Connect with us

Today News

سرخرو پاکستان

Published

on



بہت تیزی سے حالات تبدیل ہورہے ہیں ، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ میرا کالم چھپنے تک، حالات آپ کے سامنے پہلے سے زیادہ بہتر اندز میں واضح ہوجائیں گے۔ پاکستان کا کردار تاریخ رقم کرے گی۔ ہم پر مہربانی ہے مودی صاحب کی وہ مئی 2025 میں ہم پر حملہ کر بیٹھے اور اگر ہم نے اس حملے پر وہی کچھ کرنا ہوتا جو ابھی نندن کی بار کیا تھا تو ماحول ہمارے خلاف بنتا کہ ہم ایسے ہی ہیں۔

ابھی نندن والے حملے میں مودی پر اعتماد ہوئے تھے اور دوبارہ ہم پر حملہ کر بیٹھے، اگر ہم اس کا منہ توڑ جواب نہ دیتے تو یہ ہندوستان اور اسرائیل کو اور اچھا لگتا اور جب ہم منہ توڑ جواب دے بیٹھے تو ہماری اہمیت امریکا سے لے کر سعودی عرب تک بنی ۔ ہم نے یہ کامیاب منہ توڑ جواب اس لیے دے سکے کہ ہمارے پاس چین کی ٹیکنالوجی تھی۔ ہمیں دنیا بھر سے آرڈر آئے، دنیاہمارے جنگی جہاز خریدنے لگی۔ ٹرمپ نے، ہندوستان کے جو سات رافیل جہاز ہم نے گرائے، اس پر مودی کا بڑا مذاق اڑایا۔

ایران کے ساتھ بھی جون میں کچھ اس طرح ماجرا ہوا۔ اسرائیل یہی سمجھتا رہا کہ اس کے انٹرسیپٹر ایران کے پرانے میزائلوں کو روک لیں گے، ایران وہ جون والی جنگ رکوا تو گیا مگر اسے اسرائیل نے بہت دھکیلا ہوا تھا۔ حزب اللہ سے لے کر شام اور حماس تک ، اس کے اتحادی پسپا ہوئے تھے ،اور اس بار ایران نے اسرائیل کو حیران کردیا کہ اس کے پاسدران انقلاب کی ایران میں اتنی گہری جڑیں ہیں۔ دہائیوں سے انھوں نے جنگ کی تیاری کی تھی اور سب سے بڑی بات جو کسی کو سمجھ نہ آئی کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کا وہ مہرہ ہے جو جنگ کے نتائج تبدیل کردے گا۔ اس کے ساتھ دو بڑی طاقتیں چین اور روس کھڑے تھے۔ 

اور اب پورا خلیج و فارس تبدیل ہوگیا۔ سعودی عرب کو امریکی فوج کی اب ضرورت نہیں، ان کے لیے اب پاکستان کی فوج زیادہ قابل بھروسہ ہے۔ قطر بھی یہی سمجھتا ہے ۔ پاکستان نے ایران کو یک بہت بڑی تباہی سے بچایاہے اور اگر ایرانی یہی سمجھتے ہیں تو ہم ایران سے ایک نئے رشتے سے جڑتے ہیں۔اس طرح بھی دیکھ سکتے ہیں کہ امریکا کمزور نہیں ہوا ، بلکہ چین بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ امریکا نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے جب بند کیا تو اسے چین نے توڑ کر دکھایا۔ ہندوستان نے جس اسرائیل پر اپنا وزن رکھا تھا وہ ہندوستان کے لیے آبنائے ہارمز نہیں کھول سکتا، اس لیے ہندوستا ن اپنی پالیسی میں جو اسرائیل کی طرف پاکستان کے پس منظر میں جھک گیا تھا ،وہ اب اپنی پالیسی میں توازن لائے گا۔ 

اب ترکیہ بھی اس اتحاد میں آنا چاہتا ہے جو ہم نے سعودی عرب کے ساتھ بنایا ہے۔ ترکیہ نے اسرائیل پر حملے کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ چین نے بھی بلاواسطہ واضح کیا ہے کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو چین اسرائیل پر حملہ کردے گا۔ سعودی عرب کی حفاظت کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے جو خود نیوکلیئر طاقت ہے۔ اسرائیل کا بیانیہ اب بہت محتاط بنے گا وہ گریٹر اسرائیل تو کیا اب اپنا وجود خطرے میں محسوس کرے گا۔ 

خود ایران ایک بہت بڑی طاقت بن کر ابھرے گاجو تین سپر طاقتیں ہیں جیسا کہ چین، رشیا اور ایران وہ آپس میں جڑی ہوئی ہیںجو چوتھی سپر طاقت ہے وہ یورپی یونین یا نیٹو جو امریکا سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے امریکا کو ٹرمپ نے تنہا کردیا اور اس کے سنگین نتائج خود ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں بھگتنا ہوں گے۔ 

سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران تھیوکریٹک ریاست ہے ۔ بہت سے محققین یہ سمجھتے ہیں، ایران بحیثیت سماج تقسیم ہے، وہ لوگ قہوہ خانوں میں اپنی خواتین کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ حکومت کے خلاف بولنے کی قدرے آزادی ہے۔ ایک سسٹم ہے، آئین ہے ، پارلیمان ہے لیکن ناکافی ہیں ۔ ایران کو اب اپنے آپ کو کھوجنا ہوگا۔ 

ہندوستان، پاکستان اور ایران سینٹرل ایشیا کی منڈیوں تک پہنچنا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو رکاوٹیں وہ ختم ہونی چاہیے۔ ایران اور پاکستان سات فیصد شرح نمو تک جاسکتے ہیں۔ پاکستان نے جان بوجھ کر سرد جنگ میں امریکا کا مہرہ بن کر ان کی امداد پر بھروسہ کرکے خود کو معاشی حقیقتوں سے دور رکھا۔ بہت بڑی جامع پالیسی پھر سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے کہ ہم نئی ابھرنے والی حقیقتوں کو اپنی بہتری کے لیے استعمال کرسکیں۔ 

ہماری معیشت کے بہت پیچیدہ مسائل ہیں۔ ملک کے 57 فیصد لیبر فورس زراعت سے جڑی ہوئی ہے اور زراعت اب بھی پرانی جاگیرداری اقدار میں چل رہی ہے۔ ہم دیہات میں صنعتوں کا جال نہیں بچھا سکے، تعلیم کو بہتر نہیں کر پائے ، ملک کی پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے۔ بے روزگاری بیس سال کے ریکارڈ توڑچکی ہے۔ ہماری شرح نمو اگر پانچ فیصد پر بھی پہنچ پاتی ہے تو ہمیں بیلنس آف پیمنٹ میں مسئلے آجاتے ہیں، کیونکہ ہمارا امپورٹ بل بڑھ جاتا ہے۔ ہماری اسٹیبلیشمنٹ اس غیر پیداواری اشرافیہ کے ساتھ چلنے میں اپنے آپ کو بہتر سمجھتی ہے کیوں کہ یہ شرفا کا طبقہ ہی ان کی سب باتیں مانتا ہے لیکن ملک میں مڈل کلاس قیادت اور طبقہ سیاست کے سینٹر اسٹیج پر آنے کے لیے ناگزیر ہے۔

یہی مڈل کلاس ایران میں بھی ہے اور ہندوستان یا بنگلادیش میں بھی ہے، اگر نہیں ہے تووہ مڈل کلاس پر مبنی حکمران طبقہ ، جوپاکستان میں نہیں ہے۔ کراچی میں موجود مڈل کلاس کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا گیا ہے ، لہٰذا یہی بات ان میں احساس محرومی پیدا کرتی ہے۔ باقی ماندہ سندھ کے اندر مڈل کلاس اتنی کمزور ہے کہ وہ کبھی بھی پیپلز پارٹی میں موجود وڈیروں ، جاگیرداروں کا مقابلہ کرکے اقتدار نہیں لے سکتی ہے ۔ ان کو بھی ایک طرح سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے اور خود ان کے بیانیے میں مسائل ہیں۔

اس سے بدتر حالات بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مڈل کلا س کے بھی ہیں ، وہ کبھی اقتدار تک پہنچ نہیں سکتے اور وہاں پر بھی جو غیر پیداواری طبقہ ہے اس کے ساتھ مل کر بلوچستان اور خیبر پختونخواکو چلایا جارہا ہے جو عوام کے حقیقی نمایندہ نہیں۔ ہماری کل تک افغان پالیسی تھی ، وہ کیا تھی؟ ہم ان غیر پیداواری ، ترقی کی دشمن گروپ کو ملک کے مفاد میں بہتر سمجھتے رہے ، وقت آنے پر ہمیں پتہ چلا یہ غلط ہے اور جو پاکستان کے اندر اشرافیہ طبقہ، جن کو طاقت ملی اسی افغان پالیسی سے، اسمگلنگ، منشیات اور اسلحے کا کاروبار نکلا۔ 

بلاشبہ پاکستان نے ایک خطرناک طوفان سے خود کو باہر نکالا ہے اور اس میں یہ ایران تھا جس نے سینہ تان کے مقابلہ کیا ، وہ اگر نہ کرتا تو سارا خلیج اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ، اور ہندوستان نے ہمارے لیے سنگین مسائل پیدا کرنے تھے۔ ہمارے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے، اس لیے کہ پاکستان کے اندر سیاسی قوتیں انتہائی کمزور ہیں۔
ایک نئی ترتیب سے خلیج و فارس ابھر رہا ہے۔ ہمارے سامنے نئے زمانے کھڑے ہیں، نئے تقاضے، نئے پیمانے پڑے ہیں۔ ہم اب پرانے بیانے سے آگے نہیں چل سکتے، اگر ہم نے یہ موقع بھی گنوا دیا تو پھر ہمارے لیے بھی بہت مشکلات ہیں۔ پاکستان کی ترسیلات زر چالیس ارب ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔

ہماری ایکسپورٹ تیس ارب ڈالر تک آگئی ہے۔ آیندہ پانچ سالوں سے سینٹرل ایشیا ، ایران سے تجارت کے مواقعے نکل رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے بھی ہم اپنی سرزمین ایکسپورٹ کر سکتے ہیں ۔ اس لیے پاکستان کو ہر سال سو ادو ارب ڈالر ترسیلات زر اور ایکسپورٹ سے چاہئیں۔ کیوں کے ہمارا ایکسپورٹ بل بھی نوے ارب ڈالر تک چلا جائے گا، ایک نئی دنیا ہے ہمارے آگے، ہمیں عمران خان کا نیا پاکستان نہیں، بلکہ ایک حقیقی ترقی پسند پاکستان درکار ہے جو سمت بنا سکے، ان بدلے ہوئے زمانوں میں۔
 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران امریکا مذاکرات میں پیشرف ہوئی ہے لیکن کئی اہم نکات پر اختلافات ہیں، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

Published

on



ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں کچھ معاملات پر اتفاق ضرور ہوا ہے، تاہم کئی اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ، دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اب وہ بالواسطہ ذرائع سے پیغامات بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔

ایرانی اسپیکر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جن میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کی میزائل و عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا شامل تھا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، وینزویلا نہیں ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

وزیر اعظم سعودیہ، قطر اور ترکیہ کے دورے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے

Published

on



وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے سہہ ملکی دورے کے بعد ہفتہ کو وطن واپس پہنچ گئے۔

وزیراعظم نے تین روزہ دور سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دوران تینوں برادر ممالک کی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

 وزیرِ اعظم نے برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کی مزید مضبوطی، خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی کوششوں اور خطے و عالمی صورتحال پر عالمی رہنماں سے تبادل خیال کیا۔

 انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکیہ کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر تولگا برمیک اور دیگر نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف واپسی پر لاہور پہنچ گئے۔

ایئرپورٹ پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور سینیئر ایڈوائیزر پنجاب علی ڈار نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ محسن نقوی نے وزیر اعظم کو اپنے دورہ ایران پر بریفنگ بھی دی۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ میں خوبصورت شہر انطالیہ سے روانہ ہو رہا ہوں، میں یہاں پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی اور گرمجوش استقبال پر اپنے عزیز بھائی رجب طیب اردوان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں انطالیہ سے خوشگوار یادوں کے ساتھ روانہ ہو رہا ہوں اور اس عزمِ نو کے ساتھ کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائیگا۔



Source link

Continue Reading

Today News

آزما کردیکھیں !!

Published

on



ہم کئی بار کہتے ہیں اور کئی بار کہتے بھی نہیں، بس محسوس کرتے ہیں اور اپنی کیفیت کو کوئی نام بھی نہیں دے سکتے … ہم بہت بور ہوگئے ہیں، زندگی میں یکسانیت آ گئی ہے اور اپنا آپ بے کار لگنے لگتا ہے، اس صورت حال میں ہمیں یہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے گھر والے بھی ہم سے اکتا گئے ہیں اور جب ذہن ایک منفی بات پر یقین کر لیتا ہے تو وہ نیلی عینک پہن کر ہر بات کو نیلا ہی دیکھتا ہے چونکہ اپنے اندر سوچیں منفی ہوتی ہیں تو ہر کسی کی ہر بات منفی لگتی ہے، خواہ وہ روز مرہ کی عام سی باتیں ہوں، وہ فقرے جو گھر میں پہلے بھی آپ سے کہے جاتے تھے، اب آپ سنتے ہیں تو آپ کو ان کے ہر ہر حرف میں کئی معانی چھپے نظر آتے ہیں،آپ سادہ سی بات کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ، بین السطور دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

… ابا آپ ٹھیک سے بیٹھا کریں، جس طرح آپ بیٹھے ہیں، اس طرح تو آپ کو کمر کا درد بھی ہو سکتا ہے۔
… اماں، ایک بات کو بار بار نہ دہرایا کریں۔
… ابا آپ ہر وقت فون پر رہتے ہیں، یہ آپ کے لیے اچھا نہیں ہے۔
… اماں آپ اپنے فون کو بیگ میں رکھتی ہیں تو اس پر رگڑیں لگ لگ کر خراب ہو جاتا ہے۔
… میرے دوستوں کے آنے پر آپ دونوں ذرا آہستہ بولا کریں۔

یہی ساری باتیں اور لہجے ہوتے ہیں جو ہمارے بچوں کے ہمارے ساتھ ہمیشہ ہوتے ہیں مگر ہوتا یہ ہے کہ جب ہم عمر کی سہ پہر اور شام میں پہنچتے ہیں تو ہمیں یہ سب باتیں چبھنا شروع ہوجاتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ یہ وہ بچے ہیں جن کے ساتھ ہم ہمیشہ نرمی سے بات کرتے تھے، ان کے سوالات پر ہم انھیں چوم چوم کر جواب دیتے تھے لیکن یہ فطرت ہے اور اسی لیے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم اپنے والدین کو بڑھاپے کی عمر میں پاؤ تو ان سے نرمی سے بات کرو… اس لیے کہ والدین اپنی جوانی اپنی اولادوں کے لیے گنوا دیتے ہیں اور جب وہ بڑھاپے میں پہنچتے ہیں تو اس وقت اولادوں کی ترجیحات بدل چکی ہوتی ہیں۔ 

اب ہم لوگوں کو چاہیے کہ اس تیز رفتار زمانے میں اولادوں سے سوائے اس کے کوئی امید نہ رکھیں کہ وہ ہم سے رابطہ رکھیں، ہمارے ساتھ ایک ہی گھر میں ہیں، دوسرے گھر میں، دوسرے شہر میں یا دوسرے ملک میں، بس اتنا تعلق رکھیں کہ ہمیں ان کی موجودگی محسوس ہو- ہم اپنی عمر کے اس دور میں اپنے لیے ایسی مصروفیات تلاش کریں جو کہ ہمیں وقت ہی نہ دیں کہ ہم بچوں کی لاپروائی کے روگ لگا کر بیٹھ جائیں، منفی سوچ سوچ کر اپنی صحت خراب کر لیں۔ چلیں کچھ طریقے بتاتی ہوں کہ ہم اور آپ کیا کر سکتے ہیں۔

… ان تمام چیزوں کی فہرست بنائیں جو آپ کرنا چاہتے تھے اور کر نہ سکے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا،آپ کی فہرست ابھی تک آپ کے لیے ہے، اس کی تکمیل کی کوشش کریں۔
… اچھا استاد ڈھونڈیں یا آن لائن کسی اچھی ایپ سے اپنی مذہبی کتاب کو سمجھ کر پڑھیں ، کچھ دعائیں اور آیات زبانی یاد کرسکیں تو کریں، نہ بھی کر سکیں تو کم از کم جو کچھ پڑھتے ہیں، اس کا مطلب آتا ہو۔ 

… کبھی کبھار کسی فلاحی ادارے، اولڈ ہوم ، دارالامان، اسپتال یا یتیم خانے کا چکر لگائیں، وہاں کچھ وقت صرف کریں تو آپ کو اپنی زندگی میں اتنی نعمتیں نظر آنے لگیں گی جو پہلے آپ کو نظر نہیں آتی تھیں۔ 
… اچھی کتابیں پڑھیں، جس وقت کتاب آپ کے ہاتھ میں ہو، اس وقت آپ کے اور کتاب کے بیچ کوئی اور مخل نہ ہو۔ دنیا کے ہر موضوع پر کتابیں پڑھیں ،آن لائن بھی پڑھیں لیکن اپنی رہی سہی نظر کو بچانے کے لیے اسکرین سے ہٹ کر کچھ کاغذی کتابیں پڑھیں، نئی کتاب کے اوراق کی خوشبو کا اپنا ایک لطف ہے اور اسے سرہانے رکھ کر سونا اور بھی اچھی،آپ خوابوں میں بھی اس کتاب کے سفر میں رہتے ہیں، ان جگہوں پر اور ان کرداروں کے بیچ خود کو موجود پاتے ہیں۔

… کسی نئی جگہ کا سفر کریں جہاں کوئی آپ کو جانتا نہ ہو، آپ کے نام، عہدے، عمر یا دولت کے ترازو کے بغیر… یہ آپ کو بتاتا ہے کہ بغیرکسی لیبل کے آپ کون ہیں، جب تک زندگی ہے، سفر کرنے میںکوئی مضائقہ نہیں ہے، اللہ تعالی نے یہ دنیا ہمارے لیے بنائی ہے، اس کی کاریگری دیکھنے کے لیے ہمیںمالی اور جسمانی سکت ہو تو جہاں اور جب جا سکیں ، ضرور جائیں۔ چھوٹی موٹی الجھنوں سے ہٹ کر سفر اور سفر کے ساتھیوں کے ساتھ لطف انداز ہوں۔

… اپنے فون اور دوستوں کے بغیرکبھی اکیلے کسی ہوٹل یا ریستوران میں کھانا کھائیں، بے شک وہ کوئی گمنام سی جگہ ہو، سادہ سا کھانا بھی کھا سکتے ہیں، اس سے آپ اپنی ہی کمپنی سے لطف اندوز ہونا سیکھیںگے۔
… کبھی بالکل تنہا ہوں تو فون پر بھی کسی سے بات کئے بغیر ایک دن گزار کر دیکھیں ، کچھ رکے ہوئے چھوٹے موٹے کام کریں، لان میں پودوں کو دیکھیں اور پرندوں کے چہچہانے کی آوزیں سنیں، اپنے ساتھ وقت گزاریں،آپ کو احساس ہو گا کہ آپ کے دماغ میں کتنا شور مچا ہوا ہے۔

… بغیر کسی منزل کاتعین کئے لمبی سیر کے لیے جائیں، ہر وقت بیٹھے رہنا یا سیر کے لیے نکلنے میں ہچکچاہٹ سے آپ کی طبیعت میں سستی پیدا ہو جاتی ہے اورآپ خود کو ایک جگہ پر محدود کر لیتے ہیں ۔کبھی کبھی حرکت سمت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اٹھیں اور چلیں۔
… اکیلے کھڑے ہو کر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے نظارے دیکھیں، پارک میں جا کر گھاس کے قطعے پر بیٹھ کر اس کی نرمی اور ٹھنڈک کو محسوس کریں، دھوپ میں بیٹھیں اور جسم کو قدرتی حرارت محسوس اور جذب کرنے دیں ۔ بارش میں بھیگیں، سردی کی بارش ہو تو خود کو اچھی طرح گرم کپڑے پہن کر محفوظ کر کے ، برآمدے میں بیٹھ کر سوپ یا کافی پئیں، جسم کو اندر سے حرارت ملے گی اور باہر کی سردی سے بچت ہو گی۔ ساحل سمندر پر جا کر پورے چاند کی روشنی میںجوار بھاٹا دیکھیں، کس طرح لہریں ساحل پر آ کر سر پیٹتی اور لوٹ جاتی ہیں، آپ کو اندازہ ہو گا کہ خوبصورتی کو تنہا آنکھ بھی دیکھ سکتی ہے اور دل محسوس کر سکتا ہے۔

… فطرت میں بیٹھیں اور صرف سکون سے گہرے سانس لیں، سکون اکثر خاموشی میں چھپا ہوتا ہے خواہشوں کی تکمیل میں نہیں۔کبھی بالکل الٹا کرنے کو دل چاہے تو کسی شور شرابے والی جگہ پر جا کر اپنے دل کی دھڑکنوں کو شور کی تال پر اچھلتے ہوئے محسوس کریں ۔
… کسی کو بتائے بغیر اپنے خوابوں کا تعاقب کریں، ترقی اکثر مختلف ہوتی ہے، اگر کوئی دیکھ نہ رہا ہو تو خواب ہم مرتے دم تک دیکھتے ہیں تو ان کا تعاقب بھی آخری سانس تک کیا جا سکتا ہے۔ آپ زندگی کو نئے ڈھب سے جی کر دیکھیں،آپ کو ہر لمحہ نیا لطف محسوس ہو گا۔
 



Source link

Continue Reading

Trending