Today News
مصلحت کے بازار میں …فاطمہ پیرزادہ
کہا جاتا ہے کہ 12 سے 25 سال تک کی عمر محض خواب دیکھنے کی نہیں، بلکہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی سب سے خوبصورت دہلیز ہوتی ہے۔ یہ وہ عہدِ شباب ہے جہاں انسان کی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک اور حوصلوں میں شاہین جیسی اڑان ہونی چاہیے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ یہی وہ سنہرا دور ہے جب ہم اپنی سوچ کے افق پر نئے رنگ بکھیریں اور اپنی تقدیر کے فیصلے خود اپنے قلم سے لکھیں۔آج میں زندگی کی اسی خوبصورت دہلیز پر کھڑی، خود سے اور اس بے حس نظام سے ایک معصومانہ مگر تلخ سوال کرتی ہوں کہ میں اپنے خوابوں کو آخر کس رنگ سے سجاؤں؟ کیا ان خوابوں کو وہ ’’عدل‘‘ مل پائے گا جس کے بغیر ہر حقیقت محض ایک سراب ہے۔
میں اپنے خوابوں کا نشان کہاں ڈھونڈوں؟ ان بوسیدہ دیواروں پر جہاں عدل کی شمع مدہم پڑ چکی ہے، یا اس ریاست کے افق پر جہاں سچ کی صدا بلند کرنے پر مصلحتوں کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ خواب ہی حقیقت کا روپ دھارتے ہیں، مگر یہاں تو تلخ حقیقتوں کے ہاتھوں خوابوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ تاریخ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جب وجود سے روح نکل جائے تو وہ محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتا ہے جسے مٹی کے سپرد کر دینا ہی قدرت کا آخری قرینہ ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ان ایوانوں سے انصاف کی روح رخصت ہو رہی ہو، تو ان بلند و بالا عمارتوں کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی، پھر ان اونچے عہدوں اور کرسیوں کا ٹھکانہ مٹی کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں رہتا۔
ان سنگِ مرمر کے ایوانوں کی چمک اس وقت ماند پڑ جاتی ہے جب وہاں سچائی کا خون ارزاں ہو جائے، کیونکہ مٹی اپنے محسنوں کو تو یاد رکھتی ہے، مگر مصلحت پسندوں کو تاریخ کے فراموش کردہ ابواب میں دھکیل دیتی،کیونکہ مٹی کبھی جھوٹ نہیں بولتی اور تاریخ کبھی کسی کا قرض نہیں رکھتی۔ میرا قلم ابھی اس مٹی کے نوحے ہی رقم کر رہا تھا کہ سماعتوں میں ایک ایسا شور گونجنے لگا ہے جس نے عالمی ضمیر پر تنی مصلحتوں کی ردائے سیمیں تار تار کر دی ہے۔
میرا ضمیر اب قلم کو مصلحت کی پناہ گاہوں میں رکنے نہیں دیتا، بلکہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں ان جغرافیائی سرحدوں کی قید سے نکل کر ان ایوانوں کا رخ کروں، جہاں عدل کے قصیدے تو پڑھے جاتے ہیں اور انصاف کے علم بھی بلند کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت کی مقتل گاہ میں انسانیت سسک رہی ہے۔ یہ کیسا عالمی تضاد ہے کہ ایک طرف تو حقوقِ انسانی کے معتبر چارٹر تالیف کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف معصوموں کی سسکیوں پر’’ مصلحت وقت‘‘ کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ جہاں ضمیر کی پکار کو مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے، وہاں انصاف محض ایک بے جان استعارہ رہ جاتا ہے، جس کی روح ظلم کی چکی میں پستی رہتی ہے۔ میں ان بلند و بالا منصبوں سے پوچھتی ہوں کہ جب انسانیت کی قبا تار تار ہو رہی ہو، تو تمہارے یہ ’’من کے تمغے‘‘اور ’’وقار کے دعوے‘‘ کس المیے کی نقاب پوشی کر رہے ہیں؟حقیقت تو یہ ہے کہ انسانیت کی قیمت ان مصنوعی تمغوں کی چمک سے ہرگز طے نہیں ہو سکتی۔
یاد رہے کہ جب تاریخ اپنا حساب مانگے گی، تو یہ چمکتے ہوئے اعزازات ان دامنوں پر لگے لہو کے گہرے دھبوں کو کبھی نہیں چھپا پائیں گے۔میں ان عالمی منصفوں کے سامنے ان کا اپنا ہی منشور رکھتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ فلسطین کے وہ معصوم بچے تمہاری ’’انسانی برابری‘‘ کی کسی بھی تعریف سے خارج نہیں کیے جا سکتے؛ ان کا خاک میں اٹا ہوا بچپن تمہارے ان سنہرے الفاظ کی افادیت پر ایک مستقل سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہ خاموش فریاد ہے جسے تمہارے تمام تر عالمی منشور بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔ سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کی وادیوں سے اٹھنے والی سسکیاں اتنی نحیف نہیں ہیں کہ تمہارے عدل کے ترازو میں سما نہ سکیں، بلکہ تمہارا نظام ہی ان کی آواز کی بازگشت سننے سے قاصر ہے۔
جب تمہارا قانون ہر فرد کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، تو دنیا بھر میں بہتا ہوا بے گناہوں کا لہو دراصل تمہارے اس عالمی تحفظ کا تمسخر اڑا رہا ہے۔ میرا یہ اضطراب کسی بغاوت کا اعلان نہیں، بلکہ اس ’’انصاف‘‘ کی پکار ہے جس کا وعدہ تم نے خود انسانیت سے کیا تھا۔ میں اس عدل کی متلاشی ہوں جس کی فراہمی ہر ریاست کا فرض ہے، مگر افسوس! اگر یہ سنہرے اصول صرف طاقتور کی مصلحتوں کے اسیر ہیں، تو ایک عام انسان ان ضابطوں میں اپنا عکس کہاں تلاش کرے؟ یاد رکھیے! جو عدل سرحدوں اور رنگوں کی تمیز کرنے لگے، وہ ضمیر کی عدالت میں ہمیشہ تشنہ ہی رہتا ہے۔اگر آج تمہارے ایوانوں کی خاموشی نہیں ٹوٹتی، تو تاریخ تمہیں ’’منصف‘‘ نہیں بلکہ ’’سہولت کار‘‘ لکھے گی۔
اور آنیوالے کل میں جب انسانیت ان تہذیبی کھنڈرات سے اپنا گم گشتہ وجود تلاش کرے گی، تو تمہارے پاس کاغذ کے بے جان ٹکڑوں کے سوا کوئی جواب نہ ہوگا۔ میں آج تمہارے ضمیر کی دہلیز پر یہ سوال چھوڑتی ہوں، کیا انصاف صرف طاقتور کا ہتھیار ہے، یا حق اور سچ والوں کی آخری پناہ گاہ بھی؟ یاد رکھیے! اگر آج ہم نے اپنا یہ جمود نہیں توڑا، تو سمجھ لیجیے ہم سب نے انصاف کیساتھ ساتھ انسانیت اور اپنے وجود کے زوال پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔
میرے شعور نے ان بدلتے ہوئے حالات میں جو محسوس کیا، ان تمام حقائق اور اس تڑپ کو ایک مختصر آرٹیکل کی ’’تنگ دامنی‘‘ میں قید کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں نے اپنا قلم اس مٹی کے قرض اور ضمیر کی پکار کے سپرد کر دیا ہے اور یہ سفر اب رکنے والا نہیں ہے۔میں نے اپنا فرض ادا کرنے کی شروعات کر دی ہے، اب انتظار ہے ان منصفوں اور تاریخ دانوں کا جن کے قلم میں سچائی کی تپش سہنے کی جرات باقی ہے۔’’ نو ائے خاکِ وفائے سَرِ مقتل کی صورت میں حق کا یہ چہرہ اب وقت کی امانت ہے، جو بہت جلد اپنی تمام تر داستان کیساتھ آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔
Source link
Today News
ایران کی بڑی وارننگ، جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی
ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار ردعمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں۔
بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
Today News
امریکا میں جنگی تیاری تیز، کار ساز کمپنیاں اب ہتھیار بنائیں گی
امریکا میں ایران اور یوکرین سے جاری جنگی صورتحال کے باعث اسلحہ ذخائر پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے بڑی کار ساز کمپنیوں سے مدد طلب کر لی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے معروف کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سمیت دیگر مینوفیکچررز کے اعلیٰ عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ اسلحہ سازی کے شعبے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ کار ساز کمپنیوں اور دیگر صنعتی اداروں کی پیداواری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔
اس حکمت عملی کو ماضی کی مثالوں، خصوصاً جنگ عظیم دوم کے دوران اپنائے گئے ماڈل سے جوڑا جا رہا ہے، جب امریکی صنعتوں نے گاڑیوں کی بجائے جنگی سازوسامان تیار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق پینٹاگون چاہتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی فیکٹریوں، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کی پیداوار بڑھائیں، کیونکہ موجودہ جنگوں کے باعث امریکی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت ایران کے ساتھ کشیدگی سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، تاہم حالیہ جنگی حالات نے اس ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کورونا وبا کے دوران بھی جنرل موٹرز اور فورڈ نے طبی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہزاروں وینٹی لیٹرز تیار کیے تھے، جو ہنگامی صورتحال میں صنعتی شعبے کے کردار کی ایک بڑی مثال ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جدید ترین اسلحہ کی تیاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو امریکی دفاعی صنعت میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے اور نجی شعبہ مزید فعال کردار ادا کرے گا۔
Today News
امریکا نے دباؤ بڑھانے کیلئے ایرانی آئل ٹینکروں پر قبضے کا فیصلہ کرلیا، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی سمندروں میں موجود ایرانی آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اس اقدام کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کو رعایتیں دے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نیا نظام نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی بحریہ سے اجازت لینا لازمی ہوگا۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تمام تجارتی جہاز ایران کی جانب سے طے کیے گئے مخصوص راستوں پر سفر کریں گے، جبکہ غیر ملکی جنگی جہازوں کے داخلے پر سخت پابندی عائد ہوگی۔
ایرانی بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دراصل ایران نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کی ناکہ بندی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔
واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک امریکا اپنے غیر قانونی اقدامات ختم نہیں کرتا، اس وقت تک یہ اہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper