Today News
آزما کردیکھیں !!
ہم کئی بار کہتے ہیں اور کئی بار کہتے بھی نہیں، بس محسوس کرتے ہیں اور اپنی کیفیت کو کوئی نام بھی نہیں دے سکتے … ہم بہت بور ہوگئے ہیں، زندگی میں یکسانیت آ گئی ہے اور اپنا آپ بے کار لگنے لگتا ہے، اس صورت حال میں ہمیں یہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے گھر والے بھی ہم سے اکتا گئے ہیں اور جب ذہن ایک منفی بات پر یقین کر لیتا ہے تو وہ نیلی عینک پہن کر ہر بات کو نیلا ہی دیکھتا ہے چونکہ اپنے اندر سوچیں منفی ہوتی ہیں تو ہر کسی کی ہر بات منفی لگتی ہے، خواہ وہ روز مرہ کی عام سی باتیں ہوں، وہ فقرے جو گھر میں پہلے بھی آپ سے کہے جاتے تھے، اب آپ سنتے ہیں تو آپ کو ان کے ہر ہر حرف میں کئی معانی چھپے نظر آتے ہیں،آپ سادہ سی بات کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ، بین السطور دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
… ابا آپ ٹھیک سے بیٹھا کریں، جس طرح آپ بیٹھے ہیں، اس طرح تو آپ کو کمر کا درد بھی ہو سکتا ہے۔
… اماں، ایک بات کو بار بار نہ دہرایا کریں۔
… ابا آپ ہر وقت فون پر رہتے ہیں، یہ آپ کے لیے اچھا نہیں ہے۔
… اماں آپ اپنے فون کو بیگ میں رکھتی ہیں تو اس پر رگڑیں لگ لگ کر خراب ہو جاتا ہے۔
… میرے دوستوں کے آنے پر آپ دونوں ذرا آہستہ بولا کریں۔
یہی ساری باتیں اور لہجے ہوتے ہیں جو ہمارے بچوں کے ہمارے ساتھ ہمیشہ ہوتے ہیں مگر ہوتا یہ ہے کہ جب ہم عمر کی سہ پہر اور شام میں پہنچتے ہیں تو ہمیں یہ سب باتیں چبھنا شروع ہوجاتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ یہ وہ بچے ہیں جن کے ساتھ ہم ہمیشہ نرمی سے بات کرتے تھے، ان کے سوالات پر ہم انھیں چوم چوم کر جواب دیتے تھے لیکن یہ فطرت ہے اور اسی لیے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم اپنے والدین کو بڑھاپے کی عمر میں پاؤ تو ان سے نرمی سے بات کرو… اس لیے کہ والدین اپنی جوانی اپنی اولادوں کے لیے گنوا دیتے ہیں اور جب وہ بڑھاپے میں پہنچتے ہیں تو اس وقت اولادوں کی ترجیحات بدل چکی ہوتی ہیں۔
اب ہم لوگوں کو چاہیے کہ اس تیز رفتار زمانے میں اولادوں سے سوائے اس کے کوئی امید نہ رکھیں کہ وہ ہم سے رابطہ رکھیں، ہمارے ساتھ ایک ہی گھر میں ہیں، دوسرے گھر میں، دوسرے شہر میں یا دوسرے ملک میں، بس اتنا تعلق رکھیں کہ ہمیں ان کی موجودگی محسوس ہو- ہم اپنی عمر کے اس دور میں اپنے لیے ایسی مصروفیات تلاش کریں جو کہ ہمیں وقت ہی نہ دیں کہ ہم بچوں کی لاپروائی کے روگ لگا کر بیٹھ جائیں، منفی سوچ سوچ کر اپنی صحت خراب کر لیں۔ چلیں کچھ طریقے بتاتی ہوں کہ ہم اور آپ کیا کر سکتے ہیں۔
… ان تمام چیزوں کی فہرست بنائیں جو آپ کرنا چاہتے تھے اور کر نہ سکے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا،آپ کی فہرست ابھی تک آپ کے لیے ہے، اس کی تکمیل کی کوشش کریں۔
… اچھا استاد ڈھونڈیں یا آن لائن کسی اچھی ایپ سے اپنی مذہبی کتاب کو سمجھ کر پڑھیں ، کچھ دعائیں اور آیات زبانی یاد کرسکیں تو کریں، نہ بھی کر سکیں تو کم از کم جو کچھ پڑھتے ہیں، اس کا مطلب آتا ہو۔
… کبھی کبھار کسی فلاحی ادارے، اولڈ ہوم ، دارالامان، اسپتال یا یتیم خانے کا چکر لگائیں، وہاں کچھ وقت صرف کریں تو آپ کو اپنی زندگی میں اتنی نعمتیں نظر آنے لگیں گی جو پہلے آپ کو نظر نہیں آتی تھیں۔
… اچھی کتابیں پڑھیں، جس وقت کتاب آپ کے ہاتھ میں ہو، اس وقت آپ کے اور کتاب کے بیچ کوئی اور مخل نہ ہو۔ دنیا کے ہر موضوع پر کتابیں پڑھیں ،آن لائن بھی پڑھیں لیکن اپنی رہی سہی نظر کو بچانے کے لیے اسکرین سے ہٹ کر کچھ کاغذی کتابیں پڑھیں، نئی کتاب کے اوراق کی خوشبو کا اپنا ایک لطف ہے اور اسے سرہانے رکھ کر سونا اور بھی اچھی،آپ خوابوں میں بھی اس کتاب کے سفر میں رہتے ہیں، ان جگہوں پر اور ان کرداروں کے بیچ خود کو موجود پاتے ہیں۔
… کسی نئی جگہ کا سفر کریں جہاں کوئی آپ کو جانتا نہ ہو، آپ کے نام، عہدے، عمر یا دولت کے ترازو کے بغیر… یہ آپ کو بتاتا ہے کہ بغیرکسی لیبل کے آپ کون ہیں، جب تک زندگی ہے، سفر کرنے میںکوئی مضائقہ نہیں ہے، اللہ تعالی نے یہ دنیا ہمارے لیے بنائی ہے، اس کی کاریگری دیکھنے کے لیے ہمیںمالی اور جسمانی سکت ہو تو جہاں اور جب جا سکیں ، ضرور جائیں۔ چھوٹی موٹی الجھنوں سے ہٹ کر سفر اور سفر کے ساتھیوں کے ساتھ لطف انداز ہوں۔
… اپنے فون اور دوستوں کے بغیرکبھی اکیلے کسی ہوٹل یا ریستوران میں کھانا کھائیں، بے شک وہ کوئی گمنام سی جگہ ہو، سادہ سا کھانا بھی کھا سکتے ہیں، اس سے آپ اپنی ہی کمپنی سے لطف اندوز ہونا سیکھیںگے۔
… کبھی بالکل تنہا ہوں تو فون پر بھی کسی سے بات کئے بغیر ایک دن گزار کر دیکھیں ، کچھ رکے ہوئے چھوٹے موٹے کام کریں، لان میں پودوں کو دیکھیں اور پرندوں کے چہچہانے کی آوزیں سنیں، اپنے ساتھ وقت گزاریں،آپ کو احساس ہو گا کہ آپ کے دماغ میں کتنا شور مچا ہوا ہے۔
… بغیر کسی منزل کاتعین کئے لمبی سیر کے لیے جائیں، ہر وقت بیٹھے رہنا یا سیر کے لیے نکلنے میں ہچکچاہٹ سے آپ کی طبیعت میں سستی پیدا ہو جاتی ہے اورآپ خود کو ایک جگہ پر محدود کر لیتے ہیں ۔کبھی کبھی حرکت سمت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اٹھیں اور چلیں۔
… اکیلے کھڑے ہو کر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے نظارے دیکھیں، پارک میں جا کر گھاس کے قطعے پر بیٹھ کر اس کی نرمی اور ٹھنڈک کو محسوس کریں، دھوپ میں بیٹھیں اور جسم کو قدرتی حرارت محسوس اور جذب کرنے دیں ۔ بارش میں بھیگیں، سردی کی بارش ہو تو خود کو اچھی طرح گرم کپڑے پہن کر محفوظ کر کے ، برآمدے میں بیٹھ کر سوپ یا کافی پئیں، جسم کو اندر سے حرارت ملے گی اور باہر کی سردی سے بچت ہو گی۔ ساحل سمندر پر جا کر پورے چاند کی روشنی میںجوار بھاٹا دیکھیں، کس طرح لہریں ساحل پر آ کر سر پیٹتی اور لوٹ جاتی ہیں، آپ کو اندازہ ہو گا کہ خوبصورتی کو تنہا آنکھ بھی دیکھ سکتی ہے اور دل محسوس کر سکتا ہے۔
… فطرت میں بیٹھیں اور صرف سکون سے گہرے سانس لیں، سکون اکثر خاموشی میں چھپا ہوتا ہے خواہشوں کی تکمیل میں نہیں۔کبھی بالکل الٹا کرنے کو دل چاہے تو کسی شور شرابے والی جگہ پر جا کر اپنے دل کی دھڑکنوں کو شور کی تال پر اچھلتے ہوئے محسوس کریں ۔
… کسی کو بتائے بغیر اپنے خوابوں کا تعاقب کریں، ترقی اکثر مختلف ہوتی ہے، اگر کوئی دیکھ نہ رہا ہو تو خواب ہم مرتے دم تک دیکھتے ہیں تو ان کا تعاقب بھی آخری سانس تک کیا جا سکتا ہے۔ آپ زندگی کو نئے ڈھب سے جی کر دیکھیں،آپ کو ہر لمحہ نیا لطف محسوس ہو گا۔
Source link
Today News
کپتان محمد رضوان نے مسلسل 7 میچز میں راولپنڈیز کی ناکامی کی اصل وجہ بتا دی
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز راولپنڈیز کے کپتان محمد رضوان نے مسلسل سات میچز میں ناکامی اور ٹیم کے پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے کی اصل وجہ بیان کر دی۔
لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد رضوان نے کہا کہ ان کی اپنی کارکردگی اچھی نہیں رہی، جس کا اثر براہ راست ٹیم کے نتائج پر پڑا۔
انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر میری طرف سے کوئی کمی رہی ہوگی، اسی لیے ایسا نتیجہ سامنے آیا۔ میں نوجوان کھلاڑی کے ساتھ اوپن کر رہا تھا، پوزیشن کے حوالے سے میری اپنی خواہش ضرور ہو تی ہے لیکن ٹیم کا فیصلہ ہمیشہ متفقہ ہوتا ہے۔
محمد رضوان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم مسلسل ہار رہی ہو تو مثبت پہلو تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے، تاہم کچھ چیزیں حوصلہ افزا بھی رہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر ٹیم کو دیکھا جائے تو کہیں کوئی واضح کمی نظر نہیں آتی لیکن قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔
راولپنڈیز کے کپتان نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کو صرف نتائج سے نہیں جانچنا چاہیے، بطور کپتان آپ صرف کوشش کر سکتے ہیں لیکن اگر غلطیاں ہو جائیں تو پھر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
محمد رضوان نے اپنی ذاتی فارم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر میری پرفارمنس نہ ہو تو پاکستان ٹیم میں جگہ نہیں بنتی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہمت ہار جاؤں۔ کرکٹ میرے لیے جنون ہے، مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا، میں محنت کرکے واپس آؤں گا۔
رضوان نے اعتراف کیا کہ یہ ان کے کیریئر کا سب سے مشکل مرحلہ ہے، انہوں نے کہاکہ میں مانتا ہوں کہ یہ میری ناکامی ہے، اب میرے ہاتھ میں صرف محنت کرنا ہے۔
واضح رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز نے راولپنڈیز کو 32 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا اور یہ راولپنڈیز کی مسلسل ساتویں شکست ہے، ٹیم اب تک ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
Today News
دنیا کا متوقع جغرافیہ
دنیا بھر کے جوتش 2026کو تبدیلی (آپ یہاں تباہی بھی پڑھ سکتے ہیں) کا سال ضرور قرار دے رہے تھے لیکن کسی کے خواب و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ تبدیلی یا تباہی اتنی سرعت اور تیز رفتاری سے رونما ہوں گی۔ دنیا کو یہ بھی نظر آرہا تھا کہ امریکا کا بحیثیت سپر پاور وقت ختم ہوا چاہتا ہے لیکن پھر بھی کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ امریکا کی عسکری قوت اور وہ بھی ایران کے مقابلے میں (ساتھ میں چین، روس اور شمالی کوریا آپ خود شامل کر لیجیے گا) یوں منہ کے بل آگرے گی۔
پاکستان کو تو ہر وقت ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس وقت ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ دنیا میں ہر دور میں سب پرانی بات New World Order ہی رہی ہے اور جو یہ بات کرتا ہے وہ ہی نیا عالمی نقشہ پیش کرتا ہے۔ آج ایک دفعہ پھر نئی عالمی درجہ بندی کی بات ہورہی ہے اور ہم اس کالم میں آپ کو آگے کی متوقع درجہ بندی کے بارے میں کچھ بتانے کی سعی کریں گے۔ آگے یہ ہوگا کہ دنیا قوت کے تین مراکز میں تقسیم ہوجائے گی۔ تینوں مراکز یا خطوں کے کیا خدوخال ہوں گے؟ یہی اس کالم کا مرکزی خیال ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ دنیا میں ایک نئی صف بندی ہونے جارہی ہے اور اس صف بندی کے نتیجے میں دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس صف بندی کا سب سے زیادہ اثر مشرق وسطیٰ پر پڑے گا کہ جہاں بہت سے ممالک کی جغرافیائی ہئیت برقرار نہیں رہے گی اور ان کی بقا اسی میں ہوگی کہ وہ دوسرے ملک میں ضم ہوجائے۔ اسرائیل کو بھی اگر برقرار رہنا ہے تو اسے گریٹر اسرائیل کے خواب کو چھوڑنا ہوگا اور زمینی حقائق کو قبول کرنا ہوگا ،ورنہ دنیا میں جو کچھ ان کے ساتھ ماضی میں ہوا تھا وہ شاید پھر سے شروع ہوجائے۔ ان کی ریاست پر تحفظات کے اظہار کا آغاز ہوگیا ہے۔
قرآن نے تو قیامت تک ان کے ساتھ کیا ہوگا ،وہ بیان کردیا ہے۔ تیل کی دولت تو جب تک تیل ہے مشرق وسطیٰ سے آتی رہے گی لیکن اس دفعہ تیل کی آمدنی کی سرمایہ کاری ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسی میں بھی ہوں گی تاکہ اس نئی درجہ بندی والی دنیا میں سب کو حصہ دیا جاسکے۔ دولت کے حوالے سے تو بات ہوگئی لیکن دولت مند ہوسکتا ہے کیا بلکہ یقیناً اب مشرق وسطیٰ میں اس طرح سے رہائش اور سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور وہ اپنے لیے ایک نئی جنت کی تلاش شروع کردیں گے۔
آپ سمجھ لیجیے کہ ایشیا ایک اکائی کی صورت میں اور قوت کے ساتھ اپنا بھرپور اور کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوگا اور اس کی قیادت چین کررہا ہوگا، اس کے نائبین میں پاکستان بھی شامل ہوگا، اگر آپ زیادہ حیرت کا اظہار نہ کریں تو یقین کیجیے کہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی اپنے اس نئے کردار کے لیے تیار ہیں بلکہ شاید آمادگی کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے آنے والا وقت بہت اہم اور کلیدی ہے۔
پاکستان دنیا کی درجہ بندی میں ایک انتہائی اہم ملک کے طور پر کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے ہماری اشرافیہ کو ٹینکروں میں پانی کی سپلائی، بجلی کے مہنگے منصوبے اور سڑکوں کی تعمیر میں رشوت کو چھوڑنا ہوگا، اگر ٹینکروں میں پانی آسکتا ہے تو لائنوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ ایک اہم عالمی کردار ادا کرنے کے لیے اپنے عوام کو مطمئن رکھنا بہت ضروری ہے اور ماضی میں برطانیہ نے اور حال میں امریکا نے بھی یہی کیا تھا۔ اتنے لکھے کو بہت جان لیجیے۔ ہندوستان کا کیا حتمی کردار ہوگا؟ یہ کہنا ذرا قبل از وقت ہوگا۔
ہندوستان کی بہتری تو اسی میں ہے کہ وہ چین کی قیادت میں ایشیا کی صف میں شامل ہوجائے لیکن مودی اور بی جے پی کی انتہا پسند قیادت کے لیے یہ کڑوی گولی نگلنا بہت مشکل ہوگا۔ ویسے بھی اس وقت ہندوستان کی قیادت حالات کا صحیح تجزیہ کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر سخت دباؤ میں ہے اور اس صورتحال میں ان کے غلط فیصلے کرنے کا احتمال زیادہ ہے، اگر ہندوستان کی قیادت چین کی سربراہی والی کڑوی گولی نگلنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو پھر ان کا انجام بھی سویت یونین والا ہوگا جو شاید ہندوستان کے لیے تو اچھا نہ ہوں لیکن خطے کے امن کے لیے بہت سودمند ہوگا۔ چین نے جتنی سرمایہ کاری اپنے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ذریعے افریقہ میں کی ہے تو افریقہ کو چین کی قیادت قبول کرنے میں کوئی تامل یا پس و پیش نہیں ہوگا۔
مغرب نے ہمیشہ افریقہ کو صرف غلاموں کی منڈی کے طور پر دیکھا ہے لیکن مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔ افریقہ اپنے معدنی ذخائر کی بدولت دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کرے گا اور چین کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ جب کوئی بھی افریقہ میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھا تو چین نے سرمایہ کاری کی تھی، لہٰذا جب پھل کھانے کا وقت آئے گا تو چین کا حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔اب ہم یورپ کی طرف آتے ہیں۔
بدقسمتی سے برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ دور میں دوبارہ شکست ہوئی ہے لیکن اس دفعہ محاذ سفارتی تھا۔ امریکا نے اپنے گماشتوں کے ذریعے برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس کا مقصد یورپی یونین کو کمزور کرنا تھا لیکن اس کا الٹ ہوا یعنی یورپی یونین مضبوط ہوئی اور برطانیہ کی معیشت کمزور ہوگئی۔ برطانیہ کو احساس ہوگیا ہے کہ اس سے غلطی کرائی گئی ہے۔
برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اپنے ملک کی پہلے والی حیثیت بحال کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں لیکن اس وقت یورپ کے اہم ممالک فرانس، جرمنی اور اٹلی ہیں اور یہ نہ صرف یورپ کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ہنگری میں حزب اختلاف کی فتح کو نوشتہ دیوار سمجھ لینا چاہیے۔ ہمارے خیال میں آنے والے دنوں یورپ متحد ہوکر متحدہ یورپ کی صورت میں نمودار ہوگا۔
نیٹو طاق نسیاں ہوجائے گا کہ جس کی جانب صدر ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیٹو دراصل پہلے سوویت یونین اور بعد میں روس سے مقابلے کے لیے تھا اور روس یوکرین جنگ اسی لیے شروع کروائی گئی تھی کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کر کے نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پہنچایا جاسکے لیکن اب ایسا نظر آرہا ہے کہ روس متحدہ یورپ کا ایک کلیدی کردار ہوگا جو اس کے صبر اور حوصلے کا اعتراف اور نئی عالمی درجہ بندی میں اس کا انعام بھی ہوگا۔
اب آخر میں رہ گیا ’’بڈھا شیر‘‘ چین اور روس کی کوشش ہے کہ امریکا کو شمالی اور جنوبی امریکا تک محدود کردیا جائے وہ بالآخر اس میں کامیاب ہوجائیں گے اور یوں امریکا اپنے ہی گھر میں قریب قریب نظر بند کردیا جائے گا۔ ہرچند کے کینیڈا نے بھی اپنے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہت نظر ثانی کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکا اس کا پڑوسی ہے اور زخم کھایا ہوا پڑوسی بھرے ہوئے پیٹ والے پڑوسی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
امریکا جتنا جلدی ان نئے حالات سے سمجھوتہ کر لے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا کیونکہ جیسے پاکستان نے بنگلہ دیش کے قیام کو تو قبول کرلیا ہے لیکن اس کے قیام میں ہندوستان کے کردار کو وہ کبھی بھولا نہیں ہے، اسی طرح امریکا پر سویت یونین توڑنے کا قرض ابھی باقی ہے اور اگر مستقبل میں کبھی یہ قرض ادا بھی ہوا تو وہ امریکا کی اپنی غلطی سے ہی ہوگا۔ یہ مستقبل کی دنیا کا ایک عمومی جائزہ ہے، ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بہت ہی قبل از وقت اور کچھ کو دیوانے کا خواب بھی لگ سکتا ہے۔
ہم دونوں صورتوں میں آپ کی آراء کا احترام کرتے ہیں، لکھ اس لیے دیا کہ کل ہم نہ ہوں تو تحریر ضرور باقی رہے گی کیونکہ جو لوگ اس قسم کی تحاریر لکھتے ہیں وہ اس بات کے لیے بھی تیار رہتے ہیں کہ ’’کل ہوں نہ ہوں۔‘‘
Source link
Today News
پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت اچھا فیصلہ ہے، اس سے پلیئرز پول بڑھے گا؛ سکندر رضا
سکندر رضا نے کہا ہے کہ پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت اچھا فیصلہ ہے، اس سے پلیئرز پول بڑھے گا۔
’’ایکسپریس نیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ 8 ٹیموں کے آنے سے بھی نئے اسٹارز تلاش کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، راتوں رات کچھ نہیں ہو گا، لیگ آج اس مقام پر ہے تو اس میں پانچوں ابتدائی اونرز کا اہم کردار ہے،وہ آغاز میں آئے اور 10 سال برقرار بھی رہے، انہی کی وجہ سے پہلے ملتان سلطانز اور اب حیدرآباد کنگزمین و راولپنڈیز کا اضافہ ہوا ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر آف دی فیلڈ معاملات سے آپ کا کھیل متاثر ہو رہا ہے تو میدان میں جانا ہی نہیں چاہیے، اگر میچ میں حصہ لے رہے ہیں تو باہر کی باتیں بھول جائیں، ہم چند میچز خراب کھیلنے کی وجہ سے ہارے، سینئر بیٹرز پرفارم نہیں کر پائے ، ان میں میرا بھی بڑا کردار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے وکٹ پر زیادہ وقت گزارنا چاہیے تھا، بولرز نے بہتر کھیل پیش کیا ہے، میں کراچی میں شاید پچ کو نہیں سمجھ سکا، میں نے سبق سیکھا ہے اب اگلے میچز میں بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کروں گا۔
سکندر رضا نے کہا کہ نہ صرف لاہور قلندرز بلکہ دیگر ٹیموں کے پاکستانی پلیئرز بھی ساتھ اچھا وقت گذارتے ہیں، نئے پلیئرز بھی بہت عزت کرتے ہیں، ایسا ماحول بنتا ہے جس میں ہم بھول جاتے ہیں کہ میں باہر سے آیا ہوں ،اسامہ میر بھی گزشتہ دنوں کہہ رہا تھا کہ ہمارے غیرملکی کرکٹرز نہیں آئے، صرف دو ہی آئے ہیں۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper