Connect with us

Today News

واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر اہم اجلاس، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل سے ٹیلیفونک گفتگو؛ امریکی میڈیا

Published

on



واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔

اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شریک ہوئیں۔

 اس کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی اجلاس میں موجود تھے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کم از کم ایک مرتبہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے فون پر رابطہ کیا جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، آئندہ ممکنہ مذاکرات کی قیادت بھی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہونے میں صرف تین روز باقی رہ گئے ۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اس ہفتے کسی ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کر چکے ہیں، تاہم تاحال مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو آئندہ چند روز میں دوبارہ کشیدگی اور ممکنہ طور پر جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سچویشن روم میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دنیا کا متوقع جغرافیہ

Published

on



 دنیا بھر کے جوتش 2026کو تبدیلی (آپ یہاں تباہی بھی پڑھ سکتے ہیں) کا سال ضرور قرار دے رہے تھے لیکن کسی کے خواب و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ تبدیلی یا تباہی اتنی سرعت اور تیز رفتاری سے رونما ہوں گی۔ دنیا کو یہ بھی نظر آرہا تھا کہ امریکا کا بحیثیت سپر پاور وقت ختم ہوا چاہتا ہے لیکن پھر بھی کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ امریکا کی عسکری قوت اور وہ بھی ایران کے مقابلے میں (ساتھ میں چین، روس اور شمالی کوریا آپ خود شامل کر لیجیے گا) یوں منہ کے بل آگرے گی۔

پاکستان کو تو ہر وقت ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس وقت ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ دنیا میں ہر دور میں سب پرانی بات New World Order ہی رہی ہے اور جو یہ بات کرتا ہے وہ ہی نیا عالمی نقشہ پیش کرتا ہے۔ آج ایک دفعہ پھر نئی عالمی درجہ بندی کی بات ہورہی ہے اور ہم اس کالم میں آپ کو آگے کی متوقع درجہ بندی کے بارے میں کچھ بتانے کی سعی کریں گے۔ آگے یہ ہوگا کہ دنیا قوت کے تین مراکز میں تقسیم ہوجائے گی۔ تینوں مراکز یا خطوں کے کیا خدوخال ہوں گے؟ یہی اس کالم کا مرکزی خیال ہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ دنیا میں ایک نئی صف بندی ہونے جارہی ہے اور اس صف بندی کے نتیجے میں دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس صف بندی کا سب سے زیادہ اثر مشرق وسطیٰ پر پڑے گا کہ جہاں بہت سے ممالک کی جغرافیائی ہئیت برقرار نہیں رہے گی اور ان کی بقا اسی میں ہوگی کہ وہ دوسرے ملک میں ضم ہوجائے۔ اسرائیل کو بھی اگر برقرار رہنا ہے تو اسے گریٹر اسرائیل کے خواب کو چھوڑنا ہوگا اور زمینی حقائق کو قبول کرنا ہوگا ،ورنہ دنیا میں جو کچھ ان کے ساتھ ماضی میں ہوا تھا وہ شاید پھر سے شروع ہوجائے۔ ان کی ریاست پر تحفظات کے اظہار کا آغاز ہوگیا ہے۔

قرآن نے تو قیامت تک ان کے ساتھ کیا ہوگا ،وہ بیان کردیا ہے۔ تیل کی دولت تو جب تک تیل ہے مشرق وسطیٰ سے آتی رہے گی لیکن اس دفعہ تیل کی آمدنی کی سرمایہ کاری ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسی میں بھی ہوں گی تاکہ اس نئی درجہ بندی والی دنیا میں سب کو حصہ دیا جاسکے۔ دولت کے حوالے سے تو بات ہوگئی لیکن دولت مند ہوسکتا ہے کیا بلکہ یقیناً اب مشرق وسطیٰ میں اس طرح سے رہائش اور سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور وہ اپنے لیے ایک نئی جنت کی تلاش شروع کردیں گے۔

آپ سمجھ لیجیے کہ ایشیا ایک اکائی کی صورت میں اور قوت کے ساتھ اپنا بھرپور اور کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوگا اور اس کی قیادت چین کررہا ہوگا، اس کے نائبین میں پاکستان بھی شامل ہوگا، اگر آپ زیادہ حیرت کا اظہار نہ کریں تو یقین کیجیے کہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی اپنے اس نئے کردار کے لیے تیار ہیں بلکہ شاید آمادگی کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے آنے والا وقت بہت اہم اور کلیدی ہے۔

پاکستان دنیا کی درجہ بندی میں ایک انتہائی اہم ملک کے طور پر کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے ہماری اشرافیہ کو ٹینکروں میں پانی کی سپلائی، بجلی کے مہنگے منصوبے اور سڑکوں کی تعمیر میں رشوت کو چھوڑنا ہوگا، اگر ٹینکروں میں پانی آسکتا ہے تو لائنوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ ایک اہم عالمی کردار ادا کرنے کے لیے اپنے عوام کو مطمئن رکھنا بہت ضروری ہے اور ماضی میں برطانیہ نے اور حال میں امریکا نے بھی یہی کیا تھا۔ اتنے لکھے کو بہت جان لیجیے۔ ہندوستان کا کیا حتمی کردار ہوگا؟ یہ کہنا ذرا قبل از وقت ہوگا۔

ہندوستان کی بہتری تو اسی میں ہے کہ وہ چین کی قیادت میں ایشیا کی صف میں شامل ہوجائے لیکن مودی اور بی جے پی کی انتہا پسند قیادت کے لیے یہ کڑوی گولی نگلنا بہت مشکل ہوگا۔ ویسے بھی اس وقت ہندوستان کی قیادت حالات کا صحیح تجزیہ کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر سخت دباؤ میں ہے اور اس صورتحال میں ان کے غلط فیصلے کرنے کا احتمال زیادہ ہے، اگر ہندوستان کی قیادت چین کی سربراہی والی کڑوی گولی نگلنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو پھر ان کا انجام بھی سویت یونین والا ہوگا جو شاید ہندوستان کے لیے تو اچھا نہ ہوں لیکن خطے کے امن کے لیے بہت سودمند ہوگا۔ چین نے جتنی سرمایہ کاری اپنے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ذریعے افریقہ میں کی ہے تو افریقہ کو چین کی قیادت قبول کرنے میں کوئی تامل یا پس و پیش نہیں ہوگا۔

مغرب نے ہمیشہ افریقہ کو صرف غلاموں کی منڈی کے طور پر دیکھا ہے لیکن مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔ افریقہ اپنے معدنی ذخائر کی بدولت دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کرے گا اور چین کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ جب کوئی بھی افریقہ میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھا تو چین نے سرمایہ کاری کی تھی، لہٰذا جب پھل کھانے کا وقت آئے گا تو چین کا حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔اب ہم یورپ کی طرف آتے ہیں۔

بدقسمتی سے برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ دور میں دوبارہ شکست ہوئی ہے لیکن اس دفعہ محاذ سفارتی تھا۔ امریکا نے اپنے گماشتوں کے ذریعے برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس کا مقصد یورپی یونین کو کمزور کرنا تھا لیکن اس کا الٹ ہوا یعنی یورپی یونین مضبوط ہوئی اور برطانیہ کی معیشت کمزور ہوگئی۔ برطانیہ کو احساس ہوگیا ہے کہ اس سے غلطی کرائی گئی ہے۔

برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اپنے ملک کی پہلے والی حیثیت بحال کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں لیکن اس وقت یورپ کے اہم ممالک فرانس، جرمنی اور اٹلی ہیں اور یہ نہ صرف یورپ کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ہنگری میں حزب اختلاف کی فتح کو نوشتہ دیوار سمجھ لینا چاہیے۔ ہمارے خیال میں آنے والے دنوں یورپ متحد ہوکر متحدہ یورپ کی صورت میں نمودار ہوگا۔

نیٹو طاق نسیاں ہوجائے گا کہ جس کی جانب صدر ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیٹو دراصل پہلے سوویت یونین اور بعد میں روس سے مقابلے کے لیے تھا اور روس یوکرین جنگ اسی لیے شروع کروائی گئی تھی کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کر کے نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پہنچایا جاسکے لیکن اب ایسا نظر آرہا ہے کہ روس متحدہ یورپ کا ایک کلیدی کردار ہوگا جو اس کے صبر اور حوصلے کا اعتراف اور نئی عالمی درجہ بندی میں اس کا انعام بھی ہوگا۔

اب آخر میں رہ گیا ’’بڈھا شیر‘‘ چین اور روس کی کوشش ہے کہ امریکا کو شمالی اور جنوبی امریکا تک محدود کردیا جائے وہ بالآخر اس میں کامیاب ہوجائیں گے اور یوں امریکا اپنے ہی گھر میں قریب قریب نظر بند کردیا جائے گا۔ ہرچند کے کینیڈا نے بھی اپنے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہت نظر ثانی کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکا اس کا پڑوسی ہے اور زخم کھایا ہوا پڑوسی بھرے ہوئے پیٹ والے پڑوسی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

امریکا جتنا جلدی ان نئے حالات سے سمجھوتہ کر لے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا کیونکہ جیسے پاکستان نے بنگلہ دیش کے قیام کو تو قبول کرلیا ہے لیکن اس کے قیام میں ہندوستان کے کردار کو وہ کبھی بھولا نہیں ہے، اسی طرح امریکا پر سویت یونین توڑنے کا قرض ابھی باقی ہے اور اگر مستقبل میں کبھی یہ قرض ادا بھی ہوا تو وہ امریکا کی اپنی غلطی سے ہی ہوگا۔ یہ مستقبل کی دنیا کا ایک عمومی جائزہ ہے، ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بہت ہی قبل از وقت اور کچھ کو دیوانے کا خواب بھی لگ سکتا ہے۔

ہم دونوں صورتوں میں آپ کی آراء کا احترام کرتے ہیں، لکھ اس لیے دیا کہ کل ہم نہ ہوں تو تحریر ضرور باقی رہے گی کیونکہ جو لوگ اس قسم کی تحاریر لکھتے ہیں وہ اس بات کے لیے بھی تیار رہتے ہیں کہ ’’کل ہوں نہ ہوں۔‘‘
 



Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت اچھا فیصلہ ہے، اس سے پلیئرز پول بڑھے گا؛ سکندر رضا

Published

on



سکندر رضا نے کہا ہے کہ پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت اچھا فیصلہ ہے، اس سے پلیئرز پول بڑھے گا۔

 ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ 8 ٹیموں کے آنے سے بھی نئے اسٹارز تلاش کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، راتوں رات کچھ نہیں ہو گا، لیگ آج اس مقام پر ہے تو اس میں پانچوں ابتدائی اونرز کا اہم کردار ہے،وہ آغاز میں آئے اور 10 سال برقرار بھی رہے، انہی کی وجہ سے پہلے ملتان سلطانز اور اب حیدرآباد کنگزمین و راولپنڈیز کا اضافہ ہوا ہے۔

 ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر آف دی فیلڈ معاملات سے آپ کا کھیل متاثر ہو رہا ہے تو میدان میں جانا ہی نہیں چاہیے، اگر میچ میں حصہ لے رہے ہیں تو باہر کی باتیں بھول جائیں، ہم چند میچز خراب کھیلنے کی وجہ سے ہارے، سینئر بیٹرز پرفارم نہیں کر پائے ، ان میں میرا بھی بڑا کردار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے وکٹ پر زیادہ وقت گزارنا چاہیے تھا، بولرز نے بہتر کھیل پیش کیا ہے، میں کراچی میں شاید پچ کو نہیں سمجھ سکا، میں نے سبق سیکھا ہے اب اگلے میچز میں بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کروں گا۔

سکندر رضا نے کہا کہ نہ صرف لاہور قلندرز بلکہ دیگر ٹیموں کے پاکستانی پلیئرز بھی ساتھ اچھا وقت گذارتے ہیں، نئے پلیئرز بھی بہت عزت کرتے ہیں، ایسا ماحول بنتا ہے جس میں ہم بھول جاتے ہیں کہ میں باہر سے آیا ہوں ،اسامہ میر بھی گزشتہ دنوں کہہ رہا تھا کہ ہمارے غیرملکی کرکٹرز نہیں آئے، صرف دو ہی آئے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

بائیں بازو کی بے حال قیادت اور کارکن…گل محمد منگی

Published

on



ایک دور تھا کہ ملک میں بائیں بازو کی صرف تین چار پارٹیاں ہوتی تھیں جن میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، مزدور کسان پارٹی، سوشلسٹ پارٹی اور لیبر پارٹی ہوا کرتی تھیں۔ تب بھی بائیں بازو کے کارکنوں کو حیرت ہوتی تھی اور وہ برملا اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ جب نظریہ ایک ہے تو پھر تین،چار لیفٹ کی جماعتوں کی کیوں کر ضرورت پیش آ رہی ہے؟ تب بھی لیفٹ کے لیڈر اپنے اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف تاویلیں پیش کرتے تھے جس طرح آج کر رہے ہیں۔

ان لیڈروں کی انا اور ضدپرستی نے آج لیفٹ کو اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سے ان کی واپسی اور یکجا ہونے کی خواہش محض مذاق کے علاوہ کچھ نہیں۔ تمام لیڈر اپنی لیڈری پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا رعب، دبدبہ اور کرسی چھوڑنے پر تیار نہیں۔ ان کو تو بس اس بات سے غرض ہے کہ جب اسٹیج پر آئیں تو ان کے لیے ’’زندہ آباد‘‘ کے نعرے لگائے جائیں۔ میں نے بڑی محنت سے لیفٹ کی کچھ سیاسی جماعتوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں جو کہ اس وقت میدان عمل سے گو کہ کوسوں دور سہی مگر کبھی کبھار سوشل میڈیا، اخبارات اور ان کے کارکنوں کی زبانی ان کی سرگرمیاں سننے یا دیکھنے کو ملتی ہیں۔

ان کے زیادہ بیان رسمی ہوتے ہیں اور عام آدمی کے مسائل پر نہیں ہوتے ہیں۔ لیفٹ کی ایسی معروف اور غیرمعروف یا برائے نام پارٹیوں، گروہوں، تنظیموں اور ٹولیوں میں سے کچھ کے نام نامی یہ ہیں۔ جس میں کچھ قوم پرستانہ رجحان کی بھی حامل ہیں۔

 (1) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (انجینئر جمیل احمد ملک) (2) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (امداد قاضی) (3) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (مائوئسٹ) (4) انقلابی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (5) عوامی ورکرز پارٹی (بخشل تھلو) (6) ریڈ ورکرز فرنٹ (7) پاکستان انقلابی پارٹی (مشتاق چوہدری) (8) پاکستان انقلابی پارٹی (صابر علی حیدر) (9) پاکستان لیبر کونسل (10) پورھیت مزاحمت تحریک (11) مزدور کسان پارٹی (ڈاکٹر تیمور) (12) سوشلسٹ پارٹی (13) سوشلسٹ ریزسٹنٹ مومینٹ(14) عوامی تحریک (15) قومی عوامی تحریک (16) لیبر قومی موومنٹ (17) نیشنل پارٹی بلوچستان، ڈاکٹر مالک (18) پاکستان مزدور اتحاد (19) عوامی راج تحریک (20) انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈنسی (21) پاکستان سرائیکی پارٹی (22) قومی محاذ آزادی (23) حقوق خلق پارٹی (24) برابری پارٹی (25) عوامی نیشنل پارٹی (26) ورکرز سولیڈرٹی فیڈریشن (27) پاکستان مزدور محاذ (28) سوشلسٹ ستھ(29) سندھ یونائیٹڈ پارٹی (30) پختونخوا ملی عوامی پارٹی (31) ھلال پاکستان ترقی پسند فورم (32) عوامی حقوق (33) کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی (34) تحریک مظلومین پاکستان (35) انقلابی سوشلسٹ موومنٹ (36) پاکستان ایکوئلٹی پارٹی (37) وطن دوست انقلابی پارٹی (38) سندھ ساگر پارٹی (39) طبقاتی جدوجہد (40) نیشنل ڈیموکریٹک موومینٹ (41) نیشنل پارٹی، ڈاکٹر حئی گروپ (42) عوامی جمہوری پارٹی (43) جیئے سندھ محاذ (خالق جونیجو) (44) جیئے سندھ محاذ (آریسر) (45) سندھ ترقی پسند پارٹی (46) پاکستان سوشلسٹ فورم (47) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (48) تحریک مظلومین پاکستان (49) سماج بدلو تحریک (50) دادا امیر حیدر جدوجہد کمیٹی (51) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (52) سندھ نیشنل فرنٹ (53) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (اسلم بنگلزئی) (54) مزدور کسان پارٹی (افضل خاموش) (55) بی این پی (عوامی) (56) بلوچستان نیشنل پارٹی (اختر مینگل) (57) یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی (58) پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) (59) عوامی جمہوری اتحاد پارٹی (سربراہ رانا مقصود، لاہور) (60) جمہوری اتحاد پارٹی (61) مزدور کسان پارٹی (بنگش گروپ) (62) ترقی پسند لکھاری محاذ (پنجاب) (63) پنجاب لوک امن (64) رکھ بچائو لوک لہر (65) طبقاتی کمیونسٹ پارٹی (66) غریب اتحاد انجمن شمسیہ (67) وارث شاہ وچار پرچار پرہیا(68) ادبی واشنا، مریدکے (69) پاکستان پیس فائونڈیشن پنجاب (70) عوامی اتحاد پارٹی (غفار رندھاوا) (71) جاگو پاکستان تحریک (قیوم نظامی) (72) عوامی ورکرز پارٹی (اختر حسین) (73) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اور دیگر۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیفٹ کی اتنی ساری پارٹیاں بنانے کا آخر کوئی تو ذمے دار ہوگا؟ اس کے پیچھے کچھ تو مقاصد ہوں گے؟ کیا کبھی آپ نے اس پر غور کیا ہے؟ میں نے جو تعداد اوپر بیان کی ہے، یہ ابھی میرے خیال میں ادھوری ہے۔ بہت ساری ایسی اور بھی لیفٹ کی پارٹیاں ہیں جو اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ گئی ہوں گی اور ان سے معذرت کرتا ہوں، اگر ان تمام کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ایک سو یا اس بھی تجاوز کر جائے گی۔

اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ’’بائیں بازو والے کم از کم فرقوں کے حوالے سے دوسروں کو مات دے چکے ہیں‘‘ بہرحال اصل معاملہ یہ ہے کہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں جو کہ پسے ہوئے طبقات کو ان کے حقوق دلانے کا دعویٰ کرتی ہیں ان کے ہاں اتنے سارے فرقے کس طرح پیدا ہوگئے؟ جب کہ بعض کے منشور تک ایک جیسے ہیں۔ ان کا دعویٰ اپنی جگہ مگر بہت ساری جماعتوں یا تنظیموں کا تو نظریہ بھی ایک ہی ہے! مگر اس کے باوجود ان کے اختلافات جو کہ فروعی یا مفادپرستانہ ہیں۔

ان کو بھی پیسہ بٹورنے کی لت لگ چکی ہے اور یہ بات کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ ان کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی تھوڑی بہت یا زیادہ فنڈنگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک ’’لیڈری‘‘کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور جو کوئی ان کی قیادت کو چیلنج کرتا ہے اسے باہر نکال کر دم لیتے ہیں۔ اب تو کچھ نے چین، ویتنام، نیپال اور کچھ اور ممالک میں اپنے کاروبار بھی سیٹ کرلیے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ سے حکومتوں کے اندر بھی پنجے گاڑ چکے ہیں۔ جس طرح بتایا جاتا ہے کہ جب شملہ معاہدے پر پیش رفت نہیں ہو رہی تھی تو بائیں بازو کے ایک لیڈر نے ذوالفقار علی بھٹو کی مدد کی اور اندرا گاندھی کو منوالیا۔

یہ بات خود لیفٹ کے ایک سے زیادہ لیڈر فخریہ بیان کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس صلاحیت سے عاری ہیں کہ وہ سب کو کم از کم ایک میز پر ہی بٹھالیں۔ اس حوالے سے عابد منٹو نے ایک اچھی کوشش کی اور لیفٹ کے مختلف دھڑوں کو جوڑ کر ’’عوامی ورکرز پارٹی‘‘ بنائی جو اب ’’دولخت‘‘ہوچکی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لیفٹ کا جو لیڈر کرسی پر بیٹھتا ہے اسے چپک ہی جاتا ہے۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے باوجود جتنے بھی ممالک آزاد ہوئے وہاں پر بھی یہی حالت ہے۔ ان کو جمہوریت اور آمریت میں تفریق کرنا آتی ہی نہیں یا پھر اس صلاحیت سے محروم ہیں یا نظریاتی ممانعت ہے؟ کیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا؟ 
 



Source link

Continue Reading

Trending