Connect with us

Today News

بدلتی عالمی صف بندی اور پاکستان

Published

on



آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عالمی نظام تبدیل ہو رہا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس سمت جا رہی ہے اور اس میں پاکستان کا کردار کیا ہو سکتا ہے؟ یوکرین کی جنگ، تائیوان کے گرد بڑھتی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل عدم استحکام، یہ سب محض الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی تصویر کے نمایاں خدوخال ہیں۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا نے ایک طویل عرصہ امریکی بالادستی کے زیرسایہ گزارا۔ اس دور کو اکثر ’’یونی پولر موومنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے اہم فیصلوں میں امریکا کا کردار غالب تھا مگر اب یہ منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین کی معاشی قوت، روس کی جغرافیائی حکمت عملی اور دیگر ابھرتی طاقتوں نے ایک کثیر قطبی دنیا کی بنیاد رکھ دی ہے جہاں طاقت صرف ایک مرکز میں مرتکز نہیں رہی بلکہ مختلف خطوں اور ریاستوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔

امریکا آج بھی ایک بڑی عالمی طاقت ہے مگر اسے اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئے اتحاد قائم کرنا پڑ رہے ہیں۔ نیٹو کی توسیع، ایشیا میں نئی سیکیورٹی شراکت داریاں اور چین کے بڑھتے اثر ورسوخ کو روکنے کی کوششیں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب چین نہ صرف معاشی میدان میں بلکہ سفارتی اور اسٹریٹجک محاذ پر بھی اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔ ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ جیسے منصوبے اس کے عالمی وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ روس، یوکرین جنگ کے بعد، مغرب کے مقابل ایک متبادل بلاک بنانے کی کوشش میں مصروف ہے، جس نے عالمی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

یہ نئی صف بندی مختلف تنازعات کی صورت میں بھی واضح ہو رہی ہے۔ یوکرین جنگ نے مغرب اور روس کے درمیان خلیج کو گہرا کر دیا ہے جب کہ تائیوان کا مسئلہ امریکا اور چین کے درمیان ممکنہ تصادم کا اشارہ دے رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی جنگیں اس بات کی غماز ہیں کہ بڑی طاقتیں براہِ راست ٹکراؤ سے گریز کرتے ہوئے اپنے مفادات کے لیے دوسرے میدانوں کا انتخاب کر رہی ہیں۔ یوں دنیا بتدریج مختلف بلاکس میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی پوزیشن نہایت اہم مگر پیچیدہ ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری اور سی پیک جیسے منصوبے ہیں تو دوسری طرف امریکا کے ساتھ طویل مگر اتار چڑھاؤ کا شکار تعلقات بھی موجود ہیں۔

روس کے ساتھ حالیہ برسوں میں بڑھتے روابط بھی ایک نئی جہت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس بدلتی دنیا میں ایک متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی اختیار کر پا رہا ہے یا نہیں؟

اس نئی عالمی ترتیب میں پاکستان کے لیے مواقع بھی کم نہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جو ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیا کو جوڑتا ہے۔ اگر درست حکمت عملی اپنائی جائے تو پاکستان علاقائی تجارت، توانائی کے منصوبوں اور راہداریوں کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ کثیر قطبی دنیا پاکستان کو یہ موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ مختلف طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کر کے اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کرے۔ تاہم چیلنجز بھی اتنے ہی سنگین ہیں۔ کسی ایک عالمی بلاک کی طرف جھکاؤ پاکستان کے لیے سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

معاشی کمزوری اور بیرونی انحصار اس کی پالیسی سازی کو محدود کرتے ہیں جب کہ داخلی سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اس کے امکانات کو متاثر کرتی ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے اندرونی استحکام بنیادی شرط ہے۔

پاکستان کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کو واضح اور مستقل بنیادوں پر استوار کرے۔ ’’سب کے ساتھ تعلق، کسی کے خلاف نہیں‘‘ کا اصول محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی پالیسی بننا چاہیے۔ Geo-politics سے Geo-economics کی طرف منتقلی ناگزیر ہے، جہاں توجہ طاقت کے کھیل سے ہٹ کر معاشی ترقی، تجارت اور علاقائی روابط پر مرکوز ہو۔ وسط ایشیا، خلیجی ممالک، ایران اور ترکی کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنا کر پاکستان اپنی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان ماضی کی ’’فرنٹ لائن اسٹیٹ‘‘ پالیسی سے سبق سیکھے۔ وقتی فوائد کے لیے کسی ایک طاقت کے ساتھ مکمل وابستگی طویل المدتی نقصانات کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک خودمختار خارجہ پالیسی اسی وقت ممکن ہے جب داخلی سطح پر سیاسی استحکام، معاشی خود انحصاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی موجود ہو۔

بدلتی ہوئی دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی ترجیحات خود طے کرتی ہیں، نہ کہ دوسروں کے ایجنڈے پر چلتی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اگر وہ اس موقع کو سمجھداری سے استعمال کرے تو نہ صرف اپنے داخلی مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور مؤثر کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر بدلتی عالمی صف بندی میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔
 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران امریکا امن معاہدہ اور بھارت کا منفی کردار!

Published

on



یہ کہنا کہ اسلام آباد میں منعقدہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے تھے، سراسر غلط ہے۔ دونوں جانب کے مذاکرات کاروں نے خود کہا تھا کہ انھوں نے اپنے اپنے نکات ایک دوسرے کو بتا دیئے ہیں اور دونوں نے ہی کہا تھا کہ وہ ان نکات سے اپنی اعلیٰ قیادت کو آگاہ کریں گے اور وہ آگے بڑھنے کے لیے جو ہدایات دیں گے، اس پر عمل کیا جائے گا مگر اس کے بعد ہر طرف یہ شور برپا ہو گیا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔

عالمی تذکرہ کاروں نے بھی کہا تھا کہ یہ دراصل ایک وقفہ ہے، دونوں وفود نے دراصل ان مذاکرات کو حتمی شکل دینے سے قبل اپنے ممالک کی اعلیٰ قیادت کی رضامندی لینے کا فیصلہ کیا تھا جو یقینی طور پر ایک دانش مندانہ فیصلہ تھا کیونکہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر گزشتہ 47 سالوں سے کشیدگی جاری تھی، وہ کبھی نہ تو براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہوئے تھے اور پھر ایک میز پر بیٹھ کر اسے سلجھانے کی بات تو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھی مگر اسلام آباد میں یہ ممکن ہو گیا تھا۔

اب اگر اسے پاکستان کی ثالثی کا کرشمہ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ دونوں ممالک کی رقابت پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی تھی جب کہ اسرائیل اور بھارت اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔

اسرائیل تو چاہتا ہی نہیں تھا کہ امریکا ایران جنگ کبھی ختم ہو کیونکہ اس جنگ کا محرک وہی تھا اور اس جنگ سے اسے یہ فائدہ ہو رہا تھا کہ وہ اپنے گریٹر اسرائیل کے ناجائز منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے لبنان پر اسی وقت تابڑتوڑ حملے کر رہا تھا اور اسی دوران اس نے جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا تھا اور صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کر رہا تھا، مزید آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ادھر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا ایران سے جنگ شروع ہونے سے دو روز قبل اسرائیل کا دورہ ایک پراسرار دورہ تھا جب کہ اس غیرمتوقع دورے کی خود بھارت میں سخت تنقید کی جا رہی تھی مگر مودی کا مقصد نیتن یاہو کی ہمت افزائی کرنا تھا کیونکہ اس کا گریٹر اسرائیل کے منصوبے سے ملتا جلتا اکھنڈ بھارت کا منصوبہ ہے۔

امریکا اور اسرائیل مل کر بھی ایران کو شکست نہیں دے سکے، تو جب ایران کا معرکہ سر نہیں ہو سکا تو پاکستان کو شکست دینا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے کیونکہ پاکستان تو ایک ایٹمی طاقت ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے نہ ہونے کی جتنی خوشی بھارت اور اسرائیل کو ہوئی ہے، اتنا ہی دکھ دنیا کے تمام ممالک کو ہوا ہے کیونکہ گیس اور تیل کی کمیابی کے مسئلے نے پوری دنیا متاثر ہے اور اسی مسئلے نے مہنگائی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے مگر افسوس کہ پاکستان دشمنی میں بھارت اور اسرائیل کے لیے تیل کی بندش اور مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو بس یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کا کچھ بھی ہو، پاکستان کو تباہ وبرباد کر دیا جائے تو ان کے دلوں کو دائمی سکون میسر آ جائے گا۔

اب اس خبر کو ان دونوں ممالک نے کس طور پر لیا ہوگا کہ ایران اور امریکا مذاکرات پھر اسلام آباد میں ہی ہو رہے ہیں اور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اب مذاکرات کامیاب بھی ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ بھی طے پا جائے گا۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہا جانا کہ یہ مذاکرات کسی دوسرے ملک میں کیسے منعقد کیے جا سکتے ہیں جب اس کا اس معاملے میں کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے تو اس سے پتا لگتا ہے کہ مودی نے ٹرمپ کو جو کال کی ہے وہ یقینا انھیں پاکستان سے بدظن کرنے کے لیے کی گئی ہوگی اور ان مذاکرات کو پاکستان کے بجائے کسی اور ملک میں بلکہ لگتا ہے۔

ٹرمپ سے درخواست کی گئی ہوگی کہ دہلی میں یہ مذاکرات کر لیے جائیں مگر ٹرمپ اتنے بھی بے وقوف نہیں ہیں کہ وہ مودی کی چال کو نہ سمجھ سکیں۔ دراصل اس وقت بھارتی عوام مودی کی ناکام خارجہ پالیسی پر سخت برہم ہیں چنانچہ مودی کی یہ خواہش ہے کہ کاش مذاکرات اب پاکستان کے بجائے بھارت میں شروع ہو جائیں اور چونکہ اب مذاکرات کامیاب ہونے والے ہیں اور ایران و امریکا کے درمیان امن معاہدہ ہونے والا ہے تو اس معاہدے کی کامیابی کا سہرا مودی کے سر بندھ جائے گا اور وہ فخر سے کہہ سکے گا کہ اس کی کوشش اور محنت سے مذاکرات ہوئے ہیں اور اس طرح اس نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا ہے مگر خوش قسمتی سے ٹرمپ نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کو اسلام آباد میں ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس مقام پر مذاکرات کرنے کے لیے ایران بھی راضی ہے۔

ایرانی دراصل پاکستان میں خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتے ہیں جب کہ وہ مودی کو اسرائیل کا پٹھو اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے سے قبل مودی کا اسرائیل جانا اور وہاں نیتن یاہو سے گھل مل جانا اور پھر بھارت میں مشترکہ دوستانہ بحری مشقوں میں حصہ لینے کے لیے گئے ایرانی جنگی جہاز کو بھارت کی ہی حدود میں تباہ کیے جانے کو ایران نہیں بھولا ہے، وہ مہمان جہاز بھارت کی سہولت کاری اور مرضی کے بغیر ہرگز تباہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔

پھر جب ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت ہوئی تو بھارت نے تعزیت تک نہیں کی۔ دنیا بھر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے بلاجواز حملوں کی تنقید کی گئی مگر بھارتی حکومت خاموش رہی۔ یہ سب مودی نے اس لیے کیا کہ کہیں اسرائیل اس سے ناراض نہ ہو جائے۔ اب مودی کی دوغلی پالیسی کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اب وہ عرب ممالک جو پہلے بھارت کے مرید بنے ہوئے تھے، وہ بھی بھارت سے دور ہوتے جا رہے ہیں البتہ متحدہ عرب امارات کی حکومت اب بھی مودی کا دم بھر رہی ہے۔ پاکستان سے اپنا قرض فوراً واپس مانگنا بھی بھارت کو خوش کرنے کی حکمت عملی ہے مگر اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مودی کٹر ہندوتوا لیڈر ہے، وہ کبھی مسلمانوں سے وفا نہیں کر سکتا کیونکہ آر ایس ایس کا آئین یہی کہتا ہے۔

بہرحال اب چاہے اسرائیل اور بھارت کتنے ہی روڑے اٹکائیں، ایران امریکا امن مذاکرات اسلام آباد میں ہی منعقد ہوں گے اور کامیاب رہیں گے۔ دونوں ممالک کے مابین امن معاہدہ بھی ہوگا جس کا کریڈٹ پاکستان کو ہی جائے گا۔
 



Source link

Continue Reading

Today News

واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر اہم اجلاس، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل سے ٹیلیفونک گفتگو؛ امریکی میڈیا

Published

on



واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔

اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شریک ہوئیں۔

 اس کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی اجلاس میں موجود تھے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کم از کم ایک مرتبہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے فون پر رابطہ کیا جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، آئندہ ممکنہ مذاکرات کی قیادت بھی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہونے میں صرف تین روز باقی رہ گئے ۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اس ہفتے کسی ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کر چکے ہیں، تاہم تاحال مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو آئندہ چند روز میں دوبارہ کشیدگی اور ممکنہ طور پر جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سچویشن روم میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

کائنات، اکلوتی زمین اور بے قابو انسان

Published

on



’’ہم نے اپنے خاندان کو بہت یاد کیا… خلا میں سب کچھ ہے، مگر گھر جیسی کوئی جگہ نہیں… اور زمین جیسی کوئی دنیا نہیں۔‘‘یہ الفاظ Artemis II کے ایک خلا باز کے تھے جو گزشتہ ہفتے چاند کے گرد تاریخی خلائی سفر کے بعد زمین پر واپس آئے اور میڈیا سے گفتگو کی۔ یہ ایک کامیاب خلائی مشن تو تھا ہی لیکن ایک گہرا انسانی احساس اور اعتراف بھی تھا۔

دوسرے ساتھی خلاباز نے خلا کے منظر کو یوں بیان کیا: ’’چاروں طرف ایک وسیع، سیاہ خلا ہے، خاموش، لامتناہی… اور اس کے بیچ ایک چھوٹا سا نیلا سیارہ، جیسے سمندر میں تیرتی ایک لائف بوٹ… پرسکون، مگر نہایت نازک۔‘‘ ایسے لمحے کو ماہرین ’’اوور ویو ایفیکٹ‘‘ کہتے ہیں یعنی وہ کیفیت جب انسان پہلی بار زمین کو ایک مکمل اکائی کے طور پر دیکھتا ہے۔ نہ سرحدیں، نہ جنگیں، نہ سیاست… صرف ایک سیارہ، ایک گھر، ایک مشترکہ تقدیر…

اس حالیہ سفر میں انسان نے تقریباً 695,000 میل کا فاصلہ طے کیا، لگ بھگ 10 دن خلا میں گزارے، مشن پر قریب 4 ارب ڈالر خرچ ہوئے مگر واپسی پر سب سے بڑی دریافت نہ چاند تھا، نہ ٹیکنالوجی بلکہ زمین کی قدر کا احساس تھا!
یہی احساس برسوں پہلے Carl Sagan نے بھی دلایا تھا۔ کارل ساگان بیسویں صدی کے ایک نامور امریکی ماہر فلکیات، کاسمولوجسٹ اور سائنس کو عام فہم انداز میں پیش کرنے والے (Science Communicator) کے طور پر مشہور ہیں۔

کارل ساگان ماورائے زمین ذہین مخلوق (Extra-terrestrial intelligence) کی تلاش کے لیے کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ ان کا مشہور نقطہ نظر، جو بعد میں ’’Pale Blue Dot‘‘ کے تصور میں ڈھلا، یہ تھا کہ کائنات کی بے پایاں وسعت میں زمین ایک ننھا سا نقطہ ہے مگر یہی نقطہ زندگی کا واحد معلوم مرکز ہے۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ’’ہمیں اس سیارے کی قدر کرنی چاہیے، کیونکہ ہمیں اب تک کہیں اور کوئی ایسا گھر نہیں ملا۔‘‘ یہ محض شاعرانہ بات نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔ آج تک جتنی بھی کھوج ہوئی ہے، کہیں بھی ایسی زندگی نہیں ملی جو زمین جیسی ہو۔ پانی، فضا، درجہ حرارت، حیاتیاتی تنوع… یہ سب عناصر ایک نازک توازن میں یہاں موجود ہیں اور یہی توازن زندگی کو ممکن بناتا ہے۔

اسی حقیقت کو مزید تقویت اس وقت ملی جب James Webb Space Telescope نے کائنات کی دور ترین تصاویر بھیجیں۔ اربوں نوری سال دور کہکشاؤں، ستاروں اور کہکشانی دھول کے یہ مناظر نہ صرف سائنسی لحاظ سے حیران کن تھے بلکہ فلسفیانہ طور پر بھی جھنجھوڑ دینے والے تھے۔ ان تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سائنسدان نے کہا:
’’How insignificant we are‘‘

یعنی ہم اس کائنات میں کس قدر حقیر ہیں! یہ جملہ محض عاجزی کا اظہار نہیں بلکہ ایک آفاقی حقیقت کا اعتراف تھا۔ کائنات کی وسعت کے سامنے انسان واقعی ایک معمولی وجود ہے مگر اس معمولی وجود کے پاس ایک غیرمعمولی چیز ہے: زمین۔

یہ دلچسپ حقیقت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ایک طرف ہم کائنات میں انتہائی غیراہم ہیں لیکن دوسری طرف ہمارے پاس ایک ایسا سیارہ ہے جو بے حد قیمتی ہے اور منفرد بھی۔ مگر ہم اس قیمتی سیارے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ اگر ہم خلا بازوں کی آنکھوں سے زمین کو دیکھیں تو وہ ایک خوبصورت، نیلا اور سفید کرہ ہے… زندگی سے بھرپور، پرسکون۔ مگر زمین کے اندر رہ کر ہم نے اس کا ایک مختلف چہرہ بنا دیا ہے: آلودگی، جنگ، استحصال اور بے ہنگم ترقی کا چہرہ۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے زمین کے وسائل کو بے دریغ استعمال کیا ہے۔ جنگلات کاٹے گئے، دریا زہر آلود ہوئے، فضا دھوئیں سے بھر گئی۔ ماحولیاتی تبدیلی اب ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے… گلوبل وارمنگ، گلیشیئرز کا پگھلنا، اور موسمی شدتیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔

اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے جو شاید زیادہ تباہ کن ہے: جنگ، پچھلی صدی کی دو عالمی جنگوں نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مگر ہم نے اس سے سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں جاری ہیں اور ہر جنگ نہ صرف انسانی جانوں کو نگلتی ہے بلکہ زمین کے جسم پر بھی زخم چھوڑ جاتی ہے۔ روس یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ہاتھوں غزہ اور لبنان کی تباہی اور حالیہ امریکا ایران جنگ۔ ان سب میں ہزاروں ٹن گولہ بارود استعمال ہوا۔ ہر بم، ہر دھماکہ، زمین کی مٹی، پانی اور فضا کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔

یہ سب کچھ اس سیارے پر ہو رہا ہے جسے خلا سے دیکھنے پر ایک ’’پرامن کشتی‘‘ یعنی لائف بوٹ کہا گیا۔ جنگوں کے علاوہ ہمارا روزمرہ طرزِ زندگی بھی کم نقصان دہ نہیں۔ ہم نے ایک ایسی طرز معیشت اور طرز زندگی تشکیل دی ہے جو صرف کھپت یعنی consumption پر مبنی ہے۔ زیادہ استعمال، زیادہ پیداوار، زیادہ فضلہ… یہی ترقی کا پیمانہ بن چکا ہے۔ پلاسٹک کے ڈھیر، آلودہ سمندر، ختم ہوتے جنگلات… یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اپنے اس گھر کو آہستہ آہستہ برباد کر رہے ہیں۔

کارل ساگان نے کہا تھا کہ زمین ہماری ذمے داری ہے۔ مگر ہم نے اس ذمے داری کو نظرانداز کیا ہے۔ James Webb Space Telescope کی تصاویر گواہ ہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے اور ہم اس میں کتنے تنہا ہیں۔ اربوں کہکشائیں ہیں، مگر زندگی کا کوئی دوسرا ثبوت نہیں۔ اس تنہائی میں زمین ایک معجزہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جتنے بھی طاقتور ہو جائیں، ہم زمین کے بغیر کچھ نہیں۔ ہم خلا میں زندہ نہیں رہ سکتے، ہم کسی اور سیارے پر فوری طور پر آباد نہیں ہو سکتے۔ ہماری بقا اسی سیارے سے جڑی ہوئی ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سیارے کی حفاظت کی ذمے داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں؟ دنیا کو چھوڑیں، ہم اگر اپنی طرف دیکھیں تو بھی تصویر واضح ہو جاتی ہے۔ 1971 میں جب پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا تو مغربی پاکستان کی آبادی تقریباً 6 کروڑ تھی جب کہ آج یہ تعداد 24 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور کمزور منصوبہ بندی نے وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ اکثر بغیر صفائی کے دریاؤں اور نالوں میں ڈالنا اور پانی کا بے دریغ استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ماحول کی تباہی کسی نہ کسی انداز میں جاری ہے، اس پر جاری جنگیں سیر پر سوا سیر ہیں۔

یہ سب اسی زمین کے ساتھ ہو رہا ہے جو ہمارا واحد مسکن ہے۔ انسان اس نعمت یعنی زمین کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا بھی ہے اور سب سے بڑا نقصان پہنچانے والا بھی۔
فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ اس سیارے کی قدر کرے، اسے محفوظ رکھے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا چھوڑ جائے یا پھر اپنی بے حسی، اپنی جنگوں اور اپنی اندھی ترقی کے ذریعے اس واحد گھر کو تباہ کر دے۔ 
 



Source link

Continue Reading

Trending