Today News
لبنان میں زخمی 4 اسرائیلی فوجیوں میں سے ایک نے دم توڑ دیا؛ باقی کی حالت بھی نازک
لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے جن میں سے ایک نے آج دم توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کے روز اسرائیلی فوج کی ایک ٹیم سیکیورٹی آپریشن کے لیے جنوبی لبنان کے ایک دیہات پہنچی تھی جہاں ان کی مڈ بھیڑ حزب اللہ کے جنگجوؤں سے ہوگئی۔
اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے 48 سالہ فوجی کی شناخت باراک کالفون کے نام سے ہوئی جو جمعے کے روز اپنے دیگر تین ساتھی اہلکاروں سمیت زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیلی فوج کے بقول یہ ٹیم سرحد کے نزدیک عمارتوں کی کلیئرنس کر رہی تھی اور اسی دوران گھات لگائے افراد نے حملہ کردیا۔
میڈیا رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ جب اسرائیلی فوج کی یہ ٹیم عمارت میں داخل ہوئی تھی جو زوردار دھماکا ہوگیا۔
یہ دھماکا ممکنہ طور پر حزب اللہ کے زیر زمین بچھائی گئی بارودی سرنگ کا تھا جس میں 4 اہلکار بری طرح زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے آج ایک زخمی اہلکار کے ہلاک ہوجانے کی تصدیق کی تو لیکن اس وقعے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ادھر آج جنوبی لبنان کے علاقے میں ایک حملے میں اقوام متحدہ کے سیکیورٹی مشن کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا جس کا تعلق فرانس سے تھا جب کہ دیگر تین زخمی ہوگئے۔
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ روز سے 10 دن کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا ہے اور شہری اپنے گھروں کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں۔
Today News
کراچی کا نوحہ
وطن عزیز پاکستان 1947میں معرض وجود میں آیا، لیکن اتنا وقت گزر جانے کے باوجود ہمارا یہ پیارا وطن مستحکم نہ ہوسکا،جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ اس کو اولین قیادت جیسی بے لوث ایماندار قیادت آج تک نصیب نہ ہوسکی ۔
خدا کی حکمت کہ ان عظیم الشان اکابرین کو بے مروت موت نے زیادہ مہلت نہ دی اور پھرلوٹ کھسوٹ کرنیوالے ٹولے، اس پر قابض ہوتے رہے اور یوں بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے یہ بتدریج تنزلی کی شاہراہ پر رواں دواں ہے۔قدرت نے اس سے انگنت وسائل سے مالامال کیا ہے پر وہ سارے وسائل قبل اس کے عوام الناس کی فلاح کے لیے استعمال ہوں ،وہ اس سے اپنی ہوس کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے رہے اور کر رہے ہیںجب کہ عوام ان کی تنخواہوں و دیگر مراعات کے لیے چندہ جمع کرکے خصوصا ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں تاکہ ان کی نہ ختم ہونے والی ضروریات زندگی کو پورا کیا جاسکے۔
وطن عزیز کے دیگر شہروں کی ترقی خوبصورتی دیکھ کر جہاں دل خوش ہوتا ہے، وہاں روشنیوں کے شہرکراچی کی تباہی وبربادی، لاچاری محتاجی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ بدنصیب شہر کراچی وہ ’’مظلوم ماں‘‘ ہے جو دیگر تمام شہروں ودیہاتوں سے آنیوالے افراد کو نہ صرف گلے لگاتی ہے بلکہ وہ جب تلاش معاش کے لیے یہاں آتے ہیں تو ایک ماں کی بے لوث مامتا ان کے لیے امڈ امڈ کر آرہی ہوتی ہے اور وہ انھیں اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔
یہ دیگر تمام شہروں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے آمدنی پیدا کرتی جس سے ملکی نظام کی چکی چلتی ہے مگر افسوس صد افسوس جب اس کے حقوق کی بات آتی ہے تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ دور حاضر میں کراچی انگنت مسائل سے دوچار ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ،اس کی بیشتر سڑکیں تباہ کردی گئیں، ترقیاتی کاموں کو نظر انداز کر کے جس سے عوام کا بھلا تو دور برا ہی برا ہوتا چلا جا رہا ہے، منٹوں کا راستہ گھنٹوں میں بدل گیا ہے اور اب بھی اس نہ ختم ہونے والے منصوبوں کے اختتام کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ رہتی دنیا میں ہی مکمل ہونگے یا قیامت کے صور کے ساتھ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
پانی ،بجلی،گیس کا شدید بحران اوپر سے ستم یہ کہ بل عدم دستیابی کے باوجود اپنی مقررہ تاریخوں پر ہوش رباء اضافے کیساتھ عوام کے منہ پر دے مارے جاتے ہیں۔سڑکوںکی مرمت کے دوران پانی کی لائنوں پر ضرب لگنے سے کئی کئی دن تک پانی کا رسائو سڑکوں پر اور گھروں میں عدم دستیابی۔گیس کی بندش وہ بھی اس عظیم ملک میں جہاں گیس دستیاب ہوئی ۔حیرت انگیز بات نہیں، عوام قیمت سے گیس اونچے اونچے نرخ پر خریدتے ہیں اور بل بھی ادا کرتے ہیں یہ کیسا انصاف ہے؟ بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام الناس نے مہنگے مہنگے سولر پینل لگوالیے ہیںاپنی سہولت کے پیش نظر۔
اگر برسراقتدار حکومت عوام کو وہ بنیادی سہولتیں مہیا نہ کرسکے جس کی وہ ذمے دار ہے تو کیا وہ اقتدار میں رہنے کی اہل ہے؟لیکن اس بات کا احساس ان اشرافیہ کو کہاںہوسکتا ہے ان کی فکر میں تو یہ بات ہی نہیں کہ ایک دن اس فانی زندگی نے ختم ہوجانا ہے۔ عوام بے حس ہوچکے ، بلکہ مردہ ہوچکے ہیں، ہر ظلم و ستم کو خاموشی سے برداشت کرکے اس جبر کی چکی میں پس پس کر کہ اب وہ اپنے حق کی آواز اٹھانا تک بھول گئے توکیا رب نہیں دیکھ رہا، فرشتے نامہ اعمال لکھ نہیں رہے، سب کچھ ہورہا ہے جیسا اللہ رب العزت کی منشاء ہے صرف رسی دراز چھوڑی ہوئی ہے جس دن اس سے وہ تنگ کرے گا سب کو سب کی گئی حق تلفیاں یاد آجائیں گی۔
آئے دن نت نئے ٹیکسز ان پرلاگو کیے جاتے ہیں جب کہ آمدنی چار آنے اور خرچہ روپیہ والا حساب ہے۔یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی انسانی پہنچ سے بہت دور ہوگئی ہیں۔دور حاضر میںدی جانیوالی تعلیم و تربیت تو بہت دورکی بات اس لائق نہیں کہ گزرے معاشرے جیسے اسلاف تیار ہوسکیںجس میں والدین اور اساتذہ برابر کے قصور وار ہیںچونکہ دونوں ہی نے اپنے فرائض کو ایمانداری کے ساتھ نبھانا چھوڑ دیا جو کہ ماضی کے بے لوث والدین اور اساتذہ کا طرہ امتیاز تھیں،ہر کوئی نفسا نفسی کی دوڑمیں لگا ہوا ہے جس کے زیر اثر وہ اپنی عطا پر خوش نہیں بلکہ دوسرے کی عطا پر شاکی نظر آتا ہے اور یوں وہ اپنی خوشیاں بیچ کر اپنے لیے دکھ درد جمع کررہا ہے ۔
عوام بے حسی کی مورت بن گئے ہیں تو اللہ ماشاء اللہ ان پر حکمران بھی ویسے ہی مسلط کردیے گئے ہیں جو اتنے احساس سے عاری ہیں کہ گزر گاہوں کی ایک ساتھ بندش کردیتے ہیں جو کہ کسی ناگہانی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں اور یوں یہ کراچی شہر کی ’’گڈ گورننس‘‘کی بھرپور عکاسی کرتی جا بجا نظر آتی ہیں جب کہ ان ترقیاتی کاموں کی نسبت مہنگائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک سفید پوش بھی اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرسکے نہ کہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کے یا خودکشی کر کے اس جہاں فانی سے کوچ کر جائے، پر ان باتوں پر نظرتو صرف وہ حکمران پالیسی ساز ڈال سکتے ہیں جنھیں خوف خدا ہو اور وہ عوامی مشکلات تکلیفوںکو آسانی میں بدلنے کا جذبہ رکھتے ہوں،اپنی عاقبت کے لیے پر افسوس صد افسوس موجودہ حالات کو دیکھ کریہ بات واضح طور پر عیاں ہے کہ ان کو وطن عزیز کے شہریوں سے ان کے دکھ درد مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔
حالیہ پیڑولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافہ جس کا اثر صرف ذرائع آمدورفت کی سہولتوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات زندگی بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں ۔شہر کراچی کی کئی معروف شاہراہیںٹریفک جام کا ایسا کرب ناک منظرنامہ پیش کرتی نظر آتی ہیں جب کہ انڈر پاس ،بائی پاس و دیگر جدیدیت کے نام پر نت نئے ڈیزائین سڑکوں پر بنائے گئے جن کی قلعی بارش کے چند قطروں سے کھل جاتی ہے پھر دوبارہ ان کی مرمت کے نام پر لاکھوں کروڑوں کی خرد برد کر کے اپنی خندق بھرے جاتے ہیں پھر بھی لالچ اور ہوس کی نہ ختم ہونے والی بھوک مٹتی ہی نہیں چونکہ حرام ان کے منہ کوجو لگ گیا ہے اور اس ٹریفک جام میں پھنسے مظلوم عوام کا وقت تکان اور سب سے بڑھ کر اس ایندھن کا کیا جس کی قیمت مڈل کلاس کو اپنی جیب سے دینی پڑتی ہے۔
ظاہر ہے والدین بڑی مشکلات اٹھا کر اپنی اولادکو پروان چڑھاتے ہیں، وہ کہاں اس بات کو تصور میں لاسکتے ہیں کہ ہم اپنے آرام اور خوشی کے لیے اپنے بچوں کے خوبصورت مستقبل میں رکاوٹ بنیںاوروہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر انھیںاپنے سے دور کردیتے ہیں۔ سعادت مند اولاد بھی چکی کے دوپاٹوں میں پس کر نہ یہاں کے ہو پاتے ہیں نہ وہاں کے۔ لیکن مشرقی ممالک خصوصا پاکستان میں رہنے والے والدین کی اکثریت آخری عمر میں اپنی مٹی سے والہانہ محبت و عقیدت کے باعث اس کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور یوں محبت کرنے والی اولاد اور والدین مختلف نفسیاتی دبائو کا شکار ہوجاتے ہیں۔
Source link
Today News
ایران امریکا مذاکرات میں پیشرف ہوئی ہے لیکن کئی اہم نکات پر اختلافات ہیں، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں کچھ معاملات پر اتفاق ضرور ہوا ہے، تاہم کئی اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ، دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اب وہ بالواسطہ ذرائع سے پیغامات بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔
ایرانی اسپیکر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جن میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کی میزائل و عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا شامل تھا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، وینزویلا نہیں ہے۔
Source link
Today News
وزیر اعظم سعودیہ، قطر اور ترکیہ کے دورے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے سہہ ملکی دورے کے بعد ہفتہ کو وطن واپس پہنچ گئے۔
وزیراعظم نے تین روزہ دور سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دوران تینوں برادر ممالک کی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
وزیرِ اعظم نے برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کی مزید مضبوطی، خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی کوششوں اور خطے و عالمی صورتحال پر عالمی رہنماں سے تبادل خیال کیا۔
انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکیہ کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر تولگا برمیک اور دیگر نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف واپسی پر لاہور پہنچ گئے۔
ایئرپورٹ پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور سینیئر ایڈوائیزر پنجاب علی ڈار نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ محسن نقوی نے وزیر اعظم کو اپنے دورہ ایران پر بریفنگ بھی دی۔
قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ میں خوبصورت شہر انطالیہ سے روانہ ہو رہا ہوں، میں یہاں پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی اور گرمجوش استقبال پر اپنے عزیز بھائی رجب طیب اردوان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں انطالیہ سے خوشگوار یادوں کے ساتھ روانہ ہو رہا ہوں اور اس عزمِ نو کے ساتھ کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائیگا۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی