Today News
اسلام آباد مکالمے کی ایک نئی کوشش
اسلام آباد کے مذاکرات نے امید کی ایک مدہم سی شمع روشن کی۔ امریکا اور ایران کے نمائندے ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مکالمے کی صورت پیدا ہوئی، اگرچہ اس ملاقات سے کوئی فوری اور خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس واپس لوٹ گئے لیکن اس کے باوجود یہ لمحہ اپنے اندر مستقبل کی کئی ممکنہ راہوں کی جھلک لیے ہوئے تھا۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں اپنے پیچھے صرف تباہی اور پشیمانی چھوڑ جاتی ہیں جب کہ مذاکرات امید اور استحکام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی ہولناکیاں آج بھی انسانی شعور پر نقش ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ طاقت کے استعمال سے وقتی فتح تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر پائیدار امن نہیں۔ اسی طرح ویتنام، افغانستان اور عراق کی جنگوں نے بھی یہی ثابت کیا کہ بندوق کی گونج آخرکار مکالمے کی ضرورت کو جنم دیتی ہے۔
ایران اور امریکا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے بداعتمادی، پابندیوں اور سیاسی کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تناؤ اور پراکسی تنازعات اس تعلق کی پہچان بن گئے۔ ان تمام تلخیوں کے باوجود اگر دونوں فریق ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں تو یہ امر اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بالآخر مکالمہ ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔
اس ملاقات کے بعد ایک بار پھر امید کی ایک مدہم مگر روشن کرن ابھری ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی جلد منعقد ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں تین مختلف مقامات جنیوا، استنبول اور اسلام آباد زیرغور آئے اور ہر ایک اپنی تاریخی وسفارتی اہمیت رکھتا ہے۔
جنیوا طویل عرصے سے عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک غیرجانبدار مرکز کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے جب کہ استنبول نے بھی مشرق اور مغرب کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کیا ہے تاہم اطلاعات یہی اشارہ دیتی ہیں کہ دوسرے دور کے انعقاد کے امکانات ایک بار پھر پاکستان ہی کے حق میں زیادہ روشن ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ امن کے تسلسل کی ایک خوش آئند علامت ہوگی۔ مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ تعطل اور ڈیڈلاک سفارتی عمل کا فطری حصہ تو ہوتے ہیں مگر اصل دانشمندی ان رکاوٹوں کو عبور کرنے میں ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو بالآخر راستے نکل آتے ہیں جب کہ مکالمے کی بندش صرف فاصلے بڑھاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اختلافات کے باوجود رابطے کی یہ ڈور مضبوطی سے تھامی رکھی جائے کیونکہ پائیدار امن کی بنیاد اس مسلسل اور سنجیدہ مکالمے میں مضمر ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کو کسی بڑی سفارتی فتح کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے ایک ابتدائی قدم کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ امن کے سفر میں پہلا قدم ہمیشہ سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اعتماد کی فضا ایک دن میں قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل کوششیں اور خلوص نیت درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اس ملاقات کے فوری نتائج سامنے نہیں آئے لیکن مذاکرات کے دوسرے دور کی متوقع خبر امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھری ہے۔
جنگ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس کا خمیازہ وہ لوگ بھگتتے ہیں جو روزمرہ کی زندگی سے جھوج رہے ہوتے ہیں۔ تباہ حال شہر، بے گھر خاندان، مہاجرین کی طویل قطاریں اور یتیم بچوں کی خاموش آنکھیں جنگ کی اصل تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے برعکس مذاکرات امید، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے دانشور ادیب اور امن پسند حلقے ہمیشہ مکالمے کو ہی مسائل کے حل کا ذریعہ قرار دیتے آئے ہیں۔
تاریخ میں کئی ایسے مواقع ملتے ہیں جب بظاہر ناقابلِ حل تنازعات بھی مذاکرات کے ذریعے حل ہوئے۔ مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ، جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت اس حقیقت کے روشن ثبوت ہیں کہ جب فریقین خلوص نیت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو دیرپا امن کا حصول ممکن ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقات بھی اسی عالمی روایت کا ایک تسلسل ہے۔ اس لمحے کی اہمیت اس میں مضمر ہے نہ کہ کسی فوری کامیابی میں۔ یہ اس یقین کا اظہار ہے کہ دہائیوں پر محیط دشمنی کے باوجود مکالمے کے دروازے بند نہیں ہوتے، اگرچہ سیاسی مفادات اور ماضی کی تلخ یادیں اس راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں لیکن انسانیت کی مشترکہ بھلائی ان تمام رکاوٹوں سے بالاتر ہے۔
ادب اور تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ امن کی خواہش انسانی فطرت کا بنیادی جزو ہے۔ جنگیں وقتی طور پر نفرت کو جنم دے سکتی ہیں لیکن دلوں میں بسنے والی امن کی آرزو کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کر سکتیں۔ یہی آرزو دنیا کو بار بار مکالمے کی میز کی طرف واپس لاتی ہے۔ آج جب دنیا مختلف تنازعات، معاشی عدم استحکام اور ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ہر وہ کوشش جو امن کے قیام کی طرف پیش رفت کرے، قابلِ قدر ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سفارت کاری کا عمل صبر اور تسلسل کا متقاضی ہوتا ہے۔ ایک ملاقات یا ایک معاہدہ تمام مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔ تاہم یہ اقدامات اعتمادسازی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جو مستقبل میں مثبت پیش رفت کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان متوقع دوسرے دور مذاکرات اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں۔
آج کی دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہتھیاروں کی دوڑ نہیں بلکہ مکالمے کی ہے۔ نفرت اور عدم برداشت کے اس عہد میں اگر کہیں سے امن کی کوئی صدا بلند ہوتی ہے تو وہ پوری انسانیت کے لیے امید کا پیغام بن جاتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ پیش رفت بھی اسی امید کی علامت ہے، ایک ایسی امید جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اختلافات کے باوجود باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ذریعے مشترکہ مستقبل کی تعمیر ممکن ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملاقات محض ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے اس مسلسل سفر کی ایک جھلک ہے جس کا مقصد جنگ کے اندھیروں سے نکل کر امن کی روشنی تک پہنچنا ہے۔ اگرچہ اس سفر کی منزل ابھی دور ہے لیکن ہر قدم جو مکالمے کی سمت اٹھایا جائے، انسانیت کے لیے ایک نئی امید کا پیامبر ہوتا ہے کیونکہ بالآخر ہر مسئلے کا پائیدار حل صرف اور صرف مذاکرات اور امن میں ہی پوشیدہ ہے۔
Source link
Today News
آزما کردیکھیں !!
ہم کئی بار کہتے ہیں اور کئی بار کہتے بھی نہیں، بس محسوس کرتے ہیں اور اپنی کیفیت کو کوئی نام بھی نہیں دے سکتے … ہم بہت بور ہوگئے ہیں، زندگی میں یکسانیت آ گئی ہے اور اپنا آپ بے کار لگنے لگتا ہے، اس صورت حال میں ہمیں یہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے گھر والے بھی ہم سے اکتا گئے ہیں اور جب ذہن ایک منفی بات پر یقین کر لیتا ہے تو وہ نیلی عینک پہن کر ہر بات کو نیلا ہی دیکھتا ہے چونکہ اپنے اندر سوچیں منفی ہوتی ہیں تو ہر کسی کی ہر بات منفی لگتی ہے، خواہ وہ روز مرہ کی عام سی باتیں ہوں، وہ فقرے جو گھر میں پہلے بھی آپ سے کہے جاتے تھے، اب آپ سنتے ہیں تو آپ کو ان کے ہر ہر حرف میں کئی معانی چھپے نظر آتے ہیں،آپ سادہ سی بات کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ، بین السطور دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
… ابا آپ ٹھیک سے بیٹھا کریں، جس طرح آپ بیٹھے ہیں، اس طرح تو آپ کو کمر کا درد بھی ہو سکتا ہے۔
… اماں، ایک بات کو بار بار نہ دہرایا کریں۔
… ابا آپ ہر وقت فون پر رہتے ہیں، یہ آپ کے لیے اچھا نہیں ہے۔
… اماں آپ اپنے فون کو بیگ میں رکھتی ہیں تو اس پر رگڑیں لگ لگ کر خراب ہو جاتا ہے۔
… میرے دوستوں کے آنے پر آپ دونوں ذرا آہستہ بولا کریں۔
یہی ساری باتیں اور لہجے ہوتے ہیں جو ہمارے بچوں کے ہمارے ساتھ ہمیشہ ہوتے ہیں مگر ہوتا یہ ہے کہ جب ہم عمر کی سہ پہر اور شام میں پہنچتے ہیں تو ہمیں یہ سب باتیں چبھنا شروع ہوجاتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ یہ وہ بچے ہیں جن کے ساتھ ہم ہمیشہ نرمی سے بات کرتے تھے، ان کے سوالات پر ہم انھیں چوم چوم کر جواب دیتے تھے لیکن یہ فطرت ہے اور اسی لیے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم اپنے والدین کو بڑھاپے کی عمر میں پاؤ تو ان سے نرمی سے بات کرو… اس لیے کہ والدین اپنی جوانی اپنی اولادوں کے لیے گنوا دیتے ہیں اور جب وہ بڑھاپے میں پہنچتے ہیں تو اس وقت اولادوں کی ترجیحات بدل چکی ہوتی ہیں۔
اب ہم لوگوں کو چاہیے کہ اس تیز رفتار زمانے میں اولادوں سے سوائے اس کے کوئی امید نہ رکھیں کہ وہ ہم سے رابطہ رکھیں، ہمارے ساتھ ایک ہی گھر میں ہیں، دوسرے گھر میں، دوسرے شہر میں یا دوسرے ملک میں، بس اتنا تعلق رکھیں کہ ہمیں ان کی موجودگی محسوس ہو- ہم اپنی عمر کے اس دور میں اپنے لیے ایسی مصروفیات تلاش کریں جو کہ ہمیں وقت ہی نہ دیں کہ ہم بچوں کی لاپروائی کے روگ لگا کر بیٹھ جائیں، منفی سوچ سوچ کر اپنی صحت خراب کر لیں۔ چلیں کچھ طریقے بتاتی ہوں کہ ہم اور آپ کیا کر سکتے ہیں۔
… ان تمام چیزوں کی فہرست بنائیں جو آپ کرنا چاہتے تھے اور کر نہ سکے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا،آپ کی فہرست ابھی تک آپ کے لیے ہے، اس کی تکمیل کی کوشش کریں۔
… اچھا استاد ڈھونڈیں یا آن لائن کسی اچھی ایپ سے اپنی مذہبی کتاب کو سمجھ کر پڑھیں ، کچھ دعائیں اور آیات زبانی یاد کرسکیں تو کریں، نہ بھی کر سکیں تو کم از کم جو کچھ پڑھتے ہیں، اس کا مطلب آتا ہو۔
… کبھی کبھار کسی فلاحی ادارے، اولڈ ہوم ، دارالامان، اسپتال یا یتیم خانے کا چکر لگائیں، وہاں کچھ وقت صرف کریں تو آپ کو اپنی زندگی میں اتنی نعمتیں نظر آنے لگیں گی جو پہلے آپ کو نظر نہیں آتی تھیں۔
… اچھی کتابیں پڑھیں، جس وقت کتاب آپ کے ہاتھ میں ہو، اس وقت آپ کے اور کتاب کے بیچ کوئی اور مخل نہ ہو۔ دنیا کے ہر موضوع پر کتابیں پڑھیں ،آن لائن بھی پڑھیں لیکن اپنی رہی سہی نظر کو بچانے کے لیے اسکرین سے ہٹ کر کچھ کاغذی کتابیں پڑھیں، نئی کتاب کے اوراق کی خوشبو کا اپنا ایک لطف ہے اور اسے سرہانے رکھ کر سونا اور بھی اچھی،آپ خوابوں میں بھی اس کتاب کے سفر میں رہتے ہیں، ان جگہوں پر اور ان کرداروں کے بیچ خود کو موجود پاتے ہیں۔
… کسی نئی جگہ کا سفر کریں جہاں کوئی آپ کو جانتا نہ ہو، آپ کے نام، عہدے، عمر یا دولت کے ترازو کے بغیر… یہ آپ کو بتاتا ہے کہ بغیرکسی لیبل کے آپ کون ہیں، جب تک زندگی ہے، سفر کرنے میںکوئی مضائقہ نہیں ہے، اللہ تعالی نے یہ دنیا ہمارے لیے بنائی ہے، اس کی کاریگری دیکھنے کے لیے ہمیںمالی اور جسمانی سکت ہو تو جہاں اور جب جا سکیں ، ضرور جائیں۔ چھوٹی موٹی الجھنوں سے ہٹ کر سفر اور سفر کے ساتھیوں کے ساتھ لطف انداز ہوں۔
… اپنے فون اور دوستوں کے بغیرکبھی اکیلے کسی ہوٹل یا ریستوران میں کھانا کھائیں، بے شک وہ کوئی گمنام سی جگہ ہو، سادہ سا کھانا بھی کھا سکتے ہیں، اس سے آپ اپنی ہی کمپنی سے لطف اندوز ہونا سیکھیںگے۔
… کبھی بالکل تنہا ہوں تو فون پر بھی کسی سے بات کئے بغیر ایک دن گزار کر دیکھیں ، کچھ رکے ہوئے چھوٹے موٹے کام کریں، لان میں پودوں کو دیکھیں اور پرندوں کے چہچہانے کی آوزیں سنیں، اپنے ساتھ وقت گزاریں،آپ کو احساس ہو گا کہ آپ کے دماغ میں کتنا شور مچا ہوا ہے۔
… بغیر کسی منزل کاتعین کئے لمبی سیر کے لیے جائیں، ہر وقت بیٹھے رہنا یا سیر کے لیے نکلنے میں ہچکچاہٹ سے آپ کی طبیعت میں سستی پیدا ہو جاتی ہے اورآپ خود کو ایک جگہ پر محدود کر لیتے ہیں ۔کبھی کبھی حرکت سمت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اٹھیں اور چلیں۔
… اکیلے کھڑے ہو کر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے نظارے دیکھیں، پارک میں جا کر گھاس کے قطعے پر بیٹھ کر اس کی نرمی اور ٹھنڈک کو محسوس کریں، دھوپ میں بیٹھیں اور جسم کو قدرتی حرارت محسوس اور جذب کرنے دیں ۔ بارش میں بھیگیں، سردی کی بارش ہو تو خود کو اچھی طرح گرم کپڑے پہن کر محفوظ کر کے ، برآمدے میں بیٹھ کر سوپ یا کافی پئیں، جسم کو اندر سے حرارت ملے گی اور باہر کی سردی سے بچت ہو گی۔ ساحل سمندر پر جا کر پورے چاند کی روشنی میںجوار بھاٹا دیکھیں، کس طرح لہریں ساحل پر آ کر سر پیٹتی اور لوٹ جاتی ہیں، آپ کو اندازہ ہو گا کہ خوبصورتی کو تنہا آنکھ بھی دیکھ سکتی ہے اور دل محسوس کر سکتا ہے۔
… فطرت میں بیٹھیں اور صرف سکون سے گہرے سانس لیں، سکون اکثر خاموشی میں چھپا ہوتا ہے خواہشوں کی تکمیل میں نہیں۔کبھی بالکل الٹا کرنے کو دل چاہے تو کسی شور شرابے والی جگہ پر جا کر اپنے دل کی دھڑکنوں کو شور کی تال پر اچھلتے ہوئے محسوس کریں ۔
… کسی کو بتائے بغیر اپنے خوابوں کا تعاقب کریں، ترقی اکثر مختلف ہوتی ہے، اگر کوئی دیکھ نہ رہا ہو تو خواب ہم مرتے دم تک دیکھتے ہیں تو ان کا تعاقب بھی آخری سانس تک کیا جا سکتا ہے۔ آپ زندگی کو نئے ڈھب سے جی کر دیکھیں،آپ کو ہر لمحہ نیا لطف محسوس ہو گا۔
Source link
Today News
ایران امریکا امن معاہدہ اور بھارت کا منفی کردار!
یہ کہنا کہ اسلام آباد میں منعقدہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے تھے، سراسر غلط ہے۔ دونوں جانب کے مذاکرات کاروں نے خود کہا تھا کہ انھوں نے اپنے اپنے نکات ایک دوسرے کو بتا دیئے ہیں اور دونوں نے ہی کہا تھا کہ وہ ان نکات سے اپنی اعلیٰ قیادت کو آگاہ کریں گے اور وہ آگے بڑھنے کے لیے جو ہدایات دیں گے، اس پر عمل کیا جائے گا مگر اس کے بعد ہر طرف یہ شور برپا ہو گیا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔
عالمی تذکرہ کاروں نے بھی کہا تھا کہ یہ دراصل ایک وقفہ ہے، دونوں وفود نے دراصل ان مذاکرات کو حتمی شکل دینے سے قبل اپنے ممالک کی اعلیٰ قیادت کی رضامندی لینے کا فیصلہ کیا تھا جو یقینی طور پر ایک دانش مندانہ فیصلہ تھا کیونکہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر گزشتہ 47 سالوں سے کشیدگی جاری تھی، وہ کبھی نہ تو براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہوئے تھے اور پھر ایک میز پر بیٹھ کر اسے سلجھانے کی بات تو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھی مگر اسلام آباد میں یہ ممکن ہو گیا تھا۔
اب اگر اسے پاکستان کی ثالثی کا کرشمہ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ دونوں ممالک کی رقابت پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی تھی جب کہ اسرائیل اور بھارت اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔
اسرائیل تو چاہتا ہی نہیں تھا کہ امریکا ایران جنگ کبھی ختم ہو کیونکہ اس جنگ کا محرک وہی تھا اور اس جنگ سے اسے یہ فائدہ ہو رہا تھا کہ وہ اپنے گریٹر اسرائیل کے ناجائز منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے لبنان پر اسی وقت تابڑتوڑ حملے کر رہا تھا اور اسی دوران اس نے جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا تھا اور صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کر رہا تھا، مزید آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ادھر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا ایران سے جنگ شروع ہونے سے دو روز قبل اسرائیل کا دورہ ایک پراسرار دورہ تھا جب کہ اس غیرمتوقع دورے کی خود بھارت میں سخت تنقید کی جا رہی تھی مگر مودی کا مقصد نیتن یاہو کی ہمت افزائی کرنا تھا کیونکہ اس کا گریٹر اسرائیل کے منصوبے سے ملتا جلتا اکھنڈ بھارت کا منصوبہ ہے۔
امریکا اور اسرائیل مل کر بھی ایران کو شکست نہیں دے سکے، تو جب ایران کا معرکہ سر نہیں ہو سکا تو پاکستان کو شکست دینا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے کیونکہ پاکستان تو ایک ایٹمی طاقت ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے نہ ہونے کی جتنی خوشی بھارت اور اسرائیل کو ہوئی ہے، اتنا ہی دکھ دنیا کے تمام ممالک کو ہوا ہے کیونکہ گیس اور تیل کی کمیابی کے مسئلے نے پوری دنیا متاثر ہے اور اسی مسئلے نے مہنگائی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے مگر افسوس کہ پاکستان دشمنی میں بھارت اور اسرائیل کے لیے تیل کی بندش اور مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو بس یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کا کچھ بھی ہو، پاکستان کو تباہ وبرباد کر دیا جائے تو ان کے دلوں کو دائمی سکون میسر آ جائے گا۔
اب اس خبر کو ان دونوں ممالک نے کس طور پر لیا ہوگا کہ ایران اور امریکا مذاکرات پھر اسلام آباد میں ہی ہو رہے ہیں اور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اب مذاکرات کامیاب بھی ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ بھی طے پا جائے گا۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہا جانا کہ یہ مذاکرات کسی دوسرے ملک میں کیسے منعقد کیے جا سکتے ہیں جب اس کا اس معاملے میں کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے تو اس سے پتا لگتا ہے کہ مودی نے ٹرمپ کو جو کال کی ہے وہ یقینا انھیں پاکستان سے بدظن کرنے کے لیے کی گئی ہوگی اور ان مذاکرات کو پاکستان کے بجائے کسی اور ملک میں بلکہ لگتا ہے۔
ٹرمپ سے درخواست کی گئی ہوگی کہ دہلی میں یہ مذاکرات کر لیے جائیں مگر ٹرمپ اتنے بھی بے وقوف نہیں ہیں کہ وہ مودی کی چال کو نہ سمجھ سکیں۔ دراصل اس وقت بھارتی عوام مودی کی ناکام خارجہ پالیسی پر سخت برہم ہیں چنانچہ مودی کی یہ خواہش ہے کہ کاش مذاکرات اب پاکستان کے بجائے بھارت میں شروع ہو جائیں اور چونکہ اب مذاکرات کامیاب ہونے والے ہیں اور ایران و امریکا کے درمیان امن معاہدہ ہونے والا ہے تو اس معاہدے کی کامیابی کا سہرا مودی کے سر بندھ جائے گا اور وہ فخر سے کہہ سکے گا کہ اس کی کوشش اور محنت سے مذاکرات ہوئے ہیں اور اس طرح اس نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا ہے مگر خوش قسمتی سے ٹرمپ نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کو اسلام آباد میں ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس مقام پر مذاکرات کرنے کے لیے ایران بھی راضی ہے۔
ایرانی دراصل پاکستان میں خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتے ہیں جب کہ وہ مودی کو اسرائیل کا پٹھو اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے سے قبل مودی کا اسرائیل جانا اور وہاں نیتن یاہو سے گھل مل جانا اور پھر بھارت میں مشترکہ دوستانہ بحری مشقوں میں حصہ لینے کے لیے گئے ایرانی جنگی جہاز کو بھارت کی ہی حدود میں تباہ کیے جانے کو ایران نہیں بھولا ہے، وہ مہمان جہاز بھارت کی سہولت کاری اور مرضی کے بغیر ہرگز تباہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
پھر جب ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت ہوئی تو بھارت نے تعزیت تک نہیں کی۔ دنیا بھر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے بلاجواز حملوں کی تنقید کی گئی مگر بھارتی حکومت خاموش رہی۔ یہ سب مودی نے اس لیے کیا کہ کہیں اسرائیل اس سے ناراض نہ ہو جائے۔ اب مودی کی دوغلی پالیسی کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اب وہ عرب ممالک جو پہلے بھارت کے مرید بنے ہوئے تھے، وہ بھی بھارت سے دور ہوتے جا رہے ہیں البتہ متحدہ عرب امارات کی حکومت اب بھی مودی کا دم بھر رہی ہے۔ پاکستان سے اپنا قرض فوراً واپس مانگنا بھی بھارت کو خوش کرنے کی حکمت عملی ہے مگر اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مودی کٹر ہندوتوا لیڈر ہے، وہ کبھی مسلمانوں سے وفا نہیں کر سکتا کیونکہ آر ایس ایس کا آئین یہی کہتا ہے۔
بہرحال اب چاہے اسرائیل اور بھارت کتنے ہی روڑے اٹکائیں، ایران امریکا امن مذاکرات اسلام آباد میں ہی منعقد ہوں گے اور کامیاب رہیں گے۔ دونوں ممالک کے مابین امن معاہدہ بھی ہوگا جس کا کریڈٹ پاکستان کو ہی جائے گا۔
Source link
Today News
واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر اہم اجلاس، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل سے ٹیلیفونک گفتگو؛ امریکی میڈیا
واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔
اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شریک ہوئیں۔
اس کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی اجلاس میں موجود تھے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کم از کم ایک مرتبہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے فون پر رابطہ کیا جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، آئندہ ممکنہ مذاکرات کی قیادت بھی کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہونے میں صرف تین روز باقی رہ گئے ۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اس ہفتے کسی ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کر چکے ہیں، تاہم تاحال مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو آئندہ چند روز میں دوبارہ کشیدگی اور ممکنہ طور پر جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سچویشن روم میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی