Today News
لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن فورس پر حملہ؛ فرانسیسی فوجی ہلاک اور 3 زخمی
لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک جب کہ تین دیگر اہلکار زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے الزام عائد کیا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے، اس حملے کے پیچھے حزب اللہ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
انھوں نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ادھر لبنان کے وزیر اعظم نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تعینات امن فوجیوں کی حفاظت یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے امن مشن نے بھی کی تصدیق کی کہ حملہ امن فوجیوں کی سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے ابتدائی طور پر اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
لبنانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
امریکا، برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے امن مشن کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے شمالی غزہ میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں جب ایک حملے میں اس کے ٹھیکیدار ڈرائیورز ہلاک ہوگئے۔
یونیسف کے بیان کے مطابق اسرائیلی فوج کی کارروائی میں دو ٹرک ڈرائیورز ہلاک ہوئے جو پانی کی فراہمی کے منصوبے سے وابستہ تھے۔
یہ واقعہ غزہ سٹی کے منصورہ واٹر فلنگ پوائنٹ پر پیش آیا، جہاں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔ جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
Today News
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری
پاکستان کی امن کوششیں رنگ لے آئیں، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران، پاکستان کا شکریہ۔ ایرانی صدر نے بھی جنگ روکنے میں پاکستان کا کردار قابل ستائش قرار دے دیا۔ اسرائیل ، لبنان میں جنگ بندی کا آغاز ہو گیاہے۔ یہ انتہائی غیرمعمولی پیش رفت ہے۔
پاکستان نے اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا اور اس کے بعد وہ ترکیہ بھی گئے جب کہ پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران گئے جہاں انھوں نے ایران کے اہم لیڈروں سے بات چیت کی جس کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان سامنے آیا۔ جب سے خلیج جنگ شروع ہوئی ہے، اس معاملے میں پاکستان نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان نے اسلام آباد میں متحرک فریقوں کو اکٹھا کیا اور انھیں آپس میں بات چیت کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس کے بعد ہی معاملات آگے بڑھے ہیں اور اب امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنگ بند ہو جائے گی اور تنازعات کا کوئی نہ کوئی آبرومندانہ حل بھی نکل آئے گا۔ فی الحال جو باتیں اور خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ ملی جلی ضرور ہیں لیکن عالمی منڈی میں جو مثبت ٹرینڈ دیکھنے میں آیا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ عالمی سٹیک ہولڈرز کو خلیج میں امن کا مکمل یقین ہے۔
اگلے روز کی خبروں کے مطابق سوشل میڈیا اکائونٹ X پر پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ لبنان میں جنگ بندی ہو چکی ہے، ہرمز کی خلیج کے ذریعے تمام تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے راستہ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے، البتہ فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھولنے کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کھلنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم، فیلڈ مارشل دونوں بہترین اور عظیم لوگ ہیں، امریکی صدر نے مدد کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے بھی اظہار تشکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کے لیے شاندار دن ہے، امر یکہ بھی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ آبی گزرگاہ ہمیشہ کھلی رہے۔ تاہم ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل نہیں ہو جاتا۔ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا اکائونٹ پر اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات چیت جاری ہے۔ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا، ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی صدر کے دعوئوں کو مسترد کردیا ہے۔
ادھر تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں صورت حال مزید بہتر ہو جائے گی۔
امریکی صدر نے ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے جنگ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جوہری پروگرام کی وجہ سے یہ کرنا پڑی، یہ جنگ بہت جلد ختم ہونی چاہیے اور یہ جنگ اچھے طریقے سے ختم ہونے جارہی ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا حزب اللہ نے معقول انداز اپنایا تو یہ ان کے لیے ایک عظیم لمحہ ہوگا، کوئی ہلاکتیں نہیں ہوں گی، آخر کار امن لازمی طور پر ہونا چاہیے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی علاقائی استحکام کے لیے اہم کامیابی ہے،یہ دن لبنان کے لیے تاریخی ہو سکتا ہے، معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔حزب اللہ کے مسئلے سے مناسب انداز میں نمٹ لیں گے۔ امریکی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے معاملات پر بھی خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور اس حوالے سے بھی اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایران امن، استحکام اور خطے میں برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، ایرانی عوام کا وعدے توڑے جانے کی وجہ سے امریکا پر اعتماد نہیں۔
انھوں نے زور دیا کہ عالمی قوانین اور اصولوں کے تحت ایرانی قوم کے حقوق برقرار رہنے چاہیں، امریکا اس تنازع میں فاتح بن کر نہیں ابھرے گا، تنازع سے خطے کے ممالک اور دنیا سنگین نقصانات اٹھائے گی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی کشیدگی کی صورت میں مخالفین کو بھاری ضربوں اور ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آرمی ڈے پر تقریب سے خطاب میں ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ دشمن کے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور آخری سانس تک اپنے عہد پر قائم رہیں گے۔
دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ ایران ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ادھر لبنان اور اسرائیل میں 10 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا جس کے بعد دارالحکومت بیروت میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا، جشن منایا گیا اور بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
جنگ بندی کے آغاز کے ساتھ ہی بیروت و دیگر علاقوں میں پناہ پینے والے ہزاروں خاندانوں نے جنوبی مضافات (Dahieh) کی طرف واپسی شروع کر دی، لوگ اپنے گھروں کی حالت دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان اور خطے کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی حزب اللہ کی ہوئی ہے، جنگ بندی لبنان کی مزاحمت اور ایران کی حمایت کا نتیجہ ہے۔
حزب اللہ نے لبنان میں جاری جنگ بندی کے دوران اسرائیل کی جانب سے کسی بھی دھوکے یا غداری کی صورت میں کہا ہے کہ وہ انگلی ٹریگر پر رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمت کے تناظر میں مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اہم پیش رفت ہے اور یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ سعودی عرب نے بھی لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے کھولنے کی خبر پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ اس حوالے سے پاکستان کے لیے بہتر خبر یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 32 روپے 12 پیسے کمی کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ساتھ جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔
اس صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خلیج میں مستقل طور پر جنگ بند ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ امریکا اور ایران جنگ کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو اس لڑائی سے متاثر نہ ہو رہا ہو۔ اب اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اسی لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے بھی اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔
ابھی جنگ کے حوالے سے فریقین کی جانب سے متضاد خبریں آ رہی ہیں۔ امریکا کے صدر ٹرمپ بھی ملی جلی باتیں کر رہے ہیں جب کہ ایران کی طرف سے بھی اسی قسم کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس قسم کی خبریں اس وقت تک آتی رہیں گی جب تک کہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل بھی یہ کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ہمارے پاس اچھی خبریں ہیں۔ برطانیہ، یورپی یونین اور چین نے بھی صورت حال میں اس مثبت تبدیلی کو سراہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ ہیں ہے کہ خلیج میں جنگ بند کرانے کے لیے پاکستان نے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران جانا غیرمعمولی واقعہ ہے۔ وہاں انھوں نے ایرانی ٹاپ قیادت کے ساتھ جو بات چیت کی ہے، اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے پوری دنیا پر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ایسا مضبوط ملک ہے جو بڑے تنازعات کو حل کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس صورت حال میں اگر بھارتی پالیسی کو دیکھا جائے تو ان کی سفارت کاری ناکام نظر آتی ہے۔ بھارت دنیا میں تنہا نظر آ رہا ہے۔ اتنی بڑی سفارتی سرگرمیوں کے درمیان بھارت کہیں نظر نہیں آیا جب کہ پاکستان اس عالمی ڈپلومیسی کا محور بنا ہوا ہے۔
Source link
Today News
سرخرو پاکستان
بہت تیزی سے حالات تبدیل ہورہے ہیں ، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ میرا کالم چھپنے تک، حالات آپ کے سامنے پہلے سے زیادہ بہتر اندز میں واضح ہوجائیں گے۔ پاکستان کا کردار تاریخ رقم کرے گی۔ ہم پر مہربانی ہے مودی صاحب کی وہ مئی 2025 میں ہم پر حملہ کر بیٹھے اور اگر ہم نے اس حملے پر وہی کچھ کرنا ہوتا جو ابھی نندن کی بار کیا تھا تو ماحول ہمارے خلاف بنتا کہ ہم ایسے ہی ہیں۔
ابھی نندن والے حملے میں مودی پر اعتماد ہوئے تھے اور دوبارہ ہم پر حملہ کر بیٹھے، اگر ہم اس کا منہ توڑ جواب نہ دیتے تو یہ ہندوستان اور اسرائیل کو اور اچھا لگتا اور جب ہم منہ توڑ جواب دے بیٹھے تو ہماری اہمیت امریکا سے لے کر سعودی عرب تک بنی ۔ ہم نے یہ کامیاب منہ توڑ جواب اس لیے دے سکے کہ ہمارے پاس چین کی ٹیکنالوجی تھی۔ ہمیں دنیا بھر سے آرڈر آئے، دنیاہمارے جنگی جہاز خریدنے لگی۔ ٹرمپ نے، ہندوستان کے جو سات رافیل جہاز ہم نے گرائے، اس پر مودی کا بڑا مذاق اڑایا۔
ایران کے ساتھ بھی جون میں کچھ اس طرح ماجرا ہوا۔ اسرائیل یہی سمجھتا رہا کہ اس کے انٹرسیپٹر ایران کے پرانے میزائلوں کو روک لیں گے، ایران وہ جون والی جنگ رکوا تو گیا مگر اسے اسرائیل نے بہت دھکیلا ہوا تھا۔ حزب اللہ سے لے کر شام اور حماس تک ، اس کے اتحادی پسپا ہوئے تھے ،اور اس بار ایران نے اسرائیل کو حیران کردیا کہ اس کے پاسدران انقلاب کی ایران میں اتنی گہری جڑیں ہیں۔ دہائیوں سے انھوں نے جنگ کی تیاری کی تھی اور سب سے بڑی بات جو کسی کو سمجھ نہ آئی کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کا وہ مہرہ ہے جو جنگ کے نتائج تبدیل کردے گا۔ اس کے ساتھ دو بڑی طاقتیں چین اور روس کھڑے تھے۔
اور اب پورا خلیج و فارس تبدیل ہوگیا۔ سعودی عرب کو امریکی فوج کی اب ضرورت نہیں، ان کے لیے اب پاکستان کی فوج زیادہ قابل بھروسہ ہے۔ قطر بھی یہی سمجھتا ہے ۔ پاکستان نے ایران کو یک بہت بڑی تباہی سے بچایاہے اور اگر ایرانی یہی سمجھتے ہیں تو ہم ایران سے ایک نئے رشتے سے جڑتے ہیں۔اس طرح بھی دیکھ سکتے ہیں کہ امریکا کمزور نہیں ہوا ، بلکہ چین بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ امریکا نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے جب بند کیا تو اسے چین نے توڑ کر دکھایا۔ ہندوستان نے جس اسرائیل پر اپنا وزن رکھا تھا وہ ہندوستان کے لیے آبنائے ہارمز نہیں کھول سکتا، اس لیے ہندوستا ن اپنی پالیسی میں جو اسرائیل کی طرف پاکستان کے پس منظر میں جھک گیا تھا ،وہ اب اپنی پالیسی میں توازن لائے گا۔
اب ترکیہ بھی اس اتحاد میں آنا چاہتا ہے جو ہم نے سعودی عرب کے ساتھ بنایا ہے۔ ترکیہ نے اسرائیل پر حملے کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ چین نے بھی بلاواسطہ واضح کیا ہے کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو چین اسرائیل پر حملہ کردے گا۔ سعودی عرب کی حفاظت کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے جو خود نیوکلیئر طاقت ہے۔ اسرائیل کا بیانیہ اب بہت محتاط بنے گا وہ گریٹر اسرائیل تو کیا اب اپنا وجود خطرے میں محسوس کرے گا۔
خود ایران ایک بہت بڑی طاقت بن کر ابھرے گاجو تین سپر طاقتیں ہیں جیسا کہ چین، رشیا اور ایران وہ آپس میں جڑی ہوئی ہیںجو چوتھی سپر طاقت ہے وہ یورپی یونین یا نیٹو جو امریکا سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے امریکا کو ٹرمپ نے تنہا کردیا اور اس کے سنگین نتائج خود ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں بھگتنا ہوں گے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران تھیوکریٹک ریاست ہے ۔ بہت سے محققین یہ سمجھتے ہیں، ایران بحیثیت سماج تقسیم ہے، وہ لوگ قہوہ خانوں میں اپنی خواتین کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ حکومت کے خلاف بولنے کی قدرے آزادی ہے۔ ایک سسٹم ہے، آئین ہے ، پارلیمان ہے لیکن ناکافی ہیں ۔ ایران کو اب اپنے آپ کو کھوجنا ہوگا۔
ہندوستان، پاکستان اور ایران سینٹرل ایشیا کی منڈیوں تک پہنچنا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو رکاوٹیں وہ ختم ہونی چاہیے۔ ایران اور پاکستان سات فیصد شرح نمو تک جاسکتے ہیں۔ پاکستان نے جان بوجھ کر سرد جنگ میں امریکا کا مہرہ بن کر ان کی امداد پر بھروسہ کرکے خود کو معاشی حقیقتوں سے دور رکھا۔ بہت بڑی جامع پالیسی پھر سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے کہ ہم نئی ابھرنے والی حقیقتوں کو اپنی بہتری کے لیے استعمال کرسکیں۔
ہماری معیشت کے بہت پیچیدہ مسائل ہیں۔ ملک کے 57 فیصد لیبر فورس زراعت سے جڑی ہوئی ہے اور زراعت اب بھی پرانی جاگیرداری اقدار میں چل رہی ہے۔ ہم دیہات میں صنعتوں کا جال نہیں بچھا سکے، تعلیم کو بہتر نہیں کر پائے ، ملک کی پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے۔ بے روزگاری بیس سال کے ریکارڈ توڑچکی ہے۔ ہماری شرح نمو اگر پانچ فیصد پر بھی پہنچ پاتی ہے تو ہمیں بیلنس آف پیمنٹ میں مسئلے آجاتے ہیں، کیونکہ ہمارا امپورٹ بل بڑھ جاتا ہے۔ ہماری اسٹیبلیشمنٹ اس غیر پیداواری اشرافیہ کے ساتھ چلنے میں اپنے آپ کو بہتر سمجھتی ہے کیوں کہ یہ شرفا کا طبقہ ہی ان کی سب باتیں مانتا ہے لیکن ملک میں مڈل کلاس قیادت اور طبقہ سیاست کے سینٹر اسٹیج پر آنے کے لیے ناگزیر ہے۔
یہی مڈل کلاس ایران میں بھی ہے اور ہندوستان یا بنگلادیش میں بھی ہے، اگر نہیں ہے تووہ مڈل کلاس پر مبنی حکمران طبقہ ، جوپاکستان میں نہیں ہے۔ کراچی میں موجود مڈل کلاس کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا گیا ہے ، لہٰذا یہی بات ان میں احساس محرومی پیدا کرتی ہے۔ باقی ماندہ سندھ کے اندر مڈل کلاس اتنی کمزور ہے کہ وہ کبھی بھی پیپلز پارٹی میں موجود وڈیروں ، جاگیرداروں کا مقابلہ کرکے اقتدار نہیں لے سکتی ہے ۔ ان کو بھی ایک طرح سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے اور خود ان کے بیانیے میں مسائل ہیں۔
اس سے بدتر حالات بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مڈل کلا س کے بھی ہیں ، وہ کبھی اقتدار تک پہنچ نہیں سکتے اور وہاں پر بھی جو غیر پیداواری طبقہ ہے اس کے ساتھ مل کر بلوچستان اور خیبر پختونخواکو چلایا جارہا ہے جو عوام کے حقیقی نمایندہ نہیں۔ ہماری کل تک افغان پالیسی تھی ، وہ کیا تھی؟ ہم ان غیر پیداواری ، ترقی کی دشمن گروپ کو ملک کے مفاد میں بہتر سمجھتے رہے ، وقت آنے پر ہمیں پتہ چلا یہ غلط ہے اور جو پاکستان کے اندر اشرافیہ طبقہ، جن کو طاقت ملی اسی افغان پالیسی سے، اسمگلنگ، منشیات اور اسلحے کا کاروبار نکلا۔
بلاشبہ پاکستان نے ایک خطرناک طوفان سے خود کو باہر نکالا ہے اور اس میں یہ ایران تھا جس نے سینہ تان کے مقابلہ کیا ، وہ اگر نہ کرتا تو سارا خلیج اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ، اور ہندوستان نے ہمارے لیے سنگین مسائل پیدا کرنے تھے۔ ہمارے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے، اس لیے کہ پاکستان کے اندر سیاسی قوتیں انتہائی کمزور ہیں۔
ایک نئی ترتیب سے خلیج و فارس ابھر رہا ہے۔ ہمارے سامنے نئے زمانے کھڑے ہیں، نئے تقاضے، نئے پیمانے پڑے ہیں۔ ہم اب پرانے بیانے سے آگے نہیں چل سکتے، اگر ہم نے یہ موقع بھی گنوا دیا تو پھر ہمارے لیے بھی بہت مشکلات ہیں۔ پاکستان کی ترسیلات زر چالیس ارب ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔
ہماری ایکسپورٹ تیس ارب ڈالر تک آگئی ہے۔ آیندہ پانچ سالوں سے سینٹرل ایشیا ، ایران سے تجارت کے مواقعے نکل رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے بھی ہم اپنی سرزمین ایکسپورٹ کر سکتے ہیں ۔ اس لیے پاکستان کو ہر سال سو ادو ارب ڈالر ترسیلات زر اور ایکسپورٹ سے چاہئیں۔ کیوں کے ہمارا ایکسپورٹ بل بھی نوے ارب ڈالر تک چلا جائے گا، ایک نئی دنیا ہے ہمارے آگے، ہمیں عمران خان کا نیا پاکستان نہیں، بلکہ ایک حقیقی ترقی پسند پاکستان درکار ہے جو سمت بنا سکے، ان بدلے ہوئے زمانوں میں۔
Source link
Today News
اسلام آباد مکالمے کی ایک نئی کوشش
اسلام آباد کے مذاکرات نے امید کی ایک مدہم سی شمع روشن کی۔ امریکا اور ایران کے نمائندے ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مکالمے کی صورت پیدا ہوئی، اگرچہ اس ملاقات سے کوئی فوری اور خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس واپس لوٹ گئے لیکن اس کے باوجود یہ لمحہ اپنے اندر مستقبل کی کئی ممکنہ راہوں کی جھلک لیے ہوئے تھا۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں اپنے پیچھے صرف تباہی اور پشیمانی چھوڑ جاتی ہیں جب کہ مذاکرات امید اور استحکام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی ہولناکیاں آج بھی انسانی شعور پر نقش ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ طاقت کے استعمال سے وقتی فتح تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر پائیدار امن نہیں۔ اسی طرح ویتنام، افغانستان اور عراق کی جنگوں نے بھی یہی ثابت کیا کہ بندوق کی گونج آخرکار مکالمے کی ضرورت کو جنم دیتی ہے۔
ایران اور امریکا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے بداعتمادی، پابندیوں اور سیاسی کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تناؤ اور پراکسی تنازعات اس تعلق کی پہچان بن گئے۔ ان تمام تلخیوں کے باوجود اگر دونوں فریق ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں تو یہ امر اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بالآخر مکالمہ ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔
اس ملاقات کے بعد ایک بار پھر امید کی ایک مدہم مگر روشن کرن ابھری ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی جلد منعقد ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں تین مختلف مقامات جنیوا، استنبول اور اسلام آباد زیرغور آئے اور ہر ایک اپنی تاریخی وسفارتی اہمیت رکھتا ہے۔
جنیوا طویل عرصے سے عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک غیرجانبدار مرکز کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے جب کہ استنبول نے بھی مشرق اور مغرب کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کیا ہے تاہم اطلاعات یہی اشارہ دیتی ہیں کہ دوسرے دور کے انعقاد کے امکانات ایک بار پھر پاکستان ہی کے حق میں زیادہ روشن ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ امن کے تسلسل کی ایک خوش آئند علامت ہوگی۔ مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ تعطل اور ڈیڈلاک سفارتی عمل کا فطری حصہ تو ہوتے ہیں مگر اصل دانشمندی ان رکاوٹوں کو عبور کرنے میں ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو بالآخر راستے نکل آتے ہیں جب کہ مکالمے کی بندش صرف فاصلے بڑھاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اختلافات کے باوجود رابطے کی یہ ڈور مضبوطی سے تھامی رکھی جائے کیونکہ پائیدار امن کی بنیاد اس مسلسل اور سنجیدہ مکالمے میں مضمر ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کو کسی بڑی سفارتی فتح کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے ایک ابتدائی قدم کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ امن کے سفر میں پہلا قدم ہمیشہ سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اعتماد کی فضا ایک دن میں قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل کوششیں اور خلوص نیت درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اس ملاقات کے فوری نتائج سامنے نہیں آئے لیکن مذاکرات کے دوسرے دور کی متوقع خبر امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھری ہے۔
جنگ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس کا خمیازہ وہ لوگ بھگتتے ہیں جو روزمرہ کی زندگی سے جھوج رہے ہوتے ہیں۔ تباہ حال شہر، بے گھر خاندان، مہاجرین کی طویل قطاریں اور یتیم بچوں کی خاموش آنکھیں جنگ کی اصل تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے برعکس مذاکرات امید، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے دانشور ادیب اور امن پسند حلقے ہمیشہ مکالمے کو ہی مسائل کے حل کا ذریعہ قرار دیتے آئے ہیں۔
تاریخ میں کئی ایسے مواقع ملتے ہیں جب بظاہر ناقابلِ حل تنازعات بھی مذاکرات کے ذریعے حل ہوئے۔ مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ، جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت اس حقیقت کے روشن ثبوت ہیں کہ جب فریقین خلوص نیت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو دیرپا امن کا حصول ممکن ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقات بھی اسی عالمی روایت کا ایک تسلسل ہے۔ اس لمحے کی اہمیت اس میں مضمر ہے نہ کہ کسی فوری کامیابی میں۔ یہ اس یقین کا اظہار ہے کہ دہائیوں پر محیط دشمنی کے باوجود مکالمے کے دروازے بند نہیں ہوتے، اگرچہ سیاسی مفادات اور ماضی کی تلخ یادیں اس راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں لیکن انسانیت کی مشترکہ بھلائی ان تمام رکاوٹوں سے بالاتر ہے۔
ادب اور تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ امن کی خواہش انسانی فطرت کا بنیادی جزو ہے۔ جنگیں وقتی طور پر نفرت کو جنم دے سکتی ہیں لیکن دلوں میں بسنے والی امن کی آرزو کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کر سکتیں۔ یہی آرزو دنیا کو بار بار مکالمے کی میز کی طرف واپس لاتی ہے۔ آج جب دنیا مختلف تنازعات، معاشی عدم استحکام اور ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ہر وہ کوشش جو امن کے قیام کی طرف پیش رفت کرے، قابلِ قدر ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سفارت کاری کا عمل صبر اور تسلسل کا متقاضی ہوتا ہے۔ ایک ملاقات یا ایک معاہدہ تمام مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔ تاہم یہ اقدامات اعتمادسازی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جو مستقبل میں مثبت پیش رفت کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان متوقع دوسرے دور مذاکرات اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں۔
آج کی دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہتھیاروں کی دوڑ نہیں بلکہ مکالمے کی ہے۔ نفرت اور عدم برداشت کے اس عہد میں اگر کہیں سے امن کی کوئی صدا بلند ہوتی ہے تو وہ پوری انسانیت کے لیے امید کا پیغام بن جاتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ پیش رفت بھی اسی امید کی علامت ہے، ایک ایسی امید جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اختلافات کے باوجود باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ذریعے مشترکہ مستقبل کی تعمیر ممکن ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملاقات محض ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے اس مسلسل سفر کی ایک جھلک ہے جس کا مقصد جنگ کے اندھیروں سے نکل کر امن کی روشنی تک پہنچنا ہے۔ اگرچہ اس سفر کی منزل ابھی دور ہے لیکن ہر قدم جو مکالمے کی سمت اٹھایا جائے، انسانیت کے لیے ایک نئی امید کا پیامبر ہوتا ہے کیونکہ بالآخر ہر مسئلے کا پائیدار حل صرف اور صرف مذاکرات اور امن میں ہی پوشیدہ ہے۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی