Today News
ایران امریکا مذاکرات، ریڈ زون میں شہریوں کا داخلہ اور دفاتر بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے پیش نظر اسلام آباد ریڈ زون میں داخلہ بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق ریڈ زون میں 21 اپریل کو بھی داخلہ مکمل طور پر بند رہے گا۔
نوٹی فکیشن کے تحت ریڈ زون میں قائم دفاتر اور اسکولز کو ورک فرام ہوم کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ 21 اپریل کو ریڈ زون میں تمام سرکاری و نجی سرگرمیاں محدود رہیں گی۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو غیر ضروری طور پر ریڈ زون جانے سے گریز اور ریڈ زون میں واقع اداروں کو آن لائن کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Source link
Today News
تذکرہ شاعر مشرق کا – ایکسپریس اردو
قارئین! اس کالم میں ہم ذکر کریں گے شاعر مشرق حکیم الامت، مفکر پاکستان عظیم فلسفی سر علامہ محمد اقبال کا۔ان کے فکر و فلسفے و شاعری پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ ان کی زیست پر اختصار کے ساتھ تھوڑی سی روشنی ڈالیں۔ علامہ صاحب کی ولادت 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ شہر میں شیخ نور محمد کے گھر میں ہوئی، ان کی والدہ محترمہ امام بی بی نیک سیرت خاتون تھیں۔ علامہ صاحب کا خاندان تجارت پیشہ خاندان تھا، البتہ علامہ صاحب کی شخصیت اس کے برعکس تھی۔ علامہ صاحب نے میٹرک 1893 میں، ایف اے 1895، بی اے 1897 میں، ایم اے 1899 میں کیا۔ یہ تمام تعلیمی مراحل انھوں نے سیالکوٹ میں ہی طے کیے۔ البتہ اس کے بعد وہ لاہور تشریف لے آئے اور بطور پروفیسر فروغ تعلیم کے سلسلے کا آغاز کر دیا۔ بعدازاں وہ حصول تعلیم کے لیے انگلستان تشریف لے گئے۔
1908 میں علامہ صاحب نے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی، امام بی بی کے فرزند علامہ اقبال صاحب نے اولین شادی 1895 میں 18 برس کی عمر میں کی، دوسری شادی 33 برس کی عمر میں، 1910 میں کی۔ بیوی کا نام سردار بیگم تھا، تیسری شادی 37 برس میں، 1914 مختار بیگم سے کی۔ علامہ صاحب کے ایک بھائی تھے جن کا نام عطا محمد تھا۔ علامہ صاحب کے ایک بیٹے جاوید اقبال چیف جسٹس آف سپریم کورٹ بھی رہے ۔ علامہ کی اولین نظم کوہ ہمالیہ تھی جو انھوں نے قلم بند کی علامہ صاحب کی اولین کتاب بانگ درا تھی جوکہ بچوں کے لیے لکھی گئی۔ علامہ صاحب ابتدا میں ترقی پسند نظریات سے متاثر تھے۔ چنانچہ انھوں نے عظیم فلسفی کارل مارکس کے بارے میں کہا کہ :
وہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیب
نیست پیغمبر لیکن دربغل دار کتاب
البتہ جب عام محنت کشوں کے حالات دیکھتے تو افسردہ ہو جاتے اور یوں کلام کیا کہ:
تو قادر ہے عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات
دوسرے لفظوں میں کچھ اس طرح اپنے نظریات بیان کیے کہ:
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امرا کے دَر و دیوار ہلا دو
گرماؤ غلاموں کا لہو سوز و یقین سے
کنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو
سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
جس کھیت سے میسر نہ ہو دہقاں کو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
البتہ بعدازاں علامہ صاحب تصوف و روحانیت کی جانب راغب ہو گئے تو مسلمانوں سے کچھ ان الفاظ میں مخاطب ہوئے کہ:
اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید
سب کچھ یاد ہے مگر خدا یاد نہیں
یا یہ کلام فرمایا کہ:
اپنے کردار پر ڈال کر پردہ
ہر شخص کہتا ہے کہ زمانہ خراب ہے
قیام پاکستان سے قبل کا واقعہ ہے کہ لاہور میں لوگوں نے ایک ہی شب میں مسجد قائم کر دی، گویا پورا شہر مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔ اس موقع پر علامہ صاحب خاموش نہ رہے اور کہا کہ:
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
البتہ وہ ناامید نہ تھے انھیں پورا یقین تھا کہ مسلمان سرخرو ہوں گے چنانچہ کہا:
نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
علامہ صاحب کو تمام تر امیدیں نوجوانوں سے تھیں لہٰذا نوجوانوں سے کلام کرتے ہوئے مخاطب ہوتے ہیں کہ۔
تُو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں
مزید کہا کہ
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
علامہ صاحب مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے زبردست حامی تھے، اپنی خواہش کا اظہار یوں کیا کرتے تھے کہ:
ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر
وہ مسلمانوں کو خوددار دیکھنا چاہتے تھے، اسی لیے کہا کہ:
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ ہے نئی صبح شام پیدا کر
علامہ صاحب آگے سے آگے بڑھنے کا سبق دیتے ہوئے کلام کرتے ہیں۔
منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھے دریا تو سمندر تلاش کر
علامہ اقبال برصغیر کے مسلمانوں کی حالت زار سے بے حد پریشان ہوتے، اسی لیے انھوں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔علامہ صاحب کی زندگی کے آخری ایام جاوید منزل لاہور میں گزرے، البتہ 21 اپریل 1938 کو صبح پانچ بج کر چودہ منٹ پر ان کا زندگی سے ناتا ختم ہو گیا، گویا نماز فجر کے وقت انھوں نے 60 برس پانچ ماہ 12 یوم عمر پائی۔ وہ لاہور میں بادشاہی مسجد میں آسودہ خاک ہیں۔ 21 اپریل 2026 کو ان کی 88 ویں برسی ہے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم پاکستان کو ایک اصلاحی جمہوری ملک بنائیں گے۔
Today News
داخلی سیاسی استحکام کو مستحکم کرنا ہوگا
پاکستان کے جمہوری سیاسی استحکام کے تناظر میں ہماری داخلی سیاست میں کافی مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کی عملی نوعیت گہری بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ہر جمہوری دور میں سیاسی محاذآرائی یا سیاسی ٹکراؤ نے ملک کی سیاست کو غیر مستحکم بھی کیا اور سیاسی عمل کے مقابلے میں غیر سیاسی نظام کو مضبوط بھی بنایا۔ یہ ہی وجہ ہے اس ملک کی سیاست ہمیشہ سے غیر یقینی اورکمزور بنیادوں پر موجود رہی ہے۔
آج بھی پاکستان کی سیاست نہ صرف کمزور بنیادوں پر موجود ہے بلکہ اب تو اس جمہوری نظام کو ہائبرڈ جمہوری نظام کا نیا نام دیا جارہا ہے۔بہت سے سکہ بند دانشور اور سیاسی حضرات اس ہائبرڈ نظام کا سیاسی جواز بھی پیش کرکے جمہوری نظام کو مزید کمزور بنیادوں پر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عالمی درجہ بندی میں ہمارے جمہوری نظام کی ساکھ بھی کمزور ہے اور اس نظام پر کئی طرح کے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور ہماری جمہوری درجہ بندی کو مختلف تناظر میں چیلنج کیا جاتا ہے۔اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت عالمی،علاقائی اور داخلی سیاست کے تناظر میں اپنی سفارت کاری کی بنیاد پر خوب پذیرائی حاصل کر رہی ہے ۔ہمارے دشمن بھی یہ اعتراف کررہے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اپنے سفارتی کارڈ کی بنیاد پر بہت اچھا کھیلی اور اس کھیل سے پاکستان کا تشخص کافی مثبت ابھرا ہے۔
ہمارے مقابلے میں بھارت ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود عالمی سیاست میں وہ پذیرائی حاصل نہیں کرسکا جو ہم نے حاصل کی ہے ۔ اس پر یقیناً ہماری سیاسی اور عسکری قیادت دونوں مبارکباد کی مستحق ہیں اور ان کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔اہم بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ یا ایران اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے درمیان ہم نے اب تک جنگ بندی ،تنازعات کے خاتمے اور پرامن ماحول کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ نہ صرف مثالی ہے بلکہ اس پر قومی سطح پر کوئی بڑی گہری تقسیم بھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ حکومت ،حزب اختلاف،میڈیا اور سول سوسائٹی سب نے ملکی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہوکر ایک ذمے دار ریاست اور معاشرے کی عکاسی کی ہے اور اس پر سب کی تعریف ہونا چاہیے،کیونکہ ہمارے یہاں جو سیاسی تقسیم ہے اس میں اس طرز کے اتفاق رائے کا پیدا ہونا معمولی بات نہیں۔حزب اختلاف کا اس ماحول میں اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کو بھلا کر احتجاجی سرگرمیوں کو ختم کرنا بھی حکومت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور اسے بھی ایک ذمے دارانہ کردار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اب یہ سیاسی مثبت ماحول آگے بڑھنا چاہیے۔ سیاست اور جمہوریت میں حکومت ،حزب اختلاف اور دیگر فریقوں کی سطح پر جو داخلی اختلافات ہیں یا جو ایک دوسرے کے خلاف ٹکراو یا سیاسی دشمنی کا ماحول ہے اسے ختم ہونا چاہیے۔حزب اختلاف کی سیاست عملی طور پرجمہوریت کے نظام کا حسن ہوتی ہے اور اس کے سیاسی وجود کو قبول کرکے ہی جمہوری راستے کو آگے کی طرف بڑھایا جاسکتا ہے۔اسی طرح حزب اختلاف کو طاقت کی بنیاد پر دیوار سے لگانے کی حکمت عملی بھی موثر نہیں ہوتی بلکہ اس سے اختلافات کی سیاسی نوعیت میں اور زیادہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔اس وقت ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات نے سیاسی دشمنی کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی راستوں کو عملی طور پر بند کردیا گیا ہے ۔حزب اختلاف کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا شور مچایا جا رہا ہے ۔
یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی اور جمہوری داخلی استحکام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔سیاست ہی نہیں عدلیہ،میڈیا اور سول سوسائٹی کی سطح پر بھی بہت سے چیلنجز ہیں مگر ان کو درست حکمت عملی کے تحت حل نہیں کیا جا رہا۔اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی استحکام ہے درست بات نہیں۔مسئلہ پی ٹی آئی تک محدود نہیں بلکہ سیکیورٹی اور سیاست کے تناظر میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات بھی عملی طورپر مثبت نہیں اور وہاں کے سیاسی حالات وہاں سیکیورٹی جیسے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کے نظام سے بہت سے لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر نالاں ہیں جس میں گورننس کا بحران سب سے زیادہ نمایاں ہے۔
ایک بات جو پاکستان کی سیاست میںغلط ہو رہی ہے وہ ایک طرف سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کا رجحان ہے جو سیاسی ماحول میں اور زیادہ تلخیاں پیدا کر رہا ہے۔اس سے پہلے سے موجود سیاسی تقسیم جہاں اور زیادہ گہری ہو رہی ہے وہیں ایک دوسرے کے خلاف تلخیاں بھی بڑھ رہی ہیں جو سیاسی استحکام کو پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آرہی ہے۔سیاسی عدم استحکام معاشی اور سیکیورٹی کے عدم استحکام کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔
ہماری معیشت اور سیکیورٹی کے مسائل کا براہ راست تعلق بھی ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام سے ہی جڑا ہوا ہے۔اس لیے ہمیں سیاسی عدم استحکام یا سیاسی تلخیوں کی سیاست کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے حل کے لیے ایک بڑے سیاسی فریم ورک میںاتفاق رائے سے اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم سیاسی محاذ پر سب مل کرایک دوسرے کی سیاسی قبولیت کوممکن بنائیں اور اپنے سیاسی مخالفین کو سیاسی دشمن کی بنیاد پر دیکھنے کی پالیسی کو ترک کر دیں۔ سیاسی رواداری کے کلچرکو مستحکم کرنا ہوگا۔ گورننس سے جڑے مسائل کا حل بھی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ ہی عمل ہماری حکومت کی سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔
یقیناً اس میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر جہاں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے وہاں اب ایک دوسرے کے لیے دل کشادہ کرکے ایک دوسرے کی قبولیت کو بھی ممکن بنانا ہوگا۔سیاسی دشمنیوں کی بنیاد پر سیاسی استحکام ممکن نہیں اور حزب اختلاف کو بھی سوچنا ہوگا کہ سیاست میں عملی طور پر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا اہم ہوتا ہے اور جو سیاسی ڈیڈ لاک ہے اسے توڑے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا ۔لیکن کیونکہ حکومت کے پاس حزب اختلاف کے مقابلے میں زیادہ اختیارات ہوتے ہیں تو ان کی ذمے داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سیاسی حکمت عملیوں کی بنیاد پر سیاسی لچک کا مظاہرہ کرکے درمیانی راستہ نکالے جو سب کو بحران کی صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکے ۔
لیکن اگر حکومت داخلی مسائل کو غیر اہم سمجھتی ہے یا اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اس سے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ممکن ہے کہ حکومت کو وقتی طور پر کامیابی مل سکے اور وہ سیاسی مسائل کو کچھ عرصہ کے لیے پس پشت ڈال سکے ۔لیکن یہ حکومت کا مستقل حل نہیں ہوگا اور جب ہماری پالیسی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ٹال مٹول تک محدود رہے گی تو مستقبل کی بہتری کے امکانات بھی محدود ہوجائیں گے۔اس وقت جو بھی عالمی صورتحال ہمارے حق میں ہے اس کا ہمیں اپنی داخلی سیاست سے جڑے مسائل کو بنیاد بنا کر ایک بڑے فریم ورک میں حل تلاش کرنا چاہیے،مسئلہ کسی کی جیت اور ہار کا نہیں بلکہ ریاست اور پاکستان کے مفاد کا ہے کیونکہ ہم جن بڑے چیلنجز سے دوچار ہیں ان میں ہم مزید محاذ آرائی کی سیاست کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
ہمیں سیاسی ضد اور انا کا راستہ چھوڑنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ سیاسی استحکام کا پیدا ہونا اس وقت ریاست کے بڑے مفاد میں ہے ۔لیکن اگر ہم اس کے مقابلے میں خوش فہمی کی سیاست میں زندہ رہنا اور سب اچھے کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو عملا ہم اپنے پہلے سے موجود مسائل کو اور زیادہ خراب کرنے کا سبب بنیں گے۔اس لیے جو سفارت کاری کی بنیاد حکومت نے عالمی معاملات پر ڈالی ہے اسی طرز کی سفارت کاری کی ہمیں داخلی سیاست سے جڑے مسائل کے حل پر بھی دینی ہوگی ۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس وقت جو پاکستان میں سیاسی تقسیم ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ہم ان مسائل پر توجہ دیں جو اس وقت ہمارے اصل مسائل اور چیلنجز ہیں جن کا براہ راست تعلق ریاست کے مفاد سے ہے ۔
Today News
مذاکرات،عالمی امن کی جانب اہم قدم
واشنگٹن اور تہران کے مابین جنگ بندی ختم ہونے میں ایک دن باقی ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسٹیووٹکوف اور جیرڈکشنر اسلام آباد پہنچ جائیں گے، تہران نے ہماری ڈیل قبول نہ کی تو ہم ان کے ہر پاور پلانٹ اورپل کو تباہ کردیں گے ، دوسری جانب ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی بحری جہاز کو امریکی فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دورمیں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔
موجودہ عالمی منظرنامہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کروا رہا ہے کہ طاقت، مفادات اور سفارت کاری کے درمیان توازن قائم رکھنا کس قدر دشوار عمل ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، جو وقتی طور پر جنگ بندی کے معاہدے کے ذریعے محدود کی گئی تھی، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر لمحہ صورتِ حال کے یکسر بدل جانے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے میں محض چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں اور اس دوران ہونے والی پیش رفت نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کو بھی شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔اسلام آباد کو اس تمام بحران میں ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ فریقین کو ایک میز پر لا کر نہ صرف کشیدگی میں کمی لائے بلکہ ایک پائیدار حل کی بنیاد بھی رکھ سکے۔ تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار یا کم از کم ہچکچاہٹ نے اس پورے عمل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ یہ انکار محض ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں حالیہ واقعات، بیانات اور اقدامات کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس نے تہران کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے موزوں نہیں۔
ایران کا موقف بنیادی طور پر اعتماد کے بحران کے گرد گھومتا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور اگر اس الزام کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ معاملہ محض ایک سفارتی اختلاف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کسی بھی مذاکراتی عمل کی بنیاد باہمی اعتماد پر ہوتی ہے اور جب یہی بنیاد کمزور پڑ جائے تو باقی تمام کوششیں رسمی اور غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ ایران نے نہ صرف امریکی اقدامات کو جارحانہ قرار دیا ہے بلکہ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امریکی تجاویز حقیقت پسندانہ نہیں اور ان میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔
دوسری جانب امریکا کا رویہ بظاہر دہرا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف اعلیٰ سطح وفد کی اسلام آباد آمد کی تیاری اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی جا رہی ہے، تو دوسری طرف سخت بیانات، دھمکیاں اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی حکمت عملی عام طور پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، مگر اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے مذاکراتی فضا متاثر ہوتی ہے اور فریق مخالف کو یہ تاثر ملتا ہے کہ بات چیت دراصل ایک رسمی عمل ہے، اصل مقصد اپنی شرائط منوانا ہے،اگر اس تنازع کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ اور تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ جوہری معاملہ خاص طور پر اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ماضی میں ہونے والے معاہدے بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے، جس کی ایک بڑی وجہ باہمی بداعتمادی اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب دوبارہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو فریقین کے درمیان شکوک و شبہات کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ وہ اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ واقعات، جن میں گولیوں کا تبادلہ اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں مداخلت شامل ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال کس قدر حساس ہو چکی ہے، اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
چین کا ردعمل اس تمام تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس نے نہ صرف صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ذمے دارانہ رویے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ چین کی دلچسپی محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ اس کی توانائی ضروریات کا ایک اہم ذریعہ ہے، اگر یہ تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو چین بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا، اگرچہ اس کردار کی نوعیت اور حدود کا تعین حالات کے مطابق ہوگا۔
خلیجی ممالک کی صورتحال بھی اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے مالی معاونت کے امکانات پر غور اور متبادل کرنسیوں کی بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ تنازع محض عسکری یا سفارتی نہیں بلکہ معاشی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اگر تیل کی تجارت میں تبدیلیاں آتی ہیں یا ڈالر کے متبادل نظام متعارف کروائے جاتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی مالیاتی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔پاکستان کے لیے یہ تمام صورتحال ایک پیچیدہ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔
ایک طرف وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داری ادا کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف اسے اپنے قومی مفادات، علاقائی تعلقات اور داخلی استحکام کا بھی خیال رکھنا ہے۔ پاکستان کی قیادت کی جانب سے مسلسل رابطے اور سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اس کردار کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ تاہم ثالثی کا عمل ہمیشہ نازک ہوتا ہے، خاص طور پر جب فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو۔پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور اس کے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد مقام دیتے ہیں، مگر یہی خصوصیت اس کے لیے خطرات بھی پیدا کرتی ہے، اگر وہ کسی ایک فریق کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے تو اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں، جو اس کے سفارتی کردار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان نہایت احتیاط اور توازن کے ساتھ اپنی حکمت عملی ترتیب دے۔
موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا جنگ بندی میں توسیع ممکن ہو سکے گی یا نہیں؟ اگر یہ توسیع نہ ہو سکی تو پھر کشیدگی میں اضافہ یقینی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اس صورت میں عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی مختلف معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔سفارت کاری اس وقت واحد راستہ ہے جو اس بحران کو کسی حد تک قابو میں لا سکتا ہے، مگر سفارت کاری اسی وقت موثر ہوتی ہے جب اس کے ساتھ سنجیدگی، لچک اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی ہوں۔ یکطرفہ مطالبات اور دھمکیاں وقتی فائدہ تو دے سکتی ہیں مگر دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتیں۔
ایران کا یہ کہنا کہ وہ ڈیڈ لائنز یا الٹی میٹم پر یقین نہیں رکھتا، دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔امریکا کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہے کہ وہ اپنی عالمی قیادت کے دعوے کو کس حد تک عملی شکل دیتا ہے، اگر وہ واقعی سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا ہوگی اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مکمل انکار یا سخت موقف کسی حل کی جانب نہیں لے جاتا۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریقین جذبات کے بجائے عقل و تدبر سے کام لیں۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں، اگر اس اصول کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف یہ تنازع شدت اختیار کرے گا بلکہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں فیصلے صرف موجودہ حالات کو نہیں بلکہ مستقبل کی سمت کو بھی متعین کریں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو ایک ایسے بحران میں دھکیل سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports1 week ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
ایران جنگ اور ملکی نقصان