے دیگر تین ساتھی اہلکاروں سمیت زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیلی فوج کے بقول یہ ٹیم سرحد کے نزدیک عمارتوں کی کلیئرنس کر رہی تھی اور اسی دوران گھات لگائے افراد نے حملہ کردیا۔
میڈیا رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ جب اسرائیلی فوج کی یہ ٹیم عمارت میں داخل ہوئی تھی جو زوردار دھماکا ہوگیا۔
یہ دھماکا ممکنہ طور پر حزب اللہ کے زیر زمین بچھائی گئی بارودی سرنگ کا تھا جس میں 4 اہلکار بری طرح زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے آج ایک زخمی اہلکار کے ہلاک ہوجانے کی تصدیق کی تو لیکن اس وقعے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ادھر آج جنوبی لبنان کے علاقے میں ایک حملے میں اقوام متحدہ کے سیکیورٹی مشن کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا جس کا تعلق فرانس سے تھا جب کہ دیگر تین زخمی ہوگئے۔
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ روز سے 10 دن کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا ہے اور شہری اپنے گھروں کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی