Today News
سرخرو پاکستان
بہت تیزی سے حالات تبدیل ہورہے ہیں ، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ میرا کالم چھپنے تک، حالات آپ کے سامنے پہلے سے زیادہ بہتر اندز میں واضح ہوجائیں گے۔ پاکستان کا کردار تاریخ رقم کرے گی۔ ہم پر مہربانی ہے مودی صاحب کی وہ مئی 2025 میں ہم پر حملہ کر بیٹھے اور اگر ہم نے اس حملے پر وہی کچھ کرنا ہوتا جو ابھی نندن کی بار کیا تھا تو ماحول ہمارے خلاف بنتا کہ ہم ایسے ہی ہیں۔
ابھی نندن والے حملے میں مودی پر اعتماد ہوئے تھے اور دوبارہ ہم پر حملہ کر بیٹھے، اگر ہم اس کا منہ توڑ جواب نہ دیتے تو یہ ہندوستان اور اسرائیل کو اور اچھا لگتا اور جب ہم منہ توڑ جواب دے بیٹھے تو ہماری اہمیت امریکا سے لے کر سعودی عرب تک بنی ۔ ہم نے یہ کامیاب منہ توڑ جواب اس لیے دے سکے کہ ہمارے پاس چین کی ٹیکنالوجی تھی۔ ہمیں دنیا بھر سے آرڈر آئے، دنیاہمارے جنگی جہاز خریدنے لگی۔ ٹرمپ نے، ہندوستان کے جو سات رافیل جہاز ہم نے گرائے، اس پر مودی کا بڑا مذاق اڑایا۔
ایران کے ساتھ بھی جون میں کچھ اس طرح ماجرا ہوا۔ اسرائیل یہی سمجھتا رہا کہ اس کے انٹرسیپٹر ایران کے پرانے میزائلوں کو روک لیں گے، ایران وہ جون والی جنگ رکوا تو گیا مگر اسے اسرائیل نے بہت دھکیلا ہوا تھا۔ حزب اللہ سے لے کر شام اور حماس تک ، اس کے اتحادی پسپا ہوئے تھے ،اور اس بار ایران نے اسرائیل کو حیران کردیا کہ اس کے پاسدران انقلاب کی ایران میں اتنی گہری جڑیں ہیں۔ دہائیوں سے انھوں نے جنگ کی تیاری کی تھی اور سب سے بڑی بات جو کسی کو سمجھ نہ آئی کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کا وہ مہرہ ہے جو جنگ کے نتائج تبدیل کردے گا۔ اس کے ساتھ دو بڑی طاقتیں چین اور روس کھڑے تھے۔
اور اب پورا خلیج و فارس تبدیل ہوگیا۔ سعودی عرب کو امریکی فوج کی اب ضرورت نہیں، ان کے لیے اب پاکستان کی فوج زیادہ قابل بھروسہ ہے۔ قطر بھی یہی سمجھتا ہے ۔ پاکستان نے ایران کو یک بہت بڑی تباہی سے بچایاہے اور اگر ایرانی یہی سمجھتے ہیں تو ہم ایران سے ایک نئے رشتے سے جڑتے ہیں۔اس طرح بھی دیکھ سکتے ہیں کہ امریکا کمزور نہیں ہوا ، بلکہ چین بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ امریکا نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے جب بند کیا تو اسے چین نے توڑ کر دکھایا۔ ہندوستان نے جس اسرائیل پر اپنا وزن رکھا تھا وہ ہندوستان کے لیے آبنائے ہارمز نہیں کھول سکتا، اس لیے ہندوستا ن اپنی پالیسی میں جو اسرائیل کی طرف پاکستان کے پس منظر میں جھک گیا تھا ،وہ اب اپنی پالیسی میں توازن لائے گا۔
اب ترکیہ بھی اس اتحاد میں آنا چاہتا ہے جو ہم نے سعودی عرب کے ساتھ بنایا ہے۔ ترکیہ نے اسرائیل پر حملے کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ چین نے بھی بلاواسطہ واضح کیا ہے کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو چین اسرائیل پر حملہ کردے گا۔ سعودی عرب کی حفاظت کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے جو خود نیوکلیئر طاقت ہے۔ اسرائیل کا بیانیہ اب بہت محتاط بنے گا وہ گریٹر اسرائیل تو کیا اب اپنا وجود خطرے میں محسوس کرے گا۔
خود ایران ایک بہت بڑی طاقت بن کر ابھرے گاجو تین سپر طاقتیں ہیں جیسا کہ چین، رشیا اور ایران وہ آپس میں جڑی ہوئی ہیںجو چوتھی سپر طاقت ہے وہ یورپی یونین یا نیٹو جو امریکا سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے امریکا کو ٹرمپ نے تنہا کردیا اور اس کے سنگین نتائج خود ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں بھگتنا ہوں گے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران تھیوکریٹک ریاست ہے ۔ بہت سے محققین یہ سمجھتے ہیں، ایران بحیثیت سماج تقسیم ہے، وہ لوگ قہوہ خانوں میں اپنی خواتین کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ حکومت کے خلاف بولنے کی قدرے آزادی ہے۔ ایک سسٹم ہے، آئین ہے ، پارلیمان ہے لیکن ناکافی ہیں ۔ ایران کو اب اپنے آپ کو کھوجنا ہوگا۔
ہندوستان، پاکستان اور ایران سینٹرل ایشیا کی منڈیوں تک پہنچنا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو رکاوٹیں وہ ختم ہونی چاہیے۔ ایران اور پاکستان سات فیصد شرح نمو تک جاسکتے ہیں۔ پاکستان نے جان بوجھ کر سرد جنگ میں امریکا کا مہرہ بن کر ان کی امداد پر بھروسہ کرکے خود کو معاشی حقیقتوں سے دور رکھا۔ بہت بڑی جامع پالیسی پھر سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے کہ ہم نئی ابھرنے والی حقیقتوں کو اپنی بہتری کے لیے استعمال کرسکیں۔
ہماری معیشت کے بہت پیچیدہ مسائل ہیں۔ ملک کے 57 فیصد لیبر فورس زراعت سے جڑی ہوئی ہے اور زراعت اب بھی پرانی جاگیرداری اقدار میں چل رہی ہے۔ ہم دیہات میں صنعتوں کا جال نہیں بچھا سکے، تعلیم کو بہتر نہیں کر پائے ، ملک کی پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے۔ بے روزگاری بیس سال کے ریکارڈ توڑچکی ہے۔ ہماری شرح نمو اگر پانچ فیصد پر بھی پہنچ پاتی ہے تو ہمیں بیلنس آف پیمنٹ میں مسئلے آجاتے ہیں، کیونکہ ہمارا امپورٹ بل بڑھ جاتا ہے۔ ہماری اسٹیبلیشمنٹ اس غیر پیداواری اشرافیہ کے ساتھ چلنے میں اپنے آپ کو بہتر سمجھتی ہے کیوں کہ یہ شرفا کا طبقہ ہی ان کی سب باتیں مانتا ہے لیکن ملک میں مڈل کلاس قیادت اور طبقہ سیاست کے سینٹر اسٹیج پر آنے کے لیے ناگزیر ہے۔
یہی مڈل کلاس ایران میں بھی ہے اور ہندوستان یا بنگلادیش میں بھی ہے، اگر نہیں ہے تووہ مڈل کلاس پر مبنی حکمران طبقہ ، جوپاکستان میں نہیں ہے۔ کراچی میں موجود مڈل کلاس کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا گیا ہے ، لہٰذا یہی بات ان میں احساس محرومی پیدا کرتی ہے۔ باقی ماندہ سندھ کے اندر مڈل کلاس اتنی کمزور ہے کہ وہ کبھی بھی پیپلز پارٹی میں موجود وڈیروں ، جاگیرداروں کا مقابلہ کرکے اقتدار نہیں لے سکتی ہے ۔ ان کو بھی ایک طرح سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے اور خود ان کے بیانیے میں مسائل ہیں۔
اس سے بدتر حالات بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مڈل کلا س کے بھی ہیں ، وہ کبھی اقتدار تک پہنچ نہیں سکتے اور وہاں پر بھی جو غیر پیداواری طبقہ ہے اس کے ساتھ مل کر بلوچستان اور خیبر پختونخواکو چلایا جارہا ہے جو عوام کے حقیقی نمایندہ نہیں۔ ہماری کل تک افغان پالیسی تھی ، وہ کیا تھی؟ ہم ان غیر پیداواری ، ترقی کی دشمن گروپ کو ملک کے مفاد میں بہتر سمجھتے رہے ، وقت آنے پر ہمیں پتہ چلا یہ غلط ہے اور جو پاکستان کے اندر اشرافیہ طبقہ، جن کو طاقت ملی اسی افغان پالیسی سے، اسمگلنگ، منشیات اور اسلحے کا کاروبار نکلا۔
بلاشبہ پاکستان نے ایک خطرناک طوفان سے خود کو باہر نکالا ہے اور اس میں یہ ایران تھا جس نے سینہ تان کے مقابلہ کیا ، وہ اگر نہ کرتا تو سارا خلیج اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ، اور ہندوستان نے ہمارے لیے سنگین مسائل پیدا کرنے تھے۔ ہمارے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے، اس لیے کہ پاکستان کے اندر سیاسی قوتیں انتہائی کمزور ہیں۔
ایک نئی ترتیب سے خلیج و فارس ابھر رہا ہے۔ ہمارے سامنے نئے زمانے کھڑے ہیں، نئے تقاضے، نئے پیمانے پڑے ہیں۔ ہم اب پرانے بیانے سے آگے نہیں چل سکتے، اگر ہم نے یہ موقع بھی گنوا دیا تو پھر ہمارے لیے بھی بہت مشکلات ہیں۔ پاکستان کی ترسیلات زر چالیس ارب ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔
ہماری ایکسپورٹ تیس ارب ڈالر تک آگئی ہے۔ آیندہ پانچ سالوں سے سینٹرل ایشیا ، ایران سے تجارت کے مواقعے نکل رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے بھی ہم اپنی سرزمین ایکسپورٹ کر سکتے ہیں ۔ اس لیے پاکستان کو ہر سال سو ادو ارب ڈالر ترسیلات زر اور ایکسپورٹ سے چاہئیں۔ کیوں کے ہمارا ایکسپورٹ بل بھی نوے ارب ڈالر تک چلا جائے گا، ایک نئی دنیا ہے ہمارے آگے، ہمیں عمران خان کا نیا پاکستان نہیں، بلکہ ایک حقیقی ترقی پسند پاکستان درکار ہے جو سمت بنا سکے، ان بدلے ہوئے زمانوں میں۔
Source link
Today News
واشنگٹن کے سائے سے نکلتا ہوا نیا مشرقِ وسطیٰ
مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی نقشہ اس وقت عالمی سیاست کے بساط پر ایک ایسے بپھرے ہوئے سمندر کی مانند ہے جہاں ہر لہر ایک نئی دفاعی حکمت عملی کو جنم دے رہی ہے۔ 2026 کے تناظر میں اگر ہم اس خطے کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو تزویراتی گہرائی اور دفاعی حصار کے معنی مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ سفارتی برف پگھلنے کے باوجود، نقشے پر موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ایرانی میزائل پروگرام کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والا تناؤ موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ بیان اس نقشے پر لکھی گئی ان عبارتوں کو واضح کرتا ہے جن میں اب جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ ’’دفاعی دائرہ کار‘‘ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی لائن کو اپنی سرحدوں سے نکال کر پورے خطے میں پھیلا دیا ہے، جس کے نتیجے میں نقشے پر موجود بحیرہ عرب، خلیجِ فارس اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے اب براہِ راست تہران کی عسکری صلاحیت کے زیرِ اثر محسوس ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی عسکری کارروائی صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کی معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر سعودی عرب کی جغرافیائی حیثیت مرکزی ہے، جو ایک طرف ایران اور دوسری طرف افریقہ اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ یہاں امریکی اڈوں کی موجودگی نقشے پر ایسے اہم دفاعی نکات بن چکے ہیں جو ایران کی فضائی برتری کے لیے مستقل خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔ تاہم، 2026 کی موجودہ کشیدگی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب کوئی بھی فوجی اڈہ ناقابلِ تسخیر نہیں رہا۔ ایرانی ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی نے نقشے کی طوالت کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے، جہاں فاصلے اب تحفظ کی ضمانت نہیں رہے۔
جب ایرانی وزیرِ خارجہ سعودی عرب کو برادر ملک قرار دیتے ہیں، تو دراصل وہ نقشے پر ایک ایسی لکیر کھینچ رہے ہوتے ہیں جو عرب ریاستوں کو امریکی مفادات سے علیحدہ کرنے کی ایک سفارتی کوشش ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب نقشے پر موجود امریکی اڈوں کو اپنی سیکیورٹی کے لیے ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دے رہا ہے اور خطے کے ممالک کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ان اڈوں کی موجودگی پورے خطے کے نقشے کو جنگ کے شعلوں کی زد میں لا سکتی ہے۔
یہ جغرافیائی سیاسی دباؤ سعودی عرب جیسے ممالک کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی دہائیوں پرانی دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور ایک ایسے توازن کی تلاش کریں جہاں وہ امریکا کے حلیف بھی رہیں اور ایران کے ہدف سے بھی بچ سکیں۔مسلم دنیا کے وسیع تر تناظر میں، مشرقِ وسطیٰ کا دفاعی نقشہ اب محض چند ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پاکستان سے لے کر ترکیہ اور مصر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک نقشے پر ایک ایسی پوزیشن رکھتے ہیں جہاں وہ مشرق اور مغرب کے درمیان توازن برقرار رکھ سکتے ہیں، اگر ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی و معاشی تعاون بڑھتا ہے، تو نقشے پر ایک نیا ’’اسلامک بلاک‘‘ ابھر سکتا ہے جو بیرونی مداخلت کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔ یہ تبدیلی عالمی قوتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگی کیونکہ اس سے بحیرہ روم اور بحر ہند کے درمیان ایک ایسا سیکیورٹی زون بن جائے گا جہاں واشنگٹن یا برسلز کے بجائے فیصلے تہران، ریاض، انقرہ اور اسلام آباد میں ہوں گے۔ اس دفاعی منظرنامے میں سب سے اہم عنصر ’‘خود مختاری‘‘ کا ہے۔
نقشے پر موجود ممالک اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی زمین کو غیر ملکی طاقتوں کے لیے استعمال ہونے دیں گے تو وہ غیر ارادی طور پر دوسروں کی جنگ کا ایندھن بن جائیں گے۔ ایرانی حملوں نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگ میں ہدف صرف زمین نہیں ہوتی بلکہ وہ ’’اعصابی مراکز‘‘ ہوتے ہیں جو فضائی اور الیکٹرانک کمانڈ کنٹرول کرتے ہیں۔ لہٰذا، مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو اب صرف پہاڑوں اور میدانوں کی نظر سے نہیں بلکہ ان نادیدہ لہروں اور سگنلز کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے جو جنگ و امن کا فیصلہ کرتے ہیں۔
عباس عراقچی کا بیان اسی بدلتی ہوئی حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نقشے پر موجود سرحدیں دشمنی کے بجائے مشترکہ دفاع کی لکیریں بن جائیں، تاکہ بیرونی قوتوں کے پاس مداخلت کا کوئی اخلاقی یا عسکری جواز باقی نہ رہے۔ یہ عمل اگرچہ دشوار گزار ہے، لیکن 2026 کے حالات بتا رہے ہیں کہ مسلم دنیا کے پاس اب اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا کہ وہ اپنے نقشے کی حفاظت خود کرے۔ خود مختاری کا یہ سفر صرف عسکری نہیں بلکہ ذہنی اور سیاسی آزادی کا بھی متقاضی ہے، جہاں علاقائی فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق ہوں۔معاشی طور پر، اگر یہ مستحکم اتحاد حقیقت بنتا ہے، تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں کے رخ موڑ سکتے ہیں۔
سب سے پہلا اور بڑا اثر توانائی کی قیمتوں کے استحکام پر پڑے گا۔ دنیا کے تیل اور گیس کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ان ممالک کے کنٹرول میں ہے، اگر یہ ممالک اپنی پیداواری پالیسیاں ایک دوسرے کیساتھ ہم آہنگ کر لیں، تو وہ پیٹرو ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، جو امریکی ڈالر کی عالمی اجارہ داری کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ اس کیساتھ ہی، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم سمندری راستے اب غیر ملکی بحری بیڑوں کے بجائے علاقائی فورسز کے زیر ِ نگرانی ہوں گے، جس سے انشورنس کے اخراجات میں کمی آئے گی اور علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔ ایران کی گیس پائپ لائنز کا جال اگر سعودی عرب اور ترکیہ کے ذریعے یورپ تک پھیل جاتا ہے، تو یہ خطہ دنیا کا سب سے بڑا ’’انرجی ہب‘‘ بن جائے گا، جس سے کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اس نئے منظرنامے میں ایک ’’کھیل تبدیل کرنیوالے‘‘ کی ہے۔ پاکستان اب محض ایک سیکیورٹی فراہم کرنیوالا ملک نہیں رہا، بلکہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک تزویراتی پل بن چکا ہے۔ اگر ایران اور سعودی عرب سی پیک کا حصہ بنتے ہیں، تو وسطی ایشیا سے لے کر خلیج تک ایک ایسا معاشی زون بن جائے گا جو چین کی عالمی سپلائی چین کا مرکز ہوگا۔ اسلام آباد کا کردار اب واشنگٹن کے دباؤ سے نکل کر خود مختار فیصلوں کی طرف مائل ہے، جو اسے مسلم دنیا کے ایک غیر جانبدار اور طاقتور ضامن کے طور پر پیش کرتا ہے۔
پاکستان کی شمولیت اس اتحاد کو عسکری وزن کیساتھ ساتھ ایک ایسی سفارتی ڈھال بھی فراہم کرے گی جو اسے عالمی پابندیوں اور دباؤ سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔آخر میں، مشرقِ وسطیٰ کا یہ نیا رخ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ جغرافیہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا، لیکن جغرافیے کو استعمال کرنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ آج کا مشرق وسطیٰ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں عسکری طاقت اور سفارتی دانش مندی کا ملاپ ناگزیر ہے۔
نقشے پر موجود ہر بندرگاہ، ہر ایئر بیس اور ہر تیل کا کنواں اب ایک تزویراتی اثاثہ ہے جسے بچانے کے لیے علاقائی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ایران کا سعودی عرب کو بھائی کہنا اور امریکی انخلا کا مطالبہ کرنا دراصل اس خواہش کا اظہار ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ دوبارہ سے خطے کے عوام کی امنگوں کے مطابق ترتیب دیا جائے۔
یہ عمل صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک تہذیبی بیداری ہے جو بتاتی ہے کہ بیرونی بیساکھیوں کا دور ختم ہو چکا ہے، اگر یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے، تو آنے والی دہائیاں اس خطے کو دنیا کے سب سے محفوظ اور خوشحال خطے کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھیں گی، جہاں امن کا دارومدار کسی بیرونی بحری بیڑے پر نہیں بلکہ آپسی اعتماد اور مضبوط دفاعی اتحاد پر ہوگا۔ یہ 2026 کا وہ نیا خواب ہے جو اب حقیقت کے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔
Source link
Today News
ایسا کیسے
متحدہ عرب امارات کے حوالے سے ایران اور امریکا، اسرائیل جنگ کے تناظر میں سوشل میڈیا کے رنگ ہر طرح کے ہی تھے، خاص کر پاکستان کے تین ارب ڈالرز کے حوالے سے ایک عجیب سی صورت حال تھی کیونکہ پاکستان کے معاشی حالات اور تیل کی بڑھتی قیمتیں بہت سی الجھنیں الگ اس کے باوجود پاکستان کا بڑھ کر ثالثی کا کردار مثبت طور پر نمایاں ہوا ہے لیکن یو اے ای نے ایک مشکل وقت میں ہمارا بھی ہاتھ تھاما تھا۔
ہمیں یہ یاد ہے لیکن ادھر اُدھر سے ٹویٹ کی اڑتی چڑیاں ایک عام انسان کی ذہنی حالت کو بدلنے میں کردار ادا کرتی ہیں اور وہ ہوا بھی جس طرح پاکستان نے ایران اور امریکا سے آئے نمایندوں کو خوش آمدید کہا، اس میں خاص کر پاکستان پر بلا جواز تنقید ایران کے نمایندوں کے حوالے سے ایک فکر انگیز سوچ کو جنم دیتی ہے۔
جب سے متحدہ عرب امارات کی دولت کا ایک دنیا میں چرچا ہوا لوگوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ ریگستان میں سونے کے محل، یہ محل بنانے، سنوارنے اور مواقع فراہم کرنے میں پاکستان اور اس کی عوام کا بھی حصہ ہے یہ ایک الگ باب ہے لیکن مسلمان ہونے کے ناتے قدرتی طور پر جو دردمند دل رب العزت کی طرف سے عطا کردہ ہے، اس کا کیا کیا جائے جو امت مسلمہ کی محبت میں ہمکتا ہی ہے،وگرنہ اسے سازشوں، افواہوں اور لگائی بجھائی کے جدید طریقوں سے تیار نہ کیا جائے اور آج کل ایسا ہو رہا ہے۔
ان حالات میں لگتا تھا کہ اب میرا اپنا کوئی مددگار نہیں، میں اکیلی کمزور عورت میرا کون سا رشتہ دار یا سگا تھا جو ان کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا۔ ایک جانب دولت مند تو دوسری جانب ایک کمزور غریب خاتون، وہاں رشوت، چرب زبانی کے حربے اختیار کیے گئے اور مظلوم ہونے کے باوجود میں کیس ہار گئی۔میرے لیے یہ اذیت ناک تھا سنا تھا کہ دبئی اور دیگر امارات کی ریاستوں میں قانون کے حوالے سے بہت شفافیت ہے اگر جرم ثابت ہو جائے تو چوکتے نہیں چارج کرنے میں، لیکن میں تو اپنے نصیبوں پر آنسو بہانے کو رہ گئی تھی، اتنے پیسے آنے جانے اور ویزے کے حصول پر خرچ کرکے بھی قصوروار اور کیس خارج۔
’’آپ بتائیں کیا کریں ہم؟‘
’’دیکھیں وہ وکیل بہت مشہور ہے اس طرح کے کیسز کے لیے وہ اپنی چرب زبانی سے جج کو قائل کر لیتا ہے اور لینے دینے کے معاملے میں بھی سنا ہے کہ….‘‘
’’کیا دبئی میں بھی….؟‘‘
’’بھئی یہ دنیا ہے آپ سمجھیں۔ کہاں نہیں چلتی رشوت، مظلوم کا ساتھ دینے کا مطلب ہے کہ آخرت میں انعام ملے گا، اب کون اتنا لمبا انتظار کرے، اس لیے شاید آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا،کیا جج نے پیسے کھا لیے؟‘‘
’’میں نے تو بہت اعتماد اور یقین کے ساتھ کیس کیا تھا کہ میں حق پر ہوں، اب کیا کروں۔ ایک دوسرے ملک میں جا کر خاص پاکستان سے جا کر کتنا پیسہ لگا ہمارا اور صلہ یہ ملا کہ میں ہی حق پر ہو کر ہار گئی۔ اب کس سے درخواست کروں؟ کوئی تو ہوگا اس جج سے اوپر۔ اوپر تو اللہ ہے، پر اس نے بھی تو فیصلے کا حق اپنے بندوں کو دیا ہے۔ کوئی تو ہوگا جو ان کی بھی چیکنگ کریں، جانچیں اصل جھوٹ کا فیصلہ کرے۔‘‘
’’آپ وہاں کے بادشاہ کو ای میل کر دیں کیونکہ والی ریاست کو ہی تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ پھر اللہ آپ کے لیے راستہ بنائے۔‘‘
سوچ کر کہا گیا تھا۔
اور ایسا ہی کیا گیا ایک موہوم سی امید تھی جو اس سوچ کے ٹھنڈے انداز میں کہے جواب میں مقید تھی، پھیل کر نور کا ہالہ بنا چکی تھی۔ یقین کا ہالہ جو رب العزت عطا کرتا ہے بس اس کے تحت ساری الف سے یے تک کی بات لکھ دی گئی کہ دل میں یہی تھا کہ فیصلہ تو آسمان اور زمین کے مالک کا ہے یہ درخواست تو خانہ پری ہے پر اس میں بھی وہی یقین مجسم تھا۔
اور کچھ عرصے بعد۔
’’آپ نے آخر کیا کیا تھا؟‘‘ سوال پوچھا گیا جو پہلے ٹھنڈی سانس کے ساتھ یقین کے موتی تسبیح کی مانند تھما گئے تھے۔
’’جیسا آپ نے کہا تھا کہ دبئی کے بادشاہ کے نام ای میل کریں۔‘‘
’’کیا واقعی…؟‘‘ حیرت نمایاں تھی۔
اس حیرت میں جیت کی آمیزش تھی جو فون کے دوسری جانب سے سنی گئی تھی۔
ساری سازشیں، چرب زبانی، دروغ گوئی، بھڑکانا سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے جب رب العزت کا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔
اس بات کو دس برس سے زائد گزر چکے ہیں۔ اس دوران دنیا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے۔ آج بھی وہ واقعہ لوگوں کی یادداشت اور تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے جب دیبل کے ساحل پر بحری قذاقوں نے سمندری جہاز لوٹا تو ایک عورت نے فریاد کی تھی۔
’’یا حجاج! ہماری مدد کرو۔‘‘
ایک کمزور عورت کی پکار نے ہند کی تاریخ بدل ڈالی تھی، محمد بن قاسم کا نام اس حوالے سے ابھرا گو اور بہت سے حالات و واقعات بھی ابھرتے ہیں لیکن حکمرانوں اور مظلوم رعایا کا تاریخی کنکشن اسلامی منظرنامے پر بارہا ابھرے ہیں۔اس ترقی یافتہ دور میں ایک چھوٹی سی مثال نے کسی غم زدہ دل کو کامیابی اور امید کے دیے تھما دیے تھے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ حالیہ حالات میں مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو در بدر کر دے، حقائق سے آنکھیں پھیر لیں۔ دنیا بہکانے والوں ریاکاروں سے بھری ہوئی ہے پر فیصلہ رب العزت کی جانب سے ہی صادر ہوتا ہے پھر دلوں پر یہ برف کیسی، پکار پر سرد مہری، عزم، یقین اور اوپر والے کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں؟
دیکھیں اور سوچیں کیا یہود و نصاریٰ ہمارے دوست ہو سکتے ہیں۔ چودہ سو سال پہلے سب کچھ تحریر میں آ چکا ہے۔ اور ہم ناامید نہیں ہیں کہ رب العزت کو مایوسی پسند نہیں۔ ایک معمولی سی ای میل پر ایکشن لینے والے آج کیا ردعمل دکھاتے ہیں، وقت منتظر ہے۔
Source link
Today News
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس
امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کےخلاف ہے۔
سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ کملا ہیرس کے مطابق امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو براہ راست قومی مفاد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف 3 دن باقی رہ گئے۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper