Today News
کائنات، اکلوتی زمین اور بے قابو انسان
’’ہم نے اپنے خاندان کو بہت یاد کیا… خلا میں سب کچھ ہے، مگر گھر جیسی کوئی جگہ نہیں… اور زمین جیسی کوئی دنیا نہیں۔‘‘یہ الفاظ Artemis II کے ایک خلا باز کے تھے جو گزشتہ ہفتے چاند کے گرد تاریخی خلائی سفر کے بعد زمین پر واپس آئے اور میڈیا سے گفتگو کی۔ یہ ایک کامیاب خلائی مشن تو تھا ہی لیکن ایک گہرا انسانی احساس اور اعتراف بھی تھا۔
دوسرے ساتھی خلاباز نے خلا کے منظر کو یوں بیان کیا: ’’چاروں طرف ایک وسیع، سیاہ خلا ہے، خاموش، لامتناہی… اور اس کے بیچ ایک چھوٹا سا نیلا سیارہ، جیسے سمندر میں تیرتی ایک لائف بوٹ… پرسکون، مگر نہایت نازک۔‘‘ ایسے لمحے کو ماہرین ’’اوور ویو ایفیکٹ‘‘ کہتے ہیں یعنی وہ کیفیت جب انسان پہلی بار زمین کو ایک مکمل اکائی کے طور پر دیکھتا ہے۔ نہ سرحدیں، نہ جنگیں، نہ سیاست… صرف ایک سیارہ، ایک گھر، ایک مشترکہ تقدیر…
اس حالیہ سفر میں انسان نے تقریباً 695,000 میل کا فاصلہ طے کیا، لگ بھگ 10 دن خلا میں گزارے، مشن پر قریب 4 ارب ڈالر خرچ ہوئے مگر واپسی پر سب سے بڑی دریافت نہ چاند تھا، نہ ٹیکنالوجی بلکہ زمین کی قدر کا احساس تھا!
یہی احساس برسوں پہلے Carl Sagan نے بھی دلایا تھا۔ کارل ساگان بیسویں صدی کے ایک نامور امریکی ماہر فلکیات، کاسمولوجسٹ اور سائنس کو عام فہم انداز میں پیش کرنے والے (Science Communicator) کے طور پر مشہور ہیں۔
کارل ساگان ماورائے زمین ذہین مخلوق (Extra-terrestrial intelligence) کی تلاش کے لیے کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ ان کا مشہور نقطہ نظر، جو بعد میں ’’Pale Blue Dot‘‘ کے تصور میں ڈھلا، یہ تھا کہ کائنات کی بے پایاں وسعت میں زمین ایک ننھا سا نقطہ ہے مگر یہی نقطہ زندگی کا واحد معلوم مرکز ہے۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ’’ہمیں اس سیارے کی قدر کرنی چاہیے، کیونکہ ہمیں اب تک کہیں اور کوئی ایسا گھر نہیں ملا۔‘‘ یہ محض شاعرانہ بات نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔ آج تک جتنی بھی کھوج ہوئی ہے، کہیں بھی ایسی زندگی نہیں ملی جو زمین جیسی ہو۔ پانی، فضا، درجہ حرارت، حیاتیاتی تنوع… یہ سب عناصر ایک نازک توازن میں یہاں موجود ہیں اور یہی توازن زندگی کو ممکن بناتا ہے۔
اسی حقیقت کو مزید تقویت اس وقت ملی جب James Webb Space Telescope نے کائنات کی دور ترین تصاویر بھیجیں۔ اربوں نوری سال دور کہکشاؤں، ستاروں اور کہکشانی دھول کے یہ مناظر نہ صرف سائنسی لحاظ سے حیران کن تھے بلکہ فلسفیانہ طور پر بھی جھنجھوڑ دینے والے تھے۔ ان تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سائنسدان نے کہا:
’’How insignificant we are‘‘
یعنی ہم اس کائنات میں کس قدر حقیر ہیں! یہ جملہ محض عاجزی کا اظہار نہیں بلکہ ایک آفاقی حقیقت کا اعتراف تھا۔ کائنات کی وسعت کے سامنے انسان واقعی ایک معمولی وجود ہے مگر اس معمولی وجود کے پاس ایک غیرمعمولی چیز ہے: زمین۔
یہ دلچسپ حقیقت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ایک طرف ہم کائنات میں انتہائی غیراہم ہیں لیکن دوسری طرف ہمارے پاس ایک ایسا سیارہ ہے جو بے حد قیمتی ہے اور منفرد بھی۔ مگر ہم اس قیمتی سیارے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ اگر ہم خلا بازوں کی آنکھوں سے زمین کو دیکھیں تو وہ ایک خوبصورت، نیلا اور سفید کرہ ہے… زندگی سے بھرپور، پرسکون۔ مگر زمین کے اندر رہ کر ہم نے اس کا ایک مختلف چہرہ بنا دیا ہے: آلودگی، جنگ، استحصال اور بے ہنگم ترقی کا چہرہ۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے زمین کے وسائل کو بے دریغ استعمال کیا ہے۔ جنگلات کاٹے گئے، دریا زہر آلود ہوئے، فضا دھوئیں سے بھر گئی۔ ماحولیاتی تبدیلی اب ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے… گلوبل وارمنگ، گلیشیئرز کا پگھلنا، اور موسمی شدتیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔
اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے جو شاید زیادہ تباہ کن ہے: جنگ، پچھلی صدی کی دو عالمی جنگوں نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مگر ہم نے اس سے سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں جاری ہیں اور ہر جنگ نہ صرف انسانی جانوں کو نگلتی ہے بلکہ زمین کے جسم پر بھی زخم چھوڑ جاتی ہے۔ روس یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ہاتھوں غزہ اور لبنان کی تباہی اور حالیہ امریکا ایران جنگ۔ ان سب میں ہزاروں ٹن گولہ بارود استعمال ہوا۔ ہر بم، ہر دھماکہ، زمین کی مٹی، پانی اور فضا کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔
یہ سب کچھ اس سیارے پر ہو رہا ہے جسے خلا سے دیکھنے پر ایک ’’پرامن کشتی‘‘ یعنی لائف بوٹ کہا گیا۔ جنگوں کے علاوہ ہمارا روزمرہ طرزِ زندگی بھی کم نقصان دہ نہیں۔ ہم نے ایک ایسی طرز معیشت اور طرز زندگی تشکیل دی ہے جو صرف کھپت یعنی consumption پر مبنی ہے۔ زیادہ استعمال، زیادہ پیداوار، زیادہ فضلہ… یہی ترقی کا پیمانہ بن چکا ہے۔ پلاسٹک کے ڈھیر، آلودہ سمندر، ختم ہوتے جنگلات… یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اپنے اس گھر کو آہستہ آہستہ برباد کر رہے ہیں۔
کارل ساگان نے کہا تھا کہ زمین ہماری ذمے داری ہے۔ مگر ہم نے اس ذمے داری کو نظرانداز کیا ہے۔ James Webb Space Telescope کی تصاویر گواہ ہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے اور ہم اس میں کتنے تنہا ہیں۔ اربوں کہکشائیں ہیں، مگر زندگی کا کوئی دوسرا ثبوت نہیں۔ اس تنہائی میں زمین ایک معجزہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جتنے بھی طاقتور ہو جائیں، ہم زمین کے بغیر کچھ نہیں۔ ہم خلا میں زندہ نہیں رہ سکتے، ہم کسی اور سیارے پر فوری طور پر آباد نہیں ہو سکتے۔ ہماری بقا اسی سیارے سے جڑی ہوئی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سیارے کی حفاظت کی ذمے داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں؟ دنیا کو چھوڑیں، ہم اگر اپنی طرف دیکھیں تو بھی تصویر واضح ہو جاتی ہے۔ 1971 میں جب پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا تو مغربی پاکستان کی آبادی تقریباً 6 کروڑ تھی جب کہ آج یہ تعداد 24 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور کمزور منصوبہ بندی نے وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ اکثر بغیر صفائی کے دریاؤں اور نالوں میں ڈالنا اور پانی کا بے دریغ استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ماحول کی تباہی کسی نہ کسی انداز میں جاری ہے، اس پر جاری جنگیں سیر پر سوا سیر ہیں۔
یہ سب اسی زمین کے ساتھ ہو رہا ہے جو ہمارا واحد مسکن ہے۔ انسان اس نعمت یعنی زمین کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا بھی ہے اور سب سے بڑا نقصان پہنچانے والا بھی۔
فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ اس سیارے کی قدر کرے، اسے محفوظ رکھے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا چھوڑ جائے یا پھر اپنی بے حسی، اپنی جنگوں اور اپنی اندھی ترقی کے ذریعے اس واحد گھر کو تباہ کر دے۔
Source link
Today News
پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت اچھا فیصلہ ہے، اس سے پلیئرز پول بڑھے گا؛ سکندر رضا
سکندر رضا نے کہا ہے کہ پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت اچھا فیصلہ ہے، اس سے پلیئرز پول بڑھے گا۔
’’ایکسپریس نیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ 8 ٹیموں کے آنے سے بھی نئے اسٹارز تلاش کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، راتوں رات کچھ نہیں ہو گا، لیگ آج اس مقام پر ہے تو اس میں پانچوں ابتدائی اونرز کا اہم کردار ہے،وہ آغاز میں آئے اور 10 سال برقرار بھی رہے، انہی کی وجہ سے پہلے ملتان سلطانز اور اب حیدرآباد کنگزمین و راولپنڈیز کا اضافہ ہوا ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر آف دی فیلڈ معاملات سے آپ کا کھیل متاثر ہو رہا ہے تو میدان میں جانا ہی نہیں چاہیے، اگر میچ میں حصہ لے رہے ہیں تو باہر کی باتیں بھول جائیں، ہم چند میچز خراب کھیلنے کی وجہ سے ہارے، سینئر بیٹرز پرفارم نہیں کر پائے ، ان میں میرا بھی بڑا کردار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے وکٹ پر زیادہ وقت گزارنا چاہیے تھا، بولرز نے بہتر کھیل پیش کیا ہے، میں کراچی میں شاید پچ کو نہیں سمجھ سکا، میں نے سبق سیکھا ہے اب اگلے میچز میں بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کروں گا۔
سکندر رضا نے کہا کہ نہ صرف لاہور قلندرز بلکہ دیگر ٹیموں کے پاکستانی پلیئرز بھی ساتھ اچھا وقت گذارتے ہیں، نئے پلیئرز بھی بہت عزت کرتے ہیں، ایسا ماحول بنتا ہے جس میں ہم بھول جاتے ہیں کہ میں باہر سے آیا ہوں ،اسامہ میر بھی گزشتہ دنوں کہہ رہا تھا کہ ہمارے غیرملکی کرکٹرز نہیں آئے، صرف دو ہی آئے ہیں۔
Source link
Today News
بائیں بازو کی بے حال قیادت اور کارکن…گل محمد منگی
ایک دور تھا کہ ملک میں بائیں بازو کی صرف تین چار پارٹیاں ہوتی تھیں جن میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، مزدور کسان پارٹی، سوشلسٹ پارٹی اور لیبر پارٹی ہوا کرتی تھیں۔ تب بھی بائیں بازو کے کارکنوں کو حیرت ہوتی تھی اور وہ برملا اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ جب نظریہ ایک ہے تو پھر تین،چار لیفٹ کی جماعتوں کی کیوں کر ضرورت پیش آ رہی ہے؟ تب بھی لیفٹ کے لیڈر اپنے اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف تاویلیں پیش کرتے تھے جس طرح آج کر رہے ہیں۔
ان لیڈروں کی انا اور ضدپرستی نے آج لیفٹ کو اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سے ان کی واپسی اور یکجا ہونے کی خواہش محض مذاق کے علاوہ کچھ نہیں۔ تمام لیڈر اپنی لیڈری پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا رعب، دبدبہ اور کرسی چھوڑنے پر تیار نہیں۔ ان کو تو بس اس بات سے غرض ہے کہ جب اسٹیج پر آئیں تو ان کے لیے ’’زندہ آباد‘‘ کے نعرے لگائے جائیں۔ میں نے بڑی محنت سے لیفٹ کی کچھ سیاسی جماعتوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں جو کہ اس وقت میدان عمل سے گو کہ کوسوں دور سہی مگر کبھی کبھار سوشل میڈیا، اخبارات اور ان کے کارکنوں کی زبانی ان کی سرگرمیاں سننے یا دیکھنے کو ملتی ہیں۔
ان کے زیادہ بیان رسمی ہوتے ہیں اور عام آدمی کے مسائل پر نہیں ہوتے ہیں۔ لیفٹ کی ایسی معروف اور غیرمعروف یا برائے نام پارٹیوں، گروہوں، تنظیموں اور ٹولیوں میں سے کچھ کے نام نامی یہ ہیں۔ جس میں کچھ قوم پرستانہ رجحان کی بھی حامل ہیں۔
(1) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (انجینئر جمیل احمد ملک) (2) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (امداد قاضی) (3) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (مائوئسٹ) (4) انقلابی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (5) عوامی ورکرز پارٹی (بخشل تھلو) (6) ریڈ ورکرز فرنٹ (7) پاکستان انقلابی پارٹی (مشتاق چوہدری) (8) پاکستان انقلابی پارٹی (صابر علی حیدر) (9) پاکستان لیبر کونسل (10) پورھیت مزاحمت تحریک (11) مزدور کسان پارٹی (ڈاکٹر تیمور) (12) سوشلسٹ پارٹی (13) سوشلسٹ ریزسٹنٹ مومینٹ(14) عوامی تحریک (15) قومی عوامی تحریک (16) لیبر قومی موومنٹ (17) نیشنل پارٹی بلوچستان، ڈاکٹر مالک (18) پاکستان مزدور اتحاد (19) عوامی راج تحریک (20) انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈنسی (21) پاکستان سرائیکی پارٹی (22) قومی محاذ آزادی (23) حقوق خلق پارٹی (24) برابری پارٹی (25) عوامی نیشنل پارٹی (26) ورکرز سولیڈرٹی فیڈریشن (27) پاکستان مزدور محاذ (28) سوشلسٹ ستھ(29) سندھ یونائیٹڈ پارٹی (30) پختونخوا ملی عوامی پارٹی (31) ھلال پاکستان ترقی پسند فورم (32) عوامی حقوق (33) کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی (34) تحریک مظلومین پاکستان (35) انقلابی سوشلسٹ موومنٹ (36) پاکستان ایکوئلٹی پارٹی (37) وطن دوست انقلابی پارٹی (38) سندھ ساگر پارٹی (39) طبقاتی جدوجہد (40) نیشنل ڈیموکریٹک موومینٹ (41) نیشنل پارٹی، ڈاکٹر حئی گروپ (42) عوامی جمہوری پارٹی (43) جیئے سندھ محاذ (خالق جونیجو) (44) جیئے سندھ محاذ (آریسر) (45) سندھ ترقی پسند پارٹی (46) پاکستان سوشلسٹ فورم (47) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (48) تحریک مظلومین پاکستان (49) سماج بدلو تحریک (50) دادا امیر حیدر جدوجہد کمیٹی (51) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (52) سندھ نیشنل فرنٹ (53) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (اسلم بنگلزئی) (54) مزدور کسان پارٹی (افضل خاموش) (55) بی این پی (عوامی) (56) بلوچستان نیشنل پارٹی (اختر مینگل) (57) یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی (58) پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) (59) عوامی جمہوری اتحاد پارٹی (سربراہ رانا مقصود، لاہور) (60) جمہوری اتحاد پارٹی (61) مزدور کسان پارٹی (بنگش گروپ) (62) ترقی پسند لکھاری محاذ (پنجاب) (63) پنجاب لوک امن (64) رکھ بچائو لوک لہر (65) طبقاتی کمیونسٹ پارٹی (66) غریب اتحاد انجمن شمسیہ (67) وارث شاہ وچار پرچار پرہیا(68) ادبی واشنا، مریدکے (69) پاکستان پیس فائونڈیشن پنجاب (70) عوامی اتحاد پارٹی (غفار رندھاوا) (71) جاگو پاکستان تحریک (قیوم نظامی) (72) عوامی ورکرز پارٹی (اختر حسین) (73) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اور دیگر۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیفٹ کی اتنی ساری پارٹیاں بنانے کا آخر کوئی تو ذمے دار ہوگا؟ اس کے پیچھے کچھ تو مقاصد ہوں گے؟ کیا کبھی آپ نے اس پر غور کیا ہے؟ میں نے جو تعداد اوپر بیان کی ہے، یہ ابھی میرے خیال میں ادھوری ہے۔ بہت ساری ایسی اور بھی لیفٹ کی پارٹیاں ہیں جو اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ گئی ہوں گی اور ان سے معذرت کرتا ہوں، اگر ان تمام کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ایک سو یا اس بھی تجاوز کر جائے گی۔
اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ’’بائیں بازو والے کم از کم فرقوں کے حوالے سے دوسروں کو مات دے چکے ہیں‘‘ بہرحال اصل معاملہ یہ ہے کہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں جو کہ پسے ہوئے طبقات کو ان کے حقوق دلانے کا دعویٰ کرتی ہیں ان کے ہاں اتنے سارے فرقے کس طرح پیدا ہوگئے؟ جب کہ بعض کے منشور تک ایک جیسے ہیں۔ ان کا دعویٰ اپنی جگہ مگر بہت ساری جماعتوں یا تنظیموں کا تو نظریہ بھی ایک ہی ہے! مگر اس کے باوجود ان کے اختلافات جو کہ فروعی یا مفادپرستانہ ہیں۔
ان کو بھی پیسہ بٹورنے کی لت لگ چکی ہے اور یہ بات کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ ان کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی تھوڑی بہت یا زیادہ فنڈنگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک ’’لیڈری‘‘کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور جو کوئی ان کی قیادت کو چیلنج کرتا ہے اسے باہر نکال کر دم لیتے ہیں۔ اب تو کچھ نے چین، ویتنام، نیپال اور کچھ اور ممالک میں اپنے کاروبار بھی سیٹ کرلیے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ سے حکومتوں کے اندر بھی پنجے گاڑ چکے ہیں۔ جس طرح بتایا جاتا ہے کہ جب شملہ معاہدے پر پیش رفت نہیں ہو رہی تھی تو بائیں بازو کے ایک لیڈر نے ذوالفقار علی بھٹو کی مدد کی اور اندرا گاندھی کو منوالیا۔
یہ بات خود لیفٹ کے ایک سے زیادہ لیڈر فخریہ بیان کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس صلاحیت سے عاری ہیں کہ وہ سب کو کم از کم ایک میز پر ہی بٹھالیں۔ اس حوالے سے عابد منٹو نے ایک اچھی کوشش کی اور لیفٹ کے مختلف دھڑوں کو جوڑ کر ’’عوامی ورکرز پارٹی‘‘ بنائی جو اب ’’دولخت‘‘ہوچکی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لیفٹ کا جو لیڈر کرسی پر بیٹھتا ہے اسے چپک ہی جاتا ہے۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے باوجود جتنے بھی ممالک آزاد ہوئے وہاں پر بھی یہی حالت ہے۔ ان کو جمہوریت اور آمریت میں تفریق کرنا آتی ہی نہیں یا پھر اس صلاحیت سے محروم ہیں یا نظریاتی ممانعت ہے؟ کیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا؟
Source link
Today News
مصلحت کے بازار میں …فاطمہ پیرزادہ
کہا جاتا ہے کہ 12 سے 25 سال تک کی عمر محض خواب دیکھنے کی نہیں، بلکہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی سب سے خوبصورت دہلیز ہوتی ہے۔ یہ وہ عہدِ شباب ہے جہاں انسان کی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک اور حوصلوں میں شاہین جیسی اڑان ہونی چاہیے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ یہی وہ سنہرا دور ہے جب ہم اپنی سوچ کے افق پر نئے رنگ بکھیریں اور اپنی تقدیر کے فیصلے خود اپنے قلم سے لکھیں۔آج میں زندگی کی اسی خوبصورت دہلیز پر کھڑی، خود سے اور اس بے حس نظام سے ایک معصومانہ مگر تلخ سوال کرتی ہوں کہ میں اپنے خوابوں کو آخر کس رنگ سے سجاؤں؟ کیا ان خوابوں کو وہ ’’عدل‘‘ مل پائے گا جس کے بغیر ہر حقیقت محض ایک سراب ہے۔
میں اپنے خوابوں کا نشان کہاں ڈھونڈوں؟ ان بوسیدہ دیواروں پر جہاں عدل کی شمع مدہم پڑ چکی ہے، یا اس ریاست کے افق پر جہاں سچ کی صدا بلند کرنے پر مصلحتوں کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ خواب ہی حقیقت کا روپ دھارتے ہیں، مگر یہاں تو تلخ حقیقتوں کے ہاتھوں خوابوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ تاریخ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جب وجود سے روح نکل جائے تو وہ محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتا ہے جسے مٹی کے سپرد کر دینا ہی قدرت کا آخری قرینہ ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ان ایوانوں سے انصاف کی روح رخصت ہو رہی ہو، تو ان بلند و بالا عمارتوں کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی، پھر ان اونچے عہدوں اور کرسیوں کا ٹھکانہ مٹی کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں رہتا۔
ان سنگِ مرمر کے ایوانوں کی چمک اس وقت ماند پڑ جاتی ہے جب وہاں سچائی کا خون ارزاں ہو جائے، کیونکہ مٹی اپنے محسنوں کو تو یاد رکھتی ہے، مگر مصلحت پسندوں کو تاریخ کے فراموش کردہ ابواب میں دھکیل دیتی،کیونکہ مٹی کبھی جھوٹ نہیں بولتی اور تاریخ کبھی کسی کا قرض نہیں رکھتی۔ میرا قلم ابھی اس مٹی کے نوحے ہی رقم کر رہا تھا کہ سماعتوں میں ایک ایسا شور گونجنے لگا ہے جس نے عالمی ضمیر پر تنی مصلحتوں کی ردائے سیمیں تار تار کر دی ہے۔
میرا ضمیر اب قلم کو مصلحت کی پناہ گاہوں میں رکنے نہیں دیتا، بلکہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں ان جغرافیائی سرحدوں کی قید سے نکل کر ان ایوانوں کا رخ کروں، جہاں عدل کے قصیدے تو پڑھے جاتے ہیں اور انصاف کے علم بھی بلند کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت کی مقتل گاہ میں انسانیت سسک رہی ہے۔ یہ کیسا عالمی تضاد ہے کہ ایک طرف تو حقوقِ انسانی کے معتبر چارٹر تالیف کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف معصوموں کی سسکیوں پر’’ مصلحت وقت‘‘ کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ جہاں ضمیر کی پکار کو مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے، وہاں انصاف محض ایک بے جان استعارہ رہ جاتا ہے، جس کی روح ظلم کی چکی میں پستی رہتی ہے۔ میں ان بلند و بالا منصبوں سے پوچھتی ہوں کہ جب انسانیت کی قبا تار تار ہو رہی ہو، تو تمہارے یہ ’’من کے تمغے‘‘اور ’’وقار کے دعوے‘‘ کس المیے کی نقاب پوشی کر رہے ہیں؟حقیقت تو یہ ہے کہ انسانیت کی قیمت ان مصنوعی تمغوں کی چمک سے ہرگز طے نہیں ہو سکتی۔
یاد رہے کہ جب تاریخ اپنا حساب مانگے گی، تو یہ چمکتے ہوئے اعزازات ان دامنوں پر لگے لہو کے گہرے دھبوں کو کبھی نہیں چھپا پائیں گے۔میں ان عالمی منصفوں کے سامنے ان کا اپنا ہی منشور رکھتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ فلسطین کے وہ معصوم بچے تمہاری ’’انسانی برابری‘‘ کی کسی بھی تعریف سے خارج نہیں کیے جا سکتے؛ ان کا خاک میں اٹا ہوا بچپن تمہارے ان سنہرے الفاظ کی افادیت پر ایک مستقل سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہ خاموش فریاد ہے جسے تمہارے تمام تر عالمی منشور بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔ سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کی وادیوں سے اٹھنے والی سسکیاں اتنی نحیف نہیں ہیں کہ تمہارے عدل کے ترازو میں سما نہ سکیں، بلکہ تمہارا نظام ہی ان کی آواز کی بازگشت سننے سے قاصر ہے۔
جب تمہارا قانون ہر فرد کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، تو دنیا بھر میں بہتا ہوا بے گناہوں کا لہو دراصل تمہارے اس عالمی تحفظ کا تمسخر اڑا رہا ہے۔ میرا یہ اضطراب کسی بغاوت کا اعلان نہیں، بلکہ اس ’’انصاف‘‘ کی پکار ہے جس کا وعدہ تم نے خود انسانیت سے کیا تھا۔ میں اس عدل کی متلاشی ہوں جس کی فراہمی ہر ریاست کا فرض ہے، مگر افسوس! اگر یہ سنہرے اصول صرف طاقتور کی مصلحتوں کے اسیر ہیں، تو ایک عام انسان ان ضابطوں میں اپنا عکس کہاں تلاش کرے؟ یاد رکھیے! جو عدل سرحدوں اور رنگوں کی تمیز کرنے لگے، وہ ضمیر کی عدالت میں ہمیشہ تشنہ ہی رہتا ہے۔اگر آج تمہارے ایوانوں کی خاموشی نہیں ٹوٹتی، تو تاریخ تمہیں ’’منصف‘‘ نہیں بلکہ ’’سہولت کار‘‘ لکھے گی۔
اور آنیوالے کل میں جب انسانیت ان تہذیبی کھنڈرات سے اپنا گم گشتہ وجود تلاش کرے گی، تو تمہارے پاس کاغذ کے بے جان ٹکڑوں کے سوا کوئی جواب نہ ہوگا۔ میں آج تمہارے ضمیر کی دہلیز پر یہ سوال چھوڑتی ہوں، کیا انصاف صرف طاقتور کا ہتھیار ہے، یا حق اور سچ والوں کی آخری پناہ گاہ بھی؟ یاد رکھیے! اگر آج ہم نے اپنا یہ جمود نہیں توڑا، تو سمجھ لیجیے ہم سب نے انصاف کیساتھ ساتھ انسانیت اور اپنے وجود کے زوال پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔
میرے شعور نے ان بدلتے ہوئے حالات میں جو محسوس کیا، ان تمام حقائق اور اس تڑپ کو ایک مختصر آرٹیکل کی ’’تنگ دامنی‘‘ میں قید کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں نے اپنا قلم اس مٹی کے قرض اور ضمیر کی پکار کے سپرد کر دیا ہے اور یہ سفر اب رکنے والا نہیں ہے۔میں نے اپنا فرض ادا کرنے کی شروعات کر دی ہے، اب انتظار ہے ان منصفوں اور تاریخ دانوں کا جن کے قلم میں سچائی کی تپش سہنے کی جرات باقی ہے۔’’ نو ائے خاکِ وفائے سَرِ مقتل کی صورت میں حق کا یہ چہرہ اب وقت کی امانت ہے، جو بہت جلد اپنی تمام تر داستان کیساتھ آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport