Today News
لبنان میں زخمی 4 اسرائیلی فوجیوں میں سے ایک نے دم توڑ دیا؛ باقی کی حالت بھی نازک
لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے جن میں سے ایک نے آج دم توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کے روز اسرائیلی فوج کی ایک ٹیم سیکیورٹی آپریشن کے لیے جنوبی لبنان کے ایک دیہات پہنچی تھی جہاں ان کی مڈ بھیڑ حزب اللہ کے جنگجوؤں سے ہوگئی۔
اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے 48 سالہ فوجی کی شناخت باراک کالفون کے نام سے ہوئی جو جمعے کے روز اپنے دیگر تین ساتھی اہلکاروں سمیت زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیلی فوج کے بقول یہ ٹیم سرحد کے نزدیک عمارتوں کی کلیئرنس کر رہی تھی اور اسی دوران گھات لگائے افراد نے حملہ کردیا۔
میڈیا رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ جب اسرائیلی فوج کی یہ ٹیم عمارت میں داخل ہوئی تھی جو زوردار دھماکا ہوگیا۔
یہ دھماکا ممکنہ طور پر حزب اللہ کے زیر زمین بچھائی گئی بارودی سرنگ کا تھا جس میں 4 اہلکار بری طرح زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے آج ایک زخمی اہلکار کے ہلاک ہوجانے کی تصدیق کی تو لیکن اس وقعے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ادھر آج جنوبی لبنان کے علاقے میں ایک حملے میں اقوام متحدہ کے سیکیورٹی مشن کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا جس کا تعلق فرانس سے تھا جب کہ دیگر تین زخمی ہوگئے۔
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ روز سے 10 دن کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا ہے اور شہری اپنے گھروں کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں۔
Today News
کائنات، اکلوتی زمین اور بے قابو انسان
’’ہم نے اپنے خاندان کو بہت یاد کیا… خلا میں سب کچھ ہے، مگر گھر جیسی کوئی جگہ نہیں… اور زمین جیسی کوئی دنیا نہیں۔‘‘یہ الفاظ Artemis II کے ایک خلا باز کے تھے جو گزشتہ ہفتے چاند کے گرد تاریخی خلائی سفر کے بعد زمین پر واپس آئے اور میڈیا سے گفتگو کی۔ یہ ایک کامیاب خلائی مشن تو تھا ہی لیکن ایک گہرا انسانی احساس اور اعتراف بھی تھا۔
دوسرے ساتھی خلاباز نے خلا کے منظر کو یوں بیان کیا: ’’چاروں طرف ایک وسیع، سیاہ خلا ہے، خاموش، لامتناہی… اور اس کے بیچ ایک چھوٹا سا نیلا سیارہ، جیسے سمندر میں تیرتی ایک لائف بوٹ… پرسکون، مگر نہایت نازک۔‘‘ ایسے لمحے کو ماہرین ’’اوور ویو ایفیکٹ‘‘ کہتے ہیں یعنی وہ کیفیت جب انسان پہلی بار زمین کو ایک مکمل اکائی کے طور پر دیکھتا ہے۔ نہ سرحدیں، نہ جنگیں، نہ سیاست… صرف ایک سیارہ، ایک گھر، ایک مشترکہ تقدیر…
اس حالیہ سفر میں انسان نے تقریباً 695,000 میل کا فاصلہ طے کیا، لگ بھگ 10 دن خلا میں گزارے، مشن پر قریب 4 ارب ڈالر خرچ ہوئے مگر واپسی پر سب سے بڑی دریافت نہ چاند تھا، نہ ٹیکنالوجی بلکہ زمین کی قدر کا احساس تھا!
یہی احساس برسوں پہلے Carl Sagan نے بھی دلایا تھا۔ کارل ساگان بیسویں صدی کے ایک نامور امریکی ماہر فلکیات، کاسمولوجسٹ اور سائنس کو عام فہم انداز میں پیش کرنے والے (Science Communicator) کے طور پر مشہور ہیں۔
کارل ساگان ماورائے زمین ذہین مخلوق (Extra-terrestrial intelligence) کی تلاش کے لیے کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ ان کا مشہور نقطہ نظر، جو بعد میں ’’Pale Blue Dot‘‘ کے تصور میں ڈھلا، یہ تھا کہ کائنات کی بے پایاں وسعت میں زمین ایک ننھا سا نقطہ ہے مگر یہی نقطہ زندگی کا واحد معلوم مرکز ہے۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ’’ہمیں اس سیارے کی قدر کرنی چاہیے، کیونکہ ہمیں اب تک کہیں اور کوئی ایسا گھر نہیں ملا۔‘‘ یہ محض شاعرانہ بات نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔ آج تک جتنی بھی کھوج ہوئی ہے، کہیں بھی ایسی زندگی نہیں ملی جو زمین جیسی ہو۔ پانی، فضا، درجہ حرارت، حیاتیاتی تنوع… یہ سب عناصر ایک نازک توازن میں یہاں موجود ہیں اور یہی توازن زندگی کو ممکن بناتا ہے۔
اسی حقیقت کو مزید تقویت اس وقت ملی جب James Webb Space Telescope نے کائنات کی دور ترین تصاویر بھیجیں۔ اربوں نوری سال دور کہکشاؤں، ستاروں اور کہکشانی دھول کے یہ مناظر نہ صرف سائنسی لحاظ سے حیران کن تھے بلکہ فلسفیانہ طور پر بھی جھنجھوڑ دینے والے تھے۔ ان تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سائنسدان نے کہا:
’’How insignificant we are‘‘
یعنی ہم اس کائنات میں کس قدر حقیر ہیں! یہ جملہ محض عاجزی کا اظہار نہیں بلکہ ایک آفاقی حقیقت کا اعتراف تھا۔ کائنات کی وسعت کے سامنے انسان واقعی ایک معمولی وجود ہے مگر اس معمولی وجود کے پاس ایک غیرمعمولی چیز ہے: زمین۔
یہ دلچسپ حقیقت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ایک طرف ہم کائنات میں انتہائی غیراہم ہیں لیکن دوسری طرف ہمارے پاس ایک ایسا سیارہ ہے جو بے حد قیمتی ہے اور منفرد بھی۔ مگر ہم اس قیمتی سیارے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ اگر ہم خلا بازوں کی آنکھوں سے زمین کو دیکھیں تو وہ ایک خوبصورت، نیلا اور سفید کرہ ہے… زندگی سے بھرپور، پرسکون۔ مگر زمین کے اندر رہ کر ہم نے اس کا ایک مختلف چہرہ بنا دیا ہے: آلودگی، جنگ، استحصال اور بے ہنگم ترقی کا چہرہ۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے زمین کے وسائل کو بے دریغ استعمال کیا ہے۔ جنگلات کاٹے گئے، دریا زہر آلود ہوئے، فضا دھوئیں سے بھر گئی۔ ماحولیاتی تبدیلی اب ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے… گلوبل وارمنگ، گلیشیئرز کا پگھلنا، اور موسمی شدتیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔
اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے جو شاید زیادہ تباہ کن ہے: جنگ، پچھلی صدی کی دو عالمی جنگوں نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مگر ہم نے اس سے سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں جاری ہیں اور ہر جنگ نہ صرف انسانی جانوں کو نگلتی ہے بلکہ زمین کے جسم پر بھی زخم چھوڑ جاتی ہے۔ روس یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ہاتھوں غزہ اور لبنان کی تباہی اور حالیہ امریکا ایران جنگ۔ ان سب میں ہزاروں ٹن گولہ بارود استعمال ہوا۔ ہر بم، ہر دھماکہ، زمین کی مٹی، پانی اور فضا کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔
یہ سب کچھ اس سیارے پر ہو رہا ہے جسے خلا سے دیکھنے پر ایک ’’پرامن کشتی‘‘ یعنی لائف بوٹ کہا گیا۔ جنگوں کے علاوہ ہمارا روزمرہ طرزِ زندگی بھی کم نقصان دہ نہیں۔ ہم نے ایک ایسی طرز معیشت اور طرز زندگی تشکیل دی ہے جو صرف کھپت یعنی consumption پر مبنی ہے۔ زیادہ استعمال، زیادہ پیداوار، زیادہ فضلہ… یہی ترقی کا پیمانہ بن چکا ہے۔ پلاسٹک کے ڈھیر، آلودہ سمندر، ختم ہوتے جنگلات… یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اپنے اس گھر کو آہستہ آہستہ برباد کر رہے ہیں۔
کارل ساگان نے کہا تھا کہ زمین ہماری ذمے داری ہے۔ مگر ہم نے اس ذمے داری کو نظرانداز کیا ہے۔ James Webb Space Telescope کی تصاویر گواہ ہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے اور ہم اس میں کتنے تنہا ہیں۔ اربوں کہکشائیں ہیں، مگر زندگی کا کوئی دوسرا ثبوت نہیں۔ اس تنہائی میں زمین ایک معجزہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جتنے بھی طاقتور ہو جائیں، ہم زمین کے بغیر کچھ نہیں۔ ہم خلا میں زندہ نہیں رہ سکتے، ہم کسی اور سیارے پر فوری طور پر آباد نہیں ہو سکتے۔ ہماری بقا اسی سیارے سے جڑی ہوئی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سیارے کی حفاظت کی ذمے داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں؟ دنیا کو چھوڑیں، ہم اگر اپنی طرف دیکھیں تو بھی تصویر واضح ہو جاتی ہے۔ 1971 میں جب پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا تو مغربی پاکستان کی آبادی تقریباً 6 کروڑ تھی جب کہ آج یہ تعداد 24 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور کمزور منصوبہ بندی نے وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ اکثر بغیر صفائی کے دریاؤں اور نالوں میں ڈالنا اور پانی کا بے دریغ استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ماحول کی تباہی کسی نہ کسی انداز میں جاری ہے، اس پر جاری جنگیں سیر پر سوا سیر ہیں۔
یہ سب اسی زمین کے ساتھ ہو رہا ہے جو ہمارا واحد مسکن ہے۔ انسان اس نعمت یعنی زمین کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا بھی ہے اور سب سے بڑا نقصان پہنچانے والا بھی۔
فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ اس سیارے کی قدر کرے، اسے محفوظ رکھے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا چھوڑ جائے یا پھر اپنی بے حسی، اپنی جنگوں اور اپنی اندھی ترقی کے ذریعے اس واحد گھر کو تباہ کر دے۔
Source link
Today News
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری
پاکستان کی امن کوششیں رنگ لے آئیں، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران، پاکستان کا شکریہ۔ ایرانی صدر نے بھی جنگ روکنے میں پاکستان کا کردار قابل ستائش قرار دے دیا۔ اسرائیل ، لبنان میں جنگ بندی کا آغاز ہو گیاہے۔ یہ انتہائی غیرمعمولی پیش رفت ہے۔
پاکستان نے اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا اور اس کے بعد وہ ترکیہ بھی گئے جب کہ پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران گئے جہاں انھوں نے ایران کے اہم لیڈروں سے بات چیت کی جس کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان سامنے آیا۔ جب سے خلیج جنگ شروع ہوئی ہے، اس معاملے میں پاکستان نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان نے اسلام آباد میں متحرک فریقوں کو اکٹھا کیا اور انھیں آپس میں بات چیت کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس کے بعد ہی معاملات آگے بڑھے ہیں اور اب امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنگ بند ہو جائے گی اور تنازعات کا کوئی نہ کوئی آبرومندانہ حل بھی نکل آئے گا۔ فی الحال جو باتیں اور خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ ملی جلی ضرور ہیں لیکن عالمی منڈی میں جو مثبت ٹرینڈ دیکھنے میں آیا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ عالمی سٹیک ہولڈرز کو خلیج میں امن کا مکمل یقین ہے۔
اگلے روز کی خبروں کے مطابق سوشل میڈیا اکائونٹ X پر پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ لبنان میں جنگ بندی ہو چکی ہے، ہرمز کی خلیج کے ذریعے تمام تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے راستہ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے، البتہ فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھولنے کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کھلنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم، فیلڈ مارشل دونوں بہترین اور عظیم لوگ ہیں، امریکی صدر نے مدد کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے بھی اظہار تشکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کے لیے شاندار دن ہے، امر یکہ بھی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ آبی گزرگاہ ہمیشہ کھلی رہے۔ تاہم ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل نہیں ہو جاتا۔ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا اکائونٹ پر اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات چیت جاری ہے۔ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا، ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی صدر کے دعوئوں کو مسترد کردیا ہے۔
ادھر تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں صورت حال مزید بہتر ہو جائے گی۔
امریکی صدر نے ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے جنگ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جوہری پروگرام کی وجہ سے یہ کرنا پڑی، یہ جنگ بہت جلد ختم ہونی چاہیے اور یہ جنگ اچھے طریقے سے ختم ہونے جارہی ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا حزب اللہ نے معقول انداز اپنایا تو یہ ان کے لیے ایک عظیم لمحہ ہوگا، کوئی ہلاکتیں نہیں ہوں گی، آخر کار امن لازمی طور پر ہونا چاہیے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی علاقائی استحکام کے لیے اہم کامیابی ہے،یہ دن لبنان کے لیے تاریخی ہو سکتا ہے، معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔حزب اللہ کے مسئلے سے مناسب انداز میں نمٹ لیں گے۔ امریکی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے معاملات پر بھی خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور اس حوالے سے بھی اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایران امن، استحکام اور خطے میں برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، ایرانی عوام کا وعدے توڑے جانے کی وجہ سے امریکا پر اعتماد نہیں۔
انھوں نے زور دیا کہ عالمی قوانین اور اصولوں کے تحت ایرانی قوم کے حقوق برقرار رہنے چاہیں، امریکا اس تنازع میں فاتح بن کر نہیں ابھرے گا، تنازع سے خطے کے ممالک اور دنیا سنگین نقصانات اٹھائے گی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی کشیدگی کی صورت میں مخالفین کو بھاری ضربوں اور ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آرمی ڈے پر تقریب سے خطاب میں ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ دشمن کے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور آخری سانس تک اپنے عہد پر قائم رہیں گے۔
دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ ایران ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ادھر لبنان اور اسرائیل میں 10 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا جس کے بعد دارالحکومت بیروت میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا، جشن منایا گیا اور بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
جنگ بندی کے آغاز کے ساتھ ہی بیروت و دیگر علاقوں میں پناہ پینے والے ہزاروں خاندانوں نے جنوبی مضافات (Dahieh) کی طرف واپسی شروع کر دی، لوگ اپنے گھروں کی حالت دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان اور خطے کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی حزب اللہ کی ہوئی ہے، جنگ بندی لبنان کی مزاحمت اور ایران کی حمایت کا نتیجہ ہے۔
حزب اللہ نے لبنان میں جاری جنگ بندی کے دوران اسرائیل کی جانب سے کسی بھی دھوکے یا غداری کی صورت میں کہا ہے کہ وہ انگلی ٹریگر پر رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمت کے تناظر میں مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اہم پیش رفت ہے اور یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ سعودی عرب نے بھی لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے کھولنے کی خبر پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ اس حوالے سے پاکستان کے لیے بہتر خبر یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 32 روپے 12 پیسے کمی کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ساتھ جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔
اس صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خلیج میں مستقل طور پر جنگ بند ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ امریکا اور ایران جنگ کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو اس لڑائی سے متاثر نہ ہو رہا ہو۔ اب اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اسی لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے بھی اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔
ابھی جنگ کے حوالے سے فریقین کی جانب سے متضاد خبریں آ رہی ہیں۔ امریکا کے صدر ٹرمپ بھی ملی جلی باتیں کر رہے ہیں جب کہ ایران کی طرف سے بھی اسی قسم کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس قسم کی خبریں اس وقت تک آتی رہیں گی جب تک کہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل بھی یہ کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ہمارے پاس اچھی خبریں ہیں۔ برطانیہ، یورپی یونین اور چین نے بھی صورت حال میں اس مثبت تبدیلی کو سراہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ ہیں ہے کہ خلیج میں جنگ بند کرانے کے لیے پاکستان نے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران جانا غیرمعمولی واقعہ ہے۔ وہاں انھوں نے ایرانی ٹاپ قیادت کے ساتھ جو بات چیت کی ہے، اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے پوری دنیا پر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ایسا مضبوط ملک ہے جو بڑے تنازعات کو حل کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس صورت حال میں اگر بھارتی پالیسی کو دیکھا جائے تو ان کی سفارت کاری ناکام نظر آتی ہے۔ بھارت دنیا میں تنہا نظر آ رہا ہے۔ اتنی بڑی سفارتی سرگرمیوں کے درمیان بھارت کہیں نظر نہیں آیا جب کہ پاکستان اس عالمی ڈپلومیسی کا محور بنا ہوا ہے۔
Source link
Today News
سرخرو پاکستان
بہت تیزی سے حالات تبدیل ہورہے ہیں ، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ میرا کالم چھپنے تک، حالات آپ کے سامنے پہلے سے زیادہ بہتر اندز میں واضح ہوجائیں گے۔ پاکستان کا کردار تاریخ رقم کرے گی۔ ہم پر مہربانی ہے مودی صاحب کی وہ مئی 2025 میں ہم پر حملہ کر بیٹھے اور اگر ہم نے اس حملے پر وہی کچھ کرنا ہوتا جو ابھی نندن کی بار کیا تھا تو ماحول ہمارے خلاف بنتا کہ ہم ایسے ہی ہیں۔
ابھی نندن والے حملے میں مودی پر اعتماد ہوئے تھے اور دوبارہ ہم پر حملہ کر بیٹھے، اگر ہم اس کا منہ توڑ جواب نہ دیتے تو یہ ہندوستان اور اسرائیل کو اور اچھا لگتا اور جب ہم منہ توڑ جواب دے بیٹھے تو ہماری اہمیت امریکا سے لے کر سعودی عرب تک بنی ۔ ہم نے یہ کامیاب منہ توڑ جواب اس لیے دے سکے کہ ہمارے پاس چین کی ٹیکنالوجی تھی۔ ہمیں دنیا بھر سے آرڈر آئے، دنیاہمارے جنگی جہاز خریدنے لگی۔ ٹرمپ نے، ہندوستان کے جو سات رافیل جہاز ہم نے گرائے، اس پر مودی کا بڑا مذاق اڑایا۔
ایران کے ساتھ بھی جون میں کچھ اس طرح ماجرا ہوا۔ اسرائیل یہی سمجھتا رہا کہ اس کے انٹرسیپٹر ایران کے پرانے میزائلوں کو روک لیں گے، ایران وہ جون والی جنگ رکوا تو گیا مگر اسے اسرائیل نے بہت دھکیلا ہوا تھا۔ حزب اللہ سے لے کر شام اور حماس تک ، اس کے اتحادی پسپا ہوئے تھے ،اور اس بار ایران نے اسرائیل کو حیران کردیا کہ اس کے پاسدران انقلاب کی ایران میں اتنی گہری جڑیں ہیں۔ دہائیوں سے انھوں نے جنگ کی تیاری کی تھی اور سب سے بڑی بات جو کسی کو سمجھ نہ آئی کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کا وہ مہرہ ہے جو جنگ کے نتائج تبدیل کردے گا۔ اس کے ساتھ دو بڑی طاقتیں چین اور روس کھڑے تھے۔
اور اب پورا خلیج و فارس تبدیل ہوگیا۔ سعودی عرب کو امریکی فوج کی اب ضرورت نہیں، ان کے لیے اب پاکستان کی فوج زیادہ قابل بھروسہ ہے۔ قطر بھی یہی سمجھتا ہے ۔ پاکستان نے ایران کو یک بہت بڑی تباہی سے بچایاہے اور اگر ایرانی یہی سمجھتے ہیں تو ہم ایران سے ایک نئے رشتے سے جڑتے ہیں۔اس طرح بھی دیکھ سکتے ہیں کہ امریکا کمزور نہیں ہوا ، بلکہ چین بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ امریکا نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے جب بند کیا تو اسے چین نے توڑ کر دکھایا۔ ہندوستان نے جس اسرائیل پر اپنا وزن رکھا تھا وہ ہندوستان کے لیے آبنائے ہارمز نہیں کھول سکتا، اس لیے ہندوستا ن اپنی پالیسی میں جو اسرائیل کی طرف پاکستان کے پس منظر میں جھک گیا تھا ،وہ اب اپنی پالیسی میں توازن لائے گا۔
اب ترکیہ بھی اس اتحاد میں آنا چاہتا ہے جو ہم نے سعودی عرب کے ساتھ بنایا ہے۔ ترکیہ نے اسرائیل پر حملے کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ چین نے بھی بلاواسطہ واضح کیا ہے کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو چین اسرائیل پر حملہ کردے گا۔ سعودی عرب کی حفاظت کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے جو خود نیوکلیئر طاقت ہے۔ اسرائیل کا بیانیہ اب بہت محتاط بنے گا وہ گریٹر اسرائیل تو کیا اب اپنا وجود خطرے میں محسوس کرے گا۔
خود ایران ایک بہت بڑی طاقت بن کر ابھرے گاجو تین سپر طاقتیں ہیں جیسا کہ چین، رشیا اور ایران وہ آپس میں جڑی ہوئی ہیںجو چوتھی سپر طاقت ہے وہ یورپی یونین یا نیٹو جو امریکا سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے امریکا کو ٹرمپ نے تنہا کردیا اور اس کے سنگین نتائج خود ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں بھگتنا ہوں گے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران تھیوکریٹک ریاست ہے ۔ بہت سے محققین یہ سمجھتے ہیں، ایران بحیثیت سماج تقسیم ہے، وہ لوگ قہوہ خانوں میں اپنی خواتین کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ حکومت کے خلاف بولنے کی قدرے آزادی ہے۔ ایک سسٹم ہے، آئین ہے ، پارلیمان ہے لیکن ناکافی ہیں ۔ ایران کو اب اپنے آپ کو کھوجنا ہوگا۔
ہندوستان، پاکستان اور ایران سینٹرل ایشیا کی منڈیوں تک پہنچنا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو رکاوٹیں وہ ختم ہونی چاہیے۔ ایران اور پاکستان سات فیصد شرح نمو تک جاسکتے ہیں۔ پاکستان نے جان بوجھ کر سرد جنگ میں امریکا کا مہرہ بن کر ان کی امداد پر بھروسہ کرکے خود کو معاشی حقیقتوں سے دور رکھا۔ بہت بڑی جامع پالیسی پھر سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے کہ ہم نئی ابھرنے والی حقیقتوں کو اپنی بہتری کے لیے استعمال کرسکیں۔
ہماری معیشت کے بہت پیچیدہ مسائل ہیں۔ ملک کے 57 فیصد لیبر فورس زراعت سے جڑی ہوئی ہے اور زراعت اب بھی پرانی جاگیرداری اقدار میں چل رہی ہے۔ ہم دیہات میں صنعتوں کا جال نہیں بچھا سکے، تعلیم کو بہتر نہیں کر پائے ، ملک کی پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے۔ بے روزگاری بیس سال کے ریکارڈ توڑچکی ہے۔ ہماری شرح نمو اگر پانچ فیصد پر بھی پہنچ پاتی ہے تو ہمیں بیلنس آف پیمنٹ میں مسئلے آجاتے ہیں، کیونکہ ہمارا امپورٹ بل بڑھ جاتا ہے۔ ہماری اسٹیبلیشمنٹ اس غیر پیداواری اشرافیہ کے ساتھ چلنے میں اپنے آپ کو بہتر سمجھتی ہے کیوں کہ یہ شرفا کا طبقہ ہی ان کی سب باتیں مانتا ہے لیکن ملک میں مڈل کلاس قیادت اور طبقہ سیاست کے سینٹر اسٹیج پر آنے کے لیے ناگزیر ہے۔
یہی مڈل کلاس ایران میں بھی ہے اور ہندوستان یا بنگلادیش میں بھی ہے، اگر نہیں ہے تووہ مڈل کلاس پر مبنی حکمران طبقہ ، جوپاکستان میں نہیں ہے۔ کراچی میں موجود مڈل کلاس کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا گیا ہے ، لہٰذا یہی بات ان میں احساس محرومی پیدا کرتی ہے۔ باقی ماندہ سندھ کے اندر مڈل کلاس اتنی کمزور ہے کہ وہ کبھی بھی پیپلز پارٹی میں موجود وڈیروں ، جاگیرداروں کا مقابلہ کرکے اقتدار نہیں لے سکتی ہے ۔ ان کو بھی ایک طرح سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے اور خود ان کے بیانیے میں مسائل ہیں۔
اس سے بدتر حالات بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مڈل کلا س کے بھی ہیں ، وہ کبھی اقتدار تک پہنچ نہیں سکتے اور وہاں پر بھی جو غیر پیداواری طبقہ ہے اس کے ساتھ مل کر بلوچستان اور خیبر پختونخواکو چلایا جارہا ہے جو عوام کے حقیقی نمایندہ نہیں۔ ہماری کل تک افغان پالیسی تھی ، وہ کیا تھی؟ ہم ان غیر پیداواری ، ترقی کی دشمن گروپ کو ملک کے مفاد میں بہتر سمجھتے رہے ، وقت آنے پر ہمیں پتہ چلا یہ غلط ہے اور جو پاکستان کے اندر اشرافیہ طبقہ، جن کو طاقت ملی اسی افغان پالیسی سے، اسمگلنگ، منشیات اور اسلحے کا کاروبار نکلا۔
بلاشبہ پاکستان نے ایک خطرناک طوفان سے خود کو باہر نکالا ہے اور اس میں یہ ایران تھا جس نے سینہ تان کے مقابلہ کیا ، وہ اگر نہ کرتا تو سارا خلیج اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ، اور ہندوستان نے ہمارے لیے سنگین مسائل پیدا کرنے تھے۔ ہمارے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے، اس لیے کہ پاکستان کے اندر سیاسی قوتیں انتہائی کمزور ہیں۔
ایک نئی ترتیب سے خلیج و فارس ابھر رہا ہے۔ ہمارے سامنے نئے زمانے کھڑے ہیں، نئے تقاضے، نئے پیمانے پڑے ہیں۔ ہم اب پرانے بیانے سے آگے نہیں چل سکتے، اگر ہم نے یہ موقع بھی گنوا دیا تو پھر ہمارے لیے بھی بہت مشکلات ہیں۔ پاکستان کی ترسیلات زر چالیس ارب ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔
ہماری ایکسپورٹ تیس ارب ڈالر تک آگئی ہے۔ آیندہ پانچ سالوں سے سینٹرل ایشیا ، ایران سے تجارت کے مواقعے نکل رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے بھی ہم اپنی سرزمین ایکسپورٹ کر سکتے ہیں ۔ اس لیے پاکستان کو ہر سال سو ادو ارب ڈالر ترسیلات زر اور ایکسپورٹ سے چاہئیں۔ کیوں کے ہمارا ایکسپورٹ بل بھی نوے ارب ڈالر تک چلا جائے گا، ایک نئی دنیا ہے ہمارے آگے، ہمیں عمران خان کا نیا پاکستان نہیں، بلکہ ایک حقیقی ترقی پسند پاکستان درکار ہے جو سمت بنا سکے، ان بدلے ہوئے زمانوں میں۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی