Connect with us

Today News

’’یہ کمائی حلال نہیں!‘‘ بہروز سبزواری کا متنازع پوڈکاسٹرز پر کھل کر وار

Published

on



پاکستان شوبز کے سینئر اداکار بہروز سبزواری ایک بار پھر اپنے بے باک بیانات کی وجہ سے خبروں میں آ گئے ہیں۔ کئی دہائیوں پر محیط کیریئر رکھنے والے اداکار نے حالیہ دنوں میں پوڈکاسٹس کے بڑھتے رجحان اور اس سے جڑی کمائی پر کھل کر تنقید کی ہے۔

بہروز سبزواری نے ماضی میں چند پوڈکاسٹس میں شرکت کی تھی، جن میں عدنان فیصل اور نادر علی کے ساتھ گفتگو شامل ہے۔ یہ انٹرویوز بعض متنازع بیانات، خصوصاً شراب سے متعلق گفتگو کے باعث سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے، جس کے بعد اداکار کو وضاحتیں بھی دینا پڑیں اور انہوں نے کچھ عرصے کے لیے انٹرویوز سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

اب ایک تازہ انٹرویو میں، جو شہزاد نواز کے ساتھ ہوا، بہروز سبزواری نے کہا کہ آج کل ہر کوئی پوڈکاسٹ کر رہا ہے اور بعض میزبان جان بوجھ کر ایسی باتیں نکالتے ہیں جو دوسروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ دعا کرتے ہیں کہ ان کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جو کسی کے لیے تکلیف دہ ہو۔

اداکار نے مزید انکشاف کیا کہ جو متنازع باتیں وائرل ہوئیں، وہ دراصل آف دی ریکارڈ تھیں، لیکن انہیں بعد میں پبلک کر دیا گیا۔ اسی تناظر میں انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح مواد بنا کر کمائی کرنا درست نہیں، بلکہ ایسی آمدن حلال نہیں ہو سکتی۔

بہروز سبزواری نے سوال اٹھایا کہ کیا آج کے دور میں لوگ حلال اور حرام کا فرق بھی بھول چکے ہیں؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کروڑوں کی گاڑی خرید بھی لے، تو اس کی کوئی اہمیت نہیں اگر وہ پیسہ جائز طریقے سے حاصل نہ کیا گیا ہو۔

ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں کچھ لوگ ان کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں تو کچھ اسے موجودہ ڈیجیٹل کلچر پر سخت تنقید قرار دے رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سبز پرچم، پاسپورٹ اور عوام

Published

on


سبز ہلالی پرچم اور پاکستانی سبز پاسپورٹ یہ دونوں پاکستان میں اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ ایٹمی میدان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کارناموں نے پوری اسلامی دنیا میں پاکستان سبز پرچم کو امر کردیا جب کہ کھیلوں کے میدان میں جب بھی پاکستان نے ہاکی اور کرکٹ وغیرہ میں اپنا لوہا منوایا تو دنیا بھر میں پاکستانیوں نے سبز ہلالی پرچم بڑے فخر سے بلند کیا۔

1982 میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے بھارت کو اس کی سرزمین پر ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں ایک کے مقابلے میں تین گول سے تاریخی شکست دے کر پاکستانی پرچم بھارتی فضاؤں میں سربلند کیا۔ شارجہ کرکٹ کپ میں میانداد نے آخری گیند پر چھکا لگا کر بھارت کو شکست دی تو شارجہ سے لے کر دنیا بھر میں ہر جگہ پاکستانی شائقین نے سبز ہلالی پرچم لہرائے۔ اسی طرح اسکواش میں جہانگیر خان کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے۔

لیکن سبز پاکستانی پاسپورٹ اس معاملے میں ہمیشہ بدقسمت رہا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی دوران سفر بھی اپنا سبز پاسپورٹ مجبوری میں ہی دکھاتے تھے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پاسپورٹ کو دیکھ کر کوئی اچھا رسپانس نہیں ملتا تھا ،جس کی وجہ بھی ہم سب کو معلوم ہے اور ہم نے اس پر مرحوم عمر شریف کے لطیفے بھی سن رکھے ہیں لیکن اب کے برس کچھ ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی پر چم ہی نہیں لوگ پاکستانی پاسپورٹ بھی جیب سے نکال کر لہرا رہے ہیں اور فخر سے دکھا رہے ہیں کہ دیکھو، ہم پاکستانی ہیں یہ ہمارا پاسپورٹ ہے۔ سوشل میڈیا ایسی ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں؟ اور اس کا جواب سب ہی جانتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر وہ کام کر دکھایا ہے جو اس وقت دنیا کا کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی کر سکا۔

 خارجی سطح پہ پاکستان کا یہ کارنامہ دنیا نے دیکھا اور تسلیم بھی کیا اور تعریف بھی کی۔ پہلے امریکی صدر ٹرمپ صرف یہ بتاتے تھے کہ پاکستان نے بھارت کے کتنے طیارے گرائے اور یہ کہ انھوں نے ہی پاک بھارت جنگ رکوائی، مگر اب وہ خود اپنی جنگ بند کر وانے پر اور ثالثی کے کردار پر پاکستان کا شکریہ بار بار کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے اس کردار پر اب کوئی دو رائے نہیں ہیں کیونکہ پاکستان نے صرف ثالثی کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کیا اور اپنے جنگی طیاروں کی حفاظت میں ’’ پک اینڈ ڈراپ‘‘ کی سہولت بھی دی۔

 ماضی میں ایک طویل عرصہ گزرا ہے کہ جب ہم میں سے نہ جانے کتنے لوگ یہ اعتراض کرتے تھے کہ فوج سب سے زیادہ بجٹ استعمال کرتی ہے، اس کا بجٹ کم ہونا چاہیے، وغیرہ وغیرہ لیکن آج وقت نے ثابت کیا کہ جس فوج پر یہ تنقید کی جاتی تھی اس نے وقت پڑنے پر ثابت کر دیا کہ فوج وہ ادارہ ہے جس پر جو کچھ خرچ کیا گیا اس نے اس خرچ سے بڑھ کر پاکستان کو دیا۔آج جو پاکستان کو عزت ملی ہے شاید پاکستان کی پوری تاریخ میں کبھی ایسی عزت نہیں ملی۔

بہت سے لوگ جن میں بڑے نام بھی شامل ہیں پاکستان کی یہ کارکردگی سراہ رہے ہیں اور تعریف بھی کر رہے ہیں مگر ساتھ ہی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کب صحیح ہوگی؟اس بات کو اگر یوں کہیں تو کیسا ہوگا کہ جن کا شعبہ دفاع تھا انھوں نے تو اپنا لوہا منوا لیا لیکن جن کا شعبہ سیاست تھا وہ کب اپنی کارکردگی کا لوہا منوائیں گے؟ بات یہ ہے کہ سیاست دانوں نے بھی خارجہ پالیسی میں اپنا لوہا منوا لیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ صرف شہبازشریف یا اسحاق ڈار ہی نہیں اس سے قبل بلاول بھٹو بھی بطور وزیر خارجہ ایک بہترین پرفارمنس دے چکے ہیں۔

بات سمجھنے کی صرف اتنی سی ہے کہ جب حکمران (یعنی سیاسی لوگ) اور فوج نے مل کر کوشش کی تو پاکستانی پاسپورٹ کو بھی دنیا بھر میں عزت مل گئی، اب رہا مسئلہ معیشت کا یا اندرونی مسائل کا تو اس پر بھی یہ دونوں قوتیں مل کے پاکستان کو معاشی لحاظ سے بھی دنیا میں قابل دید قوت بنا سکتی ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بیرون ملک بعض پاکستانیوں کے کردار سے بھی دنیا بھر میں پاکستان کا امیج خراب ہوا ۔ سعودی عرب میں تو بھیک مانگنے والوں کی باقاعدہ ایک مافیا پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اب جب کہ سبز پاسپورٹ کی دنیا بھر میں عزت و توقیر بڑھی ہے تو بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو بھی چاہیے کہ وہ آیندہ اپنے کردار سے اپنے سبز پاسپورٹ کا بھرم رکھیں، نیز حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ مالی امداد کے لیے اب مزید کسی ملک کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں بلکہ پاکستانی معیشت کو مضبوط تر بنائیں۔

راقم نے کافی عرصے پہلے بھی اپنے کالم میں خصوصی طور پر اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ملکی معیشت کے حوالے سے اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے کہ جس میں فوج اور حکمرانوں کی نمائندگی ہو اور اس پلیٹ فارم سے ہی تمام ترقیاتی منصوبے (وفاق کی سطح پر) پیش کیے جائیں اور معیشت کے حوالے سے ٹھوس پالیسی بنائی جائے جو کم از کم پنج سالہ ہو تاکہ کوئی بھی حکومت آئے یا جائے معاشی پالیسیاں اور ترقیاتی منصوبے اپنے ٹریک سے نہ ہٹیں۔

اس طرح سے تمام منصوبے اپنے وقت پر مکمل بھی ہوں گے ان کے اخراجات بھی نہیں بڑھیں گے اور کرپشن بھی کم ہوگی نیز معاشی پالیسی بھی اپنے نتائج اچھے دے گی، کیونکہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ہمارا المیہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت گرا دی جاتی ہے یا اس کی مدت ختم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کے دور کے تمام منصوبے اور پالیسیاں بھی ختم کر دی جاتی ہیں۔ ہرآنے والا اپنی نئی پالیسی اور نیا نظریہ اس ملک پر نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے ملک کی معیشت کا خاص طور پر بیڑا غرق ہو جاتا ہے، کوئی نیا پاکستان کا نعرہ لگاتا ہے کوئی پرانے پاکستان میں آنے کی بات کرتا ہے، یوں اس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

اب قابل غور بات صرف اتنی سی ہے کہ جب خارجی محاذ پر ہماری دونوں قوتیں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئیں تو دنیا میں پاکستان کا نام ایسا روشن ہوا کہ لوگ سپر پاور کو بھول گئے، اگر یہی قوتیں ملک کے اندرونی مسائل اور معیشت کے لیے مل کے کھڑی ہو جائیں تو کیا معاشی لحاظ سے پاکستان کا نام روشن نہ ہوگا؟ کیا عوام کو اپنے مسائل سے نجات نہیں ملے گی۔

 راقم کے خیال میں پاکستان کی موجودہ کامیابی اور عزت کا سبق یہی ہے کہ آپ کو مزید کامیابی اور عزت چاہیے تو پاکستان کے اندرونی مسائل پر بھی ایسے ہی مل کے کھڑے ہوں کسی کی حکومت آئے یا کسی کی حکومت جائے لیکن پالیسی ایک ہی رہے، تمام منصوبے اپنے وقت پر ختم ہوں اور عوام کے مسائل حل ہوں۔

ایسا کرنا کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے کیونکہ ماضی قریب میں ہم اس کی ایک عملی شکل ’’کورونا وائرس‘‘ کے دور میں دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت تمام اہم فیصلے فوج اور حکومت کے ایک مشترکہ پلٹ فارم سے ہی ہو رہے تھے حتیٰ کہ ’’ کورونا وائرس ‘‘ سے مرنے والے مریضوں کے اعدادو شمار بھی اس کے توسط سے بتائے جا رہے تھے۔ اس وقت ملک شدید بحران کا شکار تھا اور اس مشترکہ پلٹ فارم کا بنانا بھی وقت کا تقاضا تھا۔ آج پھر ملکی معشیت ایک بحران سے گزر رہی ہے اور عوام مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں، کراچی جیسا شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے، چنانچہ آج ایسی ہی کسی کوشش کی اندرون ملک بھی ضرورت ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ملاکا ایشیا کا معاشی پھیپھڑا ہے

Published

on


ساتویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر یوکوسوکا (جاپان) امریکی بحریہ کا بیرونِ ملک سب سے بڑا فارورڈ بیس ہے۔ساتواں بیڑہ اوکی ناوا اور سیسیبو (جاپان) کے علاوہ سنگاپور کا نیول بیس بھی استعمال کر سکتا ہے۔ مغربی بحرالکاہل سے بحرِ ہند کے افریقی ساحل تک کے وسیع پانیوں کی نگرانی پر مامور ساتویں بیڑے کا بنیادی کام چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت اور سب سے گنجان آبنائے ملاکا پر نظر رکھنا ہے۔

دنیا کی پانچ بڑی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہوں میں سے چار آبنائے ملاکا کے آس پاس قائم ہیں۔ سب سے بڑی ٹرانس شپمنٹ پورٹ سنگاپور عین آبنائے کے دہانے پر ہے۔اس پورٹ پر دو سو جہاز راں کمپنیوں کا سامان پہنچتا ہے اور پھر یہ سامان دنیا بھر میں چھ سو مختلف بندرگاہوں تک بھیجا جاتا ہے۔سنگاپور کے آمنے سامنے ملائشیا کی ٹرانس شپمنٹ پورٹ کلانگ واقع ہے۔ جنوبی کوریا کی بوسان ٹرانس شپمنٹ پورٹ اور مصروف ترین عالمی بندرگاہ شنگھائی کی سانسوں کا دار و مدار بھی آبنائے ملاکا کی بلارکاوٹ ٹریفک پر ہے۔

یہ آبنائے بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے جوڑتی ہے۔نو سو کلومیٹر ( پانچ سو ساٹھ میل ) طویل یہ آبی گذرگاہ ملائشیا ، سنگاپور اور انڈونیشیا کی حدود چھوتی ہے۔ کہیں اس کی چوڑائی ڈھائی سو کلومیٹر اور ایک جگہ محض دو اعشاریہ آٹھ کلومیٹر ہے۔کہیں اس کی گہرائی ساڑھے چھ سو فٹ تو کہیں ایک سو بیس فٹ ہے۔چنانچہ جہازوں کو وزن اور حجم کے حساب سے آبنائے کے ٹریکس سے پائلٹ کشتیوں کی رہنمائی میں گذارا جاتا ہے۔

اس راستے سے سالانہ پچانوے ہزار تک مال بردار جہاز اور آئل ٹینکر گذرتے ہیں۔سالانہ بیس فیصد عالمی گیس اور روزانہ دو کروڑ بتیس لاکھ بیرل تیل سمیت دنیا کی چالیس فیصد بحری تجارت اسی آبنائے کے ذریعے ہوتی ہے۔چین ، ہانگ کانگ ، تائیوان ، جاپان ، جنوبی کوریا ، فلپینز ، ویتنام ، انڈونیشیا ، تھائی لینڈ اور بھارت سمیت کونسی ایسی ایشیائی اقتصادی طاقت ہے جو آبنائے ملاکا کے بغیر ایک ماہ بھی رہ سکے۔

مصروف ترین گذرگاہ ہونے کے سبب بحری قزاق بھی متحرک رہتے ہیں اور یہ روائیت بھی صدیوں پرانی ہے۔تاہم سن دو ہزار تا دو ہزار پانچ کے درمیان علاقائی ممالک نے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے قزاقی کے رجحان کا خاصی حد تک قلع قمع کر دیا ہے۔

آبنائے ملاکا کی تجارتی طاقت آس پاس کی سیاست و معیشت پر صدیوں سے اثرانداز ہے۔ ساتویں سے تیرہویں صدی تک یہاں جاوا ، سماٹرا اور ملائیشیا پر مشتمل بدھسٹ سری وجیا سلطنت کا ڈنکا بحتا رہا۔ اس سلطنت کا دارالخلافہ سماٹرا کا تاریخی شہر پالمبانگ تھا۔طویل ساحل کے ساتھ ساتھ عرب ، ایرانی اور چینی تاجروں کے لیے سرائیں قائم تھیں۔ سری وجیا راجاؤں کا آبنائے ملاکا پر مکمل کنٹرول تھا اور اس گذرگاہ کی ٹرانزٹ فیس ریاستی آمدنی کا بنیادی ستون تھی۔ تب ملاکا شہر جنوب مشرقی ایشیا کی مصروف ترین علاقائی بندرگاہ تھا (آج یہ شہر ریٹائرمنٹ کے دن کاٹ رہا ہے )۔

پھر جیسا کہ ہوتا ہے۔آپسی خانہ جنگی میں سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔یعنی ریاست آچے (سماٹرا ) اور ریاستِ جوہور ( ملیشیا )۔عرب تاجروں اور مبلغوں کی مسلسل آمد کے سبب مقامی بودھ اور ہندو آبادی مسلمان ہوتی چلی گئی۔تاہم مقامی تجارت پر پرانے خاندانوں کا ہی کنٹرول برقرار رہا۔فرق بس اتنا پڑا کہ ان خاندانوں کا مذہب بدل گیا۔

سولہویں صدی میں پرتگیزی سامراج نے پہلے افریقہ ، پھر ایشیا اور پھر مشرقِ بعید کا رخ کیا۔تاجر تو یہ بھی تھے مگر ان کے ہاتھ میں تلوار کے علاوہ توپ اور بارود کی اضافی تباہ کن طاقت تھی۔ پرتگیزیوں نے پہلے انڈیا دریافت کیا۔پھر یورپ اور انڈیا کے درمیان کی گذرگاہ خلیجِ فارس کے جزائر پر قلعہ بندیاں کیں۔ لنکا پر قبضے کے بعد ملاکا تک جا پہنچے۔ان کے پیچھے پیچھے برطانوی ، فرانسیسی ، ولندیزی چل پڑے اور آپس میں مقبوضات کی چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پرتگالیوں سے عدن اور خلیجِ فارس کے قلعے چھینے ۔فرانسییسوں نے انڈو چائنا (ویتنام ، لاؤس کمبوڈیا ) پر جھنڈا گاڑ لیا۔ولندیزیوں نے سولہ سو چالیس عیسوی میں آبنائے ملاکا کی ناکہ بندی کر کے آچے ریاست پر قبضہ کر لیا اور پرتگالیوں سے ملاکا کا تجارتی شہر بھی چھین لیا۔

سترہ سو چھیالیس میں انگریز سامراج بھی اس علاقے میں گھس آیا اور ملائشیا کے شمال مغربی ساحل پر بندرگاہ تعمیر کی جسے آج پینانگ کہا جاتا ہے اور یہاں چینی نژاد ملیشیائیوں کی اکثریت ہے۔

اٹھارہ سو چویس میں ولندیزیوں اور انگریزوں نے نوآبادیاتی بندر بانٹ پر سمجھوتہ کر لیا۔ اس کے تحت سماٹرا اور جاوا ( موجودہ انڈونیشیا ) پر ولندیزی اقتدار تسلیم کر لیا گیا۔ برطانویوں کو ملائیشیا اور سنگاپور مل گیا۔اٹھارہ سو سڑسٹھ میں سنگاپور میں بندرگاہ اور فوجی چھاؤنی کی تعمیر شروع ہوئی اور اسے کراؤن کالونی کا درجہ دے دیا گیا۔

سترہ اگست انیس سو پینتالیس کو انڈونیشیائی حریت پسندوں نے احمد سوئیکارنو کی قیادت میں آزادی کا اعلان کر کے لگ بھگ تین سو برس سے مسلط ولندیزیوں کو نکال باہر کیا جو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر انڈونیشیا سے جاپانی قبضہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ آ دھمکے تھے۔

اکتیس اگست انیس سو ستاون کو ملیشیا نے برطانوی سامراج سے نجات پائی۔سنگاپور تب تک ملائشیا کا حصہ تھا۔مگر مقامی ملاکا اور چینی آبادی میں نسلی کشیدگی کے سبب سنگاپور کو علیحدہ ہونے کی اجازت مل گئی اور سات اگست انیس سو پینسٹھ کو سنگاپور ایک آزاد ریاست بن گیا۔وزیرِ اعظم لی کوان یو کی قیادت میں سنگاپور نے تیزرفتار ترقی کی۔آج وہ جنوب مشرقی ایشیا میں بحری تجارت ، بینکاری اور گورنننس کا اہم مرکز ہے۔

 ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب بحیرہ منجمد شمالی کی برف پگھل رہی ہے اور ایشیا اور یور پ کے مابین ایک نیا شمالی راستہ ( آرکٹک روٹ ) کھلنے سے یورپ اور مشرقی ایشیا کے مابین نہ صرف تجارتی فاصلے ہزاروں کلومیٹر کم ہو جائیں گے بلکہ تجارتی جہازوں کو آبنائے ملاکا ، باب المندب اور نہر سویز کی بحرانی بے یقینی سے نجات بھی مل جائے گی۔

دو ہزار سولہ میں پہلی بار چین کی معروف شپنگ کمپنی کوسکو کے پانچ مال بردار جہازوں نے بحیرہ آرکٹک کے راستے بلجئیم ، جرمنی اور برطانیہ تک چینی سامان لے جانے کا کامیاب سفر کیا۔نئے تجارتی راستے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے چین نے روس اور شمالی کوریا سے متصل سرحدی علاقے ہونچون میں ایک نئے ’’ سنگاپور ‘‘ کی بنیاد رکھ دی ہے۔یہاں سے آرکٹک روٹ کے راستے چینی سامان بھیجا جائے گا۔

البتہ فی الحال اگلے کئی برس تک نہ سنگاپور کی تجارتی اہمیت کو خطرہ ہے اور نہ ہی آبنائے ملاکا بے وقعت ہونے والی ہے۔کل کی کل دیکھی جائے گی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

تذکرہ شاعر مشرق کا – ایکسپریس اردو

Published

on


قارئین! اس کالم میں ہم ذکر کریں گے شاعر مشرق حکیم الامت، مفکر پاکستان عظیم فلسفی سر علامہ محمد اقبال کا۔ان کے فکر و فلسفے و شاعری پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ ان کی زیست پر اختصار کے ساتھ تھوڑی سی روشنی ڈالیں۔ علامہ صاحب کی ولادت 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ شہر میں شیخ نور محمد کے گھر میں ہوئی، ان کی والدہ محترمہ امام بی بی نیک سیرت خاتون تھیں۔ علامہ صاحب کا خاندان تجارت پیشہ خاندان تھا، البتہ علامہ صاحب کی شخصیت اس کے برعکس تھی۔ علامہ صاحب نے میٹرک 1893 میں، ایف اے 1895، بی اے 1897 میں، ایم اے 1899 میں کیا۔ یہ تمام تعلیمی مراحل انھوں نے سیالکوٹ میں ہی طے کیے۔ البتہ اس کے بعد وہ لاہور تشریف لے آئے اور بطور پروفیسر فروغ تعلیم کے سلسلے کا آغاز کر دیا۔ بعدازاں وہ حصول تعلیم کے لیے انگلستان تشریف لے گئے۔

1908 میں علامہ صاحب نے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی، امام بی بی کے فرزند علامہ اقبال صاحب نے اولین شادی 1895 میں 18 برس کی عمر میں کی، دوسری شادی 33 برس کی عمر میں، 1910 میں کی۔ بیوی کا نام سردار بیگم تھا، تیسری شادی 37 برس میں، 1914 مختار بیگم سے کی۔ علامہ صاحب کے ایک بھائی تھے جن کا نام عطا محمد تھا۔ علامہ صاحب کے ایک بیٹے جاوید اقبال چیف جسٹس آف سپریم کورٹ بھی رہے ۔ علامہ کی اولین نظم کوہ ہمالیہ تھی جو انھوں نے قلم بند کی علامہ صاحب کی اولین کتاب بانگ درا تھی جوکہ بچوں کے لیے لکھی گئی۔ علامہ صاحب ابتدا میں ترقی پسند نظریات سے متاثر تھے۔ چنانچہ انھوں نے عظیم فلسفی کارل مارکس کے بارے میں کہا کہ :

وہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیب

نیست پیغمبر لیکن دربغل دار کتاب

البتہ جب عام محنت کشوں کے حالات دیکھتے تو افسردہ ہو جاتے اور یوں کلام کیا کہ:

تو قادر ہے عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

دنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات

دوسرے لفظوں میں کچھ اس طرح اپنے نظریات بیان کیے کہ:

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امرا کے دَر و دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوز و یقین سے

کنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

جس کھیت سے میسر نہ ہو دہقاں کو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

البتہ بعدازاں علامہ صاحب تصوف و روحانیت کی جانب راغب ہو گئے تو مسلمانوں سے کچھ ان الفاظ میں مخاطب ہوئے کہ:

اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید

سب کچھ یاد ہے مگر خدا یاد نہیں

یا یہ کلام فرمایا کہ:

اپنے کردار پر ڈال کر پردہ

ہر شخص کہتا ہے کہ زمانہ خراب ہے

قیام پاکستان سے قبل کا واقعہ ہے کہ لاہور میں لوگوں نے ایک ہی شب میں مسجد قائم کر دی، گویا پورا شہر مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔ اس موقع پر علامہ صاحب خاموش نہ رہے اور کہا کہ:

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

البتہ وہ ناامید نہ تھے انھیں پورا یقین تھا کہ مسلمان سرخرو ہوں گے چنانچہ کہا:

نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

علامہ صاحب کو تمام تر امیدیں نوجوانوں سے تھیں لہٰذا نوجوانوں سے کلام کرتے ہوئے مخاطب ہوتے ہیں کہ۔

تُو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں

مزید کہا کہ

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

علامہ صاحب مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے زبردست حامی تھے، اپنی خواہش کا اظہار یوں کیا کرتے تھے کہ:

ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر

وہ مسلمانوں کو خوددار دیکھنا چاہتے تھے، اسی لیے کہا کہ:

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ ہے نئی صبح شام پیدا کر

علامہ صاحب آگے سے آگے بڑھنے کا سبق دیتے ہوئے کلام کرتے ہیں۔

 منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر

مل جائے تجھے دریا تو سمندر تلاش کر

علامہ اقبال برصغیر کے مسلمانوں کی حالت زار سے بے حد پریشان ہوتے، اسی لیے انھوں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔علامہ صاحب کی زندگی کے آخری ایام جاوید منزل لاہور میں گزرے، البتہ 21 اپریل 1938 کو صبح پانچ بج کر چودہ منٹ پر ان کا زندگی سے ناتا ختم ہو گیا، گویا نماز فجر کے وقت انھوں نے 60 برس پانچ ماہ 12 یوم عمر پائی۔ وہ لاہور میں بادشاہی مسجد میں آسودہ خاک ہیں۔ 21 اپریل 2026 کو ان کی 88 ویں برسی ہے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم پاکستان کو ایک اصلاحی جمہوری ملک بنائیں گے۔





Source link

Continue Reading

Trending