Today News
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری
پاکستان کی امن کوششیں رنگ لے آئیں، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران، پاکستان کا شکریہ۔ ایرانی صدر نے بھی جنگ روکنے میں پاکستان کا کردار قابل ستائش قرار دے دیا۔ اسرائیل ، لبنان میں جنگ بندی کا آغاز ہو گیاہے۔ یہ انتہائی غیرمعمولی پیش رفت ہے۔
پاکستان نے اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا اور اس کے بعد وہ ترکیہ بھی گئے جب کہ پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران گئے جہاں انھوں نے ایران کے اہم لیڈروں سے بات چیت کی جس کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان سامنے آیا۔ جب سے خلیج جنگ شروع ہوئی ہے، اس معاملے میں پاکستان نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان نے اسلام آباد میں متحرک فریقوں کو اکٹھا کیا اور انھیں آپس میں بات چیت کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس کے بعد ہی معاملات آگے بڑھے ہیں اور اب امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنگ بند ہو جائے گی اور تنازعات کا کوئی نہ کوئی آبرومندانہ حل بھی نکل آئے گا۔ فی الحال جو باتیں اور خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ ملی جلی ضرور ہیں لیکن عالمی منڈی میں جو مثبت ٹرینڈ دیکھنے میں آیا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ عالمی سٹیک ہولڈرز کو خلیج میں امن کا مکمل یقین ہے۔
اگلے روز کی خبروں کے مطابق سوشل میڈیا اکائونٹ X پر پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ لبنان میں جنگ بندی ہو چکی ہے، ہرمز کی خلیج کے ذریعے تمام تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے راستہ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے، البتہ فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھولنے کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کھلنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم، فیلڈ مارشل دونوں بہترین اور عظیم لوگ ہیں، امریکی صدر نے مدد کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے بھی اظہار تشکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کے لیے شاندار دن ہے، امر یکہ بھی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ آبی گزرگاہ ہمیشہ کھلی رہے۔ تاہم ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل نہیں ہو جاتا۔ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا اکائونٹ پر اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات چیت جاری ہے۔ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا، ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی صدر کے دعوئوں کو مسترد کردیا ہے۔
ادھر تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں صورت حال مزید بہتر ہو جائے گی۔
امریکی صدر نے ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے جنگ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جوہری پروگرام کی وجہ سے یہ کرنا پڑی، یہ جنگ بہت جلد ختم ہونی چاہیے اور یہ جنگ اچھے طریقے سے ختم ہونے جارہی ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا حزب اللہ نے معقول انداز اپنایا تو یہ ان کے لیے ایک عظیم لمحہ ہوگا، کوئی ہلاکتیں نہیں ہوں گی، آخر کار امن لازمی طور پر ہونا چاہیے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی علاقائی استحکام کے لیے اہم کامیابی ہے،یہ دن لبنان کے لیے تاریخی ہو سکتا ہے، معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔حزب اللہ کے مسئلے سے مناسب انداز میں نمٹ لیں گے۔ امریکی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے معاملات پر بھی خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور اس حوالے سے بھی اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایران امن، استحکام اور خطے میں برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، ایرانی عوام کا وعدے توڑے جانے کی وجہ سے امریکا پر اعتماد نہیں۔
انھوں نے زور دیا کہ عالمی قوانین اور اصولوں کے تحت ایرانی قوم کے حقوق برقرار رہنے چاہیں، امریکا اس تنازع میں فاتح بن کر نہیں ابھرے گا، تنازع سے خطے کے ممالک اور دنیا سنگین نقصانات اٹھائے گی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی کشیدگی کی صورت میں مخالفین کو بھاری ضربوں اور ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آرمی ڈے پر تقریب سے خطاب میں ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ دشمن کے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور آخری سانس تک اپنے عہد پر قائم رہیں گے۔
دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ ایران ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ادھر لبنان اور اسرائیل میں 10 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا جس کے بعد دارالحکومت بیروت میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا، جشن منایا گیا اور بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
جنگ بندی کے آغاز کے ساتھ ہی بیروت و دیگر علاقوں میں پناہ پینے والے ہزاروں خاندانوں نے جنوبی مضافات (Dahieh) کی طرف واپسی شروع کر دی، لوگ اپنے گھروں کی حالت دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان اور خطے کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی حزب اللہ کی ہوئی ہے، جنگ بندی لبنان کی مزاحمت اور ایران کی حمایت کا نتیجہ ہے۔
حزب اللہ نے لبنان میں جاری جنگ بندی کے دوران اسرائیل کی جانب سے کسی بھی دھوکے یا غداری کی صورت میں کہا ہے کہ وہ انگلی ٹریگر پر رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمت کے تناظر میں مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اہم پیش رفت ہے اور یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ سعودی عرب نے بھی لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے کھولنے کی خبر پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ اس حوالے سے پاکستان کے لیے بہتر خبر یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 32 روپے 12 پیسے کمی کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ساتھ جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔
اس صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خلیج میں مستقل طور پر جنگ بند ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ امریکا اور ایران جنگ کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو اس لڑائی سے متاثر نہ ہو رہا ہو۔ اب اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اسی لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے بھی اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔
ابھی جنگ کے حوالے سے فریقین کی جانب سے متضاد خبریں آ رہی ہیں۔ امریکا کے صدر ٹرمپ بھی ملی جلی باتیں کر رہے ہیں جب کہ ایران کی طرف سے بھی اسی قسم کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس قسم کی خبریں اس وقت تک آتی رہیں گی جب تک کہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل بھی یہ کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ہمارے پاس اچھی خبریں ہیں۔ برطانیہ، یورپی یونین اور چین نے بھی صورت حال میں اس مثبت تبدیلی کو سراہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ ہیں ہے کہ خلیج میں جنگ بند کرانے کے لیے پاکستان نے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران جانا غیرمعمولی واقعہ ہے۔ وہاں انھوں نے ایرانی ٹاپ قیادت کے ساتھ جو بات چیت کی ہے، اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے پوری دنیا پر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ایسا مضبوط ملک ہے جو بڑے تنازعات کو حل کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس صورت حال میں اگر بھارتی پالیسی کو دیکھا جائے تو ان کی سفارت کاری ناکام نظر آتی ہے۔ بھارت دنیا میں تنہا نظر آ رہا ہے۔ اتنی بڑی سفارتی سرگرمیوں کے درمیان بھارت کہیں نظر نہیں آیا جب کہ پاکستان اس عالمی ڈپلومیسی کا محور بنا ہوا ہے۔
Source link
Today News
واشنگٹن کے سائے سے نکلتا ہوا نیا مشرقِ وسطیٰ
مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی نقشہ اس وقت عالمی سیاست کے بساط پر ایک ایسے بپھرے ہوئے سمندر کی مانند ہے جہاں ہر لہر ایک نئی دفاعی حکمت عملی کو جنم دے رہی ہے۔ 2026 کے تناظر میں اگر ہم اس خطے کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو تزویراتی گہرائی اور دفاعی حصار کے معنی مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ سفارتی برف پگھلنے کے باوجود، نقشے پر موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ایرانی میزائل پروگرام کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والا تناؤ موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ بیان اس نقشے پر لکھی گئی ان عبارتوں کو واضح کرتا ہے جن میں اب جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ ’’دفاعی دائرہ کار‘‘ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی لائن کو اپنی سرحدوں سے نکال کر پورے خطے میں پھیلا دیا ہے، جس کے نتیجے میں نقشے پر موجود بحیرہ عرب، خلیجِ فارس اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے اب براہِ راست تہران کی عسکری صلاحیت کے زیرِ اثر محسوس ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی عسکری کارروائی صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کی معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر سعودی عرب کی جغرافیائی حیثیت مرکزی ہے، جو ایک طرف ایران اور دوسری طرف افریقہ اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ یہاں امریکی اڈوں کی موجودگی نقشے پر ایسے اہم دفاعی نکات بن چکے ہیں جو ایران کی فضائی برتری کے لیے مستقل خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔ تاہم، 2026 کی موجودہ کشیدگی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب کوئی بھی فوجی اڈہ ناقابلِ تسخیر نہیں رہا۔ ایرانی ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی نے نقشے کی طوالت کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے، جہاں فاصلے اب تحفظ کی ضمانت نہیں رہے۔
جب ایرانی وزیرِ خارجہ سعودی عرب کو برادر ملک قرار دیتے ہیں، تو دراصل وہ نقشے پر ایک ایسی لکیر کھینچ رہے ہوتے ہیں جو عرب ریاستوں کو امریکی مفادات سے علیحدہ کرنے کی ایک سفارتی کوشش ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب نقشے پر موجود امریکی اڈوں کو اپنی سیکیورٹی کے لیے ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دے رہا ہے اور خطے کے ممالک کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ان اڈوں کی موجودگی پورے خطے کے نقشے کو جنگ کے شعلوں کی زد میں لا سکتی ہے۔
یہ جغرافیائی سیاسی دباؤ سعودی عرب جیسے ممالک کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی دہائیوں پرانی دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور ایک ایسے توازن کی تلاش کریں جہاں وہ امریکا کے حلیف بھی رہیں اور ایران کے ہدف سے بھی بچ سکیں۔مسلم دنیا کے وسیع تر تناظر میں، مشرقِ وسطیٰ کا دفاعی نقشہ اب محض چند ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پاکستان سے لے کر ترکیہ اور مصر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک نقشے پر ایک ایسی پوزیشن رکھتے ہیں جہاں وہ مشرق اور مغرب کے درمیان توازن برقرار رکھ سکتے ہیں، اگر ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی و معاشی تعاون بڑھتا ہے، تو نقشے پر ایک نیا ’’اسلامک بلاک‘‘ ابھر سکتا ہے جو بیرونی مداخلت کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔ یہ تبدیلی عالمی قوتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگی کیونکہ اس سے بحیرہ روم اور بحر ہند کے درمیان ایک ایسا سیکیورٹی زون بن جائے گا جہاں واشنگٹن یا برسلز کے بجائے فیصلے تہران، ریاض، انقرہ اور اسلام آباد میں ہوں گے۔ اس دفاعی منظرنامے میں سب سے اہم عنصر ’‘خود مختاری‘‘ کا ہے۔
نقشے پر موجود ممالک اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی زمین کو غیر ملکی طاقتوں کے لیے استعمال ہونے دیں گے تو وہ غیر ارادی طور پر دوسروں کی جنگ کا ایندھن بن جائیں گے۔ ایرانی حملوں نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگ میں ہدف صرف زمین نہیں ہوتی بلکہ وہ ’’اعصابی مراکز‘‘ ہوتے ہیں جو فضائی اور الیکٹرانک کمانڈ کنٹرول کرتے ہیں۔ لہٰذا، مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو اب صرف پہاڑوں اور میدانوں کی نظر سے نہیں بلکہ ان نادیدہ لہروں اور سگنلز کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے جو جنگ و امن کا فیصلہ کرتے ہیں۔
عباس عراقچی کا بیان اسی بدلتی ہوئی حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نقشے پر موجود سرحدیں دشمنی کے بجائے مشترکہ دفاع کی لکیریں بن جائیں، تاکہ بیرونی قوتوں کے پاس مداخلت کا کوئی اخلاقی یا عسکری جواز باقی نہ رہے۔ یہ عمل اگرچہ دشوار گزار ہے، لیکن 2026 کے حالات بتا رہے ہیں کہ مسلم دنیا کے پاس اب اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا کہ وہ اپنے نقشے کی حفاظت خود کرے۔ خود مختاری کا یہ سفر صرف عسکری نہیں بلکہ ذہنی اور سیاسی آزادی کا بھی متقاضی ہے، جہاں علاقائی فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق ہوں۔معاشی طور پر، اگر یہ مستحکم اتحاد حقیقت بنتا ہے، تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں کے رخ موڑ سکتے ہیں۔
سب سے پہلا اور بڑا اثر توانائی کی قیمتوں کے استحکام پر پڑے گا۔ دنیا کے تیل اور گیس کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ان ممالک کے کنٹرول میں ہے، اگر یہ ممالک اپنی پیداواری پالیسیاں ایک دوسرے کیساتھ ہم آہنگ کر لیں، تو وہ پیٹرو ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، جو امریکی ڈالر کی عالمی اجارہ داری کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ اس کیساتھ ہی، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم سمندری راستے اب غیر ملکی بحری بیڑوں کے بجائے علاقائی فورسز کے زیر ِ نگرانی ہوں گے، جس سے انشورنس کے اخراجات میں کمی آئے گی اور علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔ ایران کی گیس پائپ لائنز کا جال اگر سعودی عرب اور ترکیہ کے ذریعے یورپ تک پھیل جاتا ہے، تو یہ خطہ دنیا کا سب سے بڑا ’’انرجی ہب‘‘ بن جائے گا، جس سے کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اس نئے منظرنامے میں ایک ’’کھیل تبدیل کرنیوالے‘‘ کی ہے۔ پاکستان اب محض ایک سیکیورٹی فراہم کرنیوالا ملک نہیں رہا، بلکہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک تزویراتی پل بن چکا ہے۔ اگر ایران اور سعودی عرب سی پیک کا حصہ بنتے ہیں، تو وسطی ایشیا سے لے کر خلیج تک ایک ایسا معاشی زون بن جائے گا جو چین کی عالمی سپلائی چین کا مرکز ہوگا۔ اسلام آباد کا کردار اب واشنگٹن کے دباؤ سے نکل کر خود مختار فیصلوں کی طرف مائل ہے، جو اسے مسلم دنیا کے ایک غیر جانبدار اور طاقتور ضامن کے طور پر پیش کرتا ہے۔
پاکستان کی شمولیت اس اتحاد کو عسکری وزن کیساتھ ساتھ ایک ایسی سفارتی ڈھال بھی فراہم کرے گی جو اسے عالمی پابندیوں اور دباؤ سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔آخر میں، مشرقِ وسطیٰ کا یہ نیا رخ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ جغرافیہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا، لیکن جغرافیے کو استعمال کرنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ آج کا مشرق وسطیٰ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں عسکری طاقت اور سفارتی دانش مندی کا ملاپ ناگزیر ہے۔
نقشے پر موجود ہر بندرگاہ، ہر ایئر بیس اور ہر تیل کا کنواں اب ایک تزویراتی اثاثہ ہے جسے بچانے کے لیے علاقائی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ایران کا سعودی عرب کو بھائی کہنا اور امریکی انخلا کا مطالبہ کرنا دراصل اس خواہش کا اظہار ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ دوبارہ سے خطے کے عوام کی امنگوں کے مطابق ترتیب دیا جائے۔
یہ عمل صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک تہذیبی بیداری ہے جو بتاتی ہے کہ بیرونی بیساکھیوں کا دور ختم ہو چکا ہے، اگر یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے، تو آنے والی دہائیاں اس خطے کو دنیا کے سب سے محفوظ اور خوشحال خطے کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھیں گی، جہاں امن کا دارومدار کسی بیرونی بحری بیڑے پر نہیں بلکہ آپسی اعتماد اور مضبوط دفاعی اتحاد پر ہوگا۔ یہ 2026 کا وہ نیا خواب ہے جو اب حقیقت کے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔
Source link
Today News
ایسا کیسے
متحدہ عرب امارات کے حوالے سے ایران اور امریکا، اسرائیل جنگ کے تناظر میں سوشل میڈیا کے رنگ ہر طرح کے ہی تھے، خاص کر پاکستان کے تین ارب ڈالرز کے حوالے سے ایک عجیب سی صورت حال تھی کیونکہ پاکستان کے معاشی حالات اور تیل کی بڑھتی قیمتیں بہت سی الجھنیں الگ اس کے باوجود پاکستان کا بڑھ کر ثالثی کا کردار مثبت طور پر نمایاں ہوا ہے لیکن یو اے ای نے ایک مشکل وقت میں ہمارا بھی ہاتھ تھاما تھا۔
ہمیں یہ یاد ہے لیکن ادھر اُدھر سے ٹویٹ کی اڑتی چڑیاں ایک عام انسان کی ذہنی حالت کو بدلنے میں کردار ادا کرتی ہیں اور وہ ہوا بھی جس طرح پاکستان نے ایران اور امریکا سے آئے نمایندوں کو خوش آمدید کہا، اس میں خاص کر پاکستان پر بلا جواز تنقید ایران کے نمایندوں کے حوالے سے ایک فکر انگیز سوچ کو جنم دیتی ہے۔
جب سے متحدہ عرب امارات کی دولت کا ایک دنیا میں چرچا ہوا لوگوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ ریگستان میں سونے کے محل، یہ محل بنانے، سنوارنے اور مواقع فراہم کرنے میں پاکستان اور اس کی عوام کا بھی حصہ ہے یہ ایک الگ باب ہے لیکن مسلمان ہونے کے ناتے قدرتی طور پر جو دردمند دل رب العزت کی طرف سے عطا کردہ ہے، اس کا کیا کیا جائے جو امت مسلمہ کی محبت میں ہمکتا ہی ہے،وگرنہ اسے سازشوں، افواہوں اور لگائی بجھائی کے جدید طریقوں سے تیار نہ کیا جائے اور آج کل ایسا ہو رہا ہے۔
ان حالات میں لگتا تھا کہ اب میرا اپنا کوئی مددگار نہیں، میں اکیلی کمزور عورت میرا کون سا رشتہ دار یا سگا تھا جو ان کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا۔ ایک جانب دولت مند تو دوسری جانب ایک کمزور غریب خاتون، وہاں رشوت، چرب زبانی کے حربے اختیار کیے گئے اور مظلوم ہونے کے باوجود میں کیس ہار گئی۔میرے لیے یہ اذیت ناک تھا سنا تھا کہ دبئی اور دیگر امارات کی ریاستوں میں قانون کے حوالے سے بہت شفافیت ہے اگر جرم ثابت ہو جائے تو چوکتے نہیں چارج کرنے میں، لیکن میں تو اپنے نصیبوں پر آنسو بہانے کو رہ گئی تھی، اتنے پیسے آنے جانے اور ویزے کے حصول پر خرچ کرکے بھی قصوروار اور کیس خارج۔
’’آپ بتائیں کیا کریں ہم؟‘
’’دیکھیں وہ وکیل بہت مشہور ہے اس طرح کے کیسز کے لیے وہ اپنی چرب زبانی سے جج کو قائل کر لیتا ہے اور لینے دینے کے معاملے میں بھی سنا ہے کہ….‘‘
’’کیا دبئی میں بھی….؟‘‘
’’بھئی یہ دنیا ہے آپ سمجھیں۔ کہاں نہیں چلتی رشوت، مظلوم کا ساتھ دینے کا مطلب ہے کہ آخرت میں انعام ملے گا، اب کون اتنا لمبا انتظار کرے، اس لیے شاید آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا،کیا جج نے پیسے کھا لیے؟‘‘
’’میں نے تو بہت اعتماد اور یقین کے ساتھ کیس کیا تھا کہ میں حق پر ہوں، اب کیا کروں۔ ایک دوسرے ملک میں جا کر خاص پاکستان سے جا کر کتنا پیسہ لگا ہمارا اور صلہ یہ ملا کہ میں ہی حق پر ہو کر ہار گئی۔ اب کس سے درخواست کروں؟ کوئی تو ہوگا اس جج سے اوپر۔ اوپر تو اللہ ہے، پر اس نے بھی تو فیصلے کا حق اپنے بندوں کو دیا ہے۔ کوئی تو ہوگا جو ان کی بھی چیکنگ کریں، جانچیں اصل جھوٹ کا فیصلہ کرے۔‘‘
’’آپ وہاں کے بادشاہ کو ای میل کر دیں کیونکہ والی ریاست کو ہی تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ پھر اللہ آپ کے لیے راستہ بنائے۔‘‘
سوچ کر کہا گیا تھا۔
اور ایسا ہی کیا گیا ایک موہوم سی امید تھی جو اس سوچ کے ٹھنڈے انداز میں کہے جواب میں مقید تھی، پھیل کر نور کا ہالہ بنا چکی تھی۔ یقین کا ہالہ جو رب العزت عطا کرتا ہے بس اس کے تحت ساری الف سے یے تک کی بات لکھ دی گئی کہ دل میں یہی تھا کہ فیصلہ تو آسمان اور زمین کے مالک کا ہے یہ درخواست تو خانہ پری ہے پر اس میں بھی وہی یقین مجسم تھا۔
اور کچھ عرصے بعد۔
’’آپ نے آخر کیا کیا تھا؟‘‘ سوال پوچھا گیا جو پہلے ٹھنڈی سانس کے ساتھ یقین کے موتی تسبیح کی مانند تھما گئے تھے۔
’’جیسا آپ نے کہا تھا کہ دبئی کے بادشاہ کے نام ای میل کریں۔‘‘
’’کیا واقعی…؟‘‘ حیرت نمایاں تھی۔
اس حیرت میں جیت کی آمیزش تھی جو فون کے دوسری جانب سے سنی گئی تھی۔
ساری سازشیں، چرب زبانی، دروغ گوئی، بھڑکانا سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے جب رب العزت کا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔
اس بات کو دس برس سے زائد گزر چکے ہیں۔ اس دوران دنیا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے۔ آج بھی وہ واقعہ لوگوں کی یادداشت اور تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے جب دیبل کے ساحل پر بحری قذاقوں نے سمندری جہاز لوٹا تو ایک عورت نے فریاد کی تھی۔
’’یا حجاج! ہماری مدد کرو۔‘‘
ایک کمزور عورت کی پکار نے ہند کی تاریخ بدل ڈالی تھی، محمد بن قاسم کا نام اس حوالے سے ابھرا گو اور بہت سے حالات و واقعات بھی ابھرتے ہیں لیکن حکمرانوں اور مظلوم رعایا کا تاریخی کنکشن اسلامی منظرنامے پر بارہا ابھرے ہیں۔اس ترقی یافتہ دور میں ایک چھوٹی سی مثال نے کسی غم زدہ دل کو کامیابی اور امید کے دیے تھما دیے تھے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ حالیہ حالات میں مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو در بدر کر دے، حقائق سے آنکھیں پھیر لیں۔ دنیا بہکانے والوں ریاکاروں سے بھری ہوئی ہے پر فیصلہ رب العزت کی جانب سے ہی صادر ہوتا ہے پھر دلوں پر یہ برف کیسی، پکار پر سرد مہری، عزم، یقین اور اوپر والے کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں؟
دیکھیں اور سوچیں کیا یہود و نصاریٰ ہمارے دوست ہو سکتے ہیں۔ چودہ سو سال پہلے سب کچھ تحریر میں آ چکا ہے۔ اور ہم ناامید نہیں ہیں کہ رب العزت کو مایوسی پسند نہیں۔ ایک معمولی سی ای میل پر ایکشن لینے والے آج کیا ردعمل دکھاتے ہیں، وقت منتظر ہے۔
Source link
Today News
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس
امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کےخلاف ہے۔
سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ کملا ہیرس کے مطابق امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو براہ راست قومی مفاد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف 3 دن باقی رہ گئے۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper