Today News
ایران امریکا معاہدہ – ایکسپریس اردو
امریکا اور ایران اسلام آباد میں تاریخی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے اور معاہدے کا مسودہ تیار تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی تصدیق کی کہ دونوں فریق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے قریب تھے لیکن امریکا نے آخری لمحات میں اپنے مطالبات کو زیادہ سخت کردیا۔ کیونکہ امریکا ، ایران سے یورینیم افزودگی اور موجود ذخائر سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ دوسری جانب ایرانی فریق ضمانتوں کا خواہاں تھا۔ اور یہ شبہ ظاہر کر رہا تھا کہ امریکا جوہری معاملے پر ایران کی دستبرداری اور ہرمز کے راستے کھولنے کے بعد وعدوں سے پیچھے ہٹ سکتا ہے ۔
ایک اور وجہ یہ تھی کہ ایرانی ٹیم اور تہران میں موجود قیادت کے درمیان سیکیورٹی وجوہات کے باعث کمیونیکشن کا فقدان تھا۔ امریکی ٹیم کے پاس سہولت تھی کہ وہ مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ سے رابطہ کر سکتے تھے۔ امریکی نائب صدر نے بارہ مرتبہ ٹرمپ سے بات کی ۔ یہ طویل مذاکرات 21گھنٹوں پر مشتمل نتیجہ خیز تو نہ ہو سکے لیکن انھوں نے کیا مستقبل کا فریم ورک تیار کیا اس کا جواب وقت دے گا؟ایرانی وزیر خارجہ نے ان مذاکرات کو انقلاب کے بعد امریکا کے ساتھ سب سے زیادہ سنجیدہ مذاکرات قرار دیا۔
بہرحال ایران کا مطالبہ مان کر امریکا نے اسرائیل پر دباؤ ڈالتے ہوئے لبنان میں جنگ بندی کرا دی ۔ چنانچہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر کھول دیا ۔ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو آبنائے ہرمز پھر سے بند ہو سکتی ہے ۔ دوسری طرف امریکا نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی کی ہوئی ہے اوراس کے لیے مزید بحری فوج ایرانی ساحلوں پر بھیج رہا ہے ۔ اس صورت حال پر ایرانی ترجمان نے امریکا کو وارننگ دی ہے کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ اگر یہ خلاف ورزی جاری رہی تو آبنائے ہرمز پھر سے بند ہو سکتی ہے ۔ بہرحال صدرٹرمپ بہت خوش ہیں اور آبنائے ہرمز کھلنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے ، نہ صرف پاکستانی قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل صاحب کا شکریہ ادا کیا اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں ۔
سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق امریکا ایران جنگ کی وجہ سے امریکی مارکیٹوں کو صرف ایک دن میں گیارہ ہزار پانچ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکا کو کتنا بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔ صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کی عاقبت نااندیشی نے وہ رجیم چینج جو ان کے منصوبے کے مطابق ایک ہفتے کے اندر ہو جانا تھا ، اس میں امریکا کو ناکامی ہوئی اب تو امریکی میڈیا بھی کہہ رہا ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو شکست ہوئی ایران کے مقابلے میں ۔ خلیجی اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہونے میں کئی ماہ لگیں گے ۔ بلکہ امن معاہدہ طے ہونے میں تقریباً 6ماہ لگ سکتے ہیں ۔ اگر یہ غیر یقینی صورت حال برقرار رہی تو آئندہ ماہ تک عالمی سطح پر غذائی بحران جنم لے سکتا ہے ۔
اس بدترین صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ جنگ بندی بھی اتنی مدت تک برقرار رہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں کیا یہ ممکن ہے اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہے تو نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست یقینی ہے ۔
ٹرمپ کا خود کو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے مشابے کہنے پر قدامت پرست مسیحوں نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے ۔ جس سے صدرٹرمپ کی مقبولیت جو پہلے ہی سے گری ہوئی ہے مزید گرنے کا خدشہ ہے ۔ دوسری جانب خاتون اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلانی نے بھی اس عمل پر ٹرمپ کی مذمت کی ۔ ایرانی صدر نے بھی ایرانی قوم کی طرف سے اس بارے میں دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایک امریکی پروفیسر نے ٹرمپ کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے وقوف نہیں بلکہ لومڑی جیسی چالاکی رکھتے ہیں ۔ دوسری طرف 200امریکی ماہرین صحت نے ٹرمپ کو خود پسندی کا مہلک بیمار قرار دیتے ہوئے انھیں ذہنی عدم استحکام کا حامل قرار دیا ہے۔
پشین گوئی کی بھی ایک سائنس ہے ۔8اپریل کو جنگ بند ہونے پر یہ 40روز ہ جنگ کہلائی ۔40کے ہندسے کی بڑی اہمیت ہے ۔ لیکن اس کے اثرات 39ویں دن کے آخر سے شروع ہو جاتے ہیں ۔ وہ 42ویں دن تک جاری رہتے ہیں ۔ اس ڈھائی پونے تین سال کے دورانیے میں انتہائی اچھی اور انتہائی بُری چیزیں رونما ہو سکتی ہیں ۔ اس جنگ کی شدت 8اپریل کو اچانک ٹوٹ گئی۔
جب جنگ بندی ہوگئی تو میں نے سوچا کہ اب آنے والی اہم تاریخیں کون سی ہو سکتی ہیں ۔ تو وہ 12-13اپریل نکلیں ۔ لیکن اس کی مرکزی تاریخ 16اپریل نکلی جو سب سے زیادہ اہم تھی۔ لیکن میں نے Around Datesبھی شامل کر لیں جو 15اور 17اپریل تھیں ۔ لیکن اس کا مکمل دورانیہ 11ویں گھر ، 12ویں 13ویں اور 14ویںگھر کے حوالے سے 19,20,21,22 اپریل کی تاریخیں بنتی ہیں ۔ بہرحال اپریل کے آخری ایام اور مئی کے مہینے بھی جنگ بندی کے حوالے سے عدم استحکام ہی رہے گا کیونکہ صدر ٹرمپ کے سر پہ چاند گرہن لگا ہوا ہے ۔
Today News
’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘
شاید یہ ورلڈ کپ کے دنوں کی بات ہے ، کیمرہ پاکستانی ڈگ آئوٹ میں بیٹھے بابر اعظم کی جانب گیا جو مایوسی سے سر جھکائے بیٹھے تھے، ناقص فارم اس کی وجہ تھی، مجھے انھیں ایسے دیکھ کر بڑا افسوس ہوا، میں نے اس پر ایک کالم بھی لکھنا شروع کیا جس کا عنوان تھا ’’بابر اعظم کا اداس چہرہ‘‘ البتہ پھر اسے مکمل کیے بغیر ڈلیٹ کر دیا،اس امید کے ساتھ کہ وہ جلد فارم میں واپس آئیں گے تو لکھوں گا کہ ’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘ ، شکر ہے یہ وقت چند ماہ بعد ہی آ گیا۔
جب کوئی کھلاڑی اچھا پرفارم نہ کر سکے اور میڈیا خامیوں پر بات کرے تو اس کے پرستار سمجھتے ہیں کہ صحافی اس کے خلاف ہیں، حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہوتی، بابر کسی ایک شہر نہیں پورے ملک کے اسٹار ہیں، ان کا جب نام لیا جائے تو لاہور نہیں بلکہ پاکستان ساتھ لکھا ہوتا ہے۔
انھوں نے متواتر عمدہ کارکردگی سے اپنے لیے ایسا معیار سیٹ کر لیا کہ ففٹی کریں تو بھی لگتا ہے جیسے کچھ نہیں کیا، پھر ان سے فارم روٹھ گئی اور برسوں یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران بابر سے کئی غلطیاں بھی ہوئیں، سب سے بڑی غلطی ڈومیسٹک کرکٹ سے دوری تھی، اس سے انھیں جلد فارم بحال کرنے کا موقع نہ ملا۔
جب انسان کچھ بن جائے تو پھر اس کی ایگو سینئرز کے ساتھ مشاورت سے بھی روکتی ہے کہ میں اتنا بڑا اسٹار مجھے کوئی کیا سکھائے گا، بابر نے بھی خامیاں دور کرنے کیلیے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں سے زیادہ رابطہ نہ کیا،اس کا نقصان ہوا، اب بھی ان کی فارم ڈومیسٹک لیگ (پی ایس ایل ) سے ہی واپس آئی ہے ناں، پشاور زلمی کی جانب سے وہ ماضی والے بابر ہی نظر آ رہے ہیں جو میدان میں اپنے کھیل سے بھرپور لطف اندوز ہوتا ہے،وہ نہ صرف خود پرفارم کر رہے ہیں بلکہ دیگر کو بھی اچھی کارکردگی کی تحریک دلائی ہے۔
اسی لیے ان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر آ گئی، بابر کے مداحوں کو برا تو لگے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، چھوٹی بائونڈریز، ڈیڈ پچز، کمزور بولنگ یہ عوامل کسی بھی بیٹر کو بریڈ مین بنا سکتے ہیں، البتہ بابر کی اپنی کلاس ہے، طویل عرصے بعد پاکستان کو اتنا اچھا کوئی کھلاڑی ملا، مسئلہ اعتماد کا بھی تھا جو اگر آپ میں نہ ہو تو سڑک بھی پار نہیں کر سکتے۔
انٹرنیشنل کرکٹ میں بابر کی حالیہ ناکامیوں کا بڑا سبب خود اعتمادی کا فقدان بنا، البتہ اب لگتا ہے کہ یہ ایشو حل ہو جائے گا، البتہ انھیں بھی اب احتیاط سے کیریئر کو آگے بڑھانا چاہیے، برے دور میں بابر کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہ جس گروپ کے ’’زیرسایہ‘‘ ہیں اس نے انھیں فائدے سے زیادہ نقصان ہی پہنچایا، وہ لوگ ان کا نام استعمال کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
اب اس حوالے سے ان کو احتیاط برتنی چاہیے، ساتھ ’’کنگ‘‘ جیسے ٹائٹلز کو سر پر سوار نہ کریں، کوہلی سے موازنے جیسی باتیں بھی بھلا دیں، ایسا پرفارم کریں کہ بھارتی کرکٹرز کا موازنہ بابر کے ساتھ ہو، مشکل وقت میں وہی لوگ انھیں برا بھلا کہتے رہے جو کامیابی کے دنوں میں خوشامدیں کرتے تھے، خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں،سوشل میڈیا سے جتنا دور رہیں گے اتنا اچھا ہے، ابھی ان کی بڑی کرکٹ باقی ہے، اگلے سال ون ڈے ورلڈکپ ہونا ہے، اس میں فتح کیلیے ہمیں اصل بابر اعظم درکار ہوگا۔
بھارت کیخلاف وہ عمدہ پرفارم نہیں کر پاتے اس جمود کا خاتمہ کریں، بڑی ٹیموں سے میچز میں پاکستان کو فتح دلائیں تب ہی مزا آئے گا، ابھی بابر نے پی ایس ایل میں چند اچھی اننگز ہی کھیلی ہیں کہ ان کے دوست نما دشمن سوشل میڈیا پر متحرک ہو گئے اور دوبارہ ٹی ٹوئنٹی کا قومی کپتان بنوانے کی مہم شروع کر دی، درحقیقت کپتانی نے بھی بابر کو بڑا نقصان پہنچایا، قومی ٹیم میں ان کے گہرے دوست بھی پرائے ہو گئے، اپنی کارکردگی پر توجہ کم ہوئی تو فارم بھی متاثر ہونے لگی، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کپتانی کے ساتھ ٹیم میں جگہ بھی گنوا بیٹھے، اب خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں، کپتانی کا بالکل نہ سوچیں، سلمان علی آغا کی فارم خراب ہے، ان کو قیادت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں، پھر نیا کپتان لانا پڑے گا۔
یہ سب باتیں بورڈ کے سوچنے کی ہیں، بابر کے ہاتھ میں بیٹ ہوتا ہے انھیں اس سے ہی پرفارم کرنا چاہیے، وہ کئی ریکارڈز توڑ سکتے ہیں، اگر پھر انھیں کپتانی، کنگ یا اس جیسی باتوں میں لگایا تو پھر شاید دوسرا موقع نہ ملے، ایک وقت تھا جب ہم یہی سوچتے تھے کہ نئی نسل کا کوئی کرکٹر ایسا نہیں جو دوسروں کو کرکٹ کی جانب راغب کر سکے، اشتہارات میں بھی سابق اسٹارز کو ہی لینا پڑتا تھا پھر ہمیں بابر اعظم ملے جنھوں نے بہت جلد اپنا نام بنا لیا، میدان میں آمد پر ’’بابر بابر‘‘ کے نعرے لگتے، پھر زوال آیا لیکن اب پھر عروج کا دور آتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے، بابر کے سامنے چاہے حریف بولر جہانداد خان ہو یا ابرار وہ جسپریت بمرا کا سامنا کریں یا راشد خان کا ان کی کلاس وہی رہے گی، ساری دنیا اس بات کو جانتی ہے، جو مسائل تھے انھیں دور کرنے کا موقع مل گیا جس سے فائدہ بھی اٹھایا،اب ہمیں وہی بابر اعظم دیکھنا ہے جس کے کور ڈرائیو کی دنیا دیوانی ہے۔
اگر وہ170 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائیں گے تو کون بے وقوف انھیں باہر کرنے کا کہے گا،سب کی یہی خواہش ہو گی کہ وہ پاور پلے کا بہترین استعمال کر کے اسکور بنائیں، ہاں اپنے خول میں بند ہو کر رہ گئے پھر تنقید تو ہو گی، وقت کے ساتھ چلنا ضروری ہے، شاید بابر بھی یہ جان چکے، لگتا ہے پرانا بابر واپس آ چکا، آپ کا کیا خیال ہے؟
Source link
Today News
بھارت؛ آتشبازی کی فیکٹری میں دھماکا، 16افراد ہلاک
بھارتی ریاست تامل ناڈو میں آتشبازی کی فیکٹری میں دھماکے سے 16افراد ہلاک ہوگئے۔
بھارتی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی،حکام نے تحقیقات شروع کردیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی بھارتی ریاست گجرات میں آتش بازی کی فیکٹری میں دھماکے سے 18افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں فیکٹری کی عمارت گر گئی اور فیکٹری میں کام کرنے والے کئی ملازمین ملبے تلے دب گئے۔
فائر اینڈ ریسکیو ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اب تک، جائے وقوع سے 8 لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ اندر پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
Source link
Today News
ایک طرف مذاکرات دوسری طرف امریکی صدر کی دھمکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں، مولانا فضل الرحمٰن
سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کل سے پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے، اگرچہ پاکستان کو اس عالمی ثالثی کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے، لیکن ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف امریکی صدر کی دھمکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے معروف شاعر سید سلمان گیلانی مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا حکمرانوں کی نااہلی اور غلط حکمت عملی کے باعث ہماری سرحدیں اور کاروباری راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے چین جیسا قریبی دوست ملک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہے۔
مولانا نے کہا مصنوعی نظام کو مسترد کر کے مجلسِ شوریٰ کے اسلامی نظام کی طرف آنا ہوگا، جے یو آئی ہی وہ واحد قوت ہے جو فارم 47 کے اس تاریک دور کو ختم کر کے ملک کو ایک شفاف نظام دے سکتی ہے۔
انھوں نے بھارت کو وارننگ دی کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں جے یو آئی کے کارکن پاک فوج کے شانہ بشانہ سب سے پہلے میدانِ جنگ میں ہوں گے، انہوں نے سید سلمان گیلانی مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے درویش صفت لوگوں کے جانے سے ایک جہاں یتیم ہو جاتا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا "جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی نظریاتی دفاعی لائن ہے"۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا سید سلمان گیلانی کی پوری زندگی ختمِ نبوت کے تحفظ سے عبارت ہے ، مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا سلمان گیلانی کا کلام ہر جگہ گونجا ہے ، مولانا عبدالغفور حیدری نے انہیں ایک "درویش صفت باغی" قرار دیا جس نے ہمیشہ ظلم کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔آخر میں مرحوم کی مغفرت اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper