Today News
بدلتی عالمی صف بندی اور پاکستان
آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عالمی نظام تبدیل ہو رہا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس سمت جا رہی ہے اور اس میں پاکستان کا کردار کیا ہو سکتا ہے؟ یوکرین کی جنگ، تائیوان کے گرد بڑھتی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل عدم استحکام، یہ سب محض الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی تصویر کے نمایاں خدوخال ہیں۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا نے ایک طویل عرصہ امریکی بالادستی کے زیرسایہ گزارا۔ اس دور کو اکثر ’’یونی پولر موومنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے اہم فیصلوں میں امریکا کا کردار غالب تھا مگر اب یہ منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین کی معاشی قوت، روس کی جغرافیائی حکمت عملی اور دیگر ابھرتی طاقتوں نے ایک کثیر قطبی دنیا کی بنیاد رکھ دی ہے جہاں طاقت صرف ایک مرکز میں مرتکز نہیں رہی بلکہ مختلف خطوں اور ریاستوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔
امریکا آج بھی ایک بڑی عالمی طاقت ہے مگر اسے اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئے اتحاد قائم کرنا پڑ رہے ہیں۔ نیٹو کی توسیع، ایشیا میں نئی سیکیورٹی شراکت داریاں اور چین کے بڑھتے اثر ورسوخ کو روکنے کی کوششیں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب چین نہ صرف معاشی میدان میں بلکہ سفارتی اور اسٹریٹجک محاذ پر بھی اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔ ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ جیسے منصوبے اس کے عالمی وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ روس، یوکرین جنگ کے بعد، مغرب کے مقابل ایک متبادل بلاک بنانے کی کوشش میں مصروف ہے، جس نے عالمی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ نئی صف بندی مختلف تنازعات کی صورت میں بھی واضح ہو رہی ہے۔ یوکرین جنگ نے مغرب اور روس کے درمیان خلیج کو گہرا کر دیا ہے جب کہ تائیوان کا مسئلہ امریکا اور چین کے درمیان ممکنہ تصادم کا اشارہ دے رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی جنگیں اس بات کی غماز ہیں کہ بڑی طاقتیں براہِ راست ٹکراؤ سے گریز کرتے ہوئے اپنے مفادات کے لیے دوسرے میدانوں کا انتخاب کر رہی ہیں۔ یوں دنیا بتدریج مختلف بلاکس میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی پوزیشن نہایت اہم مگر پیچیدہ ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری اور سی پیک جیسے منصوبے ہیں تو دوسری طرف امریکا کے ساتھ طویل مگر اتار چڑھاؤ کا شکار تعلقات بھی موجود ہیں۔
روس کے ساتھ حالیہ برسوں میں بڑھتے روابط بھی ایک نئی جہت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس بدلتی دنیا میں ایک متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی اختیار کر پا رہا ہے یا نہیں؟
اس نئی عالمی ترتیب میں پاکستان کے لیے مواقع بھی کم نہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جو ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیا کو جوڑتا ہے۔ اگر درست حکمت عملی اپنائی جائے تو پاکستان علاقائی تجارت، توانائی کے منصوبوں اور راہداریوں کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ کثیر قطبی دنیا پاکستان کو یہ موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ مختلف طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کر کے اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کرے۔ تاہم چیلنجز بھی اتنے ہی سنگین ہیں۔ کسی ایک عالمی بلاک کی طرف جھکاؤ پاکستان کے لیے سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
معاشی کمزوری اور بیرونی انحصار اس کی پالیسی سازی کو محدود کرتے ہیں جب کہ داخلی سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اس کے امکانات کو متاثر کرتی ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے اندرونی استحکام بنیادی شرط ہے۔
پاکستان کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کو واضح اور مستقل بنیادوں پر استوار کرے۔ ’’سب کے ساتھ تعلق، کسی کے خلاف نہیں‘‘ کا اصول محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی پالیسی بننا چاہیے۔ Geo-politics سے Geo-economics کی طرف منتقلی ناگزیر ہے، جہاں توجہ طاقت کے کھیل سے ہٹ کر معاشی ترقی، تجارت اور علاقائی روابط پر مرکوز ہو۔ وسط ایشیا، خلیجی ممالک، ایران اور ترکی کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنا کر پاکستان اپنی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان ماضی کی ’’فرنٹ لائن اسٹیٹ‘‘ پالیسی سے سبق سیکھے۔ وقتی فوائد کے لیے کسی ایک طاقت کے ساتھ مکمل وابستگی طویل المدتی نقصانات کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک خودمختار خارجہ پالیسی اسی وقت ممکن ہے جب داخلی سطح پر سیاسی استحکام، معاشی خود انحصاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی موجود ہو۔
بدلتی ہوئی دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی ترجیحات خود طے کرتی ہیں، نہ کہ دوسروں کے ایجنڈے پر چلتی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اگر وہ اس موقع کو سمجھداری سے استعمال کرے تو نہ صرف اپنے داخلی مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور مؤثر کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر بدلتی عالمی صف بندی میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔
Source link
Today News
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس
امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کےخلاف ہے۔
سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ کملا ہیرس کے مطابق امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو براہ راست قومی مفاد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف 3 دن باقی رہ گئے۔
Today News
شعری مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘
جی ہاں ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ اس کتاب کے تخلیق کار انور ظہیر رہبر ہیں وہ اچھے شاعر ہی نہیں بلکہ بہترین نثرنگار بھی ہیں۔ ان کے افسانے اور کالم پابندی سے اخبارات و جرائد میں شائع ہوکر قارئین و ناقدین سے داد وصول کرتے ہیں گزشتہ ہفتے انور ظہیر رہبر کا ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا ’’انسانی اعضا کی تبدیلی اور مصنوعی نعم البدل‘‘ دوسرے کالموں کی طرح مذکورہ کالم بھی بے حد معلوماتی تھا ،ان کی تحریروں کے قاری کو تشنگی ذرہ برابر نہیں ہوتی ہے اس کی خاص وجہ اپنے موضوع سے پورا انصاف کرتے ہیں اور بھرپور معلومات فراہم کرنے میں ان کا کوئی نعم البدل نہیں، یوں لگتا ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔
سفرنامہ نگاری میں بھی آپ کو مہارت حاصل ہے ’’سفر وسیلہ ظفر‘‘ والی بات تو ہے نہیں، بس اپنے شوق اور معلومات حاصل کرنے، دنیا کے نوادرات دیکھنے کا شوق ملکوں ملکوں کے سفر کے لیے آمادہ کرتا ہے اور پھر اس کی روداد کو تحریر کے قالب میں ڈھالتے ہیں اور یہ تحریریں اور تصاویر پرنٹ میڈیا اور فیس بک کی زینت بن جاتی ہیں۔ اخبارات و فیس بک کے دوست احباب استفادہ کرتے ہیں، تحریر سے لطف اٹھاتے اور حیرت انگیز عجائبات کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس کرتے ہیں جیسے وہ بھی جادو کی نگری میں شامل ہو گئے ہوں۔
ایسی ایسی عمارتیں، تاریخی مقامات اور خوب صورت مناظر پل بھر میں سامنے آجاتے ہیں جیسے کسی نے طلسماتی چھڑی گھما دی ہو۔ یہ مبالغہ آرائی ہرگز نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے سفرناموں کے پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہے۔ انھوں نے تقریباً ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔ ناول لکھنا ابھی باقی ہے وہ بھی بہت جلد لکھ لیں گے باصلاحیت اور باکمال قلم کار ہیں مسلسل لکھ رہے ہیں اور بہت خوب لکھ رہے ہیں۔ان کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت 2000 میں ہوئی، عنوان تھا ’’تجھے دیکھتا رہوں‘‘، ’’عکس آواز‘‘ یہ افسانوں کا مجموعہ ہے سن اشاعت 2018۔ ان کی دو اہم کتابیں جوکہ نثرنگاری پر مشتمل ہیں دونوں کتابیں 2023 میں اشاعت کے مرحلے سے گزریں۔ ایک کالموں کا مجموعہ بعنوان ’’پردیسی کے قلم سے‘‘ ان کی زنبیل میں شامل ہے۔
’’رنگ ِ برگ‘‘ اس کتاب میں جرمنی کے افسانہ نگاروں کے بارے میں معلومات بہم پہنچائی ہیں، افسانہ اور افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں سجا دی ہے۔ انور ظہیر رہبر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دوسرا افسانوں کا مجموعہ ’’سپنوں کے ساحل پر‘‘ حیدرآباد، بھارت کے ادبی افق پر جلوہ گر ہوا۔ دہلی بھارت سے ’’جھرمٹ‘‘ کے نام سے افسانہ نگاروں کے افسانوی مجموعے کا اشاریہ 2025 میں اور نظموں کا مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ تازہ کتاب ہے یہ دونوں کتابیں ایک ہی سال میں شائع ہوئیں جو قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں اور مزید یہ کہ مجھے اس پر لکھنے میں کچھ تاخیر ہوئی۔
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
شعری مجموعے کے خالق اپنے مضمون پیش لفظ میں نظمیہ شاعری کو اظہار کا سب سے خوبصورت ذریعہ کہتے ہیں۔ انھوں نے بہت سلیس انداز میں نظم کی تعریف و تشریح کی ہے۔ جو قارئین شاعری اور اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں صرف پڑھنے کی حد تک محظوظ ہوتے ہیں تو ان کی معلومات میں یہ تحریر اضافے کا باعث ہوگی۔ماں جیسے رشتے کو اولاد کبھی نہیں بھول سکتی ہے کہ اس کا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔ یہ رشتہ بڑا انمول اور محبت کی چاشنی سے آراستہ اور گھلا ملا ہے۔
قربانی و ایثار کا نام ’’ماں‘‘ ہے جو اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کی پرورش اور بہتر مستقبل کے لیے گزار دیتی ہے اپنی ہر خوشی دان کر دیتی ہے کہ اولاد اس کا دل و جگر ہے۔ شاعر نے اپنی ماں کی جدائی میں ایک خوبصورت نظم ’’ماں‘‘ کے عنوان سے تخلیق کی ہے۔ فہرست کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے، رشتوں میں بھی ماں کا ہی پہلا نمبر ہے۔
میری پیاری امی!
بظاہر آپ ہماری زندگی سے دور چلی گئیں مگر ہمارے دلوں سے آپ کو کوئی دور نہیں کر سکتا، کبھی بھی نہیں۔ آپ وہاں نہیں ہیں جہاں آپ رہتی تھیں، لیکن آپ ہر اس جگہ ہیں جہاں ہم ہیں۔ انور ظہیر رہبر ہیں تو پاکستانی ہی لیکن عرصہ دراز سے اپنی فیملی کے ساتھ برلن، جرمنی میں مقیم ہیں۔ کتاب میں 106 نظمیں شاعر کے جذبات و احساسات کی عکاس ہیں جو دیکھا محسوس کیا وہی شاعری کا حصہ بنا، وہ انھوں نے من و عن بیان کر دیا ہے اسی وجہ سے ہر شعر دل پر اثر کرتا ہے۔ انور ظہیر رہبر کی شاعری محض لفاظی نہیں بلکہ انھوں نے زمانے کے دکھوں، مسائل اور تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہ خوبصورت اور بامعنی نظمیں تخلیق کی ہیں۔
ان کی شاعری میں جہاں موسم بہار کے رنگ مہکتے ہوئے نظر آتے ہیں وہاں زندگی کی بے ثباتی، آس و نراس کی کہانیاں بھی سانس لیتی ہیں اور سچے جذبے لفظوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ شاعر کے کلام میں پوری اور بھرپور زندگی اپنی کامیابی اور ناکامی کے ساتھ پیر پسار کر بیٹھی نظر آتی ہے کبھی ماتم کرتی، اپنی ناکام تمناؤں کا نوحہ سناتی ہے۔ ان کی ایک نظم ’’لوٹ آؤ‘‘ اگر ہم اس نظم کا مطالعہ کریں تو خوف کی دبیز چادر نے تخلیق کار کے جسم و جاں اور دل ناتواں کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ ’’لوٹ آؤ‘‘ مایوسی کا استعارہ ہے، امید کے ٹوٹتے ہوئے تارے شاعر کو ناکامی اور اداسی کی اتھاہ وادیوں میں دھکیل رہے ہیں اس نظم سے چند اشعار۔
لوٹ آؤ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ۔۔۔۔۔ وقت کی کالی گھٹائیں
ان راستوں کو۔۔۔۔۔ جن پر ہم اکثر ملا کرتے تھے
اندھیروں میں گم کر دیں۔۔۔۔۔ دنیا تو ظالم ہے لوگو۔۔۔۔ درد
کے اس موسم میں۔۔۔۔ جگنو کی مدھم روشنی بھی۔۔۔۔۔
ہمیں ایک دوسرے سے چھین لے جائیں گے
اور ہم اجنبی ہو جائیں گے لوٹ آؤ
اسی قبیل کی ایک اور نظم ’’چوکھٹ‘‘ اس نظم میں بھی بے اعتباری اور ناکامی کی مرجھائی ہوئی کلیاں اپنی بے ثباتی کا نوحہ بیان کر رہی ہیں۔ شاعر نے ٹوٹے دل کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار بے حد اچھوتے انداز میں کیا ہے۔
نظم ’’فاصلے‘‘ میں شاعر نے اپنی روٹھی ہوئی محبت کو منانے کے لیے الفاظ کے پیچ و خم سے محبت کا پیغام اس طرح دیا ہے۔
سنو اے جاناں! دل کی محبت میں فاصلے زیادہ ہیں
پاس اتنے رہ کر بھی دور بہت رہتی ہو
قربتوں کے معنی کو بھول بھول جاتی ہو
اتنا کیوں ستاتی ہو، مجھ کو کیوں رلاتی ہو
سنو اے جاناں!192 صفحات پر بکھری ہوئی شاعری مختلف موضوعات اور حقائق کی روشنی سے مزین ہے۔ انور ظہیر رہبر کی تخلیق کردہ ہر نظم باطنی وخارجی حالات کی روداد دل نشیں انداز میں بیان کرتی ہے۔ نظم ’’موبائل فون‘‘ آج جو گھر گھر کے حالات ہیں اس کی منظر کشی اس طرح کی ہے کہ ساتھ رہتے ہوئے بھی گھر کے مکیں اپنے اپنے موبائل میں گم ہو کر دور بہت دور ہو جاتے ہیں۔
نظم ’’گلاب‘‘ نے بھی ایک مرثیہ کی صورت اختیار کر لی ہے، اس جیسی بے شمار نظمیں قاری کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں اور وہ شاعر کے دکھوں کو محسوس کرکے اداس ہو جاتا ہے اور یہی ایک کامیاب تخلیق کار کا کمال ہے۔ مبارکاں!
Source link
Today News
کراچی کا نوحہ
وطن عزیز پاکستان 1947میں معرض وجود میں آیا، لیکن اتنا وقت گزر جانے کے باوجود ہمارا یہ پیارا وطن مستحکم نہ ہوسکا،جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ اس کو اولین قیادت جیسی بے لوث ایماندار قیادت آج تک نصیب نہ ہوسکی ۔
خدا کی حکمت کہ ان عظیم الشان اکابرین کو بے مروت موت نے زیادہ مہلت نہ دی اور پھرلوٹ کھسوٹ کرنیوالے ٹولے، اس پر قابض ہوتے رہے اور یوں بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے یہ بتدریج تنزلی کی شاہراہ پر رواں دواں ہے۔قدرت نے اس سے انگنت وسائل سے مالامال کیا ہے پر وہ سارے وسائل قبل اس کے عوام الناس کی فلاح کے لیے استعمال ہوں ،وہ اس سے اپنی ہوس کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے رہے اور کر رہے ہیںجب کہ عوام ان کی تنخواہوں و دیگر مراعات کے لیے چندہ جمع کرکے خصوصا ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں تاکہ ان کی نہ ختم ہونے والی ضروریات زندگی کو پورا کیا جاسکے۔
وطن عزیز کے دیگر شہروں کی ترقی خوبصورتی دیکھ کر جہاں دل خوش ہوتا ہے، وہاں روشنیوں کے شہرکراچی کی تباہی وبربادی، لاچاری محتاجی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ بدنصیب شہر کراچی وہ ’’مظلوم ماں‘‘ ہے جو دیگر تمام شہروں ودیہاتوں سے آنیوالے افراد کو نہ صرف گلے لگاتی ہے بلکہ وہ جب تلاش معاش کے لیے یہاں آتے ہیں تو ایک ماں کی بے لوث مامتا ان کے لیے امڈ امڈ کر آرہی ہوتی ہے اور وہ انھیں اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔
یہ دیگر تمام شہروں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے آمدنی پیدا کرتی جس سے ملکی نظام کی چکی چلتی ہے مگر افسوس صد افسوس جب اس کے حقوق کی بات آتی ہے تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ دور حاضر میں کراچی انگنت مسائل سے دوچار ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ،اس کی بیشتر سڑکیں تباہ کردی گئیں، ترقیاتی کاموں کو نظر انداز کر کے جس سے عوام کا بھلا تو دور برا ہی برا ہوتا چلا جا رہا ہے، منٹوں کا راستہ گھنٹوں میں بدل گیا ہے اور اب بھی اس نہ ختم ہونے والے منصوبوں کے اختتام کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ رہتی دنیا میں ہی مکمل ہونگے یا قیامت کے صور کے ساتھ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
پانی ،بجلی،گیس کا شدید بحران اوپر سے ستم یہ کہ بل عدم دستیابی کے باوجود اپنی مقررہ تاریخوں پر ہوش رباء اضافے کیساتھ عوام کے منہ پر دے مارے جاتے ہیں۔سڑکوںکی مرمت کے دوران پانی کی لائنوں پر ضرب لگنے سے کئی کئی دن تک پانی کا رسائو سڑکوں پر اور گھروں میں عدم دستیابی۔گیس کی بندش وہ بھی اس عظیم ملک میں جہاں گیس دستیاب ہوئی ۔حیرت انگیز بات نہیں، عوام قیمت سے گیس اونچے اونچے نرخ پر خریدتے ہیں اور بل بھی ادا کرتے ہیں یہ کیسا انصاف ہے؟ بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام الناس نے مہنگے مہنگے سولر پینل لگوالیے ہیںاپنی سہولت کے پیش نظر۔
اگر برسراقتدار حکومت عوام کو وہ بنیادی سہولتیں مہیا نہ کرسکے جس کی وہ ذمے دار ہے تو کیا وہ اقتدار میں رہنے کی اہل ہے؟لیکن اس بات کا احساس ان اشرافیہ کو کہاںہوسکتا ہے ان کی فکر میں تو یہ بات ہی نہیں کہ ایک دن اس فانی زندگی نے ختم ہوجانا ہے۔ عوام بے حس ہوچکے ، بلکہ مردہ ہوچکے ہیں، ہر ظلم و ستم کو خاموشی سے برداشت کرکے اس جبر کی چکی میں پس پس کر کہ اب وہ اپنے حق کی آواز اٹھانا تک بھول گئے توکیا رب نہیں دیکھ رہا، فرشتے نامہ اعمال لکھ نہیں رہے، سب کچھ ہورہا ہے جیسا اللہ رب العزت کی منشاء ہے صرف رسی دراز چھوڑی ہوئی ہے جس دن اس سے وہ تنگ کرے گا سب کو سب کی گئی حق تلفیاں یاد آجائیں گی۔
آئے دن نت نئے ٹیکسز ان پرلاگو کیے جاتے ہیں جب کہ آمدنی چار آنے اور خرچہ روپیہ والا حساب ہے۔یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی انسانی پہنچ سے بہت دور ہوگئی ہیں۔دور حاضر میںدی جانیوالی تعلیم و تربیت تو بہت دورکی بات اس لائق نہیں کہ گزرے معاشرے جیسے اسلاف تیار ہوسکیںجس میں والدین اور اساتذہ برابر کے قصور وار ہیںچونکہ دونوں ہی نے اپنے فرائض کو ایمانداری کے ساتھ نبھانا چھوڑ دیا جو کہ ماضی کے بے لوث والدین اور اساتذہ کا طرہ امتیاز تھیں،ہر کوئی نفسا نفسی کی دوڑمیں لگا ہوا ہے جس کے زیر اثر وہ اپنی عطا پر خوش نہیں بلکہ دوسرے کی عطا پر شاکی نظر آتا ہے اور یوں وہ اپنی خوشیاں بیچ کر اپنے لیے دکھ درد جمع کررہا ہے ۔
عوام بے حسی کی مورت بن گئے ہیں تو اللہ ماشاء اللہ ان پر حکمران بھی ویسے ہی مسلط کردیے گئے ہیں جو اتنے احساس سے عاری ہیں کہ گزر گاہوں کی ایک ساتھ بندش کردیتے ہیں جو کہ کسی ناگہانی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں اور یوں یہ کراچی شہر کی ’’گڈ گورننس‘‘کی بھرپور عکاسی کرتی جا بجا نظر آتی ہیں جب کہ ان ترقیاتی کاموں کی نسبت مہنگائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک سفید پوش بھی اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرسکے نہ کہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کے یا خودکشی کر کے اس جہاں فانی سے کوچ کر جائے، پر ان باتوں پر نظرتو صرف وہ حکمران پالیسی ساز ڈال سکتے ہیں جنھیں خوف خدا ہو اور وہ عوامی مشکلات تکلیفوںکو آسانی میں بدلنے کا جذبہ رکھتے ہوں،اپنی عاقبت کے لیے پر افسوس صد افسوس موجودہ حالات کو دیکھ کریہ بات واضح طور پر عیاں ہے کہ ان کو وطن عزیز کے شہریوں سے ان کے دکھ درد مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔
حالیہ پیڑولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافہ جس کا اثر صرف ذرائع آمدورفت کی سہولتوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات زندگی بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں ۔شہر کراچی کی کئی معروف شاہراہیںٹریفک جام کا ایسا کرب ناک منظرنامہ پیش کرتی نظر آتی ہیں جب کہ انڈر پاس ،بائی پاس و دیگر جدیدیت کے نام پر نت نئے ڈیزائین سڑکوں پر بنائے گئے جن کی قلعی بارش کے چند قطروں سے کھل جاتی ہے پھر دوبارہ ان کی مرمت کے نام پر لاکھوں کروڑوں کی خرد برد کر کے اپنی خندق بھرے جاتے ہیں پھر بھی لالچ اور ہوس کی نہ ختم ہونے والی بھوک مٹتی ہی نہیں چونکہ حرام ان کے منہ کوجو لگ گیا ہے اور اس ٹریفک جام میں پھنسے مظلوم عوام کا وقت تکان اور سب سے بڑھ کر اس ایندھن کا کیا جس کی قیمت مڈل کلاس کو اپنی جیب سے دینی پڑتی ہے۔
ظاہر ہے والدین بڑی مشکلات اٹھا کر اپنی اولادکو پروان چڑھاتے ہیں، وہ کہاں اس بات کو تصور میں لاسکتے ہیں کہ ہم اپنے آرام اور خوشی کے لیے اپنے بچوں کے خوبصورت مستقبل میں رکاوٹ بنیںاوروہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر انھیںاپنے سے دور کردیتے ہیں۔ سعادت مند اولاد بھی چکی کے دوپاٹوں میں پس کر نہ یہاں کے ہو پاتے ہیں نہ وہاں کے۔ لیکن مشرقی ممالک خصوصا پاکستان میں رہنے والے والدین کی اکثریت آخری عمر میں اپنی مٹی سے والہانہ محبت و عقیدت کے باعث اس کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور یوں محبت کرنے والی اولاد اور والدین مختلف نفسیاتی دبائو کا شکار ہوجاتے ہیں۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper